بند کریں
اتوار جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سینٹ کے انتخابات منتخب نمائندوں کا کردار داوٴ پر !
ملک میں پارلیمنٹ سمیت ہر سطح کا انتخاب پیسے کا کھیل بن گیا۔۔۔ دولت مندجاہل ، قابل ترین مدِ مقابل کی ضمانت ضبط کروا سکتا ہے
اسرار بخاری:
یہ جو ہر الیکشن میں ووٹوں کی خرید وفروخت ہوتی ہے اسے نہ جانے کیوں گھوڑوں کی خرید وفروخت کا نام دیا گیا ہے حالانکہ یہ تو کھلی ضمیر فروشی ہے اور اس ضمیر فروشی کا سلسلہ ختم ہوتا نظر نہیں آرہا تاوقتکہ ووٹروں کا ضمیر زندہ ہو جائے۔ وہ گلی محلے کا عام آدمی ہو یا پارلیمنٹ کا ممبر ہو جب ایک ووٹ کی قیمت کروڑوں میں پہنچ جائے تو کسی کا بھی ڈگمگاجا ناغیر معمولی بات نہیں ہے ایسی صورت میں اپنے قدموں پر وہی کھڑا رہ سکتا ہے جس کا ضمیر زندہ اور ذاتی وقار کا احساس پختہ ہو سینٹ کے انتخابات میں ووٹروں کی محدود تعداد کے باعث نہ صرف خریدنا آسان ہو جاتا ہے اپنا ووٹ فروخت کرنے والے کو قیمت کروڑوں میں مل جاتی ہے اپنا ووٹ فروخت کرنے والے کو قیمت کروڑوں میں مل جاتی ہے۔
اس سلسل کو روکنے اور شفاف انتخابات کے لئے حکومت نے نئی حکمت عملی تحت آئینی ترمیم کا مسودہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا جس میں ہاتھ کھڑا کر کے انتخاب کی بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے ہی چناوٴ ک تجویز پیش کی گئی ہے۔ تاہ بیلٹ پیپر کو خفیہ رکھنے کی بجائے ووٹر کا نام یانمبر شمار درج ہوگا جس سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ کس نے جماعتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مخالف جماعت کے امیداور کو ووٹ دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے پہلے شو آف ہینڈ کی تجویز پیش کی گئی تھی جس کا حکومت سے مخالفت کے باوجود عمران خان کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا تھا لیکن پیپلز پارٹی کی جانب سے اسے آئینی تقاضوں کے منافی قرار دیا گیا جبکہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے یہ نکتہ نکالا کہ عوامی نمائندوں کو پیشگی قابل فروخت قرار دینا خود اپنی تحقیر کا مترادف ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب بھی سینٹ کے انتخابات ہوے ہیں خریدو فروخت کا بازار نہیں لگتا جبکہ خیبر پی کے ایک باپ بیٹا کی تو اس حوالے سے دیرینہ شہرت ہے یہ حقیقت کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ پیارے پاکستان کے ہر انتخاب میں دھاندلی اور پیسے کی ریل پیل کی کہانیاں عام ہوتی ہیں اگر ملک میں پہلی مرتبہ سینٹ کے الیکشن میں ووٹوں کی خریدوفروخت کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا اور اس کے تدارک کے لئے شوآف ہنڈ کا طریقہ اختیار کیا جارہا ہے تو سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر اس کی مخالفت نہیں کی جانی چاہیے۔
سینٹ کے ووٹر گلی محلے کے عام لوگو نہیں بلکہ منتخب عوامی نمائندے کہلائے جاتے ہیں اگرچہ ان کے انتخابات بھی انگشت نمائی سے پاک نہیں ہیں پھر بھی ان کے طرز عمل سے وقار ، شائستگی، راست بازی اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کی پاسداری کی توقع کی جانی چاہیے ۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے سینٹ کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دولت کے استعمال کو جو سیاسی دہشت گردی قرار دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کو اس کے خلاف ڈٹ جانے کے لئے جو کہا ہے ان کی با ت پر توجہ دی جانی چاہیے۔
ووٹ فروخت کرنا یہ بد کرداری کے ذیل میں آتا ہے کسی قومی یا صوبائی اسمبلی کے ممبر کی بکاوٴ مال کی شناخت جہاں اس کے ذاتی وقار کے منافی ہے وہا ں یہ عوام کی بھی بے ترقیری ہے کہ پارلیمنٹ میں اس کی نمائندگی کرنے والے ”بد کردار“ کی شناخت رکھتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کیایہ موقف ایک حد تک تو بالکل درست ہے کہ عوامی نمائندوں کی پیشگی قابل فروخت قرار دینا خود اپنی بے توقیری ہے مگر عوامی نمائندوں نے خود کو قابل فروخت کیاعوام کی درخواست پر بنایا ہے۔
ہاں چند متثنیات اپنی جگہ مگر اکثریت کی شہرت کیا اس سے مختلف ہے ۔ یہ وہ طرز عمل ہے کہ ہر سطح کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے اداروں کے انتخابات میں بھی پیسہ کی فراوانی کار فرما نظر آتی ہے۔ کوئی شریف انسان خواہ وہ کتنی ہی اعلی ترین اہلیت کا مالک ہو الیکشن میں حصہ لینے کا تصور نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے مقابلے میں انتہائی جاہل ان پڑھ شخص اپنی دولت کے بل بوتے پر سکی ضمانت ضبط کروا سکتا ہے اور منتخب ہونے کی صورت میں اس کے مقابلے میں شکست کھانے والے لائق فائق اور باصلاحیت شخص سے زیادہ معاشرہ کا معزز شہری بن جائے گایہ ایسی حقیقت ہے جس کا ہر شخص بند آنکھ سے بھی خود اپنے گلی محلے سے لے کر قومی سطح کے انتخابات میں مشاہدہ کر سکتا ہے۔
دراصل ہمارے معاشرہ میں عزت ووقار کا پیمانہ مال ودولت بن گیا ہے جبکہ مسلمان معاشرہ میں قرآن حکیم تعلیمات کے مطابق عزت کا معیار خوف خدا، خدمتِ خلق اور تقویٰ ہے جبکہ ہمارے ہاں وسیع و عریض کوٹھیوں جدید بڑی گاڑیوں ، پرتعیش اشیاء کی ملکیت اور مال و دولت کی نمائش کی بڑائی اور عزت کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ قانونی ضابطوں کے ذریعہ ظاہری برائی کے آگے کسی حد تک بند تو ضرور باندھا جا سکتا ہے مگر اچھائی کو فروغ دینا مشکل ہے کیونکہ راست بازی ہر انسان کے ذاتی قوت عمل کے تابع ہے مثلاََ اگر یہ قانون بن جائے تو سینٹ کے انتخابات میں ووٹ فروخت کرنا مستوجب سزا ہو گا۔
مگر انتخابات میں رائے شماری کو خفیہ رکھا جائے تو یہ جاننا ناممکن نہیں بے حد مشکل ضرور ہو جائے گا کہ یہ ضمیر فروشی کا ارتکاب کس نے کیا ہے اس لئے شوآف ہینڈ ہی واحد طریقہ ہے جس سے انتخابات کی شفافیت کو یقین کی سند مل سکتی ہے۔ بہر حال جب یہ سطور شائع ہونگی سینٹ کے انتخابات ہو چکے ہو نگے او سب کے سامنے آچکا ہو گا کہ کون با کردادر او کون بد کردار کی شناخت حاصل کر سکا ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان