بند کریں
پیر فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پی پی پی نمبر ون اپوزیشن بن کر مدمقابل آ گئی
ہماری رائے میں آصف علی زرداری ایک زیرک سیاستدان میں ان پر اور ان کے ساتھیوں پر کرپشن کے الزامات اپنی جگہ جہاں تک آصف زرداری کی سوچ کا تعلق ہے وہ خالصتاً سیاسی ہے اور وہ ہر پانچ سال بعد عوام کے ووٹ سے حکومت کی تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں
فرخ سعید خواجہ:
نیب کی کارروائیوں پر آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے سیخ پا ہونے کو بھائی لوگ 1990 ء کی سیاست کے زمانے کی واپسی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ ایسا کرنے والے قریب کی یہ بات کیوں نہیں سوچتے کہ پیپلزپارٹی اپنا اپوزیشن کا کھویا ہوا کردار حاصل کرنے کے لئے سرگرداں ہوئی ہے جو کہ ان سے تحریک انصاف چھین چکی تھی۔
آصف علی زرداری نے الیکشن 2013ء کے بعد اپنے لاہور کے پہلے دورے میں بلاول ہاوٴس بحریہ ٹاوٴن لاہور میں اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میاں صاحب الیکشن جیت گئے ہیں، اب وہ حکومت کریں اور ہم اب ان سے الیکشن 2018ء میں ملیں گے۔
“ اس سلسلے میں انہوں نے میاں نوازشریف کے لئے اور بھی بہت سے نرم الفاظ استعمال کئے تھے جس پر جیالوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ ہماری رائے میں آصف علی زرداری ایک زیرک سیاستدان میں ان پر اور ان کے ساتھیوں پر کرپشن کے الزامات اپنی جگہ جہاں تک آصف زرداری کی سوچ کا تعلق ہے وہ خالصتاً سیاسی ہے اور وہ ہر پانچ سال بعد عوام کے ووٹ سے حکومت کی تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں جس کا اظہار انہوں نے بلاول ہا?س میں کیا۔
عمران خان اور تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کی اس مفاہمانہ سوچ کا فائدہ اٹھایا اور جارحانہ اپوزیشن کر کے وزیراعظم محمد نوازشریف کے مد مقابل کا مقام پیپلزپارٹی سے چھین لیا۔ اب جبکہ نوازشریف حکومت تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے اور آنے والے انتخابات میں لگ بھگ ڈھائی سال کا عرصہ باقی ہے۔ آصف زرداری کو پیپلزپارٹی کو جارحانہ پالیسی پر لانا ضروری ہوگیا ہے۔
عمران اور تحریک انصاف اگر اپوزیشن کی احتجاجی سیاست کی راہ پر گامزن نہ رہتے تو بہت ممکن تھا کہ آصف زرداری مزید ایک سال طبل جنگ نہ بجاتے۔ تحریک انصاف نے الیکشن کمشن کے ارکان کے استعفے کا مطالبہ کیا تو پیپلزپارٹی نے ان سے دو قدم آگے بڑھ کر کہہ ڈالا کہ ہم تو پہلے ہی الیکشن کمشن کے ارکان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اب اپوزیشن کی نمبر ون پوزیشن کے حصول کے لئے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں سیاسی جنگ ہوگی۔
مسلم لیگ ن کو اس جنگ سے اپنی صفوں کو مزید سیدھا کرنے اور پی پی پی کو بحیثیت سیاسی جماعت متحرک کرنے کا موقع ملے گا۔ اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن بطور سیاسی جماعت کے فعال نہیں ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف بہت حد تک سیاسی معاملات میں بھی بیورو کریسی پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے جن عہدیداران نے الیکشن 2013 ء میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی تھی۔
ان کے خلاف کارروائی کرنے میں مسلسل تساہل برتا گیا۔ کئی عہدیداروں کی وفات یا پارٹی چھوڑ جانے والوں سے جو عہدہ خالی ہوا تھا اسے پر کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ و زیراعظم کے قریبی ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں وزیراعظم کو پنجاب سے ایک فہرست موصول ہوئی تھی جس میں خالی عہدے پر کرنے کے لئے سفارشات کی گئی تھیں اور وزیراعظم محمد نوازشریف نے پارٹی کے صدر کی حیثیت سے ان سفارشات کی توثیق کر دی ہے اور پنجاب کی صوبائی تنظیم کی طرف سے اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
گویا بلدیاتی الیکشن کی آمد نے مسلم لیگ ن کی سیاسی قیادت کو اپنی جماعت کی طرف توجہ دینے پر مجبور کردیا ہے۔
ادھر پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں نئے الیکشن کا طبل بج چکا ہے۔ 11 اکتوبر کو پولنگ ہو گی یہ نشست عمران خان اور سردار ایازصادق کے درمیان چلنے والی قانونی جنگ کے فیصلے کے باعث خالی ہوئی ہے۔
جج صاحب نے یہاں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے ایک مرتبہ پھر اپنے پرانے امیدوار سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار صادق کو میدان میں اتار دیا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی جگہ عبدالعلیم خان کو دی ہے جو کہ ان کے پولیٹیکل ایڈوائزر ہی نہیں بلکہ دست راست ہیں اور تحریک انصاف لاہور کے سابق صدر ہیں۔ قومی اسمبلی کی اس نشست کے ذیلی صوبائی حلقے پی پی 147 میں بھی ازسر نو الیکشن کروائے جارہے ہیں۔
جہاں پی پی 147 میں مسلم لیگ ن کے محسن لطیف اور تحریک انصاف کے شعیب صدیقی کی دوبارہ آمنے سامنے ہوں گے۔ یہاں پیپلزپارٹی بھی انتخابی میدان میں موجود ہے اور انہوں نے این اے 122 میں بیرسٹر عامر حسن اور پی پی 147 میں افتخار شاہد کو مقابلے میں اتارا ہے۔ بیرسٹر عامر حسن کا تعلق پیپلزپارٹی سے وابستہ معروف سیاسی خاندان سے ہے۔ جبکہ افتخار شاہد ایڈووکیٹ پیپلز لائرز فورم (پی ایل ایف) کے جنرل سیکرٹری اور سکہ بند جیالے ہیں۔
سردار ایاز صادق کا اپنے حلقہ انتخاب سے تعلق مسلسل رہا ہے۔ جبکہ عبدالعلیم خان نے بھی اپنے دست راست سابق سینئر نائب صدر تحریک انصاف لاہور شعیب صدیقی کے ذریعے اس حلقہ انتخاب سے تعلق واسطہ برقرار رکھا ہوا تھا۔ سردار ایاز صادق کی انتخابی مہم پچھلے چار روز سے جاری ہے جبکہ تین دن پہلے پیپلزپارٹی بھی انتخابی میدان میں اتری ہے اور اس نے گڑھی شاہو کے ایک شادی ہال میں جلسہ کر کے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
جہاں بیرسٹر عامر حسن اور افتخار شاہد کے علاوہ فیصل میر اور لبنیٰ چودھری ایڈووکیٹ سرگرم دکھائی دئیے۔ اس سے اگلے روز سوموار کو تحریک انصاف کے امیدواروں عبدالعلیم خان اور شعیب صدیقی نے دربار میاں میر پر حاضری دے کر اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ تحریک انصاف کے سرگرم کارکنوں کی بہت بڑی تعداد ان کے ہمراہ تھی۔ جبکہ فرخ جاوید مون، شیخ عامر، میاں جاوید علی جیسے معروف کارکن ڈھول باجے والوں کے ساتھ کارکنوں کے ہمراہ موجود تھے۔
اب دیکھنے والی بات یہ ہو گی کہ مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی انتخابی مہم کو کس انداز میں چلاتی ہیں۔ این اے 122 اور پی پی 147 کے رائے دہندگان آنے والے الیکشن میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لئے بے چین ہیں تاہم جوں جوں انتخابی مہم آگے بڑھے گی اندازہ ہوتا جائے گا کہ ملک کی ان تینوں بڑی سیاسی جماعتوں میں سے کون کہاں کھڑا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان