بند کریں
جمعرات جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پنجاب میں سیاسی دھماکہ…!
(ن) لیگ میں فارورڈبلاک ناراض رہنماؤں اور کارکنوں سے ذوالفقار کھوسہ کے رابطے کیا رنگ لائیں گے؟
اسرار بخاری:
سوال یہ نہیں ہے کہ سردار ذوالفقار خان کھوسہ کامیاب ہوں گے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ کھل کر مخالفت پر کیوں اُترے ہیں۔ اس حوالے سے (ن) لیگ کے بعض ارکان کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اداکارہ سپنا کیس میں ملوث ان کے بیٹے دوست محدم کھوسہ سے مطلوبہ تعاون نہیں کیا جس نے بزرگ مسلم لیگی کو نظر انداز کئے جانے والوں کی آواز بننے پر مجبور کردیا جبکہ خود ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کے مخلص اور آزمودہ رہنماؤں اور کارکنوں کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں پارٹی جس بُری طرح کمزور ہورہی ہے ان کا یہ رد عمل دراصل اس تڑپ کا اظہار ہے ۔
تاہم مسلم لیگ (ن) میں فارڈبلاک کی خبریں اور وہ بھی پنجاب میں بلاشبہ سیاسی دھماکہ ہے کیونکہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) ک ی مضبوط ترین گرفت کے باعث یہ تعجب خیز ہی ہے کچھ عرصہ پہلے اسی قسم کے فارورڈبلاک یا علیحدہ گروپ کی خبریں منظر عام پر آئیں۔ عطا مانیکا جس کے سرخیل تھے حکومت میں حصہ داری کے بعد یہ علیحدہ گروپ ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ ان سطور میں متعدد بار یہ نشاندہی کی جاچکی ہے کہ سیاسی ابتلا کے دور میں ثابت قدم رہنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کو بری طرح نظر انداز کردیا گیا ہے البتہ چند خواتین کارکنوں کو پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں سے ضرور نوازا گیا ہے۔
صدیق الفاروق کو متروکہ وقف املاک بورڈ کا چیئرمین بنانے اور زعیم قادری کو حکومت پنجاب کا ترجمان مقرر کرنے کا بہتر قدم اٹھایا گیا ہے۔ یہ دونوں سیاسی ابتلاء کے دور میں ثابت قد م رہنے والوں میں شامل ہیں اسی طرح سردار ذوالفقار خان کھوسہ بھی اس دور میں میاں نواز شریف کی حمایت میں چٹان کی طرح ڈٹے رہے ان کی جانب سے فارورڈبلاک کے قیام کی خبریں مخالفین کیلئے دلچسپی اور حامیوں کیلئے باعث تشویش ہوسکتی ہے ویسے دیکھا جائے تو یہ مجوزہ فارورڈبلاک دراصل دیرینہ اور آزمودہ کارکنوں اور رہنماؤں کو پرے دھکیلنے اور کل تک مخالفانہ زبانیں دراز کرنے والوں کو گلے لگانے کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے ممکن ہے ایسا تالیف قلوب کیلئے کیا جارہا ہو مگر پرانے ساتھیوں کے ”مجروح“ قلوب کی بنیاد پر بہتر حکمت عملی نہیں ہے۔
یہ تو ایسا ہی ہے کہ شریک سفر محونالہ جرس ہی رہیں اور جو شریک سفر نہ تھے وہ اقتدار کی منزل پالیں، فارورڈبلاک کا اعلان طویل ناراضگی کے بعد کھوسہ گروپ نے کیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بری نہیں اسے بُرا بنایا جارہا ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ فارورڈبلاک میں پنجاب اور قومی اسمبلی کے ارکان بھی شامل ہیں۔
ادھر سردار ذوالفقار خان کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ شریف برادران نے قربانیاں دینے والوں کو باہر پھینک دیا اور لوگوں کو نوازا ہے جنہوں نے نواز شریف کو بُرا بھلا کہاآج وہی ان کے زیادہ قریب ہیں ناراض ارکان اسمبلی اور کانرکنوں نے مجھے سرپرستی کیلئے کہا ہے۔ ہر ضلع میں جاکر ناراض ارکان اسمبلی اور کارکنوں کو اکٹھا کروں گا۔ پرانا مسلم لیگی ہوں اپنی جماعت کونہیں چھوڑوں گا۔
عام انتخابات میں دوست محمد کھوسہ کو دھاندلی سے ہرایا گیا۔ ”گو نواز گو“ عمران اور طاہر القادری کا نعرہ ہے لیکن اب (ن) لیگ کے کارکن بھی یہی نعرہ لگارہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سندھ کے سابق وزیراعلیٰ اور میاں نواز شریف کیساتھ قیدو بند کی سختیاں برداشت کرنے والے غوث علی شاہ نے بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا تھا تاہم سردار ذوالفقار خان کھوسہ نے فارورڈ بلاک کی تردیدی کرتے ہوئے قیادت سے نالاں لیگیوں سے رابطوں کا اعتراف ضرور کیا ہے اپنی رہائش گاہ پر وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ تصویر کے حوالے سے اس سوال پر لگتا ہے کہ آپ اب بھی ان کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ”شاید نواز شریف کی تصویر لگی رہے لیکن کسی دوسرے کی تصویر اٹھاکر کوڑے دان میں پھینک دوں گا“ اس بیان سے اس کے اندرونی اشتعال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور جہاں تک نواز شریف کی تصویر کا تعلق ہے اس کے لگے رہنے کے سلسلے میں بھی ”شاید“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یعنی اس کا لگا رہنا بھی یقینی نہیں بلکہ اس کا ممکنہ مقدر بھی کوڑے دان ہی ہے۔
فارورڈبلاک یا علیحدہ گروپ کا مقصد عام طور پر پارٹی قیادت کو دباؤ میں لاکر اپنی جانب متوجہ کرنا یا اپنی بات منوانا ہوتا ہے۔ فارورڈبلاک نہ سہی ناراض اور نالاں کارکنوں کو متحد کر کے وہ کس حد تک کامیاب ہوں گے یہ فیصلہ آنے والا وقت کروے گا۔ ویسے بظاہر کامیابی کے امکانات اس لیے نہیں نہیں آرہے کیونکہ (ن) لیگ کی قیادت اقتدارمیں ہے اور صاحب اقتدار قیادت کے سامنے کھڑا ہونا عام طور پر خلاف مصلحت ہوا کرتا ہے۔
اس ضمن میں دوسری خبر یہ ہے کہ (ن) لیگ کی قیادت نے کھوسہ خاندان کی جانب سے فاورڈبلاک کی خبروں کا نوٹس لے لیا ہے۔ پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں نے سردار ذوالفقار خان کھوسہ سے رابطے بھی کیے ہیں۔ ذوالفقار خان کھوسہ 26سال کی عمر میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جو اس وقت سب سے کم عمر رکن اسمبلی تھے۔ جبکہ بیٹا دوست محمد کھوسہ 35 سال کی عمر میں پنجاب کے سب سے کم عمر وزیراعلیٰ بنے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک اندرونی واقف حال کے مطابق آج لاہور کی علمی و سیاسی مجلسوں میں یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ پاکستان اور پنجاب پر حکمرانی کرنے والی مسلم لیگ کہاں ہے اور بالخصوص 11مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد کیا اس سیاسی جماعت کا وجود پورے ملک میں ہے۔ 11مئی 2013ء کو ماڈل ٹاؤن جمع ہونے والے کارکنوں سے اور 15مئی 2013ء کو الحمرا ہال لاہور میں نومنتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور پارٹی رہنماؤں سے خطاب کے بعد سے تادم تحریر نہ تو سنٹرل ایگزیکٹر کمیٹی اور نہ ہی پنجاب مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے کسی اجلاس کی خبر منظر عام پر آئی ہے نہ ہی دوسرے صوبوں میں اضلاع کی سطح پر کوئی باقاعدہ اجلاس ہوا ہے۔
جہاں تک مسلم لیگ (ن) کے ماڈل ٹاؤن میں واقع مرکزی سیکرٹریٹ کا تعلق ہے وہاں عملاََ تالے پڑے ہیں البتہ وزیر اعلیٰ بعض سرکاری میٹنگز وہاں ضرور کرتے ہیں یہاں قائم ہونے والا میڈیا سیل ایک سمت میں رکھے ہوئے کمیوٹروں کی شکل میں باقی ہے۔ پارٹی کیلئے کچھ کام کرنے کیلئے یہاں قائم اسحاق ڈار اور انوشہ رحمان کے دفاتر ان کی وزارتوں کی نذر ہوگئے جس پارٹی ونگ کی سربراہ مریم نواز تھیں وہ بھی کبھی کا ختم ہوچکا ہے اب وہ اسلام آباد میں یوتھ بزنس لون سکیم کی سرپرتی کررہی ہیں۔
مرکزی سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کو عملاََ معطل کردیا گیا ہے۔ پنجاب کے سیکرٹری جنرل راجہ اشفاق کو شاید کارکن بھی نہیں جانتے کہ وہ اس اہم پارٹی عہدہ پر فائز ہیں اسی طرح خواتین ونگ کی سربراہ مسز صادق کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آرہی کسی کو علم نہیں وہ لاہور میں ہیں یا اسلام آباد منتقل ہوچکی ہیں اس صورتحال سے کارکن اگر نالاں ہیں تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔
مسلم لیگ (ن) ایک ملک گیر سیاسی جماعت ہے اسے کمزور اور غیر فعال نہیں ہونا چاہئے کہ ملک گیر سیاسی جماعت ملکی یکجہتی کی ٹھوس ضمانت ہوا کرتی ہے۔ میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کا ناقدر رہا ہوں مگر ایک ملک گیر سیاسی جماعت کے طور پر اس کی سیاسی بقاء کا حامی ضرور ہوں۔ البتہ (ن) لیگ میں ان دیکھے فارورڈبلا ک سے انکار ممکن نہیں جس پر آئندہ بات ہوگی۔ کیا مسلم لیگ (ن) کی قیادت ان دیکھے فاورڈبلاک سے باخبر ہے اور کیا اس کے باوجود اس کو اہمیت نہیں دے رہی بعض واقعاتی شواہد کے آئینہ میں اس کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-11-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان