بند کریں
ہفتہ فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سال نو کے دوران حکومت سے توقعات
جی ایس پی پلس سے ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر برآمدات میں بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے توانائی کا بحران اور اس شعبے کے سرکلر ڈیبٹ پر قابو پانا باقی ہے
افتخار علی ملک:
سال 2013ء اپنے دامن میں توانائی کے بحران امن و امان کی خراب صورتحال‘ اور مہنگائی میں اضافے سمیت بہت سے مسائل اپنے دامن میں لئے رخصت ہوگیا جبکہ سال 2014ء اپنے ساتھ نئی توقعات و خدشات لیکر طلوع ہوا ہے۔ نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اگرچہ اصلاح احوال کیلئے کئی اچھے اقدامات اٹھائے گئے ہیں مگر اس کے باوجود کاروباری برادری کے تحفظات باقی ہیں۔
جی ایس پی پلس بلاشبہ موجودہ حکومت کا ایک اہم کارنامہ ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات کو یورپین یونین تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوئی ہے۔ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس سے صرف ٹیکسٹائل سیکٹر کو فائدہ ہوگا لیکن یہ درست نہیں۔ سینکڑوں دیگر اشیاء بھی یورپین یونین کو برآمد کر کے بھاری زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔
رخصت ہونے والے سال کے دوران حکومت نے ٹیکس نظام کو آسان بنانے کیلئے تارجر برادری کی تجاویز تسلیم کر کے کاروباری برادری کی خدمات اور اس کی اہمیت کا اعتراف کیا ہے جس سے یقینا کاروباری ماحول بہتر ہوگا لیکن ضروری ہے کہ سال 2014ء کے دوران کاروباری برادری کیلئے مزید آسانیاں پیدا کی جائیں۔
اگرچہ حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی توانائی کے بحران بالخوص سرکلر ڈیبٹ پر قابو پانے کیلئے بہترین اقدامات اٹھائے جن کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے لیکن صورتحال بتدریج اپنی پرانی ڈگر پر واپس آرہی ہے۔ ایک طرف تو توانائی کا بحران دوبارہ شدت اختیار کررہا ے اور دوسری طرف سرکلر ڈیبٹ بھی دوبارہ 225ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ صنعتوں کا پہیہ رواں رکھنے کیلئے تو توانائی ناگزیر ہے۔
اگر توانائی کا بحران حل نہ ہو پایا تو پھر جی ایس پی پلس سٹیٹس کی صورت میں حاصل ہونے والا ایک بہت نایاب موقع بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت کو سال 2014ء کو توانائی کا سال قرار دے کر سرلر ڈیبٹ کے خاتمے کیلئے نادہندگان سے واجبات کی وصولی کرنا ہوگی۔ لہٰذا حکومت کو بلا امتیاز بجلی کے نادہندگان اور بجلی چوروں کے خلاف کارروائی عمل میں لانی چاہئے۔
حکومت کو کوشش کرنی چاہئے کہ سال 2014ء کے دوران پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ یا تو مکمل ہوجائے یا پھر تکمیل کے نزدیک ضرور پہنچائے کیونکہ گیس کی قلت بہت بڑی پریشانی کا باعث بنتی جارہی ہے۔ سردیوں کے آغاز پر صنعت اور سی این جی سٹیشنز کی گیس یہ کہہ کر بند کر دی گئی تھی کہ گھریلو صارفین اولین ترجیح ہے لیکن ان دنوں گھروں میں بھی گیس میسر نہیں اور لوگ گیس کی بندش کے خلاف مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں۔
حکومت نے گیس چوروں کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے اور کروڑوں روپے کی گیس چوری پکڑی لیکن سسٹم میں آنے والی یہ گیس کہاں گئی یہ تو بیورو کریسی ہی بتا سکتی ہے۔ سال 2014ء کے وفاقی بجٹ میں حکومت کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان بھی کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک بہت اہم منصوبہ ہے جس سے نہ صرف آبی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ انتہائی سستی اور وافر بجلی بھی پیدا کی جا سکے گی۔
سال 2014ء کے دوران حکومت کو پبلک سیکٹر کے اداروں کے بارے میں بھی فیصلہ کر لینا چاہئے کہ انہیں چلانا ہے یا نجکاری کرنی ہے۔ کم و بیش 600ارب روپے سالانہ ان اداروں پر اخراجات کئے جارہے ہیں حالانکہ جتنے بڑے یہ ادارے ہیں انہیں ہر سال قومی خزانے کو اتنا ہی منافع دینا چاہئے۔ اگر ان اداروں کی درستگی کیلئے ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوگی اور قومی خزانے پر بوجھ بڑھتا چلا جائے گا۔
ترقی یاتہ ممالک کے معاشی استحکام میں انکی علاقائی تجارت نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہمیں بھی اس جانب توجہ دینا ہوگی۔
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ ملاقات کے موقع ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے بزنس اور ایگریکلچر ایڈوائزر ی کمیٹیاں تشکیل دینے کا اعلان کیا جو تاجر برادری کا بہت دیرینہ مطالبہ تھا۔
معاشی معاملات میں سٹیک ہولڈرز کی شمولیت یقینا بہت بہترین نتائج کی حامل ہوگی لیکن یہ ضروری ہے کہ ان کمیٹیوں کو بھرپور طریقے سے فعال کیا جائے‘ بالخصوص انہیں کسی بھی صورت بیورو کریسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ قرضوں کا بھاری بوجھ پاکستان کے معاشی مسائل کی بہت بڑی وجہ ہے جس پر ماضی کی حکومتوں کو شرمندہ ہونا چاہئے کیونکہ کھربوں ڈالر کے وسائل ہونے کے باوجود اندھا دھند قرضے لیکر انہوں نے ثابت کیاکہ انہیں ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں کوئی سروکار نہیں۔

موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو خزانہ تقریباََ خالی تھا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف سے رجوع کئے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا لیکن ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت قرضے لینا عادت نہ بنائے بلکہ سال 2014ء کے دوران قومی وسائل استعمال میں لاکر ان قرضوں سے حتی المقدور حد تک جان چھرانا ضروری ہے۔ سابق حکومت کے دور اقتدار میں پیدا ہونے والے سنگین مسائل میں سے ایک بڑا سنگین مسئلہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں 80فیصد سے زائد کمی تھا‘ یہ بڑی اطمینان بخش بات ہے کہ موجودہ حکومت نے اس اہم مسئلہ کو نظر انداز نہیں کیاجس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورتحال بتدریج بہتر ہورہی ہے۔
جولائی تا نومبر2012ء کے مقابلے میں جولائی تا نومبر 2013ء کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 4.7% اضافہ ریکارڈکیا گیا۔ حکومت کو چاہئے کہ سرمایہ کاروں کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کرے تاکہ بیورو کریٹک رکاوٹوں کی وجہ سے وہ بد دل نہ ہوں‘ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے حکومت کو بجلی و گیس کا بحران بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔
سال 2014ء کے دوران حکومت کو عوامی فلاح و بہبود پر خصوصی توجی دینی چاہئے کیونکہ عوام کے ایک بہت بڑے حصے کی تعلیم و صحت کی بنیادی سہولیات تک بھی رسائی نہیں ہے۔ افسر شاہی کی چیرہ دستیوں اور ناروا اقدامات کے بارے میں تاجروں کی ان گنت شکایا ت ہیں لہٰذا حکومت بیورو کریسی کے صوابدیدی اختیارات کم کرے جس سے نہ صرف تارج برادری اور سرکاریہ مشینری کے درمیان تعلقات خوشگوار و مستحکم ہوں گے بلکہ فیڈرل بورڈ آف ریوینو کے محاصل بھی بڑھیں گے۔
صنعتکار‘ تاجر اور عوام موجودہ حکومت کے ساتھ بڑی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ توقع ہے کہ حکومت ان کے مسائل کے حل اور ملک کے معاشی استحکام کیلئے پانچ سال مکمل ہونے کا انتظار کئے بغیر سال 2014ء کو دوران ہی اپنے اہداف حاصل کرنے یا کم از کم ان کے نزدیک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-01-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان