بند کریں
منگل فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وزیراعظم پی پی پی اور ایم کیو ایم کا درجہ حرارت کم کروانے میں کامیاب
وزیراعظم محمد نواز شریف کے دورہ کراچی سے قبل کراچی کے حالات بہت کشیدہ تھے لیکن ان کی آمد کے کراچی سے کشمور تک بھائی چارے کی فضاء قائم ہو گئی اور بھائی بھائی کی صدائیں گونجنے لگیں
شہزاد چغتائی:
وزیراعظم محمد نوازشریف کا کراچی مشن کامیاب ہو گیا اور انہوں نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان مصالحت کروا کے صوبے کو بڑے بحران سے بچا لیا جس کے ساتھ افہام و تفہیم کی فضا قائم ہو گئی اور بے یقینی کے بادل چھٹ گئے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان جنگ بندی کے بعد صوبے کے عوام نے بھی سکون کا سانس لیا۔ پیپلز پارٹی نے اپنے رہنماؤں کو ایم کیو ایم کے خلاف بیان بازی سے روک دیا ہے۔
دونوں جماعتوں کے درمیان وسیع تر مفاہمت اور میثاق کی ضرورت پر نہ صرف زور دیا جا رہا ہے بلکہ مصالحت کے فارمولوں پر بھی کام شروع ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان ابتدائی رابطے بھی ہوئے ہیں اور سرنگ کے آخری کنارے پر روشنی باقی ہے‘ ایم کیو ایم صدر آصف علی زرداری کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے اور ان پر اعتماد کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے گزشتہ دنوں ایم کیو ایم کو حکومت کو شامل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
وزیراعظم نوازشریف کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی حکومت اور اپوزیشن کا کردار ادا کر کے سندھ کی کوئی خدمت نہیں کر سکتیں اس لئے دونوں جماعتیں حکومت میں شامل ہوں تاکہ کشیدگی اور محاذ آرائی کا ماحول ختم ہو۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔
وزیراعظم محمد نوازشریف کے دورہ کراچی سے قبل کراچی کے حالات بہت کشیدہ تھے لیکن ان کی آمد کے کراچی سے کشمور تک بھائی چارے کی فضاء قائم ہو گئی اور بھائی بھائی کی صدائیں گونجنے لگیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ سندھ میں کوئی مہاجر یا سندھی نہیں سب بھائی بھائی ہیں۔ وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کے قتل کا نہ صرف سخت نوٹس لیا بلکہ خود کراچی آئے اور اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ ایم کیو ایم کے مقتولین کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور واضح کیاکہ مقتول کارکنوں کے اہل خانہ کو ہر صورت میں معاوضہ ملے گا۔
علاوہ ازیں تحقیقات کا حکم بھی دیدیا گیا ہے جس کے بعد پتہ چل جائے گا کہ سہیل احمد اور فراز عالم کو کس نے مارا ہے۔ کراچی کے واقعات کو دشمن کی سازش قرار دیتے ہوئے اسٹاک ایکسچینج میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس اندوہناک واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا لیکن یہ وضاحت نہیں کہ” دشمن“ کون ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ کراچی میں امن قائم ہو گیا جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو جاتا ہے جو کہ کراچی آپریشن کی ٹیم کے کپتان بھی ہیں۔
مگر افسوس وزیراعظم نے جس روز قائم علی شاہ کو شاباش دی اسی روز شکارپور پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ پھر منگل کو کراچی میں اسکول پر دستی بموں کے حملے کے بعد پورا کراچی میں خوف میں ڈوب گیا۔ والدین اور بچے پریشان ہو گئے۔ بعض حلقوں نے اسکول پر دستی بم کے حملے کو جنداللہ کے کارکنوں کی پھانسی کا شاخسانہ قرار دیا، کیونکہ واقعہ کے روز صبح جنداللہ کے کارکنوں اعظم اور عطاء اللہ کو پھانسی دی گئی۔
ملک میں دہشت گردی کے تمام واقعات کی ذمہ داری جنداللہ قبول کر رہی ہے۔ شکارپور بم دھماکے کی ذمہ داری بھی اسی گروہ نے قبول کی ہے۔
نوازشریف اور آصف علی زرداری میں ایک لحاظ سے یہ مماثلت پائی جاتی ہے کہ دونوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مفاہمت کی سیاست پر زور دیتے ہیں اسی لئے وزیراعلیٰ سندھ نے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ اس موقع پر حکومت سندھ تنہا رہ گئی۔ سیاسی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ متحدہ کے ساتھ اختلافات پیپلز پارٹی کی اندرونی سیاست کا حصہ تھے۔ جبکہ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ پیپلز پارٹی کے مخالفین کے ٹریپ میں آ گئے۔ان حلقوں کے مطابق نادان دوست وزیراعلیٰ سندھ کو ایم کیو ایم سے لڑا کر چین کی بانسری بجاتے رہے جس پر وزارت اعلیٰ کے اُمیدوار خوش تھے۔
اس منصوبہ بندی کی بو وزیراعظم نوازشریف نے بھی سونگھ لی چنانچہ اسٹاک ایکس چینج میں تقریر کے دوران اسی سازش کی بازگشت سنائی دی جس پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ بال بال بچ گئے ہیں۔ قبل ازیں سابق صدر آصف علی زرداری نے لندن سے کراچی پہنچتے ہی ایم کیو ایم کی ہڑتال کا نوٹس لے لیا اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو طلب کر کے ان سے بازپرس بھی کی۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور دوسری سیاسی جماعتوں نے ایم کیو ایم کی ہڑتال کی غیر اعلانیہ حمایت کا اعلان کر کے اپنا وزن ایم کیو ایم کے پلڑے میں ڈال دیا۔ ادھر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ہڑتال پر ایم کیو ایم کو بے بھاؤ سنائیں۔ پیپلز پارٹی کراچی کے صدر عبد القادر پٹیل نے اس موقع پر اعتراف کیا کہ ایم کیو ایم کے سامنے حکومت انتظامیہ اور عوام سب بے بس ہیں۔
وزیراعظم کی آمد سے قبل جب ایک جانب ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تو دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے درمیان رابطے کی افواہیں اڑتی رہیں۔ قائم علی شاہ نے ان اطلاعات کی تصدیق تو نہیں کی لیکن یہ مڑدہ ضرور سنایا کہ تلخیاں جلد ختم ہو جائیں گے۔ جمعرات کی پہیہ جام ہڑتال کے دوران کراچی‘ حیدر آباد اور اندرون سندھ کے شہروں میں کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہو رہیں۔
دوسری جانب سانحہ شکارپور کے خلاف کراچی بھر میں دھرنوں اور ہڑتال کے باعث شہری زندگی مفلوج ہو گئی۔ جس پر وزیراعظم محمد نواز شریف بلا شبہ پریشان بھی تھے۔اسی لئے پہیہ جام ہڑتال کے اعلان کے ساتھ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان‘ گورنر سندھ اور وزیر خزانہ اسحق ڈار نے سابق وفاقی وزیر بابر غوری کو فون کر کے بدلتی ہوئی صورتحال پر گفتگو کی، جبکہ ایم کیو ایم نے سہیل احمد کے قتل کی ذمہ داری پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ پر عائد کی ہے اور چیلنج کیا کہ سہیل احمد کا اگر کوئی کرمنل ریکارڈ ہے تو سامنے لایا جائے۔
اگرچہ پیپلز پارٹی اس قتل سے لا تعلقی ظاہر کرتی ہے لیکن ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہاکہ وہ کارکنوں کے قتل کا ذمہ دار وزیراعلیٰ سندھ کو تصور کرتے ہیں کیونکہ جب سہیل احمد کی لاش پھینکی جا رہی تھی تو سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ چہک چہک کر وزیراعلیٰ ہاؤس پر 4 لاشوں کو لانے والوں کو حملہ آور قرار دے رہے تھے۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-06

(0) ووٹ وصول ہوئے