بند کریں
بدھ جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
درندگی کا شیطانی کھیل
ہمار معاشرہ اتنی پستی اور گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے کہ معصوم کمسن بچیوں کے اغواء اور انہیں زیادتی کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارنے کے دلخراش و افسوسناک واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے
احسان شوکت:
معصوم بچیاں تو ماں باپ کے آنگن کا پھول ہوتی ہیں۔ ایک طرف بیٹیاں رحمت کا سبب ہیں تو دوسری طرف گھر میں خوشیاں انہیں کے دم سے ہیں۔ مگر ہمار معاشرہ اتنی پستی اور گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے کہ معصوم کمسن بچیوں کے اغواء اور انہیں زیادتی کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارنے کے دلخراش و افسوسناک واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اوران واقعات کی وجہ سے لوگ بچیوں کے حوالے سے شدید پریشانی و خدشات کے علاوہ عدم تحفظ کا شکار بھی ہونے لگے ہیں۔
گزشتہ چند روز میں شہر میں کمسن بچیوں کے اغواء، زیادتی اور پکڑے جانے کے خوف سے انہیں قتل کرنے کے واقعات تسلسل سے رونما ہوئے ہیں کہ انسانی سر شرم سے جھک کر رہ جاتا ہے مگر درندروں کی درندگی بڑھتی جا رہی ہے۔ نشتر کالونی میں گونگے اور بہرے نوجوان شہزاد کی جانب سے 2 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد کرنٹ لگا کرہلاک کرنے کی لرزہ خیز واردات سے انسانیت کانپ اٹھی ہے۔
واقعہ کے مطابق نشتر کالونی کے رہائشی امجد پرویز کی دو سالہ بیٹی (ج) گھر سے کھیلتے ہوئے اچانک غائب ہو گئی۔ جس پر اسے گھر والے تلاش کرتے رہے لیکن اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ بعد ازاں رات گئے بچی کی کرنٹ لگی جھلسی ہوئی لاش امجد پرویز کے پڑوسی مقبول کی چھت سے مل گئی۔ بظاہر بچی (ج) کی ہلاکت بجلی کا کرنٹ لگنے سے ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔ پولیس نے حالات مشکوک ہونے پر بچی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا تو پوسٹ مارٹم رپورٹ نے مقدمے کا رْخ یکسر تبدیل کر دیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ نہایت بے دردی سے جنسی زیادتی کا ہونا پایا گیا۔ جس پر پولیس نے بچی کے والد امجد پرویز کی طرف سے پڑوسی مقبول پر شک کا اظہار کئے جانے پر اسے گرفتار کر کے تفتیش کا ا?غاز کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ مقبول کا بیٹا شہزاد جو گونگا اور بہرہ ہے۔ اس نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو سالہ پھول جیسی بچی (ج) کو چھت پر کھیلتے ہوئے زبردستی جنسی درندگی کا نشانہ بنایا اور پھر پکڑے جانے کے خوف سے اپنے گھر والوں سے مل کر بچی کو بجلی کا کرنٹ لگا کر ہلاک کر دیا تھا تاکہ بچی (ج) کے گھر والے سمجھیں بچی۔
اس دلخراش واقعہ میں بچی کے والدین اور دیگر اہلخانہ کا بھی گھناوٴنا کردار سامنے آیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے پکڑے جانے کے خوف سے منصوبے کے تحت بچی کو بجلی کا کرنٹ لگا کر ہلاک کر دیا تھا۔ ملزم کے گونگا اور بہرہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے مجسٹریٹ کے حکم سے ملزم سے تفتیش کے لئے ا شارے سے باتیں کرنے والے مترجم کی خدمات حاصل کیں۔ جس نے بتایا کہ ملزم شہزاد نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس نے بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد اپنے اہلخانہ کی مدد سے چھت سے گزرنے والی بجلی کی تاروں سے کرنٹ لگا کر ہلاک کر دیا تھا اور اس کی نعش چھت پر چھوڑ دی تھی تاکہ یہی تاثر ملے کہ بچی حادثاتی طور پر بجلی کا کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئی ہے۔
پولیس نے مرکزی ملزم شہزاد اور اس کے والد مقبول کے علاوہ دیگر گھر والوں غفور، مقصود اور بشریٰ کو حراست میں لے لیا ہے۔ ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے نمونے بھی لیبارٹری بھجوا دئیے گئے ہیں۔
ایک اور افسوسناک واقعہ گرین ٹاوٴن میں پیش آیا۔ گرین ٹاؤن کا رہائشی عبدالحمید گرمی کی وجہ سے رات کو اپنے گھرکے باہر سڑک کے ساتھ گرین بیلٹ پر اپنے بیٹے ، بیوی اور تین سالہ معصوم بیٹی (م)کے ساتھ سو گیا۔
رات 3 بجے دونوں میاں بیوی بچوں کو گرین بیلٹ پر سوتا چھوڑ کر گھر کے اندر گئے اور جب وہ کچھ دیر بعد واپس آئے تو ان کی معصوم بچی (م) گرین بیلٹ سے غائب تھی۔ بچی کو تلاش کیا گیا مگر اس کا کچھ پتا نہ چلا۔ جس کے بعد صبح سات بجے کے قریب تین سالہ (م) بے ہوشی کی حالت میں چاند ماری گراؤنڈ گرین ٹاؤن میں ایک ویران جگہ پڑی ملی۔ جسے سفاک اور درندہ صفت شخص نے گرین بیلٹ سے اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد یہاں پھینک دیا تھا۔
پولیس نے مدعی کے عزیز و اقارب اور اردگرد کے لوگوں کے علاوہ وہاں آنے والے افراد سے تفتیش کی۔ جن سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی اور دوران تفتیش ایک شخص تنویر کا مشکوک کردار سامنے آیا۔ جب ملزم تنویر کو باقاعدہ شامل تفتیش کیا گیا تو اس نے اس گھناؤنی اورلرزہ خیز وارادات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر اس وقت شیطان غالب آ گیا اور میں بہت بڑی غلطی کر بیٹھا۔
میں نے گرین بیلٹ سے بچی (م) کوسوتے میں اغواء کیا اور چاند ماری گراؤنڈ گرین ٹاؤن میں ویرانے میں لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور اسے وہاں بے ہوشی کی حالت میں پھینک کر بھاگ گیا۔
اسی طرح نواب ٹاوٴن کے علاقہ میں نامعلوم افراد نے7 سالہ بچی کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور پھر اسے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر کے لاش کھیتوں میں پھینک کر فرار ہو گئے۔
افسوسناک واقعہ کے مطابق نواب ٹاوٴن کے علاقے میں رائیونڈ روڈ پر آموں کے باغ میں7 سالہ بچی کی تشدد ذدہ لاش دیکھ کر لوگوں نے پولیس کو اطلاع کر دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے جمع کرا دی ہے۔ پولیس کے مطابق متوفیہ نے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی ہے۔ شبہ ہے کہ نامعلوم افراد نے بچی کو اغواء اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد تشدد کر کے قتل کر دیا اور لاش یہاں کھیتوں میں پھینک کر فرار ہو گئے۔
ایک اور دلخراش واقعہ کے مطابق مظفر گڑھ کے رہائشی ڈی پی او مظفر گڑھ کے آفس میں اے ایس آئی خضر حیات کی اڑھائی سالہ بیٹی انفال فاطمہ کو گھر میں کھیلتے ہوئے نیچے گرنے سے دونوں آنکھوں پر چوٹ لگی۔ بچی نشتر ہسپتال ملتان علاج کے لئے داخل رہی۔ ڈاکٹر وں کا کہنا تھا کہ اس کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ ڈاکٹروں نے بچی کی آنکھوں کے علاج کے لاہور میو ہسپتال بھجوا دیا۔
خضر حیات اپنی بیوی شمیم بی بی کے ہمراہ اپنی اڑھائی سالہ نابینا بچی انفال فاطمہ کو علاج کرانے کے لیے میو ہسپتال لایا۔ وہاں ڈاکٹروں نے اسے بچی کے آپریشن کے لیے 2 روز کا وقت دے دیا۔ جس کے بعد خضر حیات اورشمیم بی بی بچی کو لے کر داتا دربار آ گئے۔ وہاں ماں شمیم بی بی بیٹی کو سْلا کر خود باتھ روم گئی تو نامعلوم افراد بچی کو اغواء کر کے فرار ہو گئے۔
پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے مگر تاحال نابینا بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بچی کے مجبور والدین نے داتا دربار ڈیرے ڈال لئے ہیں اور وہ بچی کی تلاش کے لئے دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ماں شمیم بی بی کو بچی کی جدائی میں ہر وقت غشی کے دورے پڑتے رہتے ہیں۔ میاں بیوی بچی ڈھونڈ رہے ہیں۔ بچی کی تلاش میں داتا دربار سے ملحقہ علاقوں میں جھونپڑیوں ، دارالامان ، راوی پْل کے قریب جھگیوں کے چکر لگاتے اور دربدر ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس بھی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے۔ پولیس کہتی دعا کرو اللہ بچی مل جائے۔ داتا دربار انتظامیہ بھی ہماری بات نہیں سن رہی۔ داتا دربار میں کئی سو پولیس اہلکار اور گارڈ تعینات ہیں، جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ اس سے ہماری بیٹی کو اغواء کرنے والوں کا پتا چل سکتا ہے مگر داتادربار انتظامیہ لگتا ہے اغواء کاروں سے ملی ہوئی ہے۔
داتا دربار میں پولیس اور دربار انتظامیہ کی ملی بھگت سے مذموم مقاصد کے لئے بچیوں کو اغواء کرنے والے بردہ فروش گروہ سرگرم ہیں۔مگر پولیس کارکردگی دیکھیں تو گزشتہ سال مغلپورہ سے اغواء کے بعد ذیادتی کا نشانہ بننے والی بچی (س) کے کیس کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ،چیف جسٹس آف پاکستان سمیت تمام اعلیٰ حکام کے نوٹس کے باوجود تاحال نہ تو ملزمان پکڑے جا سکے ہیں اور نہ ہی اس کیس میں کوئی اہم پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔
شک کی بنا پر حراست میں لئے گئے دو سو سے زائد افراد کو بیانات لینے کے بعد اور تفتیش میں گنہگار ثابت نہ ہونے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ مگر تاحال ملزمان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق چھوڑے گئے تمام افراد کو مکمل تسلی کے بعد بے گناہ قرار دیا گیا ہے جبکہ اصل ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس ہر قسم کے وسائل بروے کار لا رہی ہے اور اصل ملزمان کو گرفتار کرکے ہی رہیں گے۔
اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر ضرورت اس کی بات کی ہے کہ پولیس و قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے درندہ صفت ملزمان کے خلاف گرفت مضبوط کریں۔انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان ملزمان کو نہ صرف سخت سزائیں دی جائیں بلکہ ان پر عملدرآمد بھی کیا جائے جبکہ والدین بھی اپنی کمسن بچیوں کی حفاظت کریں اور کوشش کریں کہ انہیں اکیلا نہ چھوڑا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان