بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ضمنی انتخاب این اے 122
مسلم لیگ(ن)اور تحریک انصاف کے درمیان انتخابی معرکہ کل ہوگا۔۔۔ دونوں جماعتوں کی طر ف سے”پاور شو“ ،نواز لیگ یاپی ٹی آئی کو ہار کی صورت میں شدیدسیاسی نقصان پہنچے گا
مصنف : ثنا اللہ ناگرہ

پنجاب میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تین حلقوں میں11اکتوبر کوضمنی انتخابات کا انتخابی معرکہ سرکرنے کیلئے مسلم لیگ(ن)،پاکستان تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر 16امیدواروں کی انتخابی مہم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے لیکن اصلمقابلہ مسلم لیگ(ن)اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہو گا، پنجاب میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے تین حلقے این اے 122لاہور،این اے144 اوکاڑہ جبکہ حلقہ پی پی 147لاہورشامل ہیں جن میں 11اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 122میں مسلم لیگ(ن)کے امیدوار سردار ایاز صادق،تحریک انصاف کے امیدوار علیم خان اور پیپلزپارٹی کے امیدوار عامر حسن ایڈووکیٹ مدمقابل ہیں۔حلقہ پی پی 147میں مسلم لیگ(ن)کے امیدوار محسن لطیف،تحریک انصاف کے امیدوار شعیب صدیقی اور پیپلزپارٹی کے امیدوار افتخار شاہد ایڈووکیٹ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔دیکھا جارہا ہے کہ اوکاڑہ میں قومی اسمبلی کا حلقہ 144 کو مسلم لیگ(ن) بالکل اہمیت نہیں دے رہی ،لگتا ہے جیسے مسلم لیگ (ن)این اے 144میں اپنی جیت کی خوش فہمی میں مبتلا ہے لیکن تحریک انصاف بھر پور انتخابی مہم چلا رہی ہے جس کا اندازہ عمران خان کے جلسے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
اس کے برعکس مسلم لیگ(ن)اپنی تمام تر توجہ لاہور کے حلقہ این اے 122پر مرکوز کیے ہوئے ہے،اس حلقہ کوانتخابی لحاظ سے لاہور کا دل یا تخت لاہور بھی کہا جا تاہے یہ انتخابی حلقہ پوش علاقوں شادمان،سمن آباد،اپر مال روڈ سے لے کرکم گنجان آباد علاقے شاہ جمال،اچھرہ،گڑھی شاہواور دھرم پورہ پر مشتمل ہے۔یہ گنجان آبادی والاحلقہ ایک وسیع و عریض پٹی کی مانند سمن آباد سے شروع ہو کر دھرم پورہ تک جاتا ہے ۔
گزشتہ 30سالوں سے اس حلقہ میں مسلم لیگ(ن)کو انتخابی برتری حاصل رہی ہے۔ لاہورکے یہی وہ انتخابی حلقے ہیں جن میں مسلم لیگ(ن)کے ووٹروں،سپورٹروں کا سیاسی گڑھ ہونے کے باعث لاہور کو مسلم لیگ(ن)کا قلعہ قرار دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ این اے 122میں برادری ازم،کاروباری طبقات اور تاجر برادری،پارٹی سے وابستگی،سنجیدہ اور تعلیم یافتہ لوگ بڑی اہمیت کے حامل ہیں جو ووٹ ڈالتے وقت مسلم لیگ(ن) کے انتخابی نشان شیر پر مہر ثبت کرنا نہیں بھولتے ،لیکن عام انتخابات 2013ء سے قبل ہونے والے انتخابات پراگر نظر ڈالی جائے تو تحریک انصاف کی این اے 122میں بھر پور شمولیت نظر آئیگی ،
2002ء میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مسلم لیگ(ن)کے امیدوار سردار ایاز صادق کے مقابلے میں میں الیکشن لڑا،جس میں انہیں بھاری ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن عام انتخابات 2013ء کو دیکھا جائے تو تحریک انصاف دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری،اس کاکریڈٹ صرف اور صرف عمران خان کی شخصیت اور بھر پو ر انتخابی جدوجہد کو جاتا ہے جس کے باعث نوجوان نسل میں ایک نئی تحریک،جوش اور ولولہ پیدا ہواجبکہ عمران خان کبھی حکومت میں نہیں رہے جس سے یہ کہا جاتا کہ ان کے ترقیاتی کاموں کی بدولت انہیں ووٹ ملے ہیں۔
2002ء کے عام انتخابات کے بعد 2013ء کے الیکشن میں این اے 122میں عمران خان نے ایک بار پھر سردار ایاز صادق کے مقابلے میں الیکشن لڑاجس میں پھر شکست ان کا مقدر بنی اور انہوں نے الیکشن میں بد ترین دھاندلی کا الزام عائد کر تے ہوئے الیکشن کمیشن کو چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کر دیا۔حلقہ این اے 122 بھی ان چار حلقوں میں شامل ہے جس کا فیصلہ دیتے ہوئے الیکشن ٹریبونل نے قرار دیاکہ الیکشن دھاندلی زدہ نہیں بلکہ قواعدوضوابط کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔
لہذا الیکشن ٹریبونل نے سردار ایاز صادق کو انتخابات لڑنے کیلئے اہل قرار دیتے ہوئے دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دے دیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ این اے 122میں مسلم لیگ(ن)کے امیدوار سردار ایاز صادق اور تحریک انصاف کے امیدوار علیم خان کتنے مضبوط امیدوار ہیں اس کا اندازہ عام انتخابات 2002ء ،2008ء اور 2013ء میں ہونے والے انتخابات سے لگایا جاسکتا ہے۔
لیکن قومی اسمبلی کے اس حلقہ میں پی پی 147پر بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ قومی اور صوبائی ان دونوں حلقوں میں11اکتوبر کو الیکشن ہونا ہے۔عام انتخابات2002 ء میں مسلم لیگ(ن) کے امیدوار سردار ایاز صادق 37531ووٹوں کے مقابلے میں عمران خان نے 18638ووٹ حاصل کیے اور عمران خان کو بھاری ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔حلقہ کے کل رجسٹرڈ ووٹ279245 تھے ۔ اسی طرح صوبائی حلقہ پی پی 147 میں بھی سردار ایاز صادق نے الیکشن لڑا جس انہیں کل رجسٹرڈ ووٹوں117548 میں سے 16210ووٹ حاصل کر کے اپنے حریف پیپلز پارٹی کے امیدواربشیر چاندکو شکست دی۔

عام انتخابات2008ء میں این اے 122کے کل رجسٹرڈ ووٹوں 331381میں سے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار سردار ایاز صادق نے 37531ووٹوں سے پیپلزپارٹی کے امیدوارمیاں عمر مصباح الرحمن کو چت کر کے انتخابی میدان جیتا،جنہوں نے صرف 24963ووٹ حاصل کیے۔عام انتخابات2008ء میں پی پی 147کو دیکھیں تو کل رجسٹرڈ ووٹوں 144055میں سے مسلم لیگ(ن)کے امیدوار محسن لطیف نے 29820ووٹوں سے اپنے مدمقابل پیپلزپارٹی کے امیدوار اعجاز قیوم بٹ کو شکست دی جنہوں نے صرف 9784 ووٹ حاصل کیے۔
اب عام انتخابات2013ء پر نظر ڈالتے ہیں جس میں مسلم لیگ(ن)کا حقیقی مقابلہ پاکستان تحریک انصاف سے تھا اور الیکشن کے دنوں میں تحریک انصاف کی بلے بلے تھی بلکہ چاروں سُوں یہ ہوا بنی ہوئی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی ۔الیکشن کا رزلٹ آنا شروع ہوا تو پی ٹی آئی کے کلین سویپ کرنے کی بات صرف سوشل میڈیا تک ہی محدود دکھائی دی جبکہ مسلم لیگ(ن)کی جیت کے بارے میں جو عوامی سروے کیے گئے وہ سچ ثابت ہوئے۔
تجزیہ کاروں اور عوامی حلقوں کے مطابق خود عمران خان کے انتخابی مہم میں کودنے کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کیلئے یہ الیکشن کتنا اہم ہے اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سردار ایاز صادق کا پلڑا بھاری ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان،انکی اہلیہ ریحام خان سے لیکرپوری جماعت کے چھوٹے بڑے رہنماء انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
جبکہ ان کے مد مقابل نواز شریف یا شہباز شریف نہیں بلکہ مریم نواز اور حمزہ شہباز شریف کے ساتھ پارٹی کے مرکزی رہنماء انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔دونوں جماعتوں کی جانب سے ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم کی جارہی ہے اور انتخابی مہم کے آخر میں مسلم لیگ(ن)نے سمن آباد ڈونگی گراؤنڈ جبکہ تحریک انصاف نے مزنگ چونگی پر بڑے عوامی جلسے کر کے بھرپور "پاور شو" کیا گیا۔
دونوں جماعتوں کی انتخابی مہم کے دوران الیکشن جیتنے اور عوامی مسائل کے حل کیلئے بلندوباگ دعوے کیے جارہے ہیں جس میں عوام کو رنگین سہانے خواب بھی دکھائے جارہے ہیں لیکن اصل فیصلہ 11اکتوبر کو عوام نے اپنے ووٹ سے کرنا ہے ۔
ہفتہ اور جمعہ کی درمیانی شب جلسے جلوسوں کی شکل میں انتخابی مہم کا عمل ختم ہو گیا ہے۔ عام انتخابات2013ء میں این اے 122کے کل رجسٹرڈ ووٹوں 326028میں سے 184151ووٹ کاسٹ ہوئے جن میں 182104ووٹ درست جبکہ 2175 ووٹ مسترد کر دیے گئے۔
الیکشن میں رجسٹرڈ ووٹروں کے ووٹوں کی شرح58.48فیصدریکارڈ کی گئی۔الیکشن میں مسلم لیگ (ن)کے امیدوار سردار ایاز صادق نے 93389ووٹ لے کر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران احمدخان نیازی سے انتخابی معرکہ سر کیا عمران خان نے صرف 84517ووٹ حاصل کیے۔الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 122میں ضمنی انتخاب کیلئے 3لاکھ47ہزار762رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد سے ایک فیصد زیادہ بیلٹ پیپرز چھپوائے گئے ہیں۔
اسی طرح صوبائی حلقہ پی پی147 میں کل رجسٹرڈ ووٹوں 131002میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار محسن لطیف نے 36781ووٹوں سے پی ٹی آئی کے امیدوارمحمد شعیب صدیقی کو شکست سے دوچار کیا۔جنہوں نے صرف 30174ووٹ حاصل کیے۔تجزیہ کاروں کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ 122کاالیکشندونوں جماعتوں کیلئے سیاسی موت کا مسئلہ بنا ہواہے،تاریخ کا مہنگا ترین الیکشن ہے جس کی انتخابی مہم میں پانی طرح پیسہ بہایا جارہا ہے۔
جیت کی صورت میں ایک بار پھر تحریک انصاف کے ہاتھ عام انتخابات میں دھاندلی کو ثابت کرنے کاموقع مل جائیگا اور سارے الیکشن کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جائیگی جبکہ اگر مسلم لیگ(ن)جیت گئی تو اس کو بھرپور سیاسی فائدہ ہوگا ۔این اے 122کے عوامی حلقوں کے مطابق مسلم لیگ(ن)کے امیدوار سردار ایاز صادق کو حکومتی امیدوار ہونے کے باعث برتری نظر آرہی ہے جبکہ انتخابی مہم کو دیکھا جائے تو تحریک انصاف آگے دکھائی دیتی ہے۔سمن آباد،اچھرہ اور شادمان کی بعض کاروباری شخصیات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے امیدواروں کے درمیان بھر پورانتخابی مقابلہ ہوگاشکست بھاری ووٹوں سے نہیں بلکہ معمولی ووٹوں سے ہو گی۔

تاریخ اشاعت: 2015-10-10

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ثنا اللہ ناگرہ

ثنا اللہ ناگرہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-