بند کریں
اتوار جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہیجڑوں کے روپ میں ڈاکوؤں کے گروہ سرگرم
ڈاکوؤں کے یہ گروہ زیادہ تر نوجوان اور گوری رنگ والے افراد پر مشتمل ہوتے ہیں جوکلین شیو کرکے، آنکھوں میں پرکشش لینز لگا کر سر پر خواتین کی جیسی نقلی گت ”ووگ“ چپکا کر پاؤں میں اور ہاتھوں میں نقلی لمبے ناخن
احسان شوکت:
معاشرے میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت ، عدم برداشت اور جنسی بے راہ روی نے جہاں نوجوان نسل کو اخلاقی اور سماجی طور پر تباہ کر دیا ہے وہاں پر جرائم پیشہ افراد نے ان اخلاقی، معاشی و سماجی برائیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے طریقہ واردات بھی بدل دئیے ہیں اور اب وہ اپنے روایتی ہتھیار استعمال کرنے کے بجائے انسانی نفسیات سے کھیلتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
صوبائی دارالحکومت میں رات ہوتے ہی ڈاکوؤں کے مختلف گروہ جعلی خواجہ سراء بن کر خوب میک اپ کرکے، بھڑکیلے اور ننگ و چست زنانہ لباس پہن کر چوڑیوں و کنگن سے سج دھج کر شہر کی معروف شاہراؤں، چوکوں مارکیٹوں میں پھیل جاتے ہیں
ڈاکوؤں کے یہ گروہ زیادہ تر نوجوان اور گوری رنگ والے افراد پر مشتمل ہوتے ہیں جوکلین شیو کرکے، آنکھوں میں پرکشش لینز لگا کر سر پر خواتین کی جیسی نقلی گت ”ووگ“ چپکا کر پاؤں میں اور ہاتھوں میں نقلی لمبے ناخن جن پر گہرے رنگ کی ناخن پالش ہوتی ہے کسی بھی معروف شاہراہ پر کسی گوشے میں خواتین جیسا عبایہ پہن کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو ایسا تاثر پیش کررہے ہوتے ہیں جیسے کوئی انتہائی حسین و جمیل دوشیزہ کسی پریشانی ومجبوری کے عالم میں سڑک پہ کھڑی ہو اور کسی مددگار یا ہمدرد کی متلاشی ہو۔
ان ڈاکوؤں کے گروہ ایک یا دو کی ٹولی میں کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ زیادہ ہونے کی صورت میں ان کا ”شکار“ چوکنا ہوسکتا ہے یا پھر لوگ ان کو فیملی تصور کرکے ان کے پاس نہیں رکتے اور گاڑی بھگا دیتے ہیں
ان ڈاکوؤں کا طریقہ واردات کچھ یوں ہوتا ہے کہ جیسے ہی کوئی شخص ان خواتین نما جعلی خواجہ سراؤں کو اکیلا دیکھ کر اپنی گاڑی میں بیٹھا لیتا ہے یہ لوگ اپنے گروہ کے باقی ماندہ ساتھیوں کو جو قریب ہی کسی موٹرسائیکل یا کار پر اپنے ساتھی اور اس کے ”شکار پر نظر رکھے ہوئے ہیں مخصوص اشارہ یا اطلاع کردیتا ہے۔

یہ خواتین کے ملبوسات اور حلیے میں ملبوس خطرناک ڈاکو پہلے تو اپنے شکار سے مخصوص جنسی و فحش گفتگو کرتے ہیں اور اسی بات پر مائل کرتے ہیں کہ کسی ویرانے یا غیر آباد علاقے کی جانب چلا جائے تاکہ وہ اپنے شکار کو آسانی سے قابو کرسکیں۔ سادہ لوح افراد ان جعلی خواجہ سراؤں کے اشاروں پر ناچتے ہوئے کسی ویرانے میں گاڑی روک لیتے ہیں اور پھر اگلے ہی لمحے ان پر خوف و حیرت کے۔
۔۔ ٹوٹ پڑتے ہیں جب وہ جعلی ہیجڑہ اپنی قمیض کے اندر سے پستول نکال کر کہتا ہے جو کچھ ہے نکال دو ورنہ گولی ماردو نگا تمہیں ایسی واردات کا شکار ہونے والے افراد پر یہ راز بھی کھلتا ہے کہ ناز و انداز دکھانے والی عورت نہیں بلکہ مضبوط ہاتھ پیر والا ڈاکو ہے اتنی دیر میں جعلی خواجہ سراؤں کے دیگر ساتھی بھی موقع وار دات پر آجاتے ہیں اور ذراسی بھی تکرار یا مزاحمت پر تھپڑوں ، گھونسوں کی بارش کردیتے ہیں اور سادہ لوح شہریوں سے نقد رقم، قیمتی موبائل، گھڑی وغیرہ لوٹ کر وہاں سے فرار ہوجاتے ہیں شروع شروع میں تو ایسی وارداتیں بازار حسن کے گردونواح میں ہوتی تھیں مگر اب شہر بھر میں پھیل چکی ہیں۔
جوں جوں رات تاریک اور گہری ہوتی چلی جاتی ہے ان ڈاکوؤں کی کارروائیاں بھی بڑھتی جاتی ہیں شہر بھر میں یہ خواتین نما جعلی خواجہ سراء جن علاقوں اور شاہراؤں پر نظر آتے ہیں ان میں ایم ایم عالم روڈ، لبرٹی چوک، مین مارکیٹ، چوبرجی، سمن آباد، لاری اڈا، بادامی باغ، یتیم خانہ چوک، سبزہ زارسکیم، شادمان، جیل روڈ شہر کے گردو نواح، ٹاؤن شپ، ڈیفنس موڑ، گرجا چوک، ٹھوکر نیاز بیگ جیسے علاقے شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں کے ان گروہ کو پولیس میں موجود جرائم پیشہ بدمعاش اور بدقماش عناصر کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جو ان ڈاکوؤں سے نہ صرف ہرواردات میں اپنا حصہ وصول کرتے ہیں بلکہ دوران گشت ایسے کسی واقعے کی خبر ملنے پر انہیں تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔
کروڑوں کی آبادی والے شہر لاہور میں ان جعلی خواجہ سراء نما ڈاکوؤں کے ہاتھوں روزانہ لٹنے والے معصوم اور سادہ لوح شہریوں کی تعداد درجنوں میں ہے مگر کیا وجہ کہ پولیس کے پاس ایسی وارداتیں بہت کم رجسٹرڈ ہو رہی ہیں اور ایسی وارداتوں کے ”شکار“ لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہونے کے باوجود پولیس کے پاس اپنی شکایات لیجاتے ہوئے کتراتے ہیں اور خاموشی اختیار کرنے میں ہی اپنی بھلائی تصور کرتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق لوگ پولیس کے پاس مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر اپنی شکایت ،ایف آئی آر درج نہیں کرواتے۔
1۔معاشرے میں اپنی سفید پوشی اور بھرم ٹائم رکھنے کیلئے کیونکہ پولیس کے پاس جانے اور شکایت درج کروانے کی صورت میں پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کسی ہیجڑے یا خواجہ سرا کو انہوں نے رات گئے اپنی گاڑی میں کیوں اور کسی نیت سے بٹھایا
پولیس کی گھٹیا سوچ اور طریقہ تفتیش کی وجہ سے جو اپنی تفتیش کا آغاز ہی متاثرہ شخص سے کرتی ہے
3۔ نوجوان اپنے ماں باپ کے خوف سے اور اگر ان ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹنے والے شخص معزز اور اپنے کبنے کا کفیل ہوتو اس کی کوشش ہوتی ہے کہیں اس کی فیملی بیوی بچوں اور خاندان والوں کو یہ نہ پتا چل جائے کہ وہ کس وجہ سے جعلی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں لٹ گیا ہے لہٰذا اپنی عزت بچانے اور کسی بھی طرح کے الزام سے بچنے کیلئے اکثر لٹنے والے اپنی ایف آئی آردرج نہیں کرواتے۔

4۔ ذرائع ابلاغ میں آنے اور اپنی بدنامی کے ڈر سے
5۔ پولیس کے ہاتھوں بلیک میل ہونے سے بچنے کیلئے کیونکہ ایسی کسی واردات کا شکار شخص اگر ہمت کرکے اپنی ایف آئی آردرج کروانے پولیس سٹیشن چلا بھی جائے تو پولیس الٹا متاثرہ شخص کو بلیک میل کرنا شروع کردیتی ہے اور نام نہاد تفتیش کے نام پر الٹے سیدھے سوالات، غلط گفتگو، ڈرانا دھمکانا اور ہراسان کرتی ہے اور یوں اکثر اوقات شہریوں کو اپنا بچا کھچامال و اسباب بھی پولیس کو دے کر اپنی عزت بچانا پڑتی ہے
یہ انسانی نفسیات ہے کہ وہ کوئی بھی جرم یا گناہ معاشرے سے چھپ کر کرتا ہے اور اسی کی کوشش ہوتی ہے کہ گناہ سرزد ہونے یا کرنے میں اگر اسے کومالی نقصان بھی ہوجائے تو بھی وہ اسے برداشت کرنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اسے معاشرے میں اپنی عزت اور بھرم قائم رکھنا ہوتا ہے
7۔ ایسی انسانی نفسیات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ جعلی خواتین نما ”ہیجڑا ڈاکو“ معصوم اور سادہ لوح افراد کو لوٹتے ہیں اور پولیس بھی ایسی وارداتیں درج نہیں کر پاتی کیونکہ لوگ نہیں چاہتے کہ کسی کو ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا علم ہو
شہر بھر میں روزانہ ان جعلی خواجہ سرا ء ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹنے والے سادہ لوح شہریوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور دوسری جانب ناچ گانا کرکے اور شادی بیاہ کی تقریبوں میں لوگوں کا دل خوش کرکے چار پیسے کمانے والے اصلی ہیجڑوں اور خواجہ سراؤں کا کاروبار تباہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ اب لوگ ان پر بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں بلکہ اکثر رات گئے جب یہ بیچارے شادی بیاہ کی تقریبات سے واپس آرہے ہوتے ہیں تو اکثر علاقے میں گشت کرنے والی پولیس موبائل ان کو روک کر تلاشی کے بہانے ان کی ساری کمائی لوٹ لیتی ہیں اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتاہے۔

اس حوالے سے پولیس کے ارباب و اختیار سے یہ پوچھنا چاہیے کہ شہر بھر میں جعلی خواجہ سرا نما ڈاکو کیوں دندناتے پھر رہے ہیں اور تھانوں میں آنے والے متاثرین کو ہراساں کیوں کیا جاتا پولیس اس حدتک گر چکی ہے کہ قحبہ خانوں ، جوئے کے اڈوں اور منشیات فروشوں سے منتھلی لے لے کراب خواجہ سراؤں اور ہیجڑوں کو بھی لوٹنے لگی ہے جبکہ انہی کے حلیے میں ڈاکو دندناتے پھر رہے ہیں۔

شہر بھر میں رات کی تاریکی میں دعوت گناہ دیتی ہوئی جوان لڑکیوں اور خواتین کے گھناؤنے کاروبار تو کسی سے بھی ڈھکے چپھے نہیں ہیں مگر اب جعلی ہیجڑوں کے روپ میں خطرناک ڈاکوؤں کی وارداتیں نہایت تشویشناک ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس کی ملی بھگت اور مجرمانہ غفلت کی بدولت صوبائی دارالحکومت میں جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور شہریوں کی جان و مال اور عزت آبرو کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
شہر میں برھتے ہوئے جرائم کی وجویات دیکھیں تو صورتحال یہ ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار لا اینڈ آرڈرز کے بجائے وی آئی پی ڈیوٹیاں اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہوتے نظر آتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ پولیس تنظیم نو کی جائے۔ ان کی تقرری تبادلہ میں سفارش کے بجائے خالصتاً ان کی کارکردگی اور میرٹ کو مدنظر رکھا جائے تاکہ امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہو اور عوام الناس کی نظر میں پولیس کا امیج بھی۔

سماجی انصاف پارٹی نیلی رانا
خواجہ سراوٴں کی تنظیم سماجی انصاف پارٹی کی صدر نیلی رانا نے کہا ہے کہ جو لوگ خواجہ سراوٴں کا جعلی روپ دھار کر ڈکیتی، لوٹ مار اور دیگر وارداتیں کرتے ہیں۔ان کے خلاف حکومت و قانون نافذ کرنے والے ادروں کو سخت کارروئی کرنی چاہیے۔ ہم خواجہ سراء ایسی وارداتیں نہیں کرتے۔اس سے ہماری کمیونٹی کی بدنامی ہو رہی ہے۔ہم امن پسند لوگ ہیں ہم لوگوں کی خوشیوں میں شریک اور خوشیاں بانٹتے ہیں۔اس کے علاوہ جرائم پیشہ ایسے لوگ جوخواجہ سراوٴں کا بھیس بدل کر واردتیں کرتے ہیں۔ہمیں ان کا بتایاجائے تاکہ ہم خود ان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کریں۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-01

(1) ووٹ وصول ہوئے