بند کریں
اتوار فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیاسی منصب بتدریج تبدیل ہونے لگے
بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کیلئے ناگزیر کیا وہ پارٹی میں نئی روح پھونک سکیں گے۔۔۔۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی واپسی کے ساتھ ذوالفقار مرزا کی توپیں خاموش
شہزاد چغتائی:
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو 6ماہ کے بعد وطن واپس آگئے جس کے بعد پیپلز پارٹی میں اختلافات کی افواہیں دم توڑ گئیں اور کارکنوں میں نیا جوش وولولہ پیدا ہوگیا سیاسی حلقوں نے بلاول بھٹو کی و اپسی کو آصف زرداری کا نیا ٹرمپ کارڈ قرار دیا ہے۔ بلاول بھٹو کی واپسی اورذوالفقار مرزا کی واپسی کی خبریں ساتھ ساتھ آئیں۔
جب بلاول بھٹو کا نجی طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کررہا تھا۔ سابق صوبائی وزیر ذوالفقار مرزا علاج کے بہانے بیرون ملک جانے کی تیاریاں کر رہے تھے اورعدالت نے ان کی عبوری ضمانت منظور کرکے باہر جانے کی اجازت دیدی تھی۔ صوبائی وزیر بلدیات شرجیل میمن نے کہا کہ ذوالفقار مرزا ماضی کی سیاست کا حصہ بن گئے ہیں۔اس طرح پیر کا روز سابق صدر کی کامیابیوں کا دن تھا اوروہ بہت خوش تھے بلاول ہاؤس میں جشن منایاجارہا ہے۔
بلاول بھٹو کی واپسی کے ساتھ ذوالفقارمرزا کی توپیں خاموش ہوگئیں اورڈیل کی افواہیں اڑنے لگیں۔ بلاول کی غیرموجودگی میں پیپلز پارٹی کو بحران کا سامنا تھا۔کنٹونمنٹ بورڈ اور سرحد کے بلدیاتی انتخابات میں اس کی کارکردگی اچھی نہیں تھی۔ لیکن اب خیال ہے کہ بلاول بھٹو پارٹی پر اپنی گرفت مستحکم کر لیں گے۔ ا نہوں نے بلاول ہاؤس پہنچتے ہی پیپلز پارٹی سرحد کے رہنماؤں کو طلب کرلیا اور بازپرس کی۔
وطن واپسی کے ساتھ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو بیک وقت کئی سیاسی چیلنجوں کا سامنا ہے، جن میں سب سے اہم پارٹی کے اندرونی اختلافات اوربلدیاتی انتخابات ہیں۔ خیال ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی مہم کی خود نگرانی کریں گے اور اسی طرح گلگت بلتستان کے الیکشن میں بھی ان کا کردار ہو گا۔پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے بلاول بھٹو کی واپسی کا عندیہ ایک ہفتے پہلے دیدیا تھا۔
بلاول کی روانگی کے ساتھ آصف علی زرداری بار بار ان کے ساتھ اختلافات کی تردید کررہے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے اورجس کا ایک ہی بیٹا ہو اس سے کیا جھگڑا ہوسکتا ہے۔ سب سے ا ہم بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کے اندر اتحاد کی علامت ہیں۔ آصف علی زرداری کے خلاف زہر اگلنے والے ذوالفقار مرزا بلاول بھٹو کو پسند کرتے ہیں اور ان کو اپنا لیڈر قرار دیتے ہیں۔
امین فہیم یوسف رضا گیلانی‘ نادر مگسی سمیت دوسرے رہنماء بھی بلاول کی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں۔اس طرح بلاول بھٹو کی واپسی کے بعد پیپلز پارٹی میں اتحاد اور اتفاق بڑھے گا۔ پارٹی کے خلاف میڈیا وار کم ہوگی اور وہ سیاسی میدان میں مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے گی۔ کامیاب حکمت عملی کے بعد پیپلز پارٹی آئندہ عام انتخابات میں کھویا ہوا مقام واپس لے سکے گی اورجنوبی پنجاب کے حلقوں کو واگزار کرسکے گی۔
جنوبی پنجاب میں پیش قدمی کیلئے پیپلز پارٹی مسلم لیگ کی جانب دیکھ رہی ہے اورمسلم لیگ (ن) کے تعاون سے تحریک انصاف کی یلغار روکنا چاہتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملتان میں پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ مل کر تحریک انصاف کی یلغار روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ بلاول بھٹو ایک ایسے وقت پر وطن واپس آئے ہیں جب پی کے میں بلدیاتی انتخابات پیپلز پارٹی اوراس کی حلیف سیاسی جماعتوں کیلئے ڈراؤنا خواب بنے ہوئے ہیں اور آئندہ عرصے کیلئے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں ،جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرنے والی ہے۔
۔آصف علی زرداری نے کچھ عرصے قبل بلاول بھٹو کو سیاسی طورپر ناپختہ قرار دیا تھا جبکہ وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے دو روز قبل بلاول بھٹو کو ناتجربہ کار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اب بھی ان کو پیغام بھیجتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے 26اپریل کو لیاری کے جلسے عام میں یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کی قیادت بلاول بھٹو اورآصفہ زرداری کے حوالے کریں گے۔
یہ الفاظ یہاں انہوں نے 9بار ادا کئے تھے اورکہا تھا کہ پارٹی کا پرچم بلاول اور آصفہ بھٹو کے حوالے کروں گا۔ بلاول بھٹو جب آئے تو ان کے ساتھ آصفہ بھٹو نہیں تھیں۔ یہ سوال بھی کیاجارہا ہے کہ کیا آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کی کمان بلاول کے حوالے کردی ہے؟ بلاول کے جلسہ سے قبل بھی آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ بلاول بھٹو اورآصفہ سیاست کریں گے اور بختاور زرداری کاروبار کریں گی۔
بلاول بھٹو کی واپسی کے بعد سندھ کے حکمرانوں پر ایک بار پھر تلوار لٹک رہی ہے۔ 6ماہ قبل لندن جانے سے قبل وہ سیاسی تبدیلی چاہتے تھے اور والد کی جانب سے ان کے فیصلوں کو ویٹو کرنے کے بعد وہ ناراض ہوکر چلے گئے تھے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو تھر میں ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اظہار وجوہ نوٹس جاری کردیا تھا۔بلاول بھٹو طے شدہ حکمت عملی کے تحت واپس آئے ہیں۔
جس کو آصف زرداری ڈاکٹرین قرار دیاجارہا ہے۔ اس پلان کے تحت پارٹی اورحکومت کے اندر سرکشوں کو کنٹرول کیاجائے گا اور سیاسی رسائی کے تحت سیاسی جماعتوں ، سیاستدانوں کو بیک وقت دو رخ دکھا کر پسندیدہ سیاسی راستہ اختیار کیاجائے گا۔پہلے کی طرح دونوں باپ بیٹا مخالف سمتوں میں چلیں گے۔ بلاول بھٹو گڈ گورننس کی جانب پیش رفت کریں گے جس سے آصف علی زرداری پر دباؤ کم ہوگا۔
ذوالفقار مرزا کے جانے کی اطلاعات کے بعد راوی آصف علی زرداری کے نصیب میں چین ہی چین لکھتا ہے۔ ایم کیو ایم اورپیپلز پارٹی کے درمیان بھی وسیع تر مفاہمت موجود ہے۔ بلاول بھٹو کی مدد سے آصف علی زرداری مختلف نوعیت کے سیاسی دباؤ سے بھی کماحقہ عہدہ برا ہوسکیں گے۔پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو کے درمیان کوئی معاملات طے نہیں ہوئے ہیں۔
لیکن سیاسی حلقے آصفہ بھٹو زرداری کے وطن نہ آنے پر استفسار کررہے ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق معاملات طے ہوئے ہوں یا نہیں ہوئے ہوں بلاول زرداری اپنی شرائط کے تحت وطن آئے ہیں۔ وہ اب سیاسی طورپر زیادہ طاقتور ہیں۔گو ان کی آمد کا فائدہ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کو ہوگا لیکن سابق صدر کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کے لئے ناگزیر بن گئے ہیں اور اس کا اعتراف سب نے کرلیا۔
وہ پیپلز پارٹی کی سب سے صاف ستھری کلین شخصیت ہیں جن کے دامن پر کوئی داغ نہیں۔ وہ والد کے طرز حکمرانی کے ناقد ہیں اور اپنی جماعت کے مقام و مرتبے اور اصولوں پرسمجھوتہ کرنے کے بھی خلاف ہیں۔ بلاول بھٹو نے کرپشن لوٹ مار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا اور بدعنوانیوں کا نوٹس لیا تھا۔ وہ پیپلز پارٹی کے اندر کرپٹ عناصر کو برداشت کرنے کے حق میں نہیں جن سے آصف علی زرداری بھی کبھی کبھی مصلحتاً چشم پوشی کرجاتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں۔
گزشتہ برس18 اکتوبر کی تقریر میں بلاول نے یہی طرز عمل مرکزی حکومت کے بارے میں بھی اختیار کیا جب انہوں نے وزیراعظم محمد نواز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ تمام ٹھیکے اور نوکریاں آن لائن کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بلاول بھٹو پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کی آخری امید ہیں۔ وہ پارٹی اور ووٹروں میں نئی روح پھونک سکتے ہیں حالات سے مکمل مایوس پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی جانب دیکھ رہی ہے۔
کیونکہ یہ موقع نکل گیا تو پیپلز پارٹی دوبارہ پاؤں پرکھڑی نہیں ہو سکے گی۔ شاید پیپلز پارٹی کے اندر یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ بلاول بھٹو پارٹی دیکھیں گے آصف علی زرداری حکومتی امور اور بلاول بھٹو کی نگرانی کریں گے۔بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کی ری اسٹریکچرنگ اورپارٹی کو جدید خطوط پر ہموار کرنے کا حکم دیدیا ہے انہوں نے سندھ کو اچھی حکمرانی کی مثال پیدا کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پیپلز پارٹی کا آئین بھی دوبارہ بنایاجائے گا جبکہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی تنظیم نوشروع کردی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کو بدعنوان عناصر سے پاک کرنے کا عمل جلد شروع کردیاجائے گا۔ کیونکہ ان کی وجہ سے پارٹی کی بہت زیادہ بدنامی ہوئی ہے۔ ان عناصر میں پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ بیورو کریٹ بھی شامل ہیں۔جبکہ کچھ بیوروکریٹس نے ازخود پارٹی کا پرچم اوڑھ رکھا ہے جس کا سابق وزیرذوالفقار مرزا نے بہت فائدہ اٹھایا اورخوب کردار کشی کی۔
جس کے نتیجے میں پوری پارٹی اور آصف علی زرداری سخت دباؤ میں آئے ا ور ان کی نیندیں حرام ہوگئیں۔ اب پارٹی نے کرپٹ افسران اور رہنماؤں کو برداشت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے عناصر کو ہدایت کر دی گئی کہ وہ بوریا بستر گول کریں کیونکہ ان کی بداعمالیوں کی سزا پارٹی نہیں بھگتے گی جن رہنماؤں کو فارغ کیاجارہا ہے۔ ان میں اربوں پتی وزراء بھی شامل ہیں پیپلز پارٹی میں ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ کا کردار بھی ختم کیا جا رہا ہے آنے والے دنوں میں آصف علی زرداری پس منظر میں جاسکتے ہیں جس کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ اوربلاول بھٹو کے درمیان تناؤ کم ہوسکے گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان