بند کریں
بدھ فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بلوچستان میں ریکارڈ توڑ سردی
متاثرین زلزلہ کی مشکلات بڑھ گئیں خیموں میں ٹھٹھرتے ہوئے اس بستی کی بیمار خواتین وحضرات اور بچوں کے علاج کیلئے کوئی بنیادی صحت مرکز یا ڈاکٹر نہیں

ص یزدانی کی خصوصی رپورٹ:
بلوچستان میں پڑنیوالی ریکارڈ توڑ سردی نے حالیہ قیامت خیز زلزلے سے متاثرہ بلوچستان کے مختلف علاقوں خصوصاََ شدید متاثر ہونے والے ضلع آواران کے باشندوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کھلے آسمان تلے بیٹھے اور خیموں اورچھپروں میں پناہ لیئے ہوئے متاثرین شدید سردی نے ٹھٹھر کر رہ گئے ۔ سردی سے مزید ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔

شدید ٹھنڈ سے بچنے کیلئے کئی لوگ عارضی طور پر کراچی منتقل ہوگئے ہیں۔
24ستمبر 2013ء کو 7.8ریکٹر اسکیل کی شدت سے آنے والے زلزلے اور 5.9اور 4.7ریکٹر اسکیل پر آنے ولاے آفٹر شاکس سے بلوچستان میں تریبت، پنجگور، چاغی ، خضدار، گوادر، کوئٹہ، حب، فاران، جھل مگسی، قلات،سبی، مستونگ، جعفر آباد اور ضلع آوران میں بیدی، ماشی اور جھاؤ میں کئی لاکھ افراد شدید متاثر ہوئے ‘ ایک ہزار سے زائد ہلاکتوں کے علاوہ ہزاروں مکانا ت، طبی مراکز وار اسکولوں کی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔
تین ماہ گزرنے کے باوجود حکوت نے تعمیر نو کے وعدے کے تحت یہاں اب تک تعمیر نو کی ایک اینٹ بھی نہیں رکی۔ اس علاقے کے متاثرین شاکی ہیں کہ ان کی مشکلات اور مسائل کو میڈیا کے ذریعے اجاگر کیوں نہیں کیا جارہا۔ سیکیورٹی خطرات اور کراچی سے 475کلو میٹر ناہموار پہاڑی راستے کے طویل سفر کے باعث بیشتر میڈیانے یہاں جانے سے نہ صرف گریز کیا بلکہ متاثرہ علاقوں کے مسائل کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔

قدرتی وسائل سے مالا مال ضلع آوران بلوچستان کا انتہائی پس ماندہ اور غریب ترین ضلع ہے۔ زلزلہ سے اس ضلع کے دیہی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انفرا سٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکاہے ‘ بجلی ہے نہ پینے کیلئے صاف پانی‘اسکول اور بنیادی صحت مراکز تباہ ہونے سے تعلیمی عمل اور طبی سہولتیں ختم ہوکر رہ گئی ہیں۔ فیملی میگزین کی نمائندہ کو خواتین کی ایک ٹیم کے ساتھ ضلع آوران جا کر یہاں زلزلے سے ہونے والی تبای دیکھنے اور متاثرین زلزلہ سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔

سردیوں کی آمدکے پیش نظر متاثرین نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے منہدم مکانات کے ملبے سے بچی کھچی اینٹیں چن کر اس سے ایک کمرے کی دیواریں اور کھجور کے پتوں سے چھت بنا کر خود کو سردی سے محفوظ رکھنے کی پیشگی کوشش کرلی تھی۔ بعض لوگ خیموں میں پناہ گزیں ہیں۔ یہ خیمے انہیں سردی سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ یخ بستہ ہوائیں ان خیموں کے مکینوں کے جسموں سے ٹکرا کر انہیں بیمار کررہی ہیں۔
خیموں میں ٹھٹھرتے ہوئے اس بستی کی بیمار خواتین وحضرات اور بچوں کے علاج کیلئے کوئی بنیادی صحت مرکز یا ڈاکٹر نہیں ۔ چند بچے اپنے اسکول کی منہدم ہونے والی عمارت کے پاس بیٹھے دھوپ سینک رہے تھے۔ چند بچوں کے ہاتھ میں کتابیں تھیں۔ اس سب کے جسم پر برائے نام گرم کپڑے نظر آئے۔ بستی دال بند میں ہر طرف تباہی نظر آرہی تھی۔ تین ماہ سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود یہاں زندگی مکمل طورپر بحال نہیں ہوسکی۔
آواران کے باقی علاقوں کی طرح بستی دال بند کے تمام مکانات‘ اسکول‘ بنیادی صحت مراکز اور دیگر عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں۔ جگہ جگہ ملبے کے ڈھیر، ٹوٹے ہوئے برتن بچا کھچا سامان اور ٹھنڈی ہواؤں سے ہر طرف اڑتی دھول نظر آتی ہے۔ شدید سرد موسم میں خواتین کھلے آسمان تلے کھانا بنانے پر مجبور ہیں۔ تباہی کے یہ مناظر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی یہاں بھی زندگی رواں دواں تھی۔

ایک مکین شریف اچک زئی نے بتایا کہ میں نے کئی سالوں کی کمائی سے مکان بنایاتھا ۔ زلزلے سے میرے بچے بے گھر ہوگئے ہیں۔ بستی کے بچوں منصور علی، عبدالوہاب اور شازیہ علی نے شکایت کی کہ ان کا اسکول ٹوٹ گیا ہے۔ یہاں فوری اسکول کھولا جائے۔ بیشتر خواتین اورلڑکیوں نے دوپٹوں اور گرم شالوں سے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔ بستی کی خواتین دلناز، غزالہ اور سمیہ نے بتایا کہ ہم تین ماہ سے اسی طرح بیٹھے ہوئے ہیں۔
ہمارے مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال آواران تک جانے کے لئے ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ۔ شدید سردی میں اسپتا ل تک کیسے پہنچیں؟ اس علاقے میں بہت سی خواتین، بچے اور مرد بیمار ہورہے ہیں لیکن یہاں کوئی صحت مرکز نہیں ۔ حاملہ عورتیں پریشان ہیں۔ ٹوٹے مکانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نمناک آنکھوں ک ے ساتھ کہنے لگیں: ہمارے سر سے چھت اٹھ گئی ہے۔

لکڑیوں اور گھاس پھونس کے بنائے ہوئے یہ چھپر ہمیں سردی سے نہیں بچاسکتے اس تباہ حال بستی کے مکین بشیر‘ اقبال اور ہمایوں کے مکانات بھی مکمل تباہ ہوچکے ہیں۔ متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے شکایت کی کہ حکومت نے ہمیں بالکل نظر انداز کردیا ہے۔ یہاں گھرووں کے بیت الخلا ٹوٹ گئے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وعدے کے مطابق تعمیر نو کا کام جلد شروع کر کے ہماری مشکلات دور کرنے کی کوشش کرے۔
ضلع آواران بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان نیشنل فرنٹ کی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ یہاں چیک پوسٹوں پر سیکیورٹی کے اداروں کی انتہائی چیکنگ کے بعد داخلے کی اجازت ملتی ہے۔ بلوچستان میں ریکارڈ توڑ سردی کے باعث یہاں ہونے والے امدادی کام بھی متاثر ہورہے ہیں۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال آواران کا ایک بڑا سرکاری اسپتال ہے۔ زلزلہ آنے کے بعد یہاں زخمیوں کو فوری طبی امداد دی گئی۔
شدید سردی کے باعث یہاں وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔ اس اسپتال میں انہیں علاج کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ زیادہ پیچیدہ کیسز کو کوئٹہ یا کراچی کے اسپتالوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ علاج کیلئے آنے والوں نے شکایت کی ہے کہ وہ شدید سرد ی میں خیموں اور چھپروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہامرے پاس پہننے کیلئے گرم کپڑے نہیں ۔ پینے کیلئے صاف پانی نہیں۔
شدید سرد موسم میں رات کے وقت بھی حاجت کیئے جانا پڑتا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومت بلوچستان کی ناقص منصوبہ بندی اور بی ایل ایف کی دہشت گردی کی کارروائیوں اور اب شدید سردی کے باعث زلزلہ زدہ ان علاقوں میں کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹھوس اور قابل عمل سیکیورٹی پلان تشکیل دے کر یہاں تعمیر نو کا کام جلد شروع کرے۔

زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے کاموں کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہ اکہ تعمیر نو کیلئے ارتھ کیویک ری کنسٹرکشن اتھارٹی (ERA) سے ہماری بات چیت ہوگئی ہے۔ زلزلے سے ہونے ولاے تقصانات کا تخمینہ کر کے تعمیر نو کیلئے وفاقی حکومت کے ساتھ منصوبہ بندی کر کے تعمیر نو کا کام جلد شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ مل ریاض نے 300گھر بنانے اور ہلاک شدگان کے ورثاء کیلئے دو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے بلوچستان کے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ میڈیا کو اس سلسلے میں بھرپور فعا ل کردار ادا کر کے لوگوں کو یہاں کے باشندوں کی مدد کرنے کیلئے راغب کرنا چاہیے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال آواران کی سینئر لیڈی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر راحت جبین نے بتایا کہ گھروں کے بیت الخلا بھی ٹوٹ گئے ہیں۔
غلاظت کا اخراج نہ ہونے کے باعث جلدی اور وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔ یہاں واش روم فوری طور پر بنائے جائیں۔ زلزلہ کے بعد حاملہ خواتین میں ابارشن کے باعث اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہمیں اسپتال میں حاملہ خواتین کیلئے جان بچانے والی ادویات کی ضرورت ہے ۔ گاؤں کے صحت مراکز میں لیڈی اسٹاف نہیں۔ خورا ک کی کمی سے خون کی کمی پیدا ہورہی ہے۔ خواتین ڈیپریشن کا شکار ہورہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں خواتین ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھیجی جائیں۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان