بند کریں
منگل فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عدالتوں میں انصاف کے حصول کی رفتار سست
بڑھتے ہوئے جرائم، پولیس کی طرف سے نا انصافی پر مبنی تفتیش، سیاسی رسہ گیری ، سرمایہ داروں کی طرف سے انصاف کوخرید لینے سے شریف شہریوں کی زندگیاں اجیرن بن گئی ہیں۔چھوٹے چور جیلوں میں اور بڑے باہر گھوم رہے ہیں
شہزادہ خالد:
بڑھتے ہوئے جرائم، پولیس کی طرف سے نا انصافی پر مبنی تفتیش، سیاسی رسہ گیری ، سرمایہ داروں کی طرف سے انصاف کوخرید لینے سے شریف شہریوں کی زندگیاں اجیرن بن گئی ہیں۔چھوٹے چور جیلوں میں اور بڑے باہر گھوم رہے ہیں۔ عدالتوں میں مقدمات کی بھر مار ہوتی جا رہی ہے۔صرف لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹس کے پاس رواں برس کے پہلے ساڑھے 9 ماہ کے دوران 74518 مقدمات سماعت کے لئے پیش ہوئے۔
سیشن کورٹس میں 75 ہزار 2 سو 39 نئے مقدمات دائر ہوئے۔یہ مقدمات ضمانت، اندراج مقدمہ کے احکامات، اجرا ڈگری، دیوانی و فوجداری تنازعات و دیگر معاملات سے متعلقہ ہیں۔عدالتوں میں انصاف ملنے کی رفتار انتہائی سست ہے۔تیز تر انصاف کے لئے نیشنل جوڈیشل پالیسی بنائی گئی مگر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ طویل مقدمہ بازی سے سائلوں کے بال سفید ہو گئے ہیں۔
مقدمہ دادا کرتا ہے اور اسی مقدمہ کی پیروی میں پوتا بھی بوڑھا ہو جاتا ہے۔جرائم میں اضافے کی بڑی وجہ پولیس کا سیاسی اثر و رسوخ کے تحت ہونا بھی ہے۔ 17جون 2014کو پولیس نے عوامی تحریک کے کارکنان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں 14مرد ، اور دو خواتین ہلاک ہوئے اور سو سے زائد افراد ذخمی ہوئے لیکن ابھی تک ملزموں کا تعین نہیں ہو سکا۔کوئی بھی اس سانحہ کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں۔
پتہ نہیں ہمارے ملک میں کونسی جمہوریت ہے ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں کوئی ذمہ داری نہیں لیتا۔ انکوائیری کمیٹیاں بنتی ہیں اور نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔عدالتوں کے اندر قتل ہوتے ہیں گرفتار ہونے والے ملزم بے گناہ ہو جاتے ہیں تو پھر قاتل کون ہوتا ہے کوئی پتہ نہیں چلتا۔ فیملی عدالتوں میں بھی طلاق و خلع کے مقدمات کی بھر مار ہو گئی ہے۔رواں سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران 387 1خواتین نے خلع لینے کے لئے فیملی کورٹس کا رخ کیا ان میں سے زیادہ تعداد پسند کی شادی کرنے والی خواتین کی ہے۔
طلاق کے لئے آنے والی بعض خواتین شادی کی سالگرہ آنے سے پہلے ہی طلاق کے لئے عدالتوں میں آ گئیں اور بعض نے شادی کے 10 برس بعد عدالت سے رجوع کیا۔ 2013 ء میں گارڈین کورٹس میں 6ہزار 2سو 82 ،سول کورٹس میں 35ہزار8سو51،فیملی کورٹس میں 14ہزار ایک سو91 اور سیشن کورٹس میں 70ہزار7 سو 19 کیسز و اندراج مقدمات کی درخواستیں دائرہوئیں۔ رواں برس اکتوبر تک فیملی عدالتوں میں 12134 اور سول کورٹس میں 35430 مقدمات دائر ہو چکے ہیں۔
جانشینی کے لئے 2997 کیس دائر ہوئے۔اس وقت صوبائی دارالحکومت لاہور کی سول عدالتوں میں 6 ہزار کے قریب طلاق کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔ آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق طلاق کی یہ شرح معاشرے کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔وائس چئیرمین پاکستان بار کونسل رمضان چودھری ، ندیم بٹ ایڈووکیٹ، چودھری ولائت ایڈووکیٹ، امیدوار ممبر پنجاب بار منور چودھری ایڈووکیٹ، مشفق احمد خان ایڈووکیٹ، سابق سینئر وزیر مشتاق اعوان ایڈووکیٹ، مدثر چودھری ایڈووکیٹ،مخدوم وسیم قریشی ایڈووکیٹ ،مہر حسن محمود ایڈووکیٹ و دیگر نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ مخلوط نظام تعلیم ہے۔
حکومت وقت کو چاہیئے کہ لڑکے اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ کالجز اور یونیورسٹیز قائم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ فیملی کیسوں میں خاص طور پر بچوں کے خرچے کے حوالے سے احکامات پر سختی سے عملدرآمد کرایا جانا چاہیئے۔ سائل فیصلہ لیکر گھومتے رہتے ہیں ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا، عملدرآمد کرانے کے لئے سائل کودوبارہ عدالت میں آنا پڑتا ہے۔
جوڈیشل پالیسی کا قیام 2009ء میں عمل میں لایاگیا مگر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی کے مطابق عدالتوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ 2008ء سے قبل دائر کئے جانے والے مقدمات کو 31دسمبر 2013 ء سے قبل نمٹایا جائے مگر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔مقدمات کو طول دینے میں عدالتی اہلکار جن میں ریڈر وغیرہ شامل ہیں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
جس فریق کو معلوم ہوتا ہے کہ کیس اس کیخلاف ہو جائے گا وہ ریڈر سے مل کر تاریخ پر تاریخ لینا شروع کر دیتا ہے۔اسی طرح سائل اپنے وکیل سے کہہ کر بھی تاریخیں لینا شروع کر دیتا ہے جس سے کیس کا فیصلہ جلد نہیں ہوتا۔لاہور میں ایک سول جج روزانہ اڑھائی سو سے تین سومقدمات کی سماعت کرتا ہے۔ فاضل جج صرف تاریخیں دے کر کیس نمٹائے تو دن گزر جاتا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ ججوں کی تعداد بڑھائی جائے۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان