بند کریں
پیر فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
یہ خوف کی سیاست کب تک؟
اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے خوف یا اشتعال کی فضا پیدا کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔پاکستان کااَلمیہ یہ ہے کہ اس خطے کے سیاست دانوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کیلئے عوام کوکسی نہ کسی خوف میں مبتلا کر کے رکھا ہے۔
مصنف : سید بدر سعید
ہمارے ہاں خو ف کی سیاست عام ہے۔ اپنی کرپشن چھپانے کیلئے عوام کو کسی نہ کسی خوف میں مبتلا کر دیا جاتا ہے اور اپنے مفادات کیلئے انہیں کسی نہ کسی بات پر مشتعل کر دیا جاتا ہے۔ عام شہری تو ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوتا ہے اور مفاد پرست عناصر اپنے مفادات کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔اس لئے حبیب جالب نے بھی کہا تھا کہ”خطرہ ہے زرداروں کو، خطرے میں اسلام نہیں۔

پاکستان کااَلمیہ یہ ہے کہ اس خطے کے سیاست دانوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کیلئے عوام کوکسی نہ کسی خوف میں مبتلا کر کے رکھا ہے۔ یہاں ہر دور میں عوام کو کسی انجانے خدشے سے ڈرایا جاتا رہا ہے ۔ سازشی تھیوریاں متعارف کرائی جاتی ہیں اور پھر جلسے جلوسوں میں اسے بڑھ چڑھ ک جذباتی تقاریر میں بیان کیا جات ہے۔ اس کے ردعمل کے طور پر عام شہریوں میں اشتعال کی سی فضا پیدا ہوتی ہے جس کا فائدہ کرسیوں کے چند کیڑے اُٹھاتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس ملک کیلئے عام شہریوں نے جس قدرقربانیاں دیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔ اس وطن کی بنیادیں شہدا کے لہو پررکھی گئی تھیں۔اسلئے عوام میں وطن کیلئے قربانی دینے کا جذبہ انتہائی حد تک ہے ۔ بد قسمتی سے مفاد رپرست طبقہ بھی اس بات سے آگاہ ہے ۔یہ طبقہ جانتا ہے کہ اگر عوام کو کسی ایسے خوف میں مبتلا کر دیا جائے جس سے اُن میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ جس وطن کلئے وہ قربانیاں دیتے آئے ہیں ، اب وہی وطن خطرے میں ہے یا پھر جس نظریہ کیلئے یہ وطن حاصل کیا گیا تھا، اسے بالاتر ہو کر میدان عمل میں اُتر آتے ہیں ۔
ماضی میں اس کی واضح مثال 1965ء کی جنگ کے دنوں میں نظر آئی تھی۔ جب ملک کی حقیقی معنوں میں دشمنوں سے خطرہ تھا تو عام شہری ڈنڈے اٹھائے سرحد کی طرف بھاگتے نظر آتے۔ وہ دشمن کے راستے میں اپنی لاشیں بچھا کر رکاوٹ بننے جار ہے تھے اور وطن کے محافظوں اُنہیں بہت مشکل سے واپس جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ واقعات تاریخ کے سنہری باب میں درج ہیں۔
ہمارے مفاد پرست سیاستدان ہر دور میں ایسے ہی خوف کو ہتھیار بنا کر عوام میں اشتعال اور جذبائیت کی فضا پیدا کرتے ہیں اور پھر اس ڈھال کے پیچھے اپنے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں۔
تحریک نفاد مصطفی کے دوران بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملے۔ لوگوں نے اپنے جوان بیٹے اسلام کے نام پر قربان کر دیئے لیکن بعد میں حقیقت کھلی تو معلوم ہوا سیاسی رہنماوٴں کے اثاثوں میں مزید اضافہ ہوا تھا۔ ہمارے ہاں گدی نشینوں کو خطرہ ہوتا ہے تو نعرہ لگا دیا جاتا ہے کہ اسلام کو خطرہ ہے۔ امریکی مفادات کیلئے جنگ لڑنی ہو تو بھی ”پاکستان کو خطرہ ہے “کا نعرہ لگا کر لوگوں کو تیار کیا جا تا ہے۔
”ایشیا سبز اور ایشیا سرخ ہے “ کی تحریکوں کی بنیاد بھی ”خطرہ“ پر رکھی جاتی ہے ۔ اسی طرح اپنی کرپشن چھپانے اور کرسی بچانے کیلئے بھی ”جمہوریت کوخطرہ ہے“ کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے تاکہ عوامی رائے عامہ کو اس خوف کے تحت اپنے حق میں ہموار کیا جا سکے۔
جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ماضی سے لے کر اب تک کسی بھی لمحے پاکستان کو خطرہ نہیں تھا البتہ اس ”خطرے“ کے تحت ہونے والی سازشون اور اشتعال کے نتیجے میں یہ ملک دو ٹکڑے ضرور ہوا۔
اس پر بھی ستم ظریفی یہ ہے کہ جو لوگ شیخ مجیب کے ساتھ تھے وہ آج بھی اُسے درست کہتے ہیں اور بھٹو کے ہمنوا تھے وہ اسے درست کہتے ہیں۔ کوئی بھی وطن کو پہنچنے والے اس بڑے نقصان کی ذمہ داری اپنے کنوھوں پر اٹھانے کو تیار نہیں ۔ اسلام کو بھی کبھی اسلام کو خطرے میں دکھایا گیا۔ مخالف حکمران کی حکومت گرانے کیلئے بھی اسلام یا پاکستان کو خطرہ بتایا جاتا ہے اور حکومت بھی اپنی کرپشن کر بے نقاب ہونے سے بچانے کیلئے جمہوریت کو خطرے میں دکھاتی ہے۔

موجود صورتحال میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت یا اپوزیشن نے کرپشن کی ہے اور وہ کرپشن بے نقاب ہو رہی ہے تو اس میں جمہوریت کو کیسے خطرہ ہو سکتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی سوچ کو درست سمت لانا ہوگا اور یہ بات واضح کرنی ہوگی کہ کسی شخص یا سیاسی جماعت کے اقتدار میں آنے یا جانے سے جمہوریت کوکوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ ایک شخص کرپشن پر نااہل ہو تو جمہوریت دوسرے شخص کو اس کی جگہ لے آتی ہے ار نطام چلتا رہتا ہے۔
اس عمل سے جمہوریت اور ادارے مزید مضبوط ہوتے ہیں اور عوام کوبہتر ماحول ملتا ہے ۔ دوسری جانب اگر معاشرے سے احتساب کا عمل ختم ہوجائے۔ چوبازاری، رشوت، کرپش، بے ایمانی اور غنڈہ گردی عام ہوجائے تو یقینا اس سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کیونکہ ایسے معاشرے کو کسی بھی صورت جمہوری معاشرہ نہیں کہا جا سکتا۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان