بند کریں
جمعہ فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گندم کی کٹائی میں کسان اور محنت کش کا صبر آزما کردار
گندم کی بوائی سے لے کر فصل کی کٹائی اور اسے مارکیٹ تک پہنچانے کا عمل کاشتکار اور اس کے خاندان کے تمام افراد کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی رکھتا ہے۔ تخلیق کے عمل سے جڑا آبادی کا یہ بہت بڑا حصہ سال بھر اپنی اسی محنت کا پھل سمیٹنے میں لگا رہتا ہے
صابر بخاری
زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ زرخیز زمین اور موثر آبی سسٹم کی بدولت ہمارے کھیت لہلہاتے ہیں اور فصلیں تیار ہونے کے بعد ایکسپورٹ کے ذریعے ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ زراعت کا ملکی جی ڈی پی میں 21.4 فیصد حصہ بنتاہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 24 ملین ٹن گندم حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان کا گندم زیادہ پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
اس سال ڈھائی کروڑ ٹن گندم پیدا ہونے کے امکانات ہیں جو ملکی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کافی ہے۔ پاکستان میں گندم کی کاشت 15نومبر سے 15 دسمبر تک جبکہ کٹائی 15 اپریل سے 15 مئی تک ہوتی ہے۔ آجکل جنوبی پنجاب میں گندم کی کٹائی جاری ہے جبکہ سندھ میں کٹائی کا مرحلہ ختم ہونے کو ہے۔تقریباً ایک ہفتہ کے فرق سے وسطی پنجاب میں بھی گندم کی کٹائی شروع ہو جاتی ہے جبکہ پوٹھوہار اور پشاور کے علاقوں میں گندم کی کاشت تاخیر سے ہوتی ہے اور کٹائی کا مرحلہ بھی دیر سے شروع ہوتا ہے۔
اسی طرح گلگت میں برفباری اور شدید سردی کی وجہ سے گندم کی بوائی مارچ کے مہینے تک جاری رہتی ہے۔
گندم کی بوائی سے لے کر فصل کی کٹائی اور اسے مارکیٹ تک پہنچانے کا عمل کاشتکار اور اس کے خاندان کے تمام افراد کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی رکھتا ہے۔ تخلیق کے عمل سے جڑا آبادی کا یہ بہت بڑا حصہ سال بھر اپنی اسی محنت کا پھل سمیٹنے میں لگا رہتا ہے، تب جا کر کہیں اس کے گز اوقات کا بندوبست ہو پاتا ہے۔
اس کے علاوہ اگر فصل اچھی ہو جاتی ہے تو اسے جمع کرنے اور مارکیٹ تک لے جانے کیلئے مطلوبہ بار دانہ بھی میسر نہیںآ تا۔ جبکہ بے زمین ہاری کو تو اس کے حصے کی محنت کا پورا پھل بھی نہیں مل پاتا۔
گندم کی کٹائی تین طریقوں سے ہوتی ہے۔ 1 کمبائنڈ پاوریسٹر کے ذریعے، گندم کی کٹائی اور گہائی ساتھ ساتھ ہوتی جاتی ہے۔ اس طریقہ کا نقصان یہ ہے کہ اس میں بھوسہ نہیں ملتا جبکہ یہ مشین سٹہ نکال دیتی ہے۔
اس مشین کی قیمت ستر لاکھ سے ایک کروڑ تک ہے۔ اس کے صرف بڑے زمیندار ہی متحمل ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں آج بھی چھوٹے رقبہ والے کاشتکار گندم کی کٹائی خود کرتے ہیں جبکہ زیادہ رقبہ والے مزدوروں کے ذریعے کٹائی کرواتے ہیں۔ مزدوروں کو ایک ایکڑ کی کٹائی کیلئے دو سے تین من گندم دی جاتی ہے۔ 8 مزدور ایک دن میں ایک ایکڑ رقبہ کی کٹائی کرسکتے ہیں۔ کھیتوں میں گندم جب پکنے کے قریب ہوتی ہے تو کسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔
گندم پکنے کے آخری ایام میں چھوٹے کسانوں کو کچھ وقت کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ کسان سال بھر کے استعمال کیلئے گندم کا ذخیرہ کرلیتے ہیں۔ لیکن ہاری مزدور کی دعا ہوتی ہے کہ فصل جس قدر جلدپکے بہتر ہے ورنہ ان کا ذخیرہ ختم ہو جا ئے گا اور اسے گندم یا آٹا خریدنا پڑے گا۔ کٹائی کا موسم آتے ہی کسانوں اور ہاریوں میں زور و شور سے کام شروع ہو جاتا ہے۔
لوہاروں ،تیشہ گروں کی دکانوں پر بھی رش بڑھ جاتا ہے۔ پورا گاوٴں خوشیوں سے نہال ہو جاتا ہے۔ چہل پہل بڑھ جاتی درانتیوں اور تھریشر کی مرمت کا کام کروا لیا جاتا ہے۔گندم کی کٹائی کیلئے بالعموم بزرگ اچھے دن کا انتخاب کرتے ہیں اور گندم کی کٹائی سے قبل دعا کروائی جاتی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ کٹائی کا آغاز ہو جاتاتھا۔ بچے بڑے سب گندم کی کٹائی کے دنوں میں صبح سویرے کھیتوں میں جاتے ہیں۔
گندم کی کٹائی والے مزدور پورے خاندان اورخواتین سمیت کھیت میں آجاتے ہیں۔ گا?ں میں دگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ہنستے مسکراتے اٹھکیلیاں کرتے کھیتوں میں کٹائی کا منظر دیکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں جب مشینری یعنی تھریشر کے استعمال نے کام کی رفتار کو تیز کر دیا ہے آج بھی مزدور گندم کو کاٹ کر چھوٹے چھوٹے حصوں میں اکٹھا کر کے اس کی گانٹھیں بناتے ہیں پھر ایک جگہ پر اکٹھی ان گانٹھوں سے اس فصل کو پر تھریشر سے گزارا جاتا ہے۔
گانٹھیں اٹھانا بھی مشکل مرحلہ ہے کیونکہ وہ کافی بھاری ہوتی ہیں دو تین مرد مل کر ان کو اٹھاتے ہیں۔ اس کام میں اکثر خواتین بھی مردوں کی مدد کرتی ہیں۔ گندم کی کٹائی کے دنوں گاوٴں میں کسان کی مصروفیات بڑھ جانے کے باعث آمد رفت بہت کم رہ جاتی ہے۔ بلکہ ان دنوں میں دوسرے شہروں میں محنت مزدوری کرنے والے بھی گاوٴں کو واپس لوٹ آتے ہیں کیونکہ یہی ایام ہوتے ہیں کہ وہ سال بھر کیلئے اپنا راشن بناتے ہیں۔
گندم کی کٹائی کے بعد مزدور طبقہ پھر بچوں کی روزی روٹی کیلئے شہروں کا رخ کرتا ہے۔ یہ دن ان مزدوروں کیلئے اپنی فیملی کے ساتھ رہنے کا ایک بہانہ بھی ہوتا ہے جسے کوئی محنت کش ہی محسوس کر سکتا ہے۔گندم کی کٹائی کے بعد اس کی تھریشنگ کا مرحلہ آتا ہے۔ تھریشر بہت زیادہ مصروف ہو جاتا ہے کسان ان سے ٹا ئم لیتے پھرتے ہیں۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ بارش وغیرہ سے بچنے کیلئے وہ جلد ہی گندم کی تھریشنگ کروالیں۔
تھریشر پر چھ، سات مزدور بھی کام کرتے ہیں یہ تھریشر جہاں بھی جاتی ہے۔ وہ زمیندار ان کے کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جب تھریشر لگتی ہے تو کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ قرب وجوار میں بھو سے کی وجہ سے ہوا میں گرد اڑنے لگتی ہے۔ تھریشر کو اس طرح سے کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس سے اڑنے والا بھوسا گھروں میں نقصان نہ پہنچائے بلکہ اس کا منہ ویرانے کی طرف ہو۔
جس جگہ تھریشنگ ہو رہی ہوتی ہے وہاں گندم مانگنے والے مستحقین کا ہجوم لگ جاتا ہے۔ اس دوران زمیندار بطور خوشی گندم یا رقم بھی تقسیم کرتے ہیں۔ اپنے اپنے گھروں میں آباد بیٹیوں، بہنوں کیلئے بھی گندم میں سے خصوصی حصہ نکالا جاتا ہے۔ آج بھی یہ رواج باقی ہے کہ ایسی جگہوں پر پھل فروش اور قلفی والے بچوں میں گندم کے بدلے میں اپنی اشیاء بیچتے ہیں۔
گندم حاصل کرنے کے بعد زمیندار سب سے پہلے سال بھر کیلئے گندم کو علیحدہ کرتا ہے اور خود باقی بچتی ہے وہ بیچ دیتا ہے۔ گندم کو بیچ کر ادھار بھی چکایا جاتا ہے۔ چنانچہ گندم کی فصل کے ساتھ ہی گاوٴں میں اقتصادی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ پیسے کے حصول کے بعد سماجی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی شادی بیاہ، خوشی غمی وغیر کا ان ایام سے گہرا تعلق ہے۔ فصل کٹنے پر کسانوں کے ہاں خوشیوں کا اندازہ ان کے چہروں کے تاثرات سے بھی خوب لگایا جاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-28

(1) ووٹ وصول ہوئے