بند کریں
جمعہ فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قائدین کیلئے اپنے اپنے مقام کا تعین!
آنے والے سالوں میں آصف زرداری ہی پیپلز پارٹی کی کشتی کو منجدھار سے نکالیں گے کہ ان جیسی ذہانت ،تحمل مزاجی اور برداشت پاکستان بھر میں سوائے چودھری شجاعت کے کسی اور لیڈر کے پاس نہیں ہے۔
فرخ سعید خواجہ:
پاکستان پیپلز پارٹی 2013 کے عام انتخابات میں اگرچہ بری طرح پٹ گئی تھی لیکن قومی سیاست میں اس کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پیپلز پارٹی کو آٹے میں نمک کے برابر نشستیں ملی ہیں۔ 1990کے عام انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کو بہت بری طرح شکست ہوئی تھی۔ 1990 کا الیکشن پیپلز پارٹی نے پیپلز ڈیمو کریٹک الائنس (پی ڈی اے) کی جماعتوں سے مل کر لڑا تھا۔
جبکہ نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ اس وقت کے انتخابی اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد(آئی جے آئی) کا حصہ بن کر میدان میں صف آرا ہوئی تھی۔ اس مقابلے میں آئی جی آئی نے 106 اور پی ڈی اے نے 44 قومی اسمبلی کی جنرل نشستیں جیتی تھیں اور 33 آزاد ممبران اسمبلی لگ بھگ تمام آئی جے آئی میں شامل ہو گئے تھے۔ اس الیکشن ایک ایسا’معرکہ‘ تھا جس میں شہید بے نظیر بھٹو بھی پشاور کی نشست پر حاجی غلام احمد بلور کے ہاتھوں شکست کھا گئی تھیں۔
اس کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو نے حوصلہ نہیں ہارا تا وقتیکہ 1993 میں اقتدار کا ہما دوبارہ ان کے سر پر آن بیٹھا۔ البتہ 1997 کے عام انتخابات میں نواز شریف کی مسلم لیگ کے ہاتھوں بری طرح شکست نے انہیں نفسیاتی طور پر توڑ پھوڑ دیا۔ عام انتخابات کے 60، 70 دن بعد وہ لاہور تشریف لائیں، سنیٹر گلزار احمد کی گلبرگ والی رہائش گاہ پر ان کا قیام اور پریس کانفرنس تھی۔
اس پریس کانفرنس کے دوران شہید بے نظیر بھٹو نے انتہائی دل شکستگی کے ساتھ ،مایوس کن لہجے میں اپنے ارد گرد بیٹھے پیپلز پارٹی کے چوٹی کے رہنماؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نہ جانے ان میں بھی کون میرے ساتھ ہے اور کون نہیں، مجھے نہیں معلوم، اللہ بہتر جانتا ہے۔ سب نے دیکھا کہ ان تمام حالات کے باوجود محترمہ نے سیاسی میدان میں اپنا مقام برقرار رکھا۔
2007 میں ان کی وطن واپسی پر لاہور میں آخری قیام پارٹی کے موجودہ سیکرٹری جنرل لطیف خاں کھوسہ کے یہاں ڈیفنس میں تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بلاشبہ ماضی کی نسبت مکمل طور پر تبدیل ہو چکی تھیں۔ ان کا دھیما مزاج اور باوقار انداز ان کی شخصیت کو مزید شاندار بنا چکا تھا۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے شاندار قومی لیڈر تھیں۔ ان کے شوہر آصف زرداری ان کے جانشین ہوں گے، کسی نے سوچا تک نہ تھا۔
آصف زرداری نے جانشینی سنبھالی تو پارٹی کی آبرو اپنے دوستوں کے حوالے کر دی جن سے اس کی ساکھ کی حفاظت نہ ہو سکی۔ کاش جناب زرداری نے شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھیوں کو کھڈے لائن نہ لگایا ہوتا تو پیپلز پارٹی کی آج یہ حالت نہ ہوتی کہ بلاول بھٹو زرداری پارٹی کے سربراہ سمجھے جاتے ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں۔ پیپلز پارٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی تصاویر موجود ہیں جب کہ آصف زرداری کی تصویر ہٹا دی گئی ہے، البتہ اوپر کے حصہ میں جناب زرداری اور بلاول بھٹو کی تصویریں، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ کی تصویروں کے ساتھ موجود ہیں۔
پیپلزپارٹی کے جن چار عہدیداروں کے نام دیئے گئے ہیں ان میں بلاول بھٹو زرداری سرپرست اعلی، سردار لطیف خاں کھوسہ سیکرٹری جنرل، قمر زمان کائرہ سیکرٹری انفارمیشن اور امجد اخلاقکے نام بطور فنانس سیکرٹری شامل ہیں۔ جناب آصف زرداری گویا پارٹی کے کسی بھی عہدے پر فائز نہیں ہیں۔
اس کے باوجود ہماری یہ رائے ہے کہ آنے والے سالوں میں آصف زرداری ہی پیپلز پارٹی کی کشتی کو منجدھار سے نکالیں گے کہ ان جیسی ذہانت ،تحمل مزاجی اور برداشت پاکستان بھر میں سوائے چودھری شجاعت کے کسی اور لیڈر کے پاس نہیں ہے۔
میاں نواز شریف بلاشبہ ایک مدبرانہ سوچ کے ساتھ سیاست کر رہے ہیں لیکن سول وعسکری قیادت میں بلا وجہ پیدا کردہ کشمکش جب دور ہو جائے گی تو اس سے اپنے اپنے مقام کا ادراک کرنا آسان ہو جائے گا۔ ہمارے نزدیک ریاست اور حکومتی اداروں کے اختیارات میں توازن ہی وہ اصل فرائض ہیں جن کی انجام دہی پر نواز شریف کو سیاسی تدبر کا ثبوت دینا ہو گااور ان کی حیثیت واقعی ایک مدبر کی ہو جائے گی وگرنہ․․․
جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے وہ بلاشبہ قومی لیڈر کی حیثیت سے ابھرے ہیں، لیکن 11 مئی کے الیکشن پر واویلا کرنے والے ڈاکٹر طاہر القادری اور ان انتخابات کے ایک سال پورا ہونے پر احتجاج کرنے والے عمران خان مل کر کیا کرنے جا رہے ہیں اسے دیکھ کر ہی سیاست اور تاریخ میں ان دونوں کے مقام کا تعین ہو سکے گا۔
مئی کا مہینہ بلاشبہ کسی احتجاجی تحریک کے لئے آئیڈیل قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ماضی میں نواز شریف نے 1995 میں ماہ ن مئی میں ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریک نجات چلائی تھی۔ اس دوران پہیہ جام ہڑتال بھی کی گئی اور پرتشدد احتجاج بھی ہوا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ الیکشن کے نظام کوفضول سمجھنے والے ڈاکٹر طاہر القادری اور الیکشن 2013 میں 35 پنکچر کا چیف جسٹس افتخار چودھری ودیگر پر الزام لگانے والے عمران خان احتجاج کو کیا رنگ دیتے ہیں۔علاوہ ازیں اس دوران یہ عقدہ بھی کھل جائے گا کہ جو لوگ پچھلے کچھ مہینوں سے ایک نئی سیاسی قوت کو آزمانے کے لئے میل ملاقاتیں کر رہے تھے ان کی کوششیں کیانتیجہ برآمد کرتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-02

(0) ووٹ وصول ہوئے