بند کریں
جمعہ جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

بنوں

غریب طبقہ کے لئے انکم سپورٹ سکیم کے بغیر بچوں کوتعلیم سے آراستہ کرنا ناممکن
غریب کے بچے محنت مزدوری کے دھندے سے ہٹا کر کسی سکول میں داخل کرنے کے لئے محض مفت کتابوں کی فراہمی ہی کافی نہیں اصل بات یہ ہے کہ اساتذہ ان بچوں کے والدین کو ملیں
صدرمملکت ممنون حسین گذشتہ دنوں چنیوٹ میں فاسٹ یونیورسٹی کے نئے کیمپس کی افتتاحی تقریب میں آئے تو انہوں نے اپنے خطاب میں ملک کو درپیش مسائل سے نبردآزما ہونے کے لئے قوم کو راز کی بات بتائی کہ ملک میں جدید تعلیم ہی ملک اور قوم کو ترقی دینے کی واحد سیڑھی ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف نے ایک طرف تو غریب بچوں کو جدید تعلیم دینے کے لئے پنجاب میں ”دانش سکولوں“ کا جال پھیلانے کا عزم کر رکھا ہے اور دوسری طرف ان کی طرف یہ اعلان بھی سامنے آ چکا ہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے سکول جانے کی عمر کا کوئی بچہ سکولوں سے باہر نہیں ہو گا۔
اس قسم کا نعرہ ایک عشرہ پہلے ان کے ایک پیش رو اور پنجاب کے ایک وزیراعلیٰ چوہدری پرویزالٰہی نے بھی لگایا انہوں نے میٹرک تک بچوں کو مفت کتابیں تقسیم کرنے کی روایت ڈالی۔ چوہدری پرویزالٰہی نہ تو غریبوں کے بچوں کو کام کاج سے ہٹا کر سکولوں میں لے جا سکے نہ ہی میٹرک تک مفت کتابیں فراہم کر سکے۔ ہمارے ملک میں ہر طبقہ کے لوگ کتابیں اور کاپیاں بنانے کا فن جانتے ہیں۔
وہ اساتذہ جن کے ہاتھوں میں بچوں کو مفت کتابیں تقسیم کرنے اور انہیں مفت سکولوں میں لے جانے کے اختیارات تھے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں محض نیم دلانہ کوششیں کیں اور اکثروبیشتر مفت کتابوں اور کاپیوں کو بھی اپنے طلبا اور طالبات میں رعایتی قیمتوں پر فروخت کر کے اپنی جیبیں بھریں۔ غریب کے بچے محنت مزدوری کے دھندے سے ہٹا کر کسی سکول میں داخل کرنے کے لئے محض مفت کتابوں کی فراہمی ہی کافی نہیں اصل بات یہ ہے کہ اساتذہ ان بچوں کے والدین کو ملیں اور ان کے حالات کے مطابق ہر بچے کے والدین کو کم از کم ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی ادا کریں۔
جس گھر کے تین بچے سکول جائیں گے اور وہ تین ہزار روپے ماہانہ حاصل کریں گے ان کے بچوں کو اگر سکولوں میں مفت کتاب کاپی ملتی رہے گی تو زیادہ نہیں تو پانچ پانچ جماعتیں تو پڑھ ہی جائیں گے۔ ان دنوں سکولوں میں نیا تعلیمی سال شروع ہو رہا ہے۔ حکومت پنجاب نے سکول نہ جانے والے لاکھوں بلکہ کروڑوں بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے سکول ایجوکیشن کے افسران کو صوبے کے تمام کے تمام 36اضلاع تقسیم کر دیئے ہیں۔
اس سلسلہ میں 22ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جنہیں مختلف ٹارگٹ دیئے گئے ہیں۔ ہر ضلع میں سکولوں سے باہر موجود بچوں کی تعداد، محکمہ تعلیم کے افسروں کو دیتے ہوئے انہیں یہ ٹارگٹ دیئے گئے ہیں کہ ان تمام بچوں کو سکولوں میں لے کر آئیں۔ بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے ان افسروں کو 31اکتوبر تک ٹائم دیا گیا ہے جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔
ان افسران نے کیا رپورٹ پیش کرنی ہے۔ انہیں شاید آنے والے مہینوں میں اس وقت معلوم ہو گا جب وہ اپنے اپنے لئے مخصوص علاقوں میں سکولوں سے باہر کے بچوں کو سکولوں میں لانے کی مہم پر نکلیں گے لیکن ہمیں معلوم ہے کہ انہیں اس ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک چوتھائی بچوں کو سکولوں میں لانے تک کامیابی حاصل ہو گی کیونکہ ہمارے حکمرانوں کو غریب آدمی کے مسائل کا ہی علم نہیں ہے کہ وہ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔
زیادہ تر بچوں کے والدین ایک ایک کمرے کے گھروں میں زندگی گزار رہے ہیں اور اسی کمرے میں وہ اپنی بیویوں کے ساتھ سوتے ہیں اور اسی کمرے میں ان کی بیٹیاں اور بیٹے رہتے ہیں اور جب سورج نکلتا ہے ان میں سے کس کو کہاں روزی روٹی کی تلاش میں جانا ہوتا ہے اور کن بچوں کو ابھی گلی محلے یا گھروں میں رہ کر چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تھا۔
یہ پروگرام سیاسی جماعتوں کی کارکنوں کے لئے نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان خاندانوں کو ان کے بچوں کو ملناچاہیے جو مختلف کام کاج چھوڑ کر سکولوں میں ان بچوں کو بھجوانے پر راضی ہو سکیں۔ اگر حکومت نے غریب بچوں کے والدین کو اس قسم کی کوئی ترغیب یا لالچ نہ دیا تو محکمہ تعلیم کے افسران انہیں سکولوں میں داخل کرانے کے مشن میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
صدرمملکت ممنون حسین نے چنیوٹ میں چند روز پہلے کہا کہ ملک کے مسائل کے حل کے لئے نئی نسل کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف دانش سکولوں کے قیام سے غربت، جہالت اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے پنجاب میں انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔ صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ خاں کے ایک بیان کے مطابق جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں دانش سکولوں کا قیام سے انتہاپسندی کے فتنہ کو پنپنے سے روکنے کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔
رانا ثناء اللہ خاں نے سیلانی اور اخوت جیسی غیر سرکاری تنظیموں کے کردار کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ دراصل تعلیم کے شعبہ میں یہ دونوں تنظیمیں حکومت کا ہاتھ بٹا رہی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام کا ذکر کیاکہ یہ پروگرام دانش سکولوں میں شروع کر رکھا ہے لہٰذا صوبائی وزیر نے اس پروگرام کی کامیابی کے لئے صوبائی حکومت کی طرف سے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔
وزیراعلیٰ پنجاب، پنجاب میں گھر گھر تعلیم کی شمع روشن کرنے کے لئے انتہائی کوشاں ہیں لیکن وہ حقائق سے بالکل بھی آگاہ نہیں ، پنجاب کے کسی علاقے میں بھی دیکھ لیں لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے بچے اپنے بنیادی حقوق کے تصور سے بھی واقف نہیں ہیں۔ کوئی وزیراعلیٰ سے پوچھے، وہ کن غریبوں کے بچوں کو دانش سکولوں میں پڑھائیں گے۔ دانش سکولوں کے قیام کا تجربہ کوئی مفید اور معتبر تجربہ ثابت نہیں ہوا۔
حکومت نے ہائرایجوکیشن کی کارکردگی اور ریسرچ نظام کو بہتر بنانے کے لئے 57ارب 44کروڑ قومی تحقیق پروگرام کے لئے ایک ارب روپے مختص کر رکھے ہیں۔ یہ اچھا اقدام ہے لیکن یونیورسٹیوں کی تعلیم و تحقیق سے پہلے ہمیں میٹرک، ایف اے اور بی اے، بی ایس سی کے پروگراموں کی تعلیم اور بالکل غریب گھرانوں کے بچوں کے لئے میٹرک کے بعد کوئی نہ کوئی پیشہ وارانہ تعلیم ان بچوں کو دلوانی چاہیے کہ پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کر کے وہ بہت جلد اپنے اپنے خاندانوں کی کفالت کا بوجھ اٹھاسکیں۔
ہمیں اعلیٰ تعلیم کے نت نئے آفاق متعارف کرانے کی بجائے بچوں کو میٹرک کے بعد فنی تعلیم کی طرف زیادہ راغب کرنا چاہیے۔ اکاوٴنٹنگ، کمپیوٹر پروگرامنگ اور ان کے علاوہ پلمبر، معمار، بڑھئی، موٹرمکینک، موٹرسائیکل مکینک، ڈرائیونگ کا فن اور لڑکیوں کے لئے سلائی کڑھائی کی تعلیم کو زیادہ کر کے ہم اپنے معاشرے سے بیروزگاری ختم کر سکتے ہیں اور دوسرے ملک کو تباہ کن دوہرے تعلیمی نظام سے بھی بچانے کی ضرورت ہے۔
ملک میں دوہرا تعلیمی نظام ملک کے لئے تباہ کن ہے۔ معیار تعلیم کو بہتر بنانا حکمرانوں اور منصوبہ سازوں کی ذمہ داری ہے۔ ایجوکیشن بورڈ کے اختیار میں صرف اتنا ہے کہ وہ امتحانات لے لیں۔ نتائج کا اعلان کر دیں اور بس۔ یہ الگ بات ہے کہ اکثر تعلیمی بورڈ امتحانات کے دوران اور امتحانی نتائج کا اعلان کرتے وقت ایک ایسی نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ نتائج 80فیصد دیتے ہیں حالانکہ اگر تعلیمی بورڈ نرمی نہ برتیں تو بھی تعلیم بظاہر بہتر بنانے کے لئے کسی نہ کسی طور پر قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔
تھامس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیرملکی نصاب اور غیرملکی زبان میں تعلیم دے کر ایک ایسا نظام وضع کیا جا رہا ہے جو محض حکمران طبقہ پیدا کرتا ہے۔ اسے طلباوطالبات کو اس ملک کے عوام کی اکثریت کو درپیش مسائل سے آگاہی ہی نہیں ہوتی۔ برصغیر میں حکومت قائم کرنے کے لئے انگریز نے یہاں دوہرا تعلیمی نظام قائم کر دیا تھا۔ نام نہاد اشرافیہ کے بچے ہر سہولت سے آراستہ تعلیمی اداروں میں داخل کئے جاتے تھے۔
جیسے ایچ ای سن کالج، اس قسم کے کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے بچوں کو انڈین سول سروس یعنی آئی سی ایس کی تعلیم دلوائی جا سکے اور برصغیر کو افسرشاہی فراہم کی جا سکے۔ اب پاکستان میں بیکن ہاوٴس سکول سسٹم شروع ہو گیا ہے۔ بیکن ہاوٴس سکول سسٹم کے تعلیمی ادارے ہر بڑے شہر میں قائم ہیں اور بہت مہنگے ہیں اور ان جیسے دوسرے ایڈوانسڈ سکول سسٹموں کے اداروں میں بچوں کی ماہانہ ٹیوشن فیس پانچ ہزار روپے ماہانہ سے 15ہزار ماہانہ تک مقرر کی گئی ہے۔
اب کوئی بتائے کہ مفت کتابیں حاصل کر کے کسی سرکاری سکول میں پڑھنے والا طالب علم اور کسی ”دانش سکول“ سے فارغ التحصیل کوئی دانشور بیکن ہاوٴس سکول سسٹم اور اس قسم کے دوسرے تعلیمی اداروں سے اولیول اور اے لیول کرنے والے طلباو طالبات سے کیا مقابلہ کرے گا۔ جب دونوں ایف ایس سی میں کسی کالج یا یونیورسٹی میں اکٹھے ہوں گے اور ذریعہ تعلیم انگلش ہو گا تو دانش سکول سسٹم اور عام گورنمنٹ کالج سے میٹرک کرنے والا، اولیول اور اے لیول کرنے والوں سے یقینا بہت پیچھے رہ جائے گا۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف 21فیصد افراد پڑھے لکھے ہیں اور 79فیصد ان پڑھ ہیں۔ عمر کے لحاظ سے جو لوگ زیادہ پڑھے لکھے ہیں ان کی عمریں 55 سے 64سال کے درمیان ہیں اور ان کی شرح خواندگی 57فیصد بنتی ہے جبکہ 15 سے 24سال کے نوجوانوں کی شرح خواندگی 72فیصد ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کے 221ممالک میں شرح خواندگی کے لحاظ سے پاکستان 180ویں نمبر پر ہے۔
75فیصد لڑکے اور لڑکیاں میٹرک سے پہلے سکول چھوڑ جاتے ہیں۔ 81فیصد انگریزی بولنا تو کجا لکھ پڑھ بھی نہیں سکتے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے 72فیصد اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 78فیصد لڑکے لڑکیاں سکول نہیں جاتے۔ شہری علاقوں میں 71فیصد طالب علم ٹیوشن کی کلاسیں پڑھتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں یہ شرح 30فیصد ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں معاشرے کا مالدار طبقہ اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرا سکتا ہے لیکن غریب طبقہ اپنے بچوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنے کا خواب تو دیکھ سکتا ہے لیکن نہ تو ان کے پاس دانش سکولوں میں ان بچوں کو داخل کرانے کی ہمت ہے اور نہ وہ گورنمنٹ سکولوں میں وزیراعلیٰ کی طرف سے مفت کتابوں سے میٹرک کرنے کی سکیم کے تحت پڑھنے کی حیثیت ہے۔
اس طبقے کو انکم سپورٹ سکیم کے بغیر تعلیم سے آراستہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان