بند کریں
پیر جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”سیاسی لشکر“ کو اس کے حال پر چھوڑ دینے کا فیصلہ
یہ بات قابل ذکر ہے ایک طرف ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان دھرنے کے شرکاء کی تعدا د میں کمی کے باوجود نواز شریف اور شہباز شریف کے استعفے لئے بغیر واپس نہ جانے کا اعلان کر رہے ہیں
نواز رضا:
پاکستان تحریک انصاف کے ”آزادی مارچ“ اور پاکستان عوامی تحریک کے ”انقلاب مارچ ‘ کے شاہراہ دستور پر27 ویں روز جاری ”دھرنا“ نما ”پڑاؤ “ نے دلچسپ صورت حال اختیار کر لی ہے عمران خان نے اپنے کارکنوں کی سہولیت کے دھرنے کا رات” جلسے “میں تبدیل کر دیا ہے تحریک انصاف کے کارکنوں کا عجیب نوعیت کا دھرنا ہے تحریک انصاف کے کارکن ہر رات کو” بن ٹھن “کر جلسہ کی رونق دوبالا کر کے اپنے ”ڈیروں “ کی طرف لوٹ جاتے ہیں جب کہ ان کا لیڈر آرام کرنے ”بنی گالہ میں اپنے محل “ میں چلے جاتے ہیں کبھی کبھار اپنے ایئر کنڈیشنڈ کنٹینر میں محو استراحت نظر آتے ہیں دوسری طرف ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے شرکا نے پارلیمنٹ ہاؤس کے لان پر قبضہ ختم کر کے شاہراہ دستور پر دوبارہ ”خیمہ بستی“ آباد کر لی ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے شرکاء میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک تو وہ لوگ جو ڈاکٹر طاہر القادری کے پیرو کار ہیں جو ان کی تقاریر سے متاثر ہو کر اسلام آباد آئے ہیں دوسرے وہ لوگ ہیں جنہیں معقول معاوضے پر اسلام آباد لایا گیا ان میں سے اکثر اپنے معاوضے کے حصول کے لئے شاہراہ دستور پر بیٹھے ہو ئے ہیں تاہم یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے مل کر جس طرح نواز شریف حکومت پر ”مہلک وار “ کیا تھا وہ ’‘شدید زخمی اور کمزور “ ہونے کے باوجود اس سے جانبر ہو گئے ہیں۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری 27ویں روز بھی اپنے ”سیاسی اہداف “ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے دھرنے کی ناکامی کی وجہ سے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ دھرنوں کے شرکاء کی تعداد میں نمایاں کمی اور اس کی طوالت کے حکومت ”دباؤ سے نکل آئی ہے یہ بات قابل ذکر ہے ایک طرف ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان دھرنے کے شرکاء کی تعدا د میں کمی کے باوجود نواز شریف اور شہباز شریف کے استعفے لئے بغیر واپس نہ جانے کا اعلان کر رہے ہیں دوسری طرف ان کی مذاکراتی کمیٹیوں نے ا ن کے استعفوں پر اصرار ترک کر دیا ہے اور متبادل آپشن زیر غور ہیں۔
پارلیمنٹ کو ان ”غیر جمہوری عناصر“کے” مہلک وار“ سے بچانے میں دیگر تمام پارلیمانی جماعتوں کا بھی ”کلیدی کردار “ ہے۔ پاکستان کی سیاسی تایخ میں اس بات کی نظیر نہیں ملتی جب پوری پارلیمنٹ ”حملہ آوروں“ کے خلاف ڈٹ گئی پارلیمنٹ کے اتحاد نے دھرنے کے غبارے سے ہوا نکا دی رہی سہی کسر مخدوم جاوید ہاشمی ” نعرہ مستانہ“ نے نکال دی جس نے ان کے ساتھیوں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کر دیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر عمران خان کے دھرنے کا ساتھ دینے کے لئے بڑا دباؤ تھا لیکن انہوں نے جمہوریت کا خلاف کسی سازش کا حصہ بننے سے انکار کردیا اور اپنی پارٹی کا سارا وزن وزیر اعظم محمد نواز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا ایم کیو ایم جو تذبذب کا شکار رہی نے بھی عمران خان کے لئے تقویت کا باعث بننے سے معذوری کا اظہار کر دیا جس سے نواز شریف حکومت گرانے کے لئے سرگرم ”قوتوں “ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دھرنے کے منفی اثرات کو زائل کرنے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بھی جاری ہے ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے باوجود اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے باہمی جھگڑوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی اورجمہوریت کے تحفظ کے لئے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے۔
حکومت نے دونوں جماعتوں کی قیادت پر واضح کر دیا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے استعفاٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس کے بعد انتخابی اصلاحات کے ایجنڈے پر بات کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کی جماعتوں پر مشتمل ”سیاسی جرگہ“ حکومت اور تحریک انصاف و عوامی تحریک انصاف کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں کامیاب ہو گیا ہے تحریک انصاف نے حکومت کو سات صفحات پر مشتمل مطالبات پیش کرکے عملاً وزیر اعظم کے استعفے یا ان کو رخصت پر بھجوانے کے مطالبے سے دستبردار ہو گئی ہے اب وزیر اعظم کے اختیارات کم کرنے کے آپشن پر مذاکرات کر رہی ہے۔
جو ڈیشل کمیشن کو گزشتہ عام انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دینے کا اختیار دینے کی تجویز بھی مسترد کر دی گئی ہے جبکہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کی نگرانی کیلئے تشکیل دینے کے لئے” سپر مانیٹرنگ کونسل“ کے قیام کی تجویز کو قبول نہیں کیا گیا۔ حکومت نے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے قیام ، انتخابی اصلاحات کیلئے آئین اور قوانین میں ضروری ترامیم سمیت دیگر مطالبات کو منظور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل کمیشن کی تشکیل آرڈیننس کی بجائے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے کی جائے گی ایک طرف حکومت اور تحریک انصاف وعوامی تحریک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے دوسری طرف دونوں جماعتوں نے دھرنا اور جلسے جاری رکھ کر حکومت پر اپنا دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی قیادت اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان ” نادیدہ دوستوں“ نے فاصلے ختم کرا دئیے ہیں اس وقت حکومت اور فوج ایک ہی” صفحہ“ پر ہیں فوج نے اپنے آپ کو” دھرنے “ کے معاملات سے الگ تھلگ کر دیا ہے وفاقی حکومت نے بھی ”دھرنے“ والوں کو ان کے حال پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور شاہراہ دستور پر قائم ہونے والی”خیمہ بستی“کے پر امن رہنے پر اسے نہ ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے سیاسی جماعتوں کے سیاسی جرگے کے سربراہ سراج الحق فریقین کو انا کے خول سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کوئی” سیاسی پنڈت“ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں پیشگوئی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ” سکپرٹ رائٹر“ نے انہیں کب تک کردار ادا کرنے کے لئے کہا ہے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ ایک بات واضح ہے بالآخر عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے ” سیاسی لشکر“ کو نواز شریف اور شہباز شریف کے استعفے کے بغیر ہی پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔
پارلیمنٹ کے اجلاس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان شروع ہونے والی ”لڑائی “ کا ڈراپ سین ہو گیا ہے پیپلز پارٹی کے دونوں رہنماؤں پارلیمنٹ میں وزیر اعظم محمدنواز شریف کی موجودگی میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ”اوپننگ بیٹسمین “ کو اپنا ہدف بنایا۔
جس پروزیر اعظم محمد نواز شریف نے سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر انہیں جواب دینے سے روک دیا چوہدری نثار علی خان نے اپنی سیاسی زندگی میں کبھی”پسپائی“ اختیار نہیں کی یہی وجہ ہے جب انہیں پارلیمنٹ کے اجلاس میں بات کرنے کا موقع نہ ملا تو انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کا اعلان کر دیا۔ چوہدری نثار علی خان جواب دینے پر مصر تھے تاہم 30گھنٹے کی کوششوں کے بعد انہیں اپنی پریس کانفرنس ایک نکتہ تک محدود رکھنے پر آمادہ کر لیا گیا۔
چوہدری نثار علی خان نے اعتزاز احسن کے بارے میں در گذر کر کے نہ صرف اپنا سیاسی قد کاٹھ بڑھا لیا بلکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کا مان رکھ لیا ہے۔ پارٹی رہنماوٴں نے اس فیصلے کو سراہا ہے، کیونکہ چوہدری نثار علی خان کا تدبر بلا شبہ ان کے سیاسی مخالفین کیلئے سخت مایوسی کا باعث بنا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-11

(0) ووٹ وصول ہوئے