بند کریں
منگل فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پرویز مشرف کی بیماری ، بیماری کی آڑ میں کیا گیا ڈرامہ
اس ڈرامے کے دیگرکرداربھی آخرکارایک ایک کرکے سامنے آتے جائیں گے ،جس طرح سابقہ دورمیں امریکی سی آئی اے کے ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کامعاملہ سربستہ راز بن گیا اسی طرح مشرف پاکستانی ریمنڈ ڈیوس بنا کراڑن چھو ہوجائیں گے
مصنف : رحمت اللہ شباب

جتنی خوبصورتی اورڈھٹائی کے ساتھ دل کی بیماری کا کھیل کھیلا گیا اس پراہل وطن کوکسی قسم کی حیرانگی نہیں ہوئی کیونکہ 12 اکتوبر1999 کوطیارہ ہائی جیکنگ کے الزام میں حکومت کاتختہ الٹنے سے لے کر نائن الیون کی آڑ میں پاکستان کومیدان جنگ بنانے تک، قبائلی علاقے ڈمہ ڈولا میں مذہبی مدرسے پہلے امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں 87 معصوم بچوں کی ہلاکت کا الزام پاک فوج کے سرڈالنے تک،کرپٹ مافیا پرمشتمل ق لیگ کی صورت میں کنگ پارٹی کی تشکیل کے ذریعے ساڑھے آٹھ سال ملک کے سیاہ وسفید کے مالک بن کرلال مسجد میں بے گناہ اورمعصوم مرد وخواتین اوربچوں کوآگ وبارود میں نہلانے تک جنرل پرویز مشرف نے اس ملک کے آئین وقانون کی جس طرح دھجیاں اڑائیں ان کے مقابلے میں غداری کیس کے سلسلے میں خصوصی عدالت میں پیش ہونے سے بچنے کیلئے انہوں نے ”دل“ کی بیماری کی آڑلے کر جوڈرامہ اسٹیج کیا وہ توکوئی معنی ہی نہیں رکھتا اوراس کھلا کھلا مکرو فریب اورجھوٹ پرمبنی ڈرامے کو سچ بناکر پیش کرنے کا مقصد اس کے سوا اورکچھ نہیں کہ کسی طرح مشرف غداری کیس میں عدالت کا سامنا کرنے سے بچ سکے اوراسی بیماری کی آڑ میں بیرون ملک جانے کی راہ ہموار ہوسکے ۔

اوراس ڈرامے کے دیگرکرداربھی آخرکارایک ایک کرکے سامنے آتے جائیں گے لیکن جس طرح سابقہ دورمیں امریکی سی آئی اے کے ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کامعاملہ سربستہ راز بن گیا اسی طرح مشرف پاکستانی ریمنڈ ڈیوس بنا کراڑن چھو ہوجائیں گے اورقوم منہ دیکھتی رہ جائے گی ۔سابق صدرکی فی الحال اگلی منزل بیرون ملک ہے ۔جہاں پہنچتے ہی نہ صرف ان کا کمزور ناتواں اورمجروح دل ایک بارپھر باغ باغ ہوجائیگا بلکہ کچھ عرصہ بعد وہ ایک بارپھرمکے لہرا لہرا کر یہ بیان دیتے نظرآئیں گے کہ میں کمانڈو ہوں ،ساری زندگی خطرات سے کھیلتا رہا ،موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کراس کامقابلہ کیا اورآئندہ بھی یہی کچھ کروں گا،لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ سابق ڈکٹیٹراوراپنے دوراقتدارمیں اپنے ہی ملک کے شہریوں کوپانچ پانچ ہزارڈالر میں امریکہ کے ہاتھ بیچنے اوران کا باقاعدہ اعتراف کرنے والا حکمران تاریخ کے اوراق میں توگم ہوجائیگا لیکن اگریہ کہا جائے کہ وہ واقعی کسی ایسے انجام سے دوچارہوسکے گا جس کی عام طورپر توقع کی جاتی ہے تو ایسا ہرگزممکن نہیں ۔
مشرف کوبچانے والے دوست بھی متحرک ہیں اوراس کوانجام پرپہنچانے کی خواہش مند سیاسی قوتیں بھی سرگم ہیں جن میں شامل مسلم لیگ (ن)،پیپلزپارٹی ،اے این پی ،جماعت اسلامی ،تحریک انصاف ،جے یو آئی (ف)جے یوآئی (س)اوردیگرچھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما جب سابق صدرکے خلاف بیانات دیتے ہیں تو ایک لمحے کے لئے توہنسی چھوٹ جاتی ہے ،اورخاص طورپر جب یہ لیڈرہاتھ نچا نچا کرمیڈیا بریفنگ دیتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ اب کوئی ڈکٹیٹر اس ملک میں جمہوریت پرشب خون نہیں مارسکتا ۔
اورغیرجمہوری قوتوں کا دوراب قصہ پارینہ بن چکا ۔ملک اب کسی غیرجمہوری طرز عمل کامتحمل نہیں ہوسکتا ۔اوریہ کہ اب یہ باب ہمیشہ کے لئے بند ہوچکا ۔توہنسی کے فوارے ہی نہیں پھوٹتے بلکہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے کودل چاہتا ہے ۔وہ جمہوری قوتیں جوگزشتہ 5 سال سے ملک میں جمہوریت ،جمہوریت اورآئین وقانون کی پاسداری کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں انہوں نے تو اپنے طرز حکمرانی سے خودجہاں جمہوریت اور جمہوری اقدارکی کھل کردھجیاں اڑائیں ہیں وہاں آئین وقانون کابھی جنازہ نکالنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی ،ماتحت عدلیہ توکسی شماروقطارمیں نہیں اعلیٰ ترین عدلیہ کے احکامات کے جس طرح پرزے پرزے کئے وہ بھی انہی گزشتہ پانچ سالوں کے دوران عوام نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہے ،دراصل ہمارے ہاں سیاسی وجمہوری تسلسل کانام صرف اقتدارکے ایوانوں میں گھسنے تک محدود سمجھ لیا گیا ہے اورجمہوریت کے لبادے میں عوام کو جس طرح تختہ مشق بنایاجارہا ہے وہ گزشتہ پانچ سالہ دورمیں اپنے عروج پرتھا تو آج بھی فی الحال عوام ایسے ہی مسائل میں جکڑے ہوئے نظرآتے ہیں ۔
اگرچہ موجودہ حکومت کے پہلے چھ ماہ کے دوران عمومی طورپر عوام نے کانوں کوہاتھ لگالئے ہیں لیکن جوترجیحات اورسمت متعین کی گئی ہے اگراس میں پیش رفت بھی اسی تسلسل کے ساتھ ہوئی تو کسی حد تک بہتری کا امکان ضرورہے لیکن خوش امیدی کے راستے پرچلنے کیلئے عوام کوجتنے بڑے کرب اورآزمائشوں سے گزرنا پڑے گا اس کی شاید وہ اب تاب نہیں لاسکیں گے ،اس لئے یہ کہنا اورباربارکہنا کہ اب جمہوریت کے راستے میں کوئی دیوار کھڑی نہیں کی جاسکتی اس وقت تک اس کو صرف خوش فہمی سے ہی تعبیرکیاجائے گا ۔
اوراسی خوش فہمی میں مبتلا ہوکر سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کوملکی تاریخ میں پہلی بار آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے الزام میں تختہ مشق بنانے کا جوفیصلہ کیاگیا ہے اس کو صرف اسی صورت خوشنما قراردیاجاسکتا ہے جب ملک میں آئین وقانون کی عملداری کی روایات درخشاں ہوں اورجمہوری وسیاسی قوتوں نے عوام کیلئے کوئی ایسے اقدامات کئے ہوں جس کی وجہ سے عوام کی اکثریت آمریت کے مقابلے میں جمہوریت کواپنے لئے تریاق خیال کریں ،لیکن اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستانی جمہوریت نے عوام کے مسائل کا ابھی تک کوئی پائیدار حل دریافت نہیں کیا ،عوام نے پھربھی جب بھی موقع ملا اپناوزن جمہوریت ہی کے پلڑے میں ڈالا ہے لیکن بدقسمتی سے ہردفعہ ان کے حصے میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں آیا۔
لیکن اس وقت بحیثیت مجموعی ملک وقوم جس انتشار اوراندررونی وبیرونی سازشوں میں گھرا ہوا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ سیاسی وجمہوری قوتیں اپنے لئے غیرضروری مسائل کاپہاڑ کھڑا کرنے کی بجائے جمہوریت کوعوام کی ترقی وخوشحالی اورامید کی کرن بنادیں اوراپنی تمام ترتوانائیاں اس میں صرف کریں ،مشرف نے ماضی میں جوکچھ کیا بلاشبہ اکیلے نہیں کیا وہ تمام قوتیں جوماضی میں مشرف کی ڈکٹیٹرشپ میں اس کادست وبازوبنی رہیں وہ سابقہ پانچ سالہ دورجمہوریت میں بھی اپنا کھیل جمہوریت کے لبادے میں کھلیتی رہیں اورآج بھی ان کایہی طریقہ واردات ہے ،اس وقت ملکی کے ماضی ،حال اورمستقبل پرنظررکھنے والے ماہرین ،تجزیہ نگاراوردانا وبینا حلقوں کی یہی رائے ہے کہ مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے اورکوئی نیا پنڈورا باکس کھولنے کی بجائے اس کوملک سے بیرون ملک جانے کامحفوظ راستہ فراہم کردیا جائے تو اتنا ہی بہتر ہوگا۔
سابق صدربیرون ملک بیٹھ کرجومرضی اول فول کہتا رہے مکے لہرائے یاملک سے فرارکی کوئی بھی توجیحات پیش کرے موجودہ حکومت کواس سے کوئی سروکارنہیں ہوناچاہیے ،کیونکہ مشرف نے جوکچھ کرنا تھا کرچکا ،ملکی سیاست میں اس کاکوئی مقام اورمستقبل نہیں ۔کیا موجودہ بڑی سیاسی پارٹیوں مسلم لیگ (ن)اورپیپلزپارٹی کے لئے یہی بات کافی نہیں کہ وہ ڈکٹیٹرجوماضی میں نوازشریف اوربے نظیربھٹو کوملکی سیاست میں کوئی مقام دینے کیلئے تیارنہیں تھا ،اس کی ملک میں موجودگی اورصدارت کے دوران ہی یہی دونوں پارٹیاں نہ صرف اقتدارمیں آئیں بلکہ اپنی مدت بھی مکمل کی ۔
یہ الگ بات ہے کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ دارفانی سے کوچ کرگئیں لیکن اگروہ زندہ ہوتیں تو آج صورتحال اوربھی مختلف ہوتی بہرحال اگرمسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کی قیادت واقعی یہ چاہتی ہے کہ آئندہ کوئی آمریت ملک پرمسلط نہ ہوتو اس کاطریقہ کسی کوسزا دینے سے نہیں بلکہ اچھی جمہوری حکمرانی کے سوا کوئی تیسرا آپشن نہیں ۔عوام جمہوریت سے مطمئن ہوں گے ،ان کے گھروں میں چولہے روشن ہوں گے،ان کی اولادیں غربت ،بیروزگاری اوربدامنی کے ہاتھوں تنگ آکر معاشرے کا ناسوربننے کی جائے ترقی وخوشحالی کے راستے پر گامزن ہوں گی تو جب بھی کوئی ڈکٹیٹرجمہوریت پرشب خون مارے گا تو یہی عوام سیسہ پلائی دیواربن کر جمہوریت کوتاراج کرنے والوں کے سامنے سینہ سپر ہوجائے گی۔
بصورت دیگرآمریت کی آمد پرپہلے بھی مٹھائیاں تقسیم ہوتی رہیں ہیں آئندہ بھی یہی کچھ ہوگا۔جنرل مشرف کی غداری کے مقدمے میں پیشی کے لئے بادل نخواستہ عدالت جانے کے فوراً بعد جس طرح انہیں رولپنڈی میں آرمڈ فورسز ادارہ امراض قلب میں منتقل کردیا گیا اس پر ملکی اور غیر ملکی نشریاتی اداروں کے طرف سے قیاس آرئیاں زور پکڑ گئیں ہیں اور طرح طرح کے تبصرے اور جائزے بھی پیش کئے جا رہے ہیں ، اس بارے میں بی بی سی کے خصوصی نامہ نگار نے جو رپورٹ پیش ہے وہ کافی دلچسپ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ
پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف جمعرات کو غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کے لیے جب چک شہزاد میں اپنے فارم ہاس سے نکلے تو وہ بظاہر وہ اس طرح ہشاش بشاش نہیں لگ رہے تھے جس طرح وہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل یا اعلی عدلیہ کے ججوں کو حبس بیجا میں رکھنے کے مقدمات میں عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں۔
سابق صدر کی سکیورٹی پر مامور ٹیم میں شامل ایک اہل کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ عدالت جانے کے لیے نکلے ہی تھے کہ راستے میں ہی وائرلیس پر پیغامات آنے شروع ہوگئے کہ راول ڈیم چوک اور پھر کشمیر چوک میں دھماکہ خیز مواد رکھا گیا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔اسلام آباد پولیس کے سربراہ سابق صدر پرویز مشرف کو بلٹ پروف گاڑی میں عدالت میں لے کر آ رہے تھے اور ان کی روانگی سے پہلے چک شہزاد اور پھر مری روڈ کے دونوں اطراف کی ٹریفک کو روک دیا گیا تھا۔
اہل کار کے مطابق روانگی سے پہلے بم ڈسپوزل سکواڈ نے روٹ کلیئر کر کے دیا تھا۔اہل کار نے بتایا عدالت جاتے ہوئے اسلام آباد کلب کے پاس اچانک وائرلیس پر پیغام نشر ہوا کہ ان گاڑیوں کا رخ راولپنڈی کی طرف موڑ دیا جائے جس کے بعد پولیس کی بیس کے قریب گاڑیاں پرویز مشرف کو لے کر آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچیں جہاں پرویز مشرف کو داخل کروا دیا گیا۔
اہل کار کے مطابق اس سے قبل جمعرات کو پرویز مشرف تین مرتبہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے فارم ہاس سے نکلے تاہم پھر انھوں نے عین اس وقت جانے کا ارادہ ملتوی کردیا جب وہ گاڑی میں سوار ہو رہے تھے۔واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کو آگاہ کر چکی ہے کہ اس کے پاس بلٹ پروف گاڑی تو موجود ہے لیکن دھماکہ خیز مواد سے بچا کے لیے گاڑی موجود نہیں ہے۔
اہل کار کے مطابق سابق فوجی صدر کی سکیورٹی اب اسلام آباد پولیس کی ذمہ داری نہیں رہی کیونکہ پرویز مشرف اسلام آباد میں درج ہونے والے کسی بھی مقدمے میں پولیس کو مطلوب نہیں ہیں۔ اہل کار کے مطابق اب راولپنڈی پولیس پرویز مشرف کی سکیورٹی کی ذمہ دار ہے۔اے ایف آئی سی میں پرویز مشرف کے داخلے کے بعد اس ہسپتال میں عام آدمی کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے آنے والے ایک سے زائد افراد کو بھی ہسپتال سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ادھر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران ان کے وکلا اس مقدمے کی کارروائی کو ملتوی کروانے کی کوششوں میں ہی مصروف دکھائی دیے۔مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے دھمکی دی ہے کہ ان کی ٹیم کے سربراہ شریف الدین پیرزادہ کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے کیونکہ انھوں نے ہمیشہ فوجی آمر کا ساتھ دیا ہے۔
اس کے بعد ان کی ٹیم کے ایک اور رکن انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ رات گئے نامعلوم افراد ان کے گھر کی گھنٹیاں بجاتے رہے اور انھوں نے ایک لمحہ بھی سونے نہیں دیا۔انھوں نے کہا کہ اس صورت حال میں وہ اس مقدمے کی پیروی نہیں کرسکتے اور ان سمیت پرویز مشرف کے وکلا نیکچھ دیر کے لیے عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا تاہم کچھ دیر کے بعد وہ عدالت میں واپس آ گئے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈی آئی جی سکیورٹی پرویز مشرف کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرنے سے پہلے ہی سابق فوجی صدر کی لیگل ٹیم کو معلوم ہوگیا تھا کہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔وسری طرف وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کو بیرون ملک بھیجنے کے بارے میں ابھی سوچا بھی نہیں ،عدالت ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرے گی ۔
وہ قوم کے مجرم ہیں ،سیاست دان ہمیشہ عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں ،قوم نے دیکھ لیا ہے کہ سابق آمر کتنے پانی میں ہے۔ جمعرات کو وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے بارے میں ہمارے پاس مکمل اطلاعات موجود ہیں۔ہمارا ان سے کوئی ذاتی تنازعہ نہیں ۔اگر ماضی میں کوئی تکلیف پہنچی ہے ہم نے معاف کر دیا ہے ۔
وہ قوم کے مجرم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاست دانوں نے ہمیشہ بہادری دکھائی اور جب بھی عدالت نے طلب کیا وہ گئے اور کبھی ہسپتال کا راستہ اختیار نہیں کیا حتیٰ کہ بیماری میں بھی سیاستدان عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم دیکھ رہی ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہیں ۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ عدالتوں کا سامنا کریں گے۔
انہیں قوم سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا چاہیے اور بھاگنا نہیں چاہیے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اگر واقعی پرویز مشرف کی طبیعت خراب ہے تووہ عدالت کو بتائیں ۔حکومت نے انہیں باہر بھیجنے کا سوچا بھی نہیں۔سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف عین عدالت میں پیشی کے موقع تین مرتبہ دھماکہ خیز مواد اور ایک مرتبہ دال اور انڈوں کی برآمدگی،دو مشتبہ افراد کی گرفتاری اور پھر خصوصی عدالت کی بجائے دل کی عارضے میں مبتلا ہو کر اے ایف آئی سی میں منتقلی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے جبکہ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر کی بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے حکومت کے ساتھ معاملات طے پا گئے تھے تاہم وزیر اعظم نواز شریف اس بات پر اڑ گئے کہ سابق صدر پر ایک مرتبہ فرد جرم عائد کر دی جائے پھر اس کے بعد بے شک باہر بھیج دیا جائے تاہم سابق صدر بھی غداری کیس میں عدالت میں پیش نہ ہونے پر بضد ہو گئے ۔
باخبر ذرائع کے مطابق اے ایف آئی سی میں جمعرات کی صبح سے ہی آرمی جوانوں کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی تھی جبکہ ڈی آئی جی سیکورٹی اسلام آباد کی سربراہی میں چک شہزاد فارم ہاوٴس سے خصوصی عدالت تک لگائے گئے روٹ اور سیکورٹی انتظامات کی غیر معمولی میڈیاکوریج بھی توجہ ہٹانے کے لئے کرائی گئی ۔سابق صدر کی عدالت میں پیشی کا وقت خصوصی عدالت نے کھانے کے وقفے کے بعد رکھا تھا تاہم اس سے پہلے ہی صورتحال تبدیل ہوگئی یا کر دی گئی ؟ یہ بھی ایک سوال ہے ۔
ذرائع کے مطابق سابق صدر کو خصوصی عدالت لانے کے وقت بھی ڈی آئی جی سیکورٹی اسلام آباد جان محمد روٹ پر موجود ہونے کی بجائے خصوصی عدالت کے باہر موجود تھے جس کے کچھ ہی دیر بعد یہ بات سامنے آئی کہ عدالت آتے ہوئے راستہ میں سابق صدر کو دل کا دورہ پڑ گیا ہے جس کے باعث انہیں اے ایف آئی سی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سابق صدر کے وکلاء کے پینل کی جانب سے ہائی کورٹ اور خصوصی عدالتوں میں دائر مختلف عدالتوں کو مسترد کیے جانے کے بعد بدھ کی رات ہی اس بات کا فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ اب کسی اور آپشن پر غور کرنا ہوگا۔
اس حوالے سے سابق صدر نے اپنے قریبی ساتھیوں سے مختلف آپشنز پر صلاح مشورے شروع کر دیئے تھے۔دوسری جانب ماہرین صحت کے مطابق ایسے مریضوں کی منتقلی سے قبل ان کے لئے ابتدائی طبی امداد ضروری ہے ،تاہم جنرل مشرف کو حیرت انگیز طور پر بغیر کسی ابتدائی طبی امداد کے اسلام آباد سے راولپندی میں منتقل کر دیا گیا ۔ سابق صدر اور ان کے ساتھیوں نے پہلے ہی نہ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بلکہ امریکہ ، برطانیہ اور اقوام متحدہ سے بھی رابطہ کر رکھا ہے تاکہ مناسب وقت پر ان رابطوں کو استعمال کیا جاسکے جبکہ اس حوالہ سے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل کے دورہ بھی بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔
اگرچہ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سعودی وزیرخارجہ کے دورہ کا موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں اور یہ دورہ وزیراعظم نوازشریف کے ستمبر میں دورہ امریکہ کے دوران طے پایا تھا تاہم مبصرین اسے پھر بھی مشرف کیس کے حوالہ سے خصوصی اہمیت دے رہے ہیں اور وہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا جس طرح پہلے مشرف نے نوازشریف کو سمجھوتہ کرکے سعودی عرب بھیجا تھا تو اب اس معاہدہ کا بدلہ اتارنے کا وقت تو نہیں آگیا؟ تاہم ان تمام سوالوں کے جوابات وقت ہی دے گااور وہ وقت زیادہ دور نہیں۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-04

(8) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     رحمت اللہ شباب

رحمت اللہ شباب پشاور میں اُردو پوائنٹ کے نمائندہ خصوصی ہیں۔

رحمت اللہ شباب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان