بند کریں
اتوار جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشہ ختم ہوگا
وسط اکتوبر میں آبپارہ والی سرکارکے نئے جانشین کا تقرر طے تھا۔چاند کی انہی تاریخوں کےآس پاس مرکزی خانقاہ کے چار عارفین بھی اگلی ذمہ داریوں کے لیے رخت سفر باندھنے والےہیں۔وفاق میں بیٹھی سرکاریہ خواب دیکھ رہی تھی
مصنف : اجمل جامی
وسط اکتوبر میں آبپارہ والی سرکار کے نئے جانشین کا تقرر طے تھا۔ اور چاند کی انہی تاریخوں کے آس پاس مرکزی خانقاہ کے چار عارفین بھی اگلی ذمہ داریوں کے لیے رخت سفر باندھنے والے ہیں۔ وفاق میں بیٹھی سرکار یہ خواب دیکھ رہی تھی کہ آبپارہ اور مرکزی خانقاہ میں ہونے والی رخصتیوں کے بعد وہ اپنی من منشا کے مطابق نئے متولیوں کا تعین کر لیں گے۔
اس ارادے میں 'شریفین' دارالخلافہ اور مرکزی خانقاہ تقریباً ایک پیج پر تھے۔ لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ سلسلہ عمرانیہ اور قادریہ کے پروانے' لاکھوں' کی تعدا دمیں اسلام آباد دھرنے پر بیٹھ جاتے ہیں۔ انہی پاکبازپروانوں کے دھرنوں نے شریفین کی چال پر خط متوازی کھینچ رکھے ہیں۔یہی نہیں بلکہ اب تو انہی "خطوط" کے کارن چھوٹے سجادہ نشین قربانی کے قریب آن پہنچے ہیں۔

صوفی نے عالم استغراق میں سر اٹھایا اور گویا ہوئے۔"تحقیق کہ آبپارے والی سرکار ابھی جد امجد کے نقش قدم پر ہی ہے، شجاع و دانش کے پیکر ابھی بھی قومی منظر نامے کا حصہ ہیں۔" طالب علم کو تشویش میں مبتلا دیکھ کر وہ دوبارہ گویا ہوئے، اور اب کی بار قدرے اختصار کے ساتھ فرمایا "سوچنے کا مقام یہ ہے کہ آخر حبس کے موسم میں جنتا کے ہجوم کو بیچ چوراہے لا کھڑا کرکے، کس نے مجبوراً اپنے کارڈز شو کر دیے؟ ہیچ آرزو مندی۔
طالب علم مگر پھر بھی لاعلم رہا۔ مزید استفسار کی جسارت نہ ہو سکی۔ خامشی میں ہی عافیت جانی کہ سرکار جلالی واقع ہوئے ہیں۔
اسلام آباد والوں کی خبر لی تو معلوم ہوا کہ میاں جی اب کے بار انکاری ہیں۔ سیاسی شہادت قبول مگر غیروں کی شجاع سے 'پاش پاش' ہونے والے ہرگز نہیں۔ مرکزی خانقاہ کے سرکار بظاہر کوشش کر رہے ہیں کہ میاں جی کے ہم قدم رہا جائے ، لیکن کیا کیجیے کہ آبپارے والے اور خانقاہ میں اکثریت میاں جی سے فیض یاب ہونے کو تیار نہیں۔
گو کہ آبپارے والی سرکار اپنے قیام میں توسیع کے متمنی ہیں۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ چار نئے خلیفے میاں جی کی بجائے ان کی اپنی منشاسے تعینات ہوں۔ تا کہ میاں جی سرکار کل واقع نہ ہوسکیں۔ اسی کارن وسط اکتوبر سے پہلے پہلے پتے دکھانے پڑ گئے۔ اورمیاں جی کی چال پر پل باند ھ دیئے گئے۔دس لاکھ آ جاتے اور ذرا سا بھی خون بہہ جاتا تو اب تک منظر نامہ صحرا کی مانند "خاکی" ہوتا۔
اسی 'پیچے 'میں میاں صاحب سرکار نے دیگر گدیوں کی حمایت بھی حاصل کر لی۔ جس سے منظر نامہ مزید دھندلا ہو گیا۔ اب قبلہ ہیں اور کپتان ہیں۔" اٹ کتے دا ویر ،میاں جی دے نال۔" اور تاریخ پر تاریخ کا سلسلہ جاری ہے۔
تشنگی مزید بڑھی تو مقامی خانقاہ کا رخ کیا، وجد دھمال میں محو ایک ملنگ گویا ہوا؛ "سات کا ٹولہ ہے ، ثبوت وفاق والے اپنے پاس رکھتے ہیں، حالیہ دنوں پنڈی والی سرکار سے بھی ان کی شرارتوں کا ذکر شر ہوا، جس پر انہوں نے ٹولے کے سربراہ سے کہا کہ حضور آیئے اور کچھ جواب دیجیے۔
" معلوم ہوا کہ شکایت کے جواب میں ابھی خاموشی ہے۔ اور وفاق والے تو شاید اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ؛
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے
اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں
مولانا کوثر نیازی نے لکھا تھا کہ بھٹو صاحب کمال اعصاب کے مالک تھے۔ زیرک ایسے کہ پاکستان بھر میں ان کا ہم پلہ نہ مل سکا۔ ایک دنیا بھٹو صاحب کی بصیرت کی قائل رہی اور رہے گی۔
مولانا لکھتے ہیں کہ بھٹو صاحب سیاسی معاملات میں ڈیڈ لاک کی صورت میں دوسرے فریق کو طویل ڈائیلاگ میں مصروف رکھتے۔ ان کے تمام تر کارڈز چیک کرتے۔ اور پھر مدعا جب اپنے عروج پر پہنچ جاتا تو اچانک غیر ملکی دورے پر روانہ ہو جایا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ بھٹوصاحب ایسامخالف فریق کے اعصاب کو توڑنے کے لیے کیا کرتے تھے۔ خود کو مگر وہ کمال مہارت سے چوکس رکھتے۔
اطلاع ہے کہ وزیر اعظم بھی ترکی کے (بقول شخصے، پہلے سے طے شدہ) دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔اسی تناظر میں اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے پاکستان والے اعصاب کے میچ میں کتنی دیر پچ پر ٹکتے ہیں۔
چلتے چلتے وزیر اعظم کی بھی سن لیجیے جوآج بعد مدت کے ایوان سے بھی مخاطب ہوئے۔ چند ایک گزارشات کیں،جمہوریت کے استحکام کے لیے ایوان کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ باتوں باتوں میں ایک جملہ کہہ گئے، کہا؛ "جناب سپیکر،موجودہ سیاسی ہلچل کے محرکات پربھی بحث ہونی چاہیے۔" یہ بحث کب ہوتی ہے، اور حاصلِ بحث کیا ہوتا ہے، رام جانے۔ ہم تو فقط یہی کہہ سکتے ہیں؛
کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشہ ختم ہوگا
تاریخ اشاعت: 2014-08-28

(2) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     اجمل جامی

اجمل جامی بحثیت اینکر اور نمائندہ خصوصی دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں

اجمل جامی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-