بند کریں
جمعہ فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بڑھتے ہوئے معاشرتی جرائم
لوگ جہاں مل جل کر رہنے لگیں وہاں معاشرہ وجود میں آتا ہے یعنی افراد سے ہی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ ہر معاشرے کاایک دستور ہوتا ہے جس کے مطابق لوگ اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں۔ اپنے روز مرہ کے معاملات کو انہی اصولوں کے تحت انجام دیتے ہیں۔
وسیم عباس:
لوگ جہاں مل جل کر رہنے لگیں وہاں معاشرہ وجود میں آتا ہے یعنی افراد سے ہی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ ہر معاشرے کاایک دستور ہوتا ہے جس کے مطابق لوگ اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں۔ اپنے روز مرہ کے معاملات کو انہی اصولوں کے تحت انجام دیتے ہیں۔ اور اگر معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم نہ رہے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔
جرائم کا پھیلاوٴ عام ہونے لگتا ہے۔ رعایا بدحالی اور نا انصافی کاشکار ہوجاتی ہے۔ عدل معاشرے سے ختم ہو جاتا ہے اور لوگوں میں احساس اور ذمہ داری کا خیال نہیں رہتا معاشرہ ذلت و رسوائی کی علامت بن جاتا ہے۔ بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ آج کا دور جدید دور ہے جس میں انسانی زندگی کی باگ ڈور سنبھالنے کی کوششیں کر رہا ہے بہتر معیار زندگی کی انہی کوششوں کے عوض وہ یہ بھول جاتا ہے کہ آخر وہ کس مقصد کیلئے دنیا میں آیا ہے اور اس کا حقیقی عمل کیا ہونا چاہئے تھا۔
آج بڑھتے ہوئے جرائم کے نوجوان نسل پر جس قدر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ تعلیم کی شرح خواندگی کا بہت کم اور ہماری عملی تربیت کا اسلامی طرز زندگی کے اصولوں کے عین مطابق ہونا ہے۔ اسلام میں ملت کی بقاء کیلئے معاشرے کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس کیلئے اسلام قوانین بھی وضع کئے ہیں۔ جن پر عمل پیرا ہوکر ہم مسلمان اپنی زندگیوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔
مگر افسوس کہ ہم نے اسلام سے دوری اپنالی ہے۔ جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں کہ جھوٹ، قتل و غارت، فریب اور چوری، رشوت خوری، سود اور شراب نوشی اور دوسروں کی حق تلفی جیسی برائیاں جنم لے چکی ہیں۔ اور اس کیلئے حکومت وقت کوئی ٹھوس اقدامات عمل میں نہیں لا رہی۔بڑھتی ہوئی قتل و غارت گری نے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بناکر رد عمل ظاہر کیا جاتا ہے جو ہنگامی صورتحال کو جنم دے رہی ہیں۔
جھوٹ معاشرے اور انسانیت کی تباہی کا سب سے بڑا منبع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے اعمال اور رزق میں برکت نہیں رہی۔ آج اسلام سے دوری نے ہمارے ذہنوں کو اس قدر مفلوج کردیا ہے۔ حلال حرام، سچ اور جھوٹ، کی تمیز نہیں رہی اور جھوٹ کا شکار ہو کر دیگر جرائم میں ملوث ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ تباہی کی نظر ہو چکا ہے۔ کرپشن اور لوٹ مارنے معاشرے کی دھچیاں اڑا دی ہیں۔
ہر فرد زندگی کا آسائشوں کو ڈھونڈنے کیلئے کرپشن میں ملوث ہو رہا ہے۔ اسی طرح نشے جیسی بد ترین برائی بھی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ روز بروز بڑھتے ہوئے جرائم پر کنٹرول نہیں اور ایک اندازے کے مطابق 40 فیصد نوجوان نسل جن میں 15 سے 30 سال کے لڑکے لڑکیاں شامل ہیں نشہ جیسی لعنت کا شکار ہو چکے ہیں۔ جس کیلئے حکومت وقت کی کوئی خاص توجہ مرکوز نہیں کہ کیا اقدامات عمل میں لائے جائیں۔
گلی محلوں اور پارکوں میں بیٹھ کر نوجوان سرعام نشہ کر رہے ہیں یا پھر اونچے درجے کی پارٹیزمیں یہ ماحول پایا جاتا ہے۔ 20 فیصد لوگ ذہنی سکون حاصل کرنے کیلئے نشہ آور ادویات لیتے ہیں۔ جوکہ غیر اخلاقی جرم ہے اور معاشرے میں بگاڑ بھی۔ دین اسلام سے دوری نے صحیح اور غلط میں پہچان ختم کردی ہے۔ معاشرے میں تعلیم کا فقدان اور بہترین آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے واقعات جنم لے رہے ہیں۔
آج ہم جس قدر معاشرتی برائیوں میں گھر کر انسانیت کی درجہ بندی سے گر گئے ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنے کی اور عملاً اسلامی قوانین پر عمل پیرا ہو کر اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا حکومت پاکستان کو ملک اور نوجوان نسل کی بقاء کیلئے ایسے اقدامات کرنا ہونگے جس سے پاکستان میں تعلم کی شرح کو عام کیا جائے نوجوان نسل خصوصاً عورت کو دین سے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ نئی نسل کی بقاء کو یقینی طور پر محفوظ بنایا جاسکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-17

(0) ووٹ وصول ہوئے