بند کریں
ہفتہ فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عید کا دن ہے۔۔۔
عالم اسلام اور عید الفطر کے تہوار۔۔۔۔۔ عید الفطر ہو یا عید الضحیٰ ان دونوں کا آغاز نماز عید سے ہی ہوتا چلا آیا جس میں بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی رنگ برنگے ملبوسات میں نماز عید کی ادائیگی کیلئے عید گاہ آتے ہیں
خالد یزدانی:
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ رخصت ہورہا ہے۔ اس ماہ کے اختتام پر روزہ دار کے انعام کا دن ہوتا ہے یعنی عالم اسلام رمضان المبارک کے بعد عید الفطر کا تہوار‘ جوش و خروش سے مناتے چلے آرہے ہیں۔ مسلمانان عالم سال میں دو عیدیں مناتے ہیں۔ رمضان المبارک کے بعد عید الفطر اور اس کے بعد عید لالضحیٰ یعنی عید قربان ان دونوں تہواروں کے دن خدا اور رسول اکرم ﷺ نے متعین فرمادئیے۔
دیکھا جائے تو عید الفطر اور عید لالضحیٰ دو مختلف واقعات کا صلہ اور انعام ہیں۔ ایک رمضان المبارک کے بعد عید الفطر کی صورت میں اور دوسرا حج کے بعد عید الاضحیٰ جسے عید قربان بھی کہتے ہیں جو سنت ابراہیمی کی یاد دلاتا ہے۔ عید الفطر کو چھوٹی اور میٹھی عید کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور عید الاضحٰی کو قربانی کے حوالے سے عیدیں کے مواقع پر سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ شام‘ مصر‘ ایران‘ اردن عراق اور پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک میں ان تہواروں کو سالہا سال سے مناتی چلی آرہی ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں بھی رونما ہوتی رہی ہیں عید الفطر ہو یا عید الضحیٰ ان دونوں کا آغاز نماز عید سے ہی ہوتا چلا آیا جس میں بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی رنگ برنگے ملبوسات میں نماز عید کی ادائیگی کیلئے عید گاہ آتے ہیں اسلامی ممالک کے بڑے بڑے شہروں کی بڑی مساجد میں عید کے بڑے اجتماع ہوتے ہیں ۔
پاکستان کے شہر لاہور میں بادشاہی مسجد اور اسلام آباد میں فیصل مسجد میں نماز عید کے بڑے اجتماع ہوتے ہیں اسی طرح ملائشیا‘ مصر‘ شامل‘ اردن‘ یو اے ای‘ افغانستان‘ بحرین‘ ترکی‘ انڈونیشیا اور سعودی عرب کے بڑے شہروں میں نماز عید کے بڑے بڑے اجتماع ہوتے ہیں۔ عیدیں کے بڑے اجتماع مقبوضہ وادی کشمیر میں رہنے والے انڈین فورسز کی کڑی نگرانی میں ادا کرتے چلے آرہے ہیں اور فلسطین میں بھی رمضان المبارک کے بعد نماز عید کی ادائیگی کے بڑے اجتماع ہوتے ہیں اور نماز عید کے بعد آپس میں گلے مل کر اتحاد و یگانگت کے مظاہرے نظر آتے ہیں جس کا درس اسلام نے دیاہے۔
آج عید الفطر کا تہوار عالم اسلام کے ساتھ یورپی ممالک میں رہنے والے بھی جوش و جذبہ سے منارہے ہیں اور اس رمضان المبارک کے دوران غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت کے مناظر اور خون میں نہائے معصوم بچوں کی لاشیں آپ نے بھی الیکٹرانک میڈیا پر دیکھی ہوں گی اس کے باوجود فلسطینیوں کے حوصلے بلند ہیں۔ اور رمضان المبارک کے بعد عید الفطر کا دن اسرائیلی ظلم و ستم کے باوجود سادگی سے منائیں گے۔
عید کا تہوار سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات او دیگر اسلامی ریاستوں میں جوش و خروش سے منایا جاتاہے ۔ رمضان المبارک کے بابرکت دنوں میں افطار سے سحر تک تمام بازار کھلے او خریداروں سے بھرے نظر آتے ہیں جبکہ دن کے واقعات میں عام دنوں کے برعکس کم ہوتا ہے جبکہ برادر اسلامی ملک افغانستان میں جہاں حال ہی میں صدارتی انتخابات ہوئے اور اب ایک بار پھر دونوں صدارتی امیدواروں کے رزلٹ کی گنتی کی تیاریاں ہورہی ہیں۔
افغانستان میں رمضان المبارک کے دنوں بھی اس کا احترام کیا جاتا ہے اور اختتام صیام پر عید کا تہوار بھی زور شور سے مناتے ہیں اس موقع پر مساجد میں بڑے بڑے اجتماع ہوتے ہیں خاص طور پر کابل میں عید کا سب سے بڑا اجتماع ہوتاہے جہاں رمضان المبارک کے دوران سحر و افطار کے علاوہ تراویح میں بھی افغانوں کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے۔ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کیلئے عالم اسلام کے ممالک میں خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں پاکستان میں بھی ہر سال رمضان کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوتاہے جس میں ملک بھر سے آنے والی شہادتوں کی روشنی میں چاند کے دکھائی دینے یا نہ دینے کے حوالے سے اعلان کیا جاتاہے۔
اس طرح شوال کا چاند دیکھنے کیلئے بھی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 29رمضان کو ہوتا ہے او چاند نظر آجانے کی صورت یکم شوال کا اعلان رویت ہلال کمیٹی کرتی ہے اس کے ساتھ ہی چاند رات کی مناسبت سے شاپنگ پلازوں اور بازاروں میں رات گئے تک خریداروں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے ۔ خوشی کے مناظرے تمام اسلامی ممالک میں تقریباََ یکساں دکھائی دیتے ہی۔ عید ہو اور بچوں کے نئے کپڑے ‘ جوتے اور بچیوں کو چوڑیاں اور ہاتھوں پر مہندی نہ لگے تو عید کے رنگ پھیکے سمجھے جاتے ہیں ۔
عید پاکستان میں ہو یا بنگلہ دیش‘ عرب ممالک ان سب میں عید کی ابتداء صبح میٹھے سے ہی ہوتی ہے۔ سویاں اور دیگ میٹھی اشیاء کے بعد اہل خانہ عید کی نماز کیلئے عید گاہ کا رخ کرتے ہیں کیونکہ عید الفطر پر نماز کے بڑے اجتماع زیادہ بڑی مساجد یا گراوٴنڈز میں ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایسا دن ہوتاہے جب بچے بھی بڑوں کے ساتھ رنگ برنگے ملبوسات میں نما زعید کے لئے آتے ہیں اور نماز عید کے بعد ایک دوسرے کے گلے لگ کر عید ملتے ہیں۔
اور پھر بچوں کی عیدی شروع ہوجاتی ہے کیونکہ عید ہو اور بچوں کو عیدنہ نہ ملے یہ کیسے ممکن ہے۔ اسی طرح اسلامی ممالک میں ایک دور تھا جب عزیز و اقارب کو عید سے قبل رمضان کے آخری عشرے میں عید کارڈ بھیجے جاتے تھے اور اب جیسے جیسے دنیا ترقی کی جانب تیزی سے گامزن ہے الیکٹرانک میڈیا اور ٹیلی کمیونیکیشن کی دنیا میں انقلاب آگیا اور اب عید کارڈ کی طرح ایس ایم ایس نے لے لی ہے اور اب موبائل پر ہی ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد دی جاتی ہے۔
کیونکہ بقول شاعر
رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے
کے مصداق اپنے د وستوں کو اس موقع پر یاد کرنے سے قربتیں بڑھتی ہیں اور گلے ملنے سے شکوے دور ہوجاتے ہیں۔
آج عید الفطرکا روایتی تہوار منایا جارہا ہے کیونکہ تہوا کوئی بھی ہو کسی بھی قوم کی پہچان ہوتے ہیں یوں تو مسلمانوں کے تہوار بہت زیادہ ہیں لیکن امت مسلمہ اس امر کو واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کے سال میں سب سے بڑے دو تہورا ہیں۔
یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ ۔ ان دونوں تہواروں کو دین اسلام میں بہت قدر منزلت حاصل ہے۔ مسلمان ان تہواروں کیلئے خوش و خروم سے خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ عید کے معنی خوشی مسرت یا جشن کے ہیں۔ اس سے مراد خوشیوں بھرا دن ہے جو بار بار لوٹ کر آئے جبکہ فطر کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں اس طرح عید الفطر وہ انعام ہے جو امت مسلمہ کر رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں والے مہینے کے بعد عطاہوا۔ آض عالم اسلام میں عید کی تیاریاں زور شور سے جارہی ہیں۔ ہمیں اس موقع پر ان کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کرنا چاہئے جو عید منانے کیلئے امید بھرے نظروں سے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں
گھول کے درد کے ماروں نے پیا عید کا چاند
تاریخ اشاعت: 2014-07-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان