بند کریں
بدھ جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں کیخلاف جرائم میں اضافہ
چائلڈ لیبر حوصلہ شکنی ضروری ہے۔۔۔۔ بچوں پر دفتر ،گھر یا دکان روکشاپ کے مالکان کے ظلم وتشدد کی بیشتر کہانیاں تو میڈیا اور اخبارات کے ذریعہ منظر عام پر آجاتی ہیں۔ ظلم کرنے والے پکڑے بھی جاتے ہیں اور بعد میں چھوٹ بھی جاتے ہیں
شیر سلطان ملک:
ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور بروزگاری ایک طرف تو جرائم اور خودکشیوں ونفساتی امراض میں اضافہ کر رہی ہے تو دوسری طرف ان مسائل کی وجہ سے بچوں سے محنت مشقت یعنی چائلڈ لیبر کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک اسلامی فلاح ریاست میں نہ صرف شہریوں کو روزگار کی سہولت اور باعزت زندگی گزارنے کے وسائل باآسانی دستیاب ہوتے بلکہ بچوں سے مشقت ومزدوری کروانے کے رجحان کو قابل نفرت سمجھا جاتا لیکن آزادی کے 68 سال گزارنے کے بعد بھی نچلے اور درمیانے طبقہ کے کسی بھی گھر کا ہر فرد جب تک نوکری کاروبار یا محنت مزدوری نہ کرے اس وقت تک گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے یہ عمومی تصور بن چکا ہے اور گھروں کی عورتیں اور بچے بھی اس صورت میں مستثنیٰ نہیں ہیں۔

حکومت کی غفلت کے باعث پیدا ہونے والے ان رجحانات بالخصوص چائلڈ لیبر سے جو خرابیاں اور مسائل پیدا ہو رہے ہیں ان میں سب سے اہم کام کرنے کی جگہوں ہوٹلوں ،دکانوں اور ورکشاپس ، گھروں میں ملازم بچون پر ہونے والے تشدد ، جنسی استحصال اور نامناسب بلکہ غیر انسانی سلوک ہے بچوں پر دفتر ،گھر یا دکان روکشاپ کے مالکان کے ظلم وتشدد کی بیشتر کہانیاں تو میڈیا اور اخبارات کے ذریعہ منظر عام پر آجاتی ہیں۔
ظلم کرنے والے پکڑے بھی جاتے ہیں اور بعد میں چھوٹ بھی جاتے ہیں مگر نہ تو حکومت چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے مطلوبہ کردار ادا کر رہی ہے اور نہ ہی معاشرہ اس رجحان یعنی بچوں سے پڑھنے لکھنے اور کھیلنے کودنے کی عمر میں محنت مزدوری کروانے کو قابل نفرت سمجھنے میں دلچسپی لے رہا ہے حالانکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں بچوں سے مشقت کروانے کو سنگین جرم قرار دیا جا چکا ہے بچوں کے حقوق کے لیے بے شمار تنظیمیں اور ادارے ان ممالک میں قائم ہیں اور بچوں کے خلاف مختلف جرائم میں ملوث افراد جب تک اپنے انجام کو نہ پہنچ جائیں حکومت NGOS اور عوام تب تک چین سے نہیں بیٹھتے۔

یاد رہے کہ پاکستان دنیا کے ان ٹاپ ٹین ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں چائلڈ لیبر کا رجحان اوربچوں کو سکول کی بجائے کام پر بھیجنے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ انسانی حقوق کے کمیشن کے ایک سروے کی روسے1994 میں 11لاکھ سے زائد بچے اور بچیاں چائلڈ لیبر سے منسلک تھے جن میں سے 6لاکھ سے زائد کی عمر 10سال سے بھی کم تھی۔ پاکستان میں بچوں سے کام کروانے کے جرم سے متعلق جو قوانین موجود ہیں ان میں فیکٹریز ایکٹ 1934 ء ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایک 1991 پنجاب کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 1994شامل ہیں۔
گھروں میں بچوں اور بچیوں پر مالک یا مالکن کی گالیاں، جھڑکیاں اور معمولی باتوں پر ڈنڈے ،پائپ اور بجلی کی تار سے تشدد کا نشانہ بنانا، دفاتر اور دکانوں میں طرح طرح کے لوگوں سے بچوں کا سامنا ہوتا ہے ان میں اوباش فطرت افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو بچوں کو پیسوں کا لالچ دیکر غلط کاموں کے لیے با آسانی ورغلا لیتے ہیں ۔اسی طرح سے ورکشاپس اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین کی ایک بڑی تعداد جاہل مزدوروں،ان پڑھ مکینک پر مشتمل ہوتی ہے اور وہاں کام کرنے والے بچے دن میں کئی بار ان اخلاقی سے عاری مکینکس اور دیگر لوگوں کے تشدد بشمول جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اوزاروں سے تشدد کرنا اور چوری ودھوکہ دھی کے طریقے سکھانا اسکے علاوہ ہیں جو چائلڈ لیبر سے منسلک بچوں کو سہنا پڑتا ہے۔
سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بچے جنکی تعداد ملک بھر میں25سے 30لاکھ کے لگ بھگ ہے جو سکول کی بجائے صبح صبح کام پر نکلتے ہیں ۔ محنت مشقت، مزدوری ، بھیک مانگنے اور ادھر اُدھر آوارہ پھرتے ہیں۔ 10-15 سال بعد جب جوان ہونگے اور ہماری نوجوان نسل میں شمار ہونگے تو اس وقت معاشرہ اناک کردار اور رویہ طرز عمل کیا ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-22

(0) ووٹ وصول ہوئے