بند کریں
منگل جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
3دسمبر کو لاہور میں بے بصارت افراد کی ریلی پر پولیس کا لاٹھی چارج
وزیراعلیٰ شہبازشریف نابیناوٴں پر لاٹھی چارج پر اپنے منصب سے مستعفی ہو جائیں۔۔۔۔۔ بصارت سے محروم افراد پر لاٹھی چارج کا تمغہ پنجاب کے حکمرانوں کے سینے پر سجا دیا
احمد کمال نظامی:
معذور افراد معاشرے کا حصہ ہیں، سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی بیٹی زین پیدائشی طور پر معذور تھی لیکن اپنی معصوم اداوٴں کے باعث وہ جنرل محمد ضیاء الحق کو تمام بچوں میں سے پیاری تھی جب وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے ملک کے معذور افراد کو سپیشل افراد سے موسوم کر دیا اور سرکاری ملازمتوں بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لئے بھی معذور افراد کا 2فیصد مقررکی۔
ہمارے ہاں بہت سے اداروں میں بعض ”نام نہاد معذوروں“ نے مختلف سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں معذوروں کے کوٹہ پر ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے خود کو بہرے اور گونگے بنا رکھا ہے اور اس کے لئے باقاعدہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں اور شہروں کے دوسرے بڑے ہسپتالوں سے باقاعدہ سرٹیفکیٹ حاصل کر کے کسی نہ کسی ادارے میں ملازمت حاصل کر رکھی ہے۔
اسی طرح اکثر یونیورسٹیوں میں بھی بعض بااثر افراد کو جب اوپن میرٹ پر داخلے نہیں ملتے تو وہ اپنے اچھے بھلے بچوں گونگے، بہرے ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر کے انہیں تعلیمی اداروں میں داخل کرا لیتے ہیں۔ 3دسمبر کو پوری دنیا میں معذوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اکثر ممالک میں اس روز معذور افراد کی مختلف تنظیموں کی طرف سے اپنے حقوق کے لئے ریلیاں بھی نکالی جاتی ہیں ملک کے مقتدر حلقوں کو اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں نابینا افراد بالعموم سفید چھڑی لے کر گھروں سے نکلتے ہیں تاکہ معاشرے کے دوسرے لوگ انہیں پہچان سکیں۔ اکثر ممالک میں سفید چھڑی میں اگر کوئی نابینا مرد یا عورت کوئی روڈ پار کرتا نظر آ جائے تو اس روڈ پر دونوں طرف کی ٹریفک کو اس وقت تک روک دیا جاتا ہے جب تک وہ روڈ کو پار کر کے دوسری طرف کے فٹ پاتھ پر نہیں پہنچ جاتا۔ 3دسمبر کو ملک بھر میں معذوروں کے عالمی دن کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں نابیناوٴں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اپنے مسائل اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کے لئے مال روڈ پر اکٹھے ہونے کے بعد سیکرٹریٹ تک جلوس نکالنا چاہا اور انہوں نے اپنے اس پروگرام کا آغاز کیا ہی تھا کہ پولیس کو کسی وی آئی پی شخصیت کے گزرنے کے لئے مال روڈ کو خالی کرانے کی ضرورت پیش آ گئی۔ پولیس والوں نے انہیں مال روڈ پر سے ہٹانے کے لئے یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کہ یہ مخلوق مال روڈ پر کیوں نکلی ہوئی ہے اور غالباً کسی پولیس والے کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ معذور افراد کے راستہ بنایا جاتا ہے۔
راستہ صاف کرنے کے لئے نابینا افرادپر لاٹھی چارج کیاگیا۔ اس لاٹھی چارج کے مناظر پورے ملک میں دیکھے گئے اور تمام شعبہ زندگی کے افراد نے پولیس کے اس ایکشن کا برا منایا۔ وزیراعظم میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف دونوں اس روز ملک سے باہر تھے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف کی بیٹی مریم نواز نے فیس بک پر ٹوئٹ میں لکھا ”اگر میرے والد یا چچا اس روز ملک میں ہوتے تو معذور افراد پر لاٹھی چارج کرنے والوں کی درگت بن جاتی“۔
پولیس اہلکاروں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ نوکری بچانے کے لئے کچھ بھی کر گزرتے ہیں اور اس کی مثال 17جون کو رونما ہونے والے ماڈل ٹاوٴن کا وہ سانحہ ہے جس میں پولیس نے اندھادھند گولی چلا کر لگ بھگ ایک سو افراد کو ہسپتالوں میں پہنچا دیا جبکہ 14لوگ اس اندھادھند فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں اور ان میں سے بھی ایک حاملہ عورت تھی۔
پولیس گردی کی اس واردات کے نتیجے میں ادارہ منہاج القرآن میں ابھی تک سوگ کی کیفیت ہے اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے ریڈ زون اسلام آباد میں اپنے ڈیڑھ ماہ کے دھرنے میں اس سانحہ کے حوالے سے جو مقدمہ درج کرایا ہے اس میں وزیراعظم میاں نوازشریف اور بعض وفاقی وزیروں سمیت وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اور اس وقت کے وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ خاں کے نام بھی شامل ہیں۔
پنجاب پولیس نے اس سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور اب بصارت سے محروم افراد پر لاٹھی چارج کا تمغہ پنجاب کے حکمرانوں کے سینے پر سجا دیا۔ پولیس تشدد کو میاں شہبازشریف نے اتنا تو ضرور محسوس کیا کہ انہوں نے بیرون ملک سے واپسی پر پولیس کے لاٹھی چارج سے زخم خوردہ معذوروں سے ملاقات کر کے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی۔ ان پر ہونے والے لاٹھی چارج کی وجہ سے معذور افراد کی وزیراعلیٰ پنجاب تک پریشانی ہوئی اور انہوں نے ان کے مسائل کو سن کر ان کے حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرا دی ہے۔
قومی اسمبلی میں اس پولیس ایکشن کے خلاف قرارداد بھی منطور کی گئی۔ معذور افراد چونکہ دوسرے انسانوں کی طرح زندگی کے معمولات کو مکمل طور پر سرانجام دینے سے قاصر ہوتے ہیں کیونکہ معذوری کے باعث ان کے پاس اتنی طاقت اور صلاحیت نہیں ہوتی۔ انسان کو دو قسم کی معذوری سے واسطہ پڑتا ہے۔ ایک پیدائشی معذوری جس میں انسان قدرتی طور پر ہی معذور پیدا ہوتا ہے۔
دوسری وہ معذوری جس میں انسان اپنی زندگی میں کسی بیماری، حادثے ،قدرتی آفت، جنگ یا دھماکے وغیرہ کا شکار ہو کر معذور ہو جاتا ہے۔ پیدائشی معذوری میں تو انسان قدرت کے آگے بے بس ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ارشاد ہے کہ ”اللہ پر زمین اور آسمان میں کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ وہی جس طرح چاہے ماں کے پیٹ میں تمہارا نقشہ بناتا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں، وہ زبردست حکمت والا ہے“ (القرآن)۔
پیدائشی معذوری کے علاوہ اپنی زندگی میں انسان جن وجوہات کی بناء پر معذور ہو جاتا ہے اگر ان اسباب کا سدباب کر لیا جائے تو ایسی معذوریوں سے انسان کافی حد تک محفوظ رہ سکتا ہے۔ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کی ہدایات پر سی سی پی او لاہور نے واقعہ کی ابتدائی رپورٹ موصول ہونے کے بعد نابینا افراد کی مس ہینڈلنگ کے مرتکب پولیس اہلکاروں کو ان کی ملازمتوں سے معطل کر دیا ہے۔
ڈی ایس پی قلعہ گجرسنگھ عبداللہ جان کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے جبکہ ایس ایچ او تھانہ قلعہ گجرسنگھ رفیع اللہ کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ دراصل پولیس کے افسروں اور اہلکاروں کی برطرفیوں کے کلچر کو فروغ دینے کی بجائے پنجاب کے حکمرانوں کو پنجاب پولیس کے پولیس کلچر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ اگر وی آئی پی کلچر بھی تبدیل کر دیا جائے تو بہت زیادہ موزوں ہو گا۔
ہمارے ہاں صدرمملکت ، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، وفاقی اور صوبائی وزراء ہی وی آئی پی کلچر کے نمائندہ نہیں ہیں اکثر ایم این اے، ایم پی اے کے کسی روڈ پر آ جانے پر بھی پولیس میں تھرتھلی مچ جاتی ہے اور وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتی ہے لیکن ایسا بھی ہے کہ اسلام میں مقتدر شخصیات نے اکثروبیشتر خود کو وی آئی پی کلچر کی نذر نہیں کیا۔ اسی لاہور میں ایک سابق وزیراعلیٰ پنجاب ملک معراج خالد جو بعد میں قومی اسمبلی کے سپیکر بھی رہے انہوں نے اپنی ساری زندگی بیڈن روڈ پر گزاری اور اقتدار میں آ کر بھی نہ صرف سیکورٹی لینے سے انکار کیا بلکہ ہر قسم کا پروٹوکول لینے سے بھی انکار کیا۔
معذور افراد کو ہر شعبہ زندگی میں عام انسانوں کے برابر مواقع دینا اور ان کو معتبر قرار دے کر عام انسانوں کی طرح زندگی میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی راہوں پر گامزن کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان