بند کریں
منگل جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سندھ میں سیاستدانوں پر بُراوقت
دودھ فروش وزیر سے استعفیٰ ، ارب پتی وزیر برقرار ۔۔۔ اپیکس کمیٹی نے سندھ کے 8زراء کو ہٹانے کی ہدایت کی تھی ۔لیکن وزیراعلیٰ سندھ نے صرف ایک غریب وزیر جاویدنا گوری سے استعفیٰ لیا جن کا تعلق دودھ کے کاروبار سے ہے
شہزاد چغتائی :
ایک ایسے موقع پر جب کراچی پولیس اور رینجرز رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملے کا معمہ حل کرنے کیلئے کوشاں ہے تو سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہورہی ہے کہ گوڈیل کو کس نے نشانہ بنایا؟ تحقیقاتی ایجنسیاں حیران اور اپنے کام میں مصروف ہیں۔تفتیش کیلئے ایک درجن سے زائد تحقیقاتی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جن میں رینجرز ، کاؤنٹررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کرائم برانچ کی تحقیقاتی کمیٹیاں شامل ہیں۔
وفاتی حکومت اپنے طور پر تفتیش کر رہی ہے اور سراغ رساں ادارے اپنے طور پر سرگرم ہیں لیکن قاتلانہ حملہ کرنیواالا بہت شاطر دکھائی دیتا ہے ۔ وہ نُت نئے حربے استعمال کرکے چکمہ دینے میں کامیاب رہا ہے ۔رشید گوڈیل پر حملے کے بارے میں جن لوگوں پر شک کیا جارہا ہے ان کی فہرست کافی طویل ہے۔ ان میں اندرونی اور بیرونی نادیدہ قوتیں اور خود ایم کیوایم اپنے لیڈر پر حملہ نہیں کر سکتی اور رینجرز پر الزام سائد کر رہے ہیں جسے اس لحاظ سے تقویت ملتی ہے کہ تین روز کے دوران ہونے والے دو واقعات نے پورے ملک کو غیر مستحکم کر دیا اور پنجاب کے بعد سندھ کا امن وامان سوالیہ نشان بن گیا۔

سندھ میں ٹارگٹ کلنگ کا یہ بڑا واقعہ اس وقت ہوا جب حالات بہتر ہونے کے دعوے کیے جارہے تھے ۔سیاسی حلقوں نے کرنل (ر) شجاع خانزادہ اور رشیدگوڈیل پر حملے کو ملک کا امن وامان خراب کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت کراچی سے اٹک تک دہشت گردوں پر کاری ضرب لگائی جائے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے قبل دہشت گردوں نے حکمرانوں کو چیلنج کر دیااور سندھ کی صوبائی حکومت بل کررہ گئی ۔
آصف علی زرداری نے فوری ور پر کراچی آپریشن کے “ کپتان “ قائم علی شاہ سے رابطہ کی اور اس سانحہ کے پیپلزپارٹی کی حکومت پر ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا جس کے فوراََ بعد قائم علی شاہ نے صوبائی وزیر صحت جام مہتاب اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو اسپتال روانہ کیا۔
رُکن قومی اسمبلی رشیدگوڈیل والدہ سے ملنے جارہے تھے کہ بہادر آباد میں ٹارگٹ کلرزنے انہیں نشانہ بنالیا ۔
وہ سُپر اسٹور سے خریداری کرکے گاڑی میں بیٹھ رہے تھے کہ انہیں 8گولیاں ماری گئیں ۔ تین گولیاں ان کی گردن ، گلے اور سینہ میں ماری گئیں ۔ان کا ڈرائیور عبدالمتین موقع پر جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق 9ملزم 4موٹرسائیکلوں پر سوار تھے ۔ رشیدگوڈیل کو دن دہاڑے بھرے بازار میں نشانہ بنانے کے بعد خوف وہراس پھیل گیا۔رُکن قومی اسمبلی نے اپنے قتل کا خدشہ پہلے ہی ظاہر کر دیا تھا ۔
12 اگست کوانہوں نے کہا تھا کہ ستمبر کا مہینہ دیکھنا مشکل ہے ۔یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں مستعفی ہونے سے قبل کی تھی کہ کچھ لوگ ان کا تعاقب کرتے ہیں۔ رشیدگوڈیل بغیر سکیورٹی کے گھومتے تھے اور انہوں نے گارڈز رکھنے سے بھی انکار کر دیا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں کیونکہ گھر کاکام میں خود کرتا ہوں ۔ رشید گوڈیل کا تعلق کراچی کی پُرامن میمن کمیونٹی سے تھا۔
وہ فلیٹ میں رہتے تھے اور بہت سادہ زندگی گزارنے کے عادی تھے اور ہر روز والدہ سے ملنے جاتے تھے ۔
رشید گوڈیل پر حملے کے بعد کراچی میں قاتلوں ، دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کی ضرورت بڑھ گئی ہے ۔ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستارنے رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملے کی مدمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم آپریشن کیخلاف نہیں بلکہ وہ شفاف اور غیر جانبدارنہ آپریشن چاہتی ہے ۔
ایم کیوایم کے رُکن قومی اسمبلی پر حملے کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں نے ایم کیوا یم کو مشورہ دیا کہ وہ استعفے واپس لے اور سیاسی بحران ختم کرکے کراچی کے امن کیلئے قانون نافذ کرنیوالوں کیساتھ جل کر آگے بڑھے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ رینجرز آپریشن کے بعد کراچی میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی تھی ، ٹارگٹ کلنگ تقریباََ ختم ہوگئی تھی اور اسٹریٹ کرائم اس قد ر کم ہو گئے تھے کہ کراچی کے شہری حیران تھے کہ یہ وہی کراچی ہے جہاں یومیہ ہزاروں موبائل ، کروڑوں کی نقدی اور جنوں گاڑیاں چھین لی جاتی تھیں ۔
لیکن اب حالیہ واقعات سے لگتا ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے اور وہ رسیاتی اداروں کی بجائے اہم شخصیات کونشانہ بنارہے ہیں ۔یہ بحث بھی ہورہی ہے کہ رشید گوڈیل پر کس نے حملہ کیا اور اس کے مقاصد کیا تھے ؟ زیادہ ترتجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ کارروائی ایم کیوا یم کی پارلیمنٹ میں واپسی کے مذکرات کو ناکام بنانے کیلئے کی گئی ۔
دوسری طرف بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مذکرات سبوتاژ نہیں ہوئے ، اب اسلام آباد میں گفت وشنید ہوگی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور فاروق ستار کے درمیان بات چیت شروع ہونے کے دوتین منٹ کے بعد حملہ بدل گیا اور ساری توجہ سانحہ کی جانب مبذول ہوگئی لیکن مولانا فضل الرحمن کی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ایم کیوایم کو گفت وشنید کے آئندہ مرحلے کیلئے تیار کر لیا ۔

رشید گوڈیل پر حملے کے تین دن بعد وزیراعظم نوازشریف نے کراچی کے حالات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کراچی ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کا تقریباََ خاتمہ کر دیا گیا ہے اور حالات بہتر ہوگئے ہیں۔وزیراعظم کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوگیا کہ کراچی آپریشن بند نہیں ہوگا ۔وزیراعظم نے ایم کیوا یم کے استعفے بھی مسترد کر دیئے ۔
اُدھر لوگ کہہ رہے تھے کہ سندھ میں توامن ہوگیا لیکن پنجاب میں دہشت گردی سر اُبھار رہی ہے ۔اب سندھ اور پنجاب کے ایک جیسے حالات ہیں۔پنجاب میں دہشت گردی ہے تو سندھ میں سیاستدانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں سیاستدانوں پر پُراوقت ہے ۔ان پر حملے ہورہے ہیں اور گرفتار بھی کیا جارہاہے ۔ جمعیت علماء پاکستان کے رہنما شبیرابی طالب کومنی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
اس دوران سندھ کے 8 وزراء پر تلوار الٹک رہی ہے ۔اپیکس کمیٹی نے سندھ کے 8زراء کو ہٹانے کی ہدایت کی تھی ۔لیکن وزیراعلیٰ سندھ نے صرف ایک غریب وزیر جاویدنا گوری سے استعفیٰ لیا جن کا تعلق دودھ کے کاروبار سے ہے جبکہ کھرب پتی وزراء بدستور برقرار ہیں۔ اپیکس کمیٹی کو سندھ حکومت ایک فون کال پر چلانے پر بھی اعتراض ہے ۔سندھ میں جہاں امن وامان کو خدشات لاحق ہیں تو وہاں کراچی آپریشن کے کپتان “ سیدقائم علی شاہ کی کابینہ کے اندراختلافات بڑھ گئے ہیں اور منافع بخش قلمدانوں پر رسہ کشی جاری ہے ۔
اس وقت عالم یہ نہیں ۔سابق اسپیکر نثار کھوڑو سے گزشتہ دنوں تعلیم کا محکمہ واپس لے کر میرہزار خان بجارانی کو دیا گیا تھا لیکن انہوں نے چارج سنبھالنے سے انکار کر دیا جس کے بعد یہ محکمہ دوبارہ نثار کو دیدیا گیا اور میرہزار خان کوکوئی محکمہ نہیں دیا گیا ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-01

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان