بند کریں
اتوار جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیاست میں خواتین کاکردار
سیاسی جماعتیں اِنہیں اہم عہدے دینے کو تیار نہیں۔۔۔۔ ضی کے برعکس اب نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی کثیر تعداد بھی سیاسی منظر نامے میں نظر آرہی ہے۔ سیاسی جلسوں میں بھی خصوصی طورپر کوشش کی جانے لگی ہے
مصنف : سید بدر سعید
پاکستان کے حالیہ سیاسی منظر نامے میں خواتین کو نمائشی کردار بنا دیا گیا ہے۔ دھرنے ، جلسے اور ریلیوں میں خواتین کی بھی کثیر تعداد نظر آتی ہے۔ دوسری جانب سیاسی جماعتیں خواتین کونمائش کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔ اُنہیں اہم عہددوں اور انتخابی ٹکٹ دیتے وقت نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اسمبلیوں میں آنے والی اکثر خواتین یا تو مخصوص نشستوں پر آتی ہیں یا پھر وراثتی اور خاندانی سیٹوں کے بل پر آتی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کا یہ دوہرا رویہ قابلِ تشویش ہے کیونکہ اس طرح خواتین کو باقاعدہ سیاسی عمل کا حصہ بنانے کی بجائے زینتِ محفل بنایا جا رہا ہے تاکہ جلسوں میں ”رونق “ نظر آئے۔
پاکستان کی سیاسی صورتحال اس وقت خاصی ابتری کا شکار ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ حکمران طبقہ ذاتی مفادات کے حصول کیلئے متحرک رہتا ہے تو دوسری جانب اقتدار سے محروم رہنے والے بھی عوامی مسائل کی بجائے اپنے اقتدار کیلئے ایسے اقدامات کرتے رہتے ہیں جس سے صورتحال مزید خراب ہو۔
خاندانی سیاست اور وراثتی سیٹ بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر روز مزید بگڑتی صورتحال اور لاقانونیت نے پاکستان کے ہر باشعور شہر ی کو پریشان کررکھا ہے۔ یہ وجہ ہے کہ سیاسی اور عوامی مسائل اور اُتار چڑھاوٴ میڈیا پر اہم خبر کے طور پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
ماضی کے برعکس اب نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی کثیر تعداد بھی سیاسی منظر نامے میں نظر آرہی ہے۔ سیاسی جلسوں میں بھی خصوصی طورپر کوشش کی جانے لگی ہے کہ خواتین کی کثیر تعداد شامل ہو۔ اس پس منظر میں تحریک انصاف کے جلسوں کو خاصی شہرت ملی ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم کی جانب سے بھی ایک ایسا جلسہ رکھا گیا جس میں صرف خواتیں شامل تھیں۔ اس طرح ایم کیو ایم بھی یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی کہ اُنہیں بھی خواتین کی بھر پور نمائندگی حاصل ہے۔
اب لگ بھگ ہر سیاسی جماعت یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ اُسے نوجوانوں اور خواتین کی زیادہ حمایت حاصل ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں20 کروڑ کے لگ بھگ آبادی میں سے 13 کروڑ کے لگ بھگ نو جوان ہیں۔ ان کی اکثریت بیروزگار ہے ۔ یہ ایک بڑی طاقت ہے اور اگر اس کا مجموعی جھکاوٴ کسی ایک جماعت کی جانب ہوجائے تو یہ اُسے فتح یاب کرواسکتے ہیں۔
اسی طرح خواتین کی تعداد کل آبادی کا 51 فیصد ہے۔ یہ ووٹ بینک بھی بہت اہم ہے۔اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین اور بچوں کی کسی جلسے میں شمولیت سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ اب گھروں سے خواتین اور بچے بھی اس سیاسی جماعت کے حق میں باہر نکل آئے ہیں۔
پاکستان میں خواتین کا سیاست میں دلچسپی لینا خوش آئند ہے ۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح بھی یہی چاہتے تھے کہ خواتین بھی ملکی ترقی میں مردوں کے شانہ بشانہ حصہ لیں۔
مادرملت فاطمہ جناح نے جس طرح قائداعظم کا ساتھ دیا وہ قابل تقلید ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ موجودہ سیاسی جماعتیں خواتین کو محض اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی نظر آرہی ہیں لیکن اُنہیں سیاست میں قابل ذکر کردار ادا کرنے کی اجازت دینے پر آمادہ نہیں۔ اکچر سیاسی جلسوں اور دھرنوں می خواتین کی شمولیت محض دکھاوے سے زیادہ نظر نہیں آتی۔ میڈیا بھی ان کی کوریج گلیمر کے طور پر کرتا ہے اور سیاسی جماعتیں بھی یہی چاہتی ہیں۔
سیاسی جلسے اب میوزیکل شو بنتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں نواجوان لڑکے لڑکیوں کی اکثریت ”پکنک“ کے طور پر شرکت ہوتی ہے۔ اس سارے عمل میں خواتین کو شعوری طور پراستعمال کیا جاتا ہے۔ یہ خواتین اپنے گھر کا سارا نظام چھوڑ کر سیاسی جلسوں میں شرکت کرتی ہیں لیکن محض تعداد بڑھانے کے سوا انہیں کچھ حاصل نہیں ہوپاتا۔
اگر ہم آبادی کے تناسب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو دیکھیں تو ظاہری طور پر ان میں خواتین کی نمائندگی زیادہ ہونی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے لیکن سچ یہ ہے کہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔ہمارے ہاں موجود سیاسی کلچر کی بنیادیں کچھ ایسی ہیں کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی تعداد مرد اراکین سے انتہائی کم ہے ۔
ان میں بھی اکثر خواتین وہ ہیں جو مخصوص کوٹے پر آتی ہیں۔ عام طور پر سیاسی جماعتیں خواتین کو پارٹی ٹکٹ ہی نہیں دیتیں اور خواتین کی بجائے مر د وکرز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس طرح اگر کوئی خاتون آزاد حیثیت سے کھڑی ہو تو اُسے بھی عموماََ شکست ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں نظر آنے والی منتخب اراکین اسمبلی میں عموماََ رہی خواتین شامل ہیں جس کے پاس ”پکی“ نشست ہو اور انہیں خاندانی و علاقائی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔
یہ مخصوص حلقے ہیں جہاں علاقائی اثرورسوخ کی وجہ سے خاندانی سیٹ ہوتی ہے۔ ان خاندانی سیٹوں پر مخصوص خاندان کا کوئی بھی فرد الیکشن لڑے اُسے عموماََ فتخ نصیب ہوجاتی ہے۔
سیاسی جماعتوں کی اندرونی صورتحال کاجائزہ لیں تو بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی عموماََ خواتین کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہوتی جو مرد ممبران کو حاصل ہوتی ہے۔
لگ بھگ سبھی سیاسی جماعتوں میں زیادہ تر اہم عہدوں پر خواتین کو فائز نہیں کیا جاتا اور محض خانہ پُری کیلئے ایک آدھ عہد دیا جات ہے۔ وزارتوں کی تقسیم کے وقت بھی خواتین کی تعداد مردوں سے کم رکھ جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ پاکستانی خواتین کا پاکستانی سیاست میں کیا کردار ہے؟ کیا انہیں محض ”تماشہ“ اور زینت بازار ہی بنایا جا تا رہے گا یا پھر اُنہیں ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کے مواقع بھی ملیں گئے۔
اس میں شک نہیں کہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیراعظم بنیں۔ اسی طرح اسمبلی کی سپیکر اور وزیر خارجہ کے عہدوں پر بھی خواتین جائز ہوئیں اور مختلف وزارتیں بھی خواتین کو دی جاتی رہیں۔ اگر ہم آبادی کے تناسب کو مد نظر رکھیں تو کہا جا سکتا ہے کہ ابھی بھی صورتحال زیادہ بہتر نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنا اپنا کرداد ادا پیدا کریں خواتین کو نمائش یا ڈھال بنانے کی بجائے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کریں۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-13

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-