بند کریں
منگل جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سندھ میں سیاسی جماعتوں کے ناراض گروپ سرگرم
مسلم لیگ کراچی ویسٹ میں چیئرمین لانے کیلئے سرگرم، سکھر میں پی پی پی کے معاملات طے۔۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لیاری میں تحریک انصاف کے ا ندر بھی زبردست اختلافات ہیں جہاں تحریک انصاف کے ناراض گروپ نے مخالفین کے خلاف بینر لگا دئیے ہیں
شہزاد چغتائی:
بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو سرخرو کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کو کراچی اور اندرون سندھ کے انتخابی میدان میں اُتڑنا پرا۔بلاول بھٹو نے اندرون سندھ کے انتخابی دورے کئے اور آصفہ بھٹو نے پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری میں جیالوں سے ملاقاتیں کیں۔ جہاں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کامیابی کے خواب دیکھ رہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لیاری میں تحریک انصاف کے ا ندر بھی زبردست اختلافات ہیں جہاں تحریک انصاف کے ناراض گروپ نے مخالفین کے خلاف بینر لگا دئیے ہیں لیاری میں سیاسی جماعتوں کے رہنماوٴں کے درمیان چپقلش کی فصل جماعت اسلامی کاٹ سکتی ہے ۔بلاول بھٹو نے بلدیاتی انتخابات کی مانیٹرنگ بھی شروع کر دی اور پیپلز پارٹی کے رہنماوٴں کے اندرونی اختلافات بھی ختم کرا دئیے۔
یہ اختلافات یونین کونسلوں کی چیئرمین شپ پر تھے۔ بلاول بھٹو کے ساتھ فریال تالپور بھی لاڑکانہ اور دورے علاقوں میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے بہت محنت کر ہی ہیں۔ بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کو فعال اور متحرک کرنے کے لیے اندرونِ سندھ کے رہنماوٴں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ سندھ کے بڑے شہروں کے میئر اور چیئر مینوں امیدواروں کی منظوری آصف علی زرداری خود دیں گے جو کہ بلاول بھٹو سے رابطے میں ہیں اب تک سکھر کے بارے میں فیصلہ ہوا ہے جہاں خورشید شاہ اور وزیر بلدیات ناصر شاہ نے اسلام الدین شیخ کے بیٹے کو میئر بنانے کے لیے گرین سگنل دیدیا ہے اور اپنے اُمیداور دستبردار کر دئیے ہیں۔
لیکن سندھ کے دوسرے شہروں میں پیپلز پارٹی کے رہنما افہام تفہیم سے بہت دور ہیں کئی رہنما بھانجوں بھتیجوں اور بیٹوں کو میئر اور چیئرمین بنانا چاہتے ہیں سینئر رہنماوٴں کی اس ہٹ دھرمی پر جیالے برہم ہیں اورانہوں نے پیپلز پارٹی کی اہم شخصیات کے رشتہ داروں کو میئر اور ڈسٹرکٹ چیئرمین بنانے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کارکنوں کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کے بلدیاتی انتخابی میدان میں اترنے کے بعد یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ پارٹی کی ساکھ بچانے کے لیے بلاول اور آصفہ بھٹو کو خود میدان میں اترنا پڑا۔آصفہ بھٹو لیاری گئیں تو جیالوں نے انکے سامنے شکایات کے دفاتر کھول دئیے ۔ انہوں نے کہا لیاری ملیر مواچھ گوٹھ اور ساحلی پٹی پیپلز پارٹی کی شناخت ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں۔
رہنماوں کی توجہ پیپلز پارٹی پر کم اور گوٹھ آباد اسکیم پر زیادہ ہے پیپلز پارٹی نے شہر کے اند ر بھی کئی سو گوٹھ قائم کر دئیے اور ان میں جیالوں کو زمینیں الاٹ کر دی ہیں۔ دنیا ترقی کر رہی ہے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے کراچی کو گوٹھ میں تبدیل کیا جا رہا ہے چند سال میں 11 سو گوٹھوں کو آباد کیا گیا۔ بلدیاتی انتخابات کے دوران سندھ پیپلز پارٹی کی پوزیشن مستحکم ہو گئی۔
لیکن جیالوں کو بعض اضلاع میں سندھ کی اہم شخصیات اور سیاسی خاندانوں سے مقابلے کا سامنا ہے۔ جن میں پیر پگارا، ڈاکٹر ارباب رحیم، شیرازی برادران ، بھٹو خاندان کے سربراہ ممتاز بھٹو، غوث بخش مہر، اسمعٰیل راہو، امتیاز شیخ اور اسلم ابڑو کے خاندان شامل ہیں اس کے باوجود پیپلز پارٹی طمانیت کا شکار ہے اور اس کا خیال ہے کہ وہ سندھ میں 80 فیصد نشستیں جیت لے گئی کراچی اور حیدر آباد میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن مستحکم نہیں ہے لیکن اس کی اصل توجہ اندرون سندھ کے معرکہ پر ہے۔
ایم کیو ایم کے ساتھ پیپلز پارٹی کی خاموش مفاہمت بھی ہے اوردونوں جماعتیں اپنے اپنے حلقہ اثر میں پوزیشن کو مستحکم کر رہی ہے ۔ کراچی کے بعض علاقوں میں پیپلز پارٹی سیاسی مفادات پر مبنی بعض اتحاد کا حصہ بھی ہے اور اس نے جماعت اسلامی کے ساتھ خصوصاََ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کی ہے 2001 کے انتخابات میں بہت سرگرم ہے اور اس نے کراچی میں 95 فیصد نشستوں پر اُمیدوار کھڑے کئے ہیں۔
جماعت اسلامی عمران خان کی پی ٹی ائی کے ساتھ مل کر تبدیلی لانا چاہتی ہے ایم کیو ایم نے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے تصور بھانپ لئے اور لانے دیں گے۔ جماعت اسلامی کا المیہ یہ ہے کہ اس کی اتحادی جماعت پی ٹی آئی سیاسی طور پر کمزور ہے اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی کے پاس اُمیدوارکارکن اور سیاسی حمایت زیادہ ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکن کراچی کے چپہ چپہ سے واقف ہیں۔
ان کا ووٹ بنک بھی ہے ۔ اس کے برعکس تحریک انصاف کے رہنما کراچی کے گلی کوچوں سے واقف نہیں ادھر تحریک انصاف کی پشت پر جو قوتیں کار فرما ہیں وہ کراچی کی قیادت کو گلیوں سے نکال کر برگر کلاس کے حوالے کرناچاہتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ گلیوں کی قیادت کراچی کو 30سال میں کچھ دینے میں ناکام رہی۔ اس نے شہر کے مسائل کے بجائے اپنے مسائل حل کئے اس کے ساتھ برگرکلاس اور دانشور طبقہ کو کارنر کردیا گیا۔
بلدیاتی انتخابات نزدیک آتے ہی تمام سیاسی جماعتوں کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگے اور ساری جماعتوں کے ناراض گروپ فعال ہو گئے ہیں جو کہ میئر اور چیئرمین شپ کے حصول کیلئے سیاسی قیادت پر غصہ اتار رہے ہیں۔ اس صورتحال سے مسلم لیگ (ن) زیادہ متاثر ہے۔ جہاں رہنماوٴں کے درمیان بھی بہت زیادہ اختلافات ہیں۔ دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع کر دی مسلم لیگ (ن) کی بلدیاتی کمیٹی کے رہنما ہمایوں خان نے کراچی ویسٹ کیماڑی میں عوامی رابطہ مہم کے دوران رابطے کئے۔ اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم محمد نواز شریف کو ووٹ دیں اور مسلم لیگ کو کامیاب بنائیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-30

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان