بند کریں
پیر جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

تحریک انصاف کافیصل آباد شواور قبل زمینی حقائق
پی ٹی آئی کی جانب سے باقاعدہ احتجاجی پروگرام واضح نہیں بتایا جارہا جبکہ اکثر پی ٹی آئی عہدیداران سے رابطے میں بھی مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ فیصل آباد میں کمزوری کی ایک وجہ مقامی جماعت میں دھڑے بندیاں ہیں
مصنف : سید ذکر اللہ حسنی
نوٹ : یہ سیاسی تبصرہ 8دسمبر سے دورز قبل تک کی صورتحال کے مطابق تحریر کیا گیا ہے
پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات 2013ءء کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے موجودہ حکومت کو دھاندلی زدہ قرار دے کر 14اگست سے لاہور تا اسلام آبادتک آزادی مارچ کا اعلان کیا۔ جس کے بعد مختلف احتجاجی طریقہ ہائے کار پر عمل درآمد کرتے ہوئے تین ماہ سے زائدگزار چکے ہیں اور تاحال احتجاج پر ہیں۔
اس دوران پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مزاکرات بھی ہوچکے ہیں جن میں کئی دفعہ ڈیڈ لاک پیدا ہوا اور کئی دفعہ مذاکرات بحال ہوئے۔اس وقت ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت احتجاج موٴخر کرنے کی صورت میں مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور پی ٹی آئی کے مطالبات کو اپنی حلیف جماعتوں کی مشاورت سے منظور کرنے کی شرط رکھتی ہے۔جبکہ پی ٹی آئی وزیراعظم کے استعفیٰ دینے کے مطالبہ سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور آئندہ کیلئے انتخابی اصلاحات،بائیومیٹرک سسٹم، انتخابات کے نتائج کا آڈٹ، مبینہ دھاندلی کی تحقیقات، بیرون ملک سے رقوم کی واپسی، کرپشن کی تحقیقات کروانے جیسی شرائط منوانا چاہتی ہے اور ان کی آزادانہ عدالتی تحقیقات چاہتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی اپنے احتجاج کا طریقہ کار ہر نئے دن کے ساتھ بدل رہی ہے تاکہ کارکنوں کی دلچسپی بھی برقرار رہے اور حکومت پر دباوٴ بھی رہے۔ اسی لئے یہ حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔
30نومبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے متوقع غیر معمولی اعلان کی بجائے اب تک کے دھرنے کو کامیاب قرار دیا گیا اور اسے عوامی شعور وآگاہی سے تعبیر کیاگیا۔
اس کے ساتھ ساتھ پہلے 4دسمبر کو لاہور،8کو فیصل آباد،12کو کراچی اور16کو پورا پاکستان بند کرنے کا اعلان کیا گیا تاہم سقوط ڈھاکہ کی تاریخ سمیت دیگر وجوہات کی بناء پر ان تاریخوں میں تبدیلی کرکے سب سے پہلے فیصل آباد 8دسمبر کو بند کرنے، اور لاہور کو چار کی بجائے 15اور پورے پاکستان کو16کی بجائے 18تاریخ کو بند کرنے کی تاریخیں دی گئی ہیں۔
فیصل آباد بند کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف ، انجمن تاجران ،مسلم لیگ ن اور مقامی انتظامیہ نے اپنی اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
عام انتخابات 2013کے نتائج میں فیصل آباد واحد ضلع تھا جس کی قومی اسمبلی کی11اورصوبائی اسمبلی کی22نشستوں پر صرف ن لیگ ہی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے ۔ پی ٹی آئی دوسرے ، پیپلزپارٹی تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ بعض حلقو ں میں تحریک انصاف ، پیپلزپارٹی، ق لیگ ، سنی اتحاد کونسل کے امیدواروں کی ضمانتیں بھی ضبط ہوئیں۔ اگر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی نے فیصل آباد بند کرنے کا اعلان کرکے ایک مشکل ہدف کا چناوٴ کیا ہے۔
اس بات سے قطعاً انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کا ووٹ بنک اور سٹریٹ پاور یہاں موجود ہے تاہم اگر اس کا موازنہ مسلم لیگ ن کے ووٹ بنک اور سٹریٹ پاور سے کیا جائے تو اسے 15نسبت85سے تعبیر کیا جائے گا۔ہم نے عام انتخابات کے دوران مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دورے میں عوامی ردعمل میں بھی یہی صورتحال دیکھی تھی۔
انجمن تاجران فیصل آبادکے صدر شاہدرزاق سکا، پاکستان کلاتھ بورڈ کے عقیل احمد، الائیڈ گروپ تاجران کے میاں شاہد گوگی سمیت آٹھ بازاروں ملحقہ مارکیٹوں اور شہر بھر کی چار سو سے زائد تاجرتنظیموں کے نمائندہ وفد نے لیگی ایم این اے میاں عبدالمنان کے ہمراہ حمزہ شہباز سے لاہور میں ملاقات کی بعدازاں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے بھی ملاقات کی گئی۔
جس میں تاجروں نے 8دسمبر کی ہڑتال نہ کرنے اور شٹر کھولنے کا اعلان کیا۔سٹی صدر انجمن تاجران خواجہ شاہد رزاق سکا سے ہم نے ہڑتال پر موٴقف پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ شہر بھر میں تاجر کاروبار کھلا رکھیں گے اور کوئی روکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں پیش کش کرتے ہیں کہ دھوبی گھاٹ میں جلسہ کریں بازار بند نہ کروائیں تو ہم ان کا جلسہ بھرنے کیلئے لوگوں کو جلسے میں بھیجنے کیلئے تیار ہیں۔
علاوہ ازیں لاری اڈا، عبداللہ پور اڈا اور دیگر ٹرانسپورٹ مالکان کی جانب سے ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری محمد اسلم نے تحریک انصاف کی ہڑتال کی کال مسترد کرکے پہیہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔ان اعلانات کے باوجود تحریک انصاف کے سربراہ اور مقامی رہنماوٴں کی جانب سے بار بار پرزور آواز میں فیصل آباد کو مکمل طور پر جام کرنے کے اعلانات کیے گئے۔
تاہم پی ٹی آئی کی تاجر تنظیم انصاف بزنس فورم کے رہنماوٴں ظفر اقبال سندھو،میاں تنویر ریاض ، اجمل چیمہ، رانا سکندر اعظم ودیگر تاجروں کو مارکیٹوں کے تاجروں نے شہر بند کرنے کے حوالے سے تعاون نہ کرنے کا عندیہ دیاگیا۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، انصاف بزنس فورم کے رہنماوٴں اور بعد ازاں عمران خان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ شہر بند کرنے کا مقصد دوکانیں بند کروانا نہیں بلکہ شہر کی سڑکیں بلاک کرنا ہے۔
تاہم پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ اور پی ٹی آئی کے اہم اتحادی شیخ رشید احمد نے ایک بار پھر دھرنا کنٹینر سے سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ زبردستی دوکانیں بند نہیں کروائیں گے نہ ہی زبردستی دوکانیں کھلوانے دیں گے۔ جس کے بعد تاجروں اور لیگی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔
ان تمام معاملات کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے باقاعدہ احتجاجی پروگرام واضح نہیں بتایا جارہا جبکہ اکثر پی ٹی آئی عہدیداران سے رابطے میں بھی مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔
فیصل آباد میں پی ٹی آئی کی کمزوری کی ایک وجہ مقامی جماعت میں دھڑے بندیاں ہیں جو مرکزی عہدیداران کی شہہ پر وجود میں آئی ہیں۔ ضلعی صدر رانا راحیل ، پنجاب کے رہنما فیض اللہ کموکا، ڈاکٹر اسد معظم، جہانزیب امتیاز گل، علی سرفراز، فرخ حبیب وغیرہ اسی طرح خرم شہزاد ایم پی اے، رانا راحیل کا گروپ، شہزاد یونس شیخ،رانا مبشر، سجاد رندھاوا، شہباز، کسانہ، شیخ سلمان عارف وغیرہ اور بزنس فورم کے بھی مزید اندرونی گروپس ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تین بار فیصل آباد میں شیڈولڈ جلسوں کا التواء اور تیس نومبر کو چند سو افراد کی مایوس کن شرکت کی وجہ سے پارٹی چیئرمین عمران خان نے الگ الگ گروپوں کی ستائش کرنیکی بجائے اسلام آباد میں ہی ان کو الگ الگ جھاڑ پلائی تھی۔ اس بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ شائد 8دسمبر کا احتجاج حکومت کی بجائے پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کا مرکزی قیادت کی جانب سے سیاسی ٹیسٹ ہی ہو۔
فیصل آباد احتجاج کے حوالے سے پارٹی چیئرمین سے ملاقات میں پارٹی کے منتخب ضلعی صدر کی بجائے ایک سابق ٹکٹ ہولڈر کو ذمہ داری دینا بھی پی ٹی آئی میں اندرونی انتشار کا پتا دیتا ہے۔ اندرونی کشمکش کا ہی شاخسانہ ہے کہ پیر کو احتجاج ہے اور ہفتہ کی شام تک شہر میں کہیں ایسا منظر دکھائی نہیں دیتا کہ یہاں کوئی بڑا ایونٹ ہونے والا ہے۔ چند رکشوں پر فلیکس نظر آتے ہیں تاہم پی ٹی آئی کا روایتی جوش وخروش نظر نہیں آرہا۔

ان تمام معاملات کے بعد تحریک انصاف کے تاجروں اور قیادت نے صوبائی صدر اعجاز چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوکانیں بند نہیں کروائی جائیں گی نہ ہی کسی کو زبردستی دوکانیں بند کرنے کا کہا جائے گا۔ بلکہ تاجروں سے تعاون کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت مرکزی سطح پر اعلان کی پاسداری کیلئے پیر کو احتجاج کریں گے تاہم مقامی انتظامیہ کے ساتھ معاملات بھی طے پاگئے ہیں۔
جس کے مطابق پی ٹی آئی شہر کو نشاط آبادپل، موٹروے انٹرچینج، گٹ والا پل، نڑوالا روڈ، چناب چوک، عبداللہ پور، ڈائیووروڈ، کوہ نور چوک، ناولٹی پل پر بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ تاہم خطرناک بات یہ تصور کی جارہی ہے کہ دیگر شہروں لاہور، گوجرانوالہ، سرگودھا، جھنگ، چنیوٹ، ساہیوال سے اگر لوگ آئے تو ان سے جھڑپیں ہوسکتی ہیں۔ فی الحال مسلم لیگ ن اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کو فری ہینڈ دیا گیا ہے۔
مختلف چینلز کی میڈیا ٹیموں کی جانب سے پروگرامز کئے جارہے ہیں۔ تاحال حالات مسلم لیگ ن کے حق میں ہیں جبکہ شرپسند عناصر کی جانب سے اگر کوئی گڑ بڑ ہوئی تو ساری ذمہ داری بھی مسلم لیگ ن اور پنجاب حکومت پر عائد ہوگی جس کا براہ راست فائدہ تحریک انصاف کو ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں خفیہ این آراو یعنی باہمی معاہدہ پر قائم رہتی ہیں یا نہیں۔

جمعیت علماء اسلام ف کے زیراہتمام مولانا ڈاکٹر خالد سومرو کی شہادت کے خلاف30نومبر کو ملک بھر میں راستے بند کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ تاہم وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ انہیں روکنے کیلئے صرف پشاور میں راستے بند کیے گئے ہیں۔ مختلف ٹاک شوز اور پی ٹی آئی کے نمائندگان بھی اسی بات کو بار بار دہراتے دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب جے یوآئی ف کے زیراہتمام فیصل آباد میں پہلی مرتبہ کوئی سخت احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے یعنی سرگودھا روڈ اور کمال پور موٹروے انٹرچینج کو چار گھنٹے تک بند کیا گیا جو خلاف توقع تھا۔ اس سے اس بات کی نفی ہوتی ہے کہ صرف خیبر پی کے میں ہی راستے بند کئے گئے تھے۔ ضلعی امیر مخدوم زادہ سید محمد زکریاشاہ ،محمد احمد مدنی،مفتی فضل الرحمن ناصر،مولانا رضوان فضل، محمود بخاری، سید نوید گیلانی،میاں عامر،عزیزالرحمن ودیگر رہنماوٴں کی قیادت میں اس احتجاجی دھرنے میں سابق امیر مولانا ساجد فاروقی، حافظ محمد ناصر گجر، محمد یوسف انصاری ، قاری عبدلمنان، حاجی مشتاق ،قاری یعقوب عثمانی اور ان کے ساتھیوں کے علاوہ جمعیت علماء اسلام س کے رہنما قاری قمرالزمان، قاری شبیر احمد عثمانی، محمدزبیر ، پاکستان علماء کونسل کے ضلعی صدر مولانا محمد اعظم فاروق بھی شریک ہوئے۔
تاہم قابل تشویش بات یہ ہے کہ جے یوآئی ف کی جانب سے جس شعبے کا سب سے زیادہ دفاع کیا جاتا ہے اور مختلف معاملات میں جو ادارے سب سے پہلے جے یوآئی کی قیادت سے رجوع کرتے ہیں وہ عملی طور پر اس احتجاج سے لاتعلق نظر آئے۔ مختلف سیاسی تجزیہ نگار اور مخالف سیاسی جماعتوں کا نقطہ نظر بھی یہی رہا ہے کہ شائد جمعیت علماء اسلام کے پاس مدارس کی قوت ہے اور اسی قوت کی بنیاد پر یہ جماعت سیاست کررہی ہے مگر تیس نومبر کے احتجاج میں مدارس کی جانب سے مقامی جماعت کو یقین دہانی کے باوجود عملی طور پرشرکت نہیں کی گئی۔
موٹروے بند کرنے اور شہر کو جام کرنے کیلئے صرف جے یوآئی ف کی افرادی قوت موجود تھی اور خوش آئند بات یہ ہے کہ اس میں دیگر جماعتوں کے نمائندگان جبکہ جے یوآئی ف کے ایک دوسرے سے ناراض مقامی دھڑوں نے بھی شرکت کرکے وحدت کا ثبوت دیاہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید ذکر اللہ حسنی

سید ذکر اللہ حسنی معروف صحافی ہیں، ایک قومی روزنامے کے فیصل آباد میں بیورو چیف ہیں۔

سید ذکر اللہ حسنی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان