بند کریں
پیر جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
برداشت اور رواداری کہاں گئی؟
بڑھتی ہوئی عدم برداشت ہمیں غیر مہذب قوم بنا رہی ہے!۔۔۔۔سیاست ہو یا مذہب ، ہم اختلافات یا مخالفت برداشت کرنے کو تیار نہیں اور فوراََ دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے حد سے گزر جاتے ہیں
کے اے خان:
بات تو کچھ بھی نہ تھی۔۔۔۔۔ مگر اتنی بڑھی کہ وہ دونوں اپنا مقام وعہد ہ اوراردگرد کے لوگوں کو بھول کر شرافت اور تہذیب کی تمام حدود پار کر گئے۔ دونوں کے ایک دوسرے کو ایسے ایسے القابات سے نوازا کہ دیکھنے اور سُننے والے حیران وششدر رہ گئے۔ وہ دنوں پڑھے لکھے اور اچھے ادارے میں ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔ اُس روز معمولی تکرار سیاسی صورتحال پر تبصرے سے شروع ہوئی تھی جو باقاعدہ جھگڑے کی شکل اختیار کر گئی اور اب وہ دونوں ایک دوسرے سے بات بھی کرنے کے روا دار نہیں۔

یہ صورتحال اب ہمارے معاشرے میں اکثر دیکھنے میں آتی ہے ، عدم برداشت اور رواداری کی کمی نے لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیئے ہیں اور معاشرہ بتدریج بند گلی کی طرف جا رہا ہے۔ سیاست ہو یا مذہب ، ہم اختلافات یا مخالفت برداشت کرنے کو تیار نہیں اور فوراََ دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے حد سے گزر جاتے ہیں۔ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں نامور عالم دین کو ایک دوسرے مفتی صاحب کے بارے میں کچھ یوں بات کرتے سُنا گیا” وہ تو ایسا شخص ہے کہ اُس کے پاس چند منٹ بیٹھنے سے آدمی کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

اسی طرح حالیہ سیاسی بحران کے دوران حکومتی اور اپوزیشن رہنما ایک دوسرے کے بارے میں میڈیا پر براہ راست انتہائی غیر مہذب الفاظ استعمال کرتے نظر آئے۔
حکومتی ارکان نے علامہ طاہر القادری اور عمران خان کے بارے میں ”سازشی“ چور‘ غیر ملکی ایجنٹ‘ اور” جمہوریت کے دشمن “ جیسے ”القابات“ استعمال بھی وزیراعظم میں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ میں شہباز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں کو ” بادشاہ سلامت ‘ درباری ، ظالمو، شریفوں“ اور دیگر ” القابات“ سے نوازنے رہے۔
سیاسی رہنماوں کا یہ رویہ بتدریج اُن کے پارٹی کارکنوں اوراُن سے ہمدری رکھنے والے عام لوگوں میں منتقل ہو چکا ہے۔ چنانچہ جہاں کہیں سیاسی نظرئیات میں اختلافات ہو، لوگ ایک کے خلاف ہر حد پر کر جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کا نقطہ نظر کوئی سننے یا برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
سیاست میں عدم برداشت کے رویے کے پھیلاو میں ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے ٹاک شوز کا بھی بڑا عمل دخل ہے جو ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں سیاسی رہنماوں کو ایک دوسرے پر لائیو شوز کے دوران کیچڑ اچھالنے پر مجبور کرتے ہیں اس کے علاوہ فیس بک ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس بھی اب مخالف سیاسی نظریات رکھنے والوں کے خلاف اپنے اندورنی جذبات کے اظہار کا ذریعہ بن گئی ہیں ۔
بد قسمتی یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر چونکہ کوئی روک ٹوک ہے اور نہ ہی کسی قسم کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے لہٰذا ہمارے ہاں لوگ ہر طرح کی اخلاقی و معاشرتی اقدار کو پامال کر کے مخالف نقطہ نظر رکھنے والوں کو فحش گالیاں دیتے اور گھٹیاں پن کی آخری حدوں کو چھوتے نظر آتے ہیں۔
عدم برداشت کا رویہ عام لوگوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ایسے واقعات اب تسلسل سے سامنے آنے لگے ہیں جن میں کسی معمولی چور ڈاکو کے پکڑے جانے پر لوگ اُسے پولیس کے حوالے کرنے کی بجائے خود مار مار کر ادھ موا کر دیتے ہیں۔
بعض واقعات میں تو ان مجرموں کو جو کوئی بار مشتبہ ہوتے ہیں جان سے ہی مار دیا جات ہے۔ سیالکوٹ کے دو حافظ قرآن بھائیوں کی ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کو کون بھول سکتا ہے؟
پولیس والوں کو اختیار مل جائے تو وہ ظلم کی ہر حد پار کر جاتے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاون ا س کی حالیہ مثال ہے جب پولیس کے جوانوں نے بوڑھے دیکھے نہ بچے اور عورتیں۔ ایسی بربریت کا مظاہرہ کیا کہ جس کی مثال کم از کم لاہور میں پہلے نہ دیکھی گئی تھی۔
دوسری طرف جب ماڈل ٹاون میں علامہ طاہرالقادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو چند پولیس والے ڈیوٹی پرجاتے نظر آئے تو انہوں نے اپنی تعداد کے بل بوتے پر ان اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا اور نہ صرف تشدد کرتے رہے بلکہ کئی گھنٹے تک حبس بے جا میں بھی رکھا یہ سب عدم برداشت اور صبر وتحمل کی کمی کاہی نتیجہ تھا۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کا کچھ مخصوص عناصر بھر پور فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔
ان عنا صر کی ایک واضح مثال ”گلو بٹ“ ہے ۔ ایسے کرداروں کو خاص اہداف سونپ کر کئی گروہ اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ہڑتال، احتجاج یاکسی بھی طرح کے عوامی اجتماع کے موقع پر ایسے عناصر مخصوص ایجنڈے کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں سے ہمارے ہاں عوامی احتجاج اور جلسے جلوسوں میں مارکٹائی، تشدد کے ساتھ ساتھ لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور جلاوٴ گھیراوٴ کے واقعات بھی کثرت سے ہونے لگے ہیں۔
یہ واقعات دراصل انہی عناصر کی کار روائیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں جو کسی مخصوص گروہ کے اشاروں پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور عوامی اجتماع کو برداشت کا رویہ ترک کر کے تشدد پر اکساتے ہیں۔
پاکستان میں ایسے مذہبی راہنماوں کی بھی کمی نہیں جن کا اولین مقصد اپنے مخالف فرقے کے دینی رہنماوں کے خلاف فتوے جاری کرنا ہے اور جو اپنے پیروکاروں کو ہمہ وقت عدم برداشت کا سبق پڑھاتے رہتے ہیں۔
ایسے ہی دینی رہنماوں نے شیعہ سنی ، اہل سنت، اہل حدیث اور بے شمار گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کر کے نفرتوں اور دشمنیوں کے گہرے بیج بو دیئے ہیں۔ان ہی کی وجہ سے آج کسی ایک فرقہ کا پیروکار دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیارنہیں اوردوسرے کو ”کافر“ خیال کرتاہے۔ بعض دینی رہنما تو دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو واجب القتل تک قرار دے چکے ہیں۔
یہی حال اب ہمارے ہاں اقلیتوں کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔دیگر مذاہب کے خلاف تشدد اور عدم برداشت پر مبنی واقعات بڑھ رہے ہیں حالانکہ ہمارا دین تو امن کا دین ہے اور اسلام سب سے بڑھ کر امن ،رواداری اور برداشت کا درس دیتا ہے۔
تشدد، عدم برداشت اور انتہا پسند رویوں نے ہماری رسوائی اور بربادی کا سامان کیا ہے۔ دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور ہم ایک انتہا پسند معاشرے کے طور پر پہنچانے جا رہے ہیں۔
دنیا ہمیں ایک غیر مہذب اور انسانی حقوق و عالمی قوانین سے ناہلد قوم کے طور پر دیکھ رہی ہیل۔ اس تشویشناک صورت حال میں ہم سب کو اپنی اپنی سطح پر اپنی ذات کا محاسبہ کرنا ہوگا اور اپنے اندر صبر تحمل ، برداشت اور روداری جیسے اوصاف پیدا کرنے ہونگے۔ جب تک ہم معاشرے میں بڑھتی عدم برداشت کے خلاف مورچہ زن نہیں ہونگے اور اس کے تدارک کے لئے ہر سطح پر لائحہ عم مرتب نہیں کریں گے یہ ناسور پھیلتا جائے گا اور معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کرتا رہے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-08

(0) ووٹ وصول ہوئے