بند کریں
اتوار جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سندھ حکومت گرانے کا پلان کہاں بنا۔۔۔ ؟
کیا پرویز مشرف آج بھی سیاست میں فوج کے نمائندے ہیں صنم بھٹو نے تنازعات ختم کرانے اور پیپلز پارٹی کو متحد کرنے کیلئے کوششیں تیز کر دیں
سالک مجید :
آصف زرداری نے اپنی توپوں کا رخ ایک بار پھر پرویز مشرف کی طرف کیا تو بعض سینئر تجزیہ نگاروں نے تبصرہ کیا کہ باقی سب جماعتوں کے ساتھ تو پیپلز پارٹی کا اتحاد اور دوستی چل رہی ہے۔ لے دے کر پرویز مشرف اور عمران خان ہی بچتے ہیں جن پر آصف زرداری تنقید کر سکتے ہیں لہٰذا بے نظیر بھٹو کی برسی پر ایک بار پھر انہوں نے قوم کو بلایا دلا دیا اور دل کی بھڑاس بھی نکال لی۔
لیکن جب سندھ حکومت گرانے کی سازش کا الزام مشرف پر لگایا گیا اور اس کے بعد اپوزیشن لیڈر شہریار مہر بھی مشرف سے اہم ملاقاتیں کرنے والوں میں شامل ہو گئے تو سندھ اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی عددی حیثیت اور وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی باتیں زور پکڑ گئیں۔مخدوم امین فہیم کی مشرف سے ملاقات اور بیانات بھی لوگوں کو یاد آنے لگے اور اس سے دوقدم آگے بڑھ کر خود امین فہیم اپنے دوست اور سابق صدد مشرف کے دفاع کے لئے میدان میں نکل آئے اور کہنے لگے کہ مشرف کی ایسی پوزشین نہیں کہ وہ سندھ حکومت گراسکیں جبکہ بلاول تو ہمارے ہاتھوں کا بچہ ہے اور اس سے بات تو اکثر ہوتی رہتی ہے لیکن پارٹی امور پر تفصیلی بات چیت آج تک نہیں ہوئی اگر آمر کا یار ہے غدار ہے والی بات میرے حوالے سے کہی گئی تھی تو میں بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ مشرف کو گارڈ آف آنرکس نے دیاتھا۔
وہ تو ہماری پارٹی کے شریک چیئرمین ہیں ان کی ( آصف زرداری ) ہم عزت کرتے ہیں۔
یوں مخدوم امین فہیم طنزیہ اور معنی خیز گفتگو کے ذریعے بہت کچھ نہ کہتے ہوئے بھی کافی کچھ کہہ گئے ہیں اور جن کے لئے کہا گیاہے وہ بھی بخوبی سمجھ گئے ہوں گئے ۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ سندھ حکومت گرانے کا پلان کہاں بنا ؟ کس نے بنایا ؟ اس پلان کا ماسٹر مائنڈ کون ہے ؟ اور اس پلان کو آگے بڑھانے میں کون کون سے کھلاڑی اپنا کھیل کھیل رہے ہیں ؟
وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عمران خان کے آزادی مارچ اور ڈاکٹر طاہر القادری کے انقلاب مارچ کے موقع پر اور بعد میں بھی کئی مواقع پر شیخ رشید تکرار سے کہتے رہے کہ اگر آصف زرداری نے نواز شریف کو بچانے کی کوشش کی تو پھر خود پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتیں ( سندھ اور گلگت، بلتستان) اور (آزاد کشمیر) کی حکومتیں بھی چلی جائیں گئی۔
امپائر کے اشارے لانگ مارچ اور دھرنا سیاست کرنے والے عمران خان کے ساتھی شیخ رشید کی زبانی پوشیدہ قوت اور شخصیات آصف زردار کی دھمکیاں دلوا رہی تھیں اور ان کو نواز شریف کے خلاف میدان میں نکلنے کے لیے دباوٴ میں لانے کی پوری کوششیں کی گئیں لیکن آصف زرداری نے وہی کیا جو پیپلز پارٹی کی شا ن ہے پہچان ہے اور تاریخ ہے ۔ جھکنے اور دینے سے انکار کر دیا اور جمہوریت کی خاطر نواز شریف حکومت کے ساتھ کھڑے ہو کر مخالفین کو شکست دی۔

سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ نواز شریف کی حکومت گرانے میں ناکامی اور استعفیٰ حاصل کرنے میں مایوسی کا سامنا کرنے والے امپائر اپنے چیلوں کے ذریعے اب نئے متبادل پلان کے ساتھ سندھ حکومت پر حملہ آور ہو رہا ہے اور نواز شریف کو بچانے والے آصف زرداری کو ان کو گھر (سندھ) میں کمزور کرنے کی حکمت عملی کے ساتھ نشانہ بنانے آگیا ہے اب بھی اگرچہ اصل ہدف نواز شریف کو گھر بھیجنا ہے لیکن اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے بڑی رکاوٹ آصف زرداری کو پہلے کمزور کرنا مقصود ہے اور سندھ حکومت گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ایک طرف وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے خلاف صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 29 خیر پور سے ان کی کا میابی کے خلاف سید غوث علی شاہ کی انتخابی عذرداری کے ذریعے دباو قائم کیا گیا ہے۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی کے بعض ناراض رہنماوں او اراکین اسمبلی پر کام کیا جا رہا ہے کچھ کے خلاف کرپشن کے مقدمات کا سہارا لیا جارہا ہے کچھ کی پرانے کرتوتوں پر مبنی فائلیں کھولی گئی ہیں اور جس طرح مشرف دور میں مسلم لیگ کو توڑ کر قاف لیگ اور پیپلز پارٹی کو توڑ کر پٹریات بنائی گئی تھی اس طرز پر نیا آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ جال بچھانے والوں نے جال بچھا دیا ہے کچھ پہلے سے زخمی پرندے آسانی سے قابو آچکے ہیں کچھ نئے پرندوں کو قابو کرنے کی تیاریاں جاری ہیں اس مخصوص تناظر می پرویز مشرف پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کو گرانے کی سازش کر رہے ہیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلاضمانت پر گھر بیٹھ کر سیاست کر رہا ہے اور ایک اس کے ساتھ فوج ہے ایک بات ہونی چاہیے تھی یا وہ سیاست نہ کرتا یا فوج اس کے ساتھ نہ ہوتی۔ ہمیں بتا دیا جائے کہ وہ سیاست میں فوج کا نمائندہ ہے تاکہ ہمیں پتہ چل جائے کہ ہمارا مقابلہ کس سے ہے۔ اگر ہو خود ہے تو ہم مقابلہ بھی کریں گئے جنرل ضیاء سے لیکر آج تک پیپلز پارٹی مقابلہ ہی توکرتی آئی ہے۔

اب یہ سوال ہے کہ کیا پرویز مشرف آج بھی سیاست میں فوج کے نمائندے ہیں ؟ آصف زرادی بلے پر برستے ہوئے اور بڑی فورس کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دراصل کس سے مخاب ہیں ؟ کس ایک شخصیت سے ؟ یا کچھ مخصوصی شخصیات سے؟ یا ایک ادارے اور اس کی سوچ ہے ؟
نواز شریف حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پرویز مشرف کے خلاف 3 نومبر کے غیر آئینی اقدام پر مقدمہ قائم کیا اور لاکھ مخالفت کے باوجود مشرف کے لئے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ وہ خصوصی عدالت کے روپرو پیش ہوں اور پھر ان پر فرد وجرم عائد ہوئی پوری دنیا نے یہ منظردیکھا اور انہوں نے بھی دیکھا جو کئی ہفتوں تک ان کی خصوصی عدالت میں پیشی کو روکنے کے لئے کبھی ان کے گھر کے قریب سے دھماکہ خیز مواد برآمد کرتے رہے اور کبھی ان کی بیماری کا علاج کراتے رہے لیکن بہر حال مشرف کو خصوصی عدالت کے روبرو پیش ہونا پڑا۔
اس دوران راولپنڈی اسلام آباد خصوصی اہتمام کے ساتھ آنے والے خصوصی جہاز واپس جاتے رہے اور کوء بھی جہاز مشرف کو پاکستان سے باہر نہ لے جا سکا اتنا ضرور ہوا کہ ان کو کراچی منتقل کرا دیا گیا۔ خصوصی عدالت میں ان کے خلاف کیس چلتا رہا اور پھر شوکت عزیز، پی سی او چیف جسٹس عبدالمجید ڈوگر اور وزیر قانون زاہد حامد کو شریک ملزمان بنانے کا حکم دیا گیا جسے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریورس کر دیا اور اب کیس کی مزید سماعت فروری میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگئی یہ کیس ابھی تک نہ مکمل طور پر خٹم ہوا ہے نہ کلوز ہوا ہے لہٰذا قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس میں کافی آپشنز ابھی بھی موجود ہے جبکہ مشرف کے خلاف دیگر مقدمات میں وہ خود عدالت کے روپروپیش نہیں ہو رہے لیکن مقدمات بھی ختم نہیں ہوئے۔
اس دوران سانحہ پشاور کے بعد اب ملک میں فوجی عدالتوں کا معاملہ زیر بحث ہے ۔ چوہدری اعتزاز حسن نے تجویز پیش کی ہے کہ آئین میں ترمیم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پہلے سے موجود فوجی عدالتوں کا دائرہ کار بڑھایا جا سکتا ہے ۔ عاصمہ جہانگیر سمیت وکلاء برادری نے فوجی عدالتوں کو مسترد کرتے ہوئے آئین میں ترمیم کرنے سے حکومت کو باز رہنے کا مشورہ دیا ہے اور وکلاء برادری ضرورت پڑنے پر اس نکتے پر پھر احتجاجی تحریک بھی چلانے کے موڈ میں نظر آرہی ہے۔
سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی فوجی عدالتوں کو خلاف آئین قرار دے کر مسترر کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل رہنما حامد خان نے مخالفت کر دی ہے۔ کورکمانڈر کے اجلاس میں سیاسی اتفاق رائے کے حوالے سے بھی غوروخوض کیا گیا ۔دیکھنایہ ہے کہ سیاسی قائدین کسی حتمی نتیجے پر پہنچتے ہیں اور کس انداز سے اس اہم حساس اور نازک معاملے کو ہنڈل کیاجاتا ہے ۔
کسی بھی فیصلے کے دور رس نتائج ہوں گئے۔
سندھ حکومت گرانے کے لئے بے تاب شخصیات کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ پیپلز پارٹی کے ارکان کو توڑے بغیر سندھ حکومت نہیں گرائی جا سکتی ہے۔ سندھ اسمبلی 168 ممبرز کاایوان ہے۔ وزیرا علیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے 85 ارکان درکار ہیں صرف پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 93 ہے ایم کیوایم کے 50 ، فنکشنل لیگ کے 11 ، مسلم لیگ نواز کے 10 اور پی ٹی آئی کے 4 ارکان ہیں۔
اپوزیشن لیڈر شہریار میر کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے پیپلز پارٹی کے ارکان کی حمایت حاصل کرناہوگی یا ان کو ایوان میں آنے سے روکنا ہو گا تاکہ وزیراعلیٰ ارکان کی حمایت سے محروم دکھائے جائیں جبکہ سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے دوٹوک الفاظ میں بتا دیا ہے کہ فلور کراسنگ نہیں ہو سکتی۔ نااہلی قانون لاگو ہوگا اور اگر کسی رکن نے پارٹی فیصلے کے برعکس اسمبلی سے غیر حاضری لگائی تو اس کے خلاف بھی نااہلی کا قانون حرکت میں آئے گا۔
آگا سراج درانی کا یہ بھی کہنا ہے پیپلز پارٹی کے کچھ لوگ پہلے بھی پاری چھوڑ کر گے تھے۔ وہ لوگ خود رسوا ہوئے پیپلز پارٹ کا فرق نہیں پڑا کیونکہ یہ عوام کی پارٹی ہے اور عوام پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرنادرمگسی پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ہیں اور وہ پارٹی کے ساتھ بے وفائی نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ میرنادرمگسی 2008 سے2013 تک سندھ حکومت میں وزیر خوراک تھے ان کے بڑے بھائی ذوالفقار مگسی بلوچستا ن کے گورنر تھے لیکن 2013 سے اب تک پیپلز پارٹی نے نادرمگسی کو سندھ اسمبلی کارکن ہونے کے باوجود وزیر نہیں بنایا اور وہ بہت کم اجلاسوں میں شریک ہوئے اور یہ تاثر عام ہے کہ نادرمگسی اور ان کے خاندان کے پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ایک طرف پیپلز پارٹی کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف پیپلز پارٹی کو متحد کرنے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں ۔ اطلاعات ہیں کہ صنم بھٹو نے بلاول اور میر مرتضیٰ بھٹو کے فیملی ممبرز کے تنازعات ختم کرانے کے لئے کوششیں تیز کردی ہیں ی بات کنفرم نہیں ہے کہ ان کوششوں کو آصف زرداری کی حمایت حاصل ہے یا نہیں لیکن صنم بھٹو بہرطور اس کوشش میں مصروف بتائی جاتی ہیں اور اگر اختلافات ختم ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں غنویٰ بھٹو اور فاطمہ بھٹو بھی پیپلز پارٹی میں اکٹھی ہو سکتی ہیں اگر چہ غنویٰ بھٹو کی پارٹی کے لوگ ان اطلاعات کوبے سہارا قرار دے کر ایسے امکانات کو رد کر رہے ہیں لیکن سیاست میں مذاکرات اوربات چیت کے دروازے کبھی بندر نہیں ہوتے اگر اس جانب کوئی پیش رفت ہوئی تو یہ بڑا بریک تھرو ہوگا۔

بھٹو قبیلے کا بڑا ہونے کے ناطے ممتاز بھٹو اکثر آصف زرداری کو طعنے دیتے ہیں لیکن اب زرداری قبیلے نے بھی آصف زردار ی کو اپنے سردار بنا لیا ہے اور دستار بندی کی بڑی تقریب نواب شاہ (بے نظیر آباد) میں منعقد کی گئی۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-13

(0) ووٹ وصول ہوئے