بند کریں
بدھ فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیاسی”بھل صفائی“
اصل کھیل ابھی شروع ہونا ہے !!۔۔۔۔ نائن زیرو آپریشن کے بعد سیاسی درجہ حرارت تیزی سے اوپر گیا البتہ دیگر جماعتوں نے کھل کر ایم کیوایم کیساتھ کھڑے ہونے کی کوشش نہیں کی
مصنف : سید بدر سعید
گذشتہ ہفتے سیاسی منظر نامے پر خوف اور بے یقینی کے سائے منڈلاتے رہے ۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات تیزی سے پھیل رہی ہی کہ کہیں کچھ ایسا ہونے جا رہا ہے جو بہت سوں کے پول کھال دے گا ۔ نائن زیرو آپریشن کے بعد سیاسی درجہ حرارت تیزی سے اوپر گیا البتہ دیگر جماعتوں نے کھل کر ایم کیوایم کیساتھ کھڑے ہونے کی کوشش نہیں کی۔ آصف علی زرداری نے مشکل وقت میں ایم کیوایم کو تنہا نہ چھوڑنے کا اعلان کیا تو دوسری جانب عملی طور پر پیپلز پارٹی اس سلسلے میں زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آئی۔
نائن زیرو آپریشن کے بعد پنجاب میں بھی ایم کیو ایم کے مقامی راہنماوں نے خاص احتجاجی لائحہ عمل ظاہر نہیں کیا۔ اس کی بڑی وجہ مُلکی منظر نامے پر چھائی بے یقینی کی کیفیت بھی ہیے ۔ ایم کیوایم کا کہنا ہے اسے دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ سندھ میں ایم کیو ایم کیساتھ کھڑا رکھنے کے لئے یہ ایک اہم پتہ تھا لیکن انہی لمحات میں صولت مرزا کا ایک اعترافی بیان جاری ہو گیا۔
ٹارگٹ کلر نے اپنے بیان میں ایم کیوایم کے چند رہنماوں اور الطاف حسین کیساتھ ساتھ گورنر سندھ کی بھی ٹارگٹ کلنگ کے منصوبوں میں شریک قرار دیا۔ اس طرح گورنر سندھ کی کریڈ یبلٹی مشکوک ہوگئی۔ اسی دوران ایوان صدرمیں ہونیوالی ایک اہم میٹنگ نے بھی افواہوں کو جنم دنیا شروع کر دیا اور یہ خبر تیزی سے پھیل گئی کہ صولت مرزا کے اعترافی بیان کے بعد گورنر سندھ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ہو رہا ہے۔
یہ پیپلز پارٹی کیلئے واضح اشارہ بھی تھا ۔ آصف زرداری کی جانب سے ایم کیوایم کی حمایت کے اعلان کیساتھ ہی پیپلز پارٹی کو ایک اور دھچکا لگا ۔ دبئی میں گرفتار ٹارگٹ کلر عزیز بلوچ نے اپنے بیان میں پیپلز پارٹی کے قائدین کو شامل کر لیا۔ جو کام صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے ساتھ کیا وہی عزیز بلوچ نے پیپلز پارٹی کیساتھ کیا ہے۔ اس سے پہلے ماڈل ایان کو منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تواس سلسلے میں بھی پیپلز پارٹی کے اہم افراد کے ناموں کی گونج سنائی دیتی رہی۔
سیاسی حلقوں میں زیادہ تشویش اس وقت نظر آئی جب نائن زیرو آپریشن کے بعد الطاف حسین کے ٹیلی ویژن بیانات پر ان کیخلاف رینجرز کی جانب سے مقدمہ درج کروادیا گیا۔
نائن زیرو آپریشن ،الطاف حسین پر مقدمہ اور صولت مرزا کا اعترافی بیان جو کہانی سُنا رہاہے اس نے سیاسی حلقوں میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ اسی طرح الطاف حسین کا ساتھ دینے کا اعلان کرنیوالی پیپلز پارٹی کے بارے میں ایان منی لانڈرنگ کیس اور عزیر بلوچ کے بیان کی خبروں نے بھی سمجھداروں کے کان کھڑے کر دئیے ہیں۔
اگر صورتحال کا بغور جائزہ لیں تویوں لگتا ہے کہ یہ سلسلہ ابھی مزید آگے بڑھے گا۔ کراچی سے گرفتار ہونیوالے متعدد ٹارگٹ کلرز کے اعترافی بیانات بھی سامنے آسکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان پہنچنے کے بعد عزیز بلوچ کیس بھی پنڈور ابکس کھولنے کوکافی ہوگا۔ یہ تصور کا یاک رُخ ہے اور اس رخ سے صورتحال دیکھیں تو لگتا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں ” بھل صفائی“ کا موسم شروع ہونے کو ہے اور کئی چٹخارے دار خبریں اگلے چندروز میں اخبارات کی شہہ ہے۔
اب تک کی ساری صورتحال میں سیاستدانوں کے بچاوٴ کیلئے کئی سقم موجود ہیں۔مفاہمت کی پالیسی یا کوئی نیا ”این آرو“ صورتحال ایف آئی آر کی دفعات میں بھی قانونی سقیم رکھاگیا ہے ۔ صولت مرزا کے بیان کی قانونی حیثیت بھی ابھی طے ہوگئی۔ سکاٹ لینڈ کو مطلوب عمران فاروق قتل کے دو اہم کردار بھی ابھی تک پاکستان کی تحویل میں ہیں۔ دیگر الفاظ میں صورتحا ل یکسر بدل بھی سکتی ہے۔ ایسا ہوا تو پس پردہ ”مفاہمی معاہدہ“ شاید کافی عرصہ تک سامنے نہ آسکے۔ اس سارے منظر نامے میں یہ بات شروع ہونا ہے۔ اگر کھیل جاری رہا تو اگلے ہفتوں میں کئی وعدہ معاف گواہ ، شواہد اور عینی شاہد سامنے آجائیں گے جس سے سیاسی حلقوں میں بڑے پیمانے پر ” بھل صفائی“ شروع ہو جائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان