بند کریں
بدھ فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچھڑنے کے بھی آداب ہونے چاہئیں
دنیا کے مختلف خطوں میں طلاق ایسے بھی ہوتی ہے
صبیحہ رشید :
وہ شادی ہی کیا جس میں رنگ برنگی رسومات کی ادائیگی نہ ہو، یہ رسومات مشرقی ممالک میں رواج ہی نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی لوگوں کواکثریت ان سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ آپ نے شادی کے موقع پراداکی جانے والی متعدد اور رنگ رنگ کی رسومات کے بارے میں توسنا ہوگا لیکن دنیا میں چند ایک مقامات ایسے بھی ہیں جہاں شادی کی ناکامی پر بھی مذہبی رسومات ادا کرنے کی روایت موجود ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ شادی کی ناکامی کی وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں ، شادی ٹوٹنے کاتجربہ لوگوں کیلئے خوشی کاباعث نہیں ہوتا، جس میں دونوں فریقین کوطلاق کامعاہدہ کرنا ہوتا ہے اور اس حوالے سے اپنے ملک کے قوانین کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔
معروف بین الاقوامی روزنامہ سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق ذیل میں دنیا کے کئی ممالک میں پائی جانے والی طلاق کے عجیب وغریب رسومات اور طلاق کے حیرت انگیزقوانی کاذکر موجودہے۔
جن کوپڑھ کرمحسوس ہوتاہے کہ واقعی طلاق ایسے بھی ہوتی ہے۔ اسی لئے کہا جانے لگا کہ بچھڑنے کے بھی آداب ہونے چاہئیں کیونکہ ضروری نہیں کہ طلاق دیتے وقت غصے کااظہار کیاجائے، اگردونوں فریقین باہم رضامندی سے ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتے توانہیں خوشی سے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلینی چاہئے، کیونکہ ہونہ زندگی کاکوئی نہ کوئی حصہ دونوں نے اکٹھے گزار اہی تھا۔

جرمنی کے ایک چرچ میں طلاق پر ماتم کی رسم
2000ء کی بات ہے جب جرمنی میں ایک پادری مارگوٹ کوسمین نے ملک کے تمام گرجا گھروں میں طلاق کے موقع پر ماتم کی رسم ادا کرنے کی تجویز پیش کی جس کے بعد انن کی تجویز پر گرجاگھروں میں طلاق کے موقع پربڑپیمانے پر ماتم کی رسم ادا کی گئی۔ ان تقریبات میں دونوں فریقین دوستوں اور رشتہ داروں کواپنی شادی کی ناکامی کی وجوہات سے آگاہ کرتے ہیں۔

جینگ میں طلاق کاسرٹیفکیٹ منحوس
جینگ افراد چین سے تعلق رکھنے والی ایک اقلیتی نسل کے افراد ہیں۔ جن کے ہاں طلاق کاایک مخصوص طریقہ ہے۔ جس کے مطابق طلاق کے سرٹیفکیٹ پر دستخط گھر کے اندرنہیں کئے جاسکتے ہیں ار دستخط کرنے کے فوراََ بعد قلم اور دوات کوبُراشگن سمجھ کر دور پھینک دیاجاتاہے۔
چین میں محبت نامے سات برس بعد ارسال
2011ء میں چین میں ایک سرکاری ڈاکخانے کی طرف سے ایک ایسی مہم چلائی گئی جس میں شادی شدہ جوڑوں کوایک محبت نامہ لکھنے کی ترغیب دی گئی، جسے شادی کے سات برس بعد شریک حیات کو ارسال کیاجائے گا۔
اس اقدام کامقصد دراصل ملک میں طلاق کی شرح کوکم کرنا تھا تاکہ سات برس بعد محبت نامہ پانے والے میاں بیوی ایک بات پھر سے اس محبت کو یاد کرسکیں جس نے انہیں ملایاتھا۔
جاپان میں ایک ایسا مندرواقع ہے جواپنے زائرین کوناکام شادی ٹوائلٹ میں بہانے کی پیشکش کرتاہے۔ وسطی جاپان کے صوبے گونما میں منٹوکوجی نیمپل، جوڑوں کوایک کاغذ پرتمام گلے شکوے لکھنے اور طلاق کی وجوہات بیان کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جسے بعد میں فلیش میں بہادیا جاتاہے۔

طلاق ممنوع
دنیا میں فلپائن واحدملک ہے جس کاقانون آج بھی اپنے شہریوں کوطلاق کی اجازت نہیں دیتا ہے۔تاہم اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتاہے کہ 1985ء سے 2000ء کے درمیان جاپان میں طلاق کی شرح سب سے زیادہ تھی۔
2006ء میں جاپانی جوڑوں میں شادی کے بیس برس بعد طلاق لینے کا رواج زیادہ عام ہوگیاتھا۔ ماہرین کاکہنا تھا کہ ریٹائرڈہسبنڈ سیڈروم کی وجہ سے تھا۔
یعنی ایسے شوہروں کی وجہ سے جوروز گار کیلئے ملک سے باہر رہتے ہیں اور اپنی بیوی کو زیادہ نہیں جانتے ہیں لیکن ریٹائرمٹ کے بعد انہیں اپنی بیوی میں ہر طرح کے عیب نظر آتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس طرح لوگ شادی کافیصلہ سوچ سمجھ کرکرتے ہیں ، اسی طرح طلاق دیتے وقت اگرایک بار سوچلیں تو شاید طلاق کی نوبت ہی نہ آئے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-12

(0) ووٹ وصول ہوئے