بند کریں
منگل فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پیپلز پارٹی سینٹ کیلئے سرگرم ”بیانیہ جنگ“ کا حکومت کو فائدہ
پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی بیشتر سیاسی جماعتوں نے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کے لئے ہوم ورک مکمل کرلیا ہے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی تمام سیاسی جماعتوں پر بازی لے گئی ہے
نواز رضا:
سینیٹ کے انتخابات کا عمل آج سے شروع ہو چکا ہے وفاقی دار الحکومت اسالام آباد ،فاٹا ،پنجاب ،سندھ ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سینیٹ کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی بیشتر سیاسی جماعتوں نے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کے لئے ہوم ورک مکمل کرلیا ہے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی تمام سیاسی جماعتوں پر بازی لے گئی ہے۔
اس نے سندھ سے 7،پنجاب سے ایک ، خیبر پختونخوا سے 3امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دئیے ہیں جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بدھ کو سینیٹ کے لئے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے، وزیراعظم محمد نواز شریف نے پارلیمانی بورڈ کے ارکان سے مشاورت کے بعد پنجاب سے راجہ محمد ظفر الحق، پروفیسر ساجد میر (ٹیکنوکریٹ) ، مشاہداللہ خان ، نہال ہاشمی، چوہدری تنویر ، ڈاکٹر آصف کرمانی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم اعوان، ڈاکٹر غوث نیازی (جنرل) اور بیگم نجمہ حمید کرن ڈار ( خواتین )۔
وفاقی دارلحکومت اسلام آباد سے اقبال ظفر جھگڑا ( جنرل) ، ڈاکٹر راحیلہ مگسی(خواتین)۔ خیبر پختون خواہ سے لیفٹیننٹ جنرل صلاح الدین ترمذی ( جنرل) ، پیر صابر شاہ (کورننگ امید وار)۔ سند ھ سے سید مظفر شاہ (جنرل)،بلوچستان سے سردار یعقوب ناصر، امیر افضل خان مندوخیل، میر رحمت اللہ زہری (جنرل )، شہباز درانی(ٹیکنوکریٹ) اعجاز خان سواتی( کورنگ امیدوار)دنیش کمار(اقلیتی) کلثوم پروین( خواتین)ِ سردارخان ناصر، امیر عرفان کرد(کورنگ امیدوار)،یہ بات قابل ذکر ہے کہ پرانے ریٹائرڈ ہونے والے مسلم لیگی سینیٹروں میں سے صرف سید ظفرعلی شاہ(راولپنڈی) کو ڈراپ کیا گیا ہے جن کی جنرل پرویز مشرف کی آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے میں بے پناہ خدمات ہیں۔
ممتاز مسلم لیگی رہنماء چوہدری تنویرخان جنہوں نے پارٹی ٹکٹ کے لئے درخواست ہی نہیں دی لیکن پارٹی کے صدر نواز شریف نے انہیں سینیٹ کی سیٹ پیش کر کے ان کی پارٹی کے لئے خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ جبکہ پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے والوں میں سینیٹر کلثوم پروین بھی شامل ہیں جو اس وقت بی این پی عوامی کی نمائندگی کررہی ہیں لیکن ان کو بھی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے نواز دیا گیا۔
جمعیت علما ء اسلام (ف)،تحریک انصاف پاکستان مسلم لیگ(ق) ،قومی وطن پارٹی ،اے این پی ،نیشنل پارٹی ،پختونخوا ملی پارٹی ،جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں نے بھی اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ”منڈی لگ گئی ہے اور خیبر پختونخوا میں ایک ووٹ کا دو کروڑ روپے مول لگا ہے جب کہ بلوچستان میں ایک ووٹ کا معاوضہ 4سے 5کروڑتک پہنچ گیا ہے۔

رواں ہفتے میں سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی تحرک انصاف میں ”پناہ “ لینے کے ساتھ ملکی سیاست نے اچانک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پنجاب کی گورنری کے لئے برطانیہ کی شہریت چھوڑنے والے چوہدری سرور کو یہ مقبولیت راس نہ آئی اور 13ماہ بعد ہی ان کو گورنر ہاوٴس بھی خالی کرنا پڑ گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے خود”بے اختیار گورنری “ چھوڑی ہے لیکن ہماری اطلاع کے مطابق تحریک انصاف سے ان کے رابطوں کی تصدیق کے بعد انہیں استعفا دینے کے لئے کہا گیا۔
چوہدری محمد سرور نے استعفاٰ دینے کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت کی تر دید کی تھی لیکن ان کے بیان کی سیاہی خشک بھی نہ ہونے پائی تھی انہوں نے تحرک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ بہت جلد انہیں تحریک انصاف میں معلوم ہو جائے گا کہ عمران خان پارٹی میں کسی دوسرے لیڈر کی مداخلت برداشت نہیں کرتے۔ تین چار روز قبل تحریک انصاف اور اور ایم کیو ایم کے درمیان شروع ہونے والی لڑائی میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے تحریک انصاف کی سیکریٹری اطلاعات شیریں مزاری اور دھرنے میں شرکت کرنے والی خواتین کے بارے میں دئیے گئے ریمارکس پر معافی مانگنے پر شدت قدرے کم ہو گئی ہے۔
اس لڑائی میں اس حد تک شدت اختیار کی کہ حدت قومی حلقوں میں محسوس کی جانے لگی۔ لیکن الطاف حسین نے اچانک معذرت کر کے جہاں معاملہ کو ختم کرنے میں پہل کی وہاں انہوں نے ان اداروں سے بھی معافی مانگ لی ہے جنہیں ان کی تقریر کی وجہ سے ناراضی کا جواز فراہم کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں انہوں نے چند خطابات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض افراد کے بارے میں کچھ سخت جملے ادا کئے تھے جن سے ان اداروں اور ان کے بعض حکام کی دل آزاری ہوئی جس پر وہ ان سے معذرت خواہ ہیں۔
الطاف حسین نے کہا کہ ان کا مقصد کسی کی بھی دل آزاری کرنا نہیں تھا پھر بھی ان کی بیان کردہ باتوں سے جس کسی بھی ادارے کے کسی بھی فرد کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔ وہ قومی اداروں کا کل بھی احترام کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔
تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے درمیان ”الفاظ کی جنگ“ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے فی الحال کچھ کہنا قبل ا زوقت ہے۔
بہرحال دونوں جماعتوں کی قیادت نے جو پو زیشن لے رکھی ہے اس سے پیچھے ہٹنے کے باوجود کشیدگی میں کمی کا امکان نہیں اس لڑائی کا اور کسی کو فائدہ ہو یا نہ ہو لیکن اس سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو پہنچا ہے۔ کیونکہ اس قبل عمران خان کی توپوں کا رخ صبح شام پاکستان مسلم لیگ(ن) کی طرف ہوتا تھا۔ اب وہ اپنی تمام تر توانائی الطاف حسین کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔
عمران خان کی الطاف حسین سے یہ پہلی لڑائی نہیں ہے وہ اس سے قبل بھی ایم کیو ایم کے ساتھ وہ زور آزمائی کرچکے ہیں پھر اچانک ” نادیدہ قوتین“ ان کے درمیان صلح کردیتی ہیں۔یہ اس ”خفیہ صلع“ کاہی نتیجہ تھا کہ عمران خان نے نہ صرف کراچی میں دوبڑے جلسے منعقد کیے بلکہ اس کی رونق بڑھانے کے لئے ایم کیو ایم نے افرادی قوت فراہم کی۔تحریک انصاف اور ایم کیوایم دونوں کراچی کی ”بادشاھت“ پر کلیم کرتے ہیں۔
ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے جوبات کہی سو کہی لیکن پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے اس کا جس انداز میں جواب دیا اس کے کو احاطہ تحریر میں لانا مناسب نہیں۔ عمران خان وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف لندن کی عدالت میں سانحہ بلدیہ ٹاوٴن کا مقدمہ درج کرانے کا اعلان کیا ہے وہ پہلے بھی اس نوعیت کے اعلانات کرتے رہے ہیں لیکن ان اعلانات پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی،ایم کیوایم کے رہنماوٴں حیدر عباس رضوی اور فاروق ستار نے کہا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح کراچی کا امن برباد کیا وہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے دورے کے موقع پر کراچی کو آگ میں جھونکنا چاہتے تھے۔
ایم کیو ایم کے رہنما بابر خان غوری نے امریکی سفیر رچرڈ اولسن کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز پریس کانفرنس میں عمران خان کی جانب سے الطاف حسین اور ایم کیو ایم پر جو الزامات عائد کیے گئے وہ من گھڑت ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے بھی ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف برطانوی ہائی کمیشن کو خط لکھا ہے۔شیریں مزاری کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے الطاف حسین برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان میں تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ نے لندن میں سابق وفاقی وزیر رحمان ملک اور الطاف حسین کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سندھ حکومت میں ایک بار پھر شمولیت کی تصدیق کر دی۔ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق اس مرتبہ دونوں جماعتوں کے مابین تحریری معاہدہ ہو گا۔ جس میں دونوں جانب سے دو دو ارکان شامل ہوں گے۔دونوں جماعتیں سینیٹ کے انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر رہی ہیں۔
جس کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کو سات اور ایم کیو یم کو چار نشستیں ملیں گی۔ پیپلز پارٹی کے ایوان بالا کے ریٹائر ہونے والے 19 ارکان میں سے صرف 4 ارکان دوبارہ پارٹی ٹکٹ حاصل کرسکے ہیں۔ چیئرمین سینٹ نیئر بخاری نے بھی ٹکٹ حصول کے لئے درخواست نہیں دی۔ پیپلز پارٹی نے سندھ ‘ پنجاب اور خیبرپختونخوا سے جن 13 امیدواروں کا اعلان کیا ہے ان میں 9 نئے امیدوار ہیں پی پی پی نے بلوچستان سے اپنے امیدواروں کا فی الحال اعلان نہیں کیا۔
11مارچ کو پیپلز پارٹی کے جو سینیٹر ریٹائر ہورہے ہیں ان میں بلوچستان سے یوسف بادینی اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ صابر بلوچ‘ بلوچستان سے خاتون کی نشست پر منتخب ثریا امیر الدین‘ خیبرپختونخوا سے ریٹائر ہونیوالوں میں گلزار احمد خان‘ سردار علی خان اور وقار احمد خان کے علاوہ خواتین کی نشست سے فرحت عباس اور ٹیکنوکریٹ کی نشست پر عرفان خان شامل ہیں۔
پنجاب سے پیپلز پارٹی کے ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں جہانگیر بدر‘ خواتین کی نشست سے صغری امام اور ٹیکنو کریٹ پر محمد کاظم خان شامل ہیں۔ سندھ سے ریٹائر ہونے والوں میں ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو‘ گل محمد لاٹ‘ اسلام الدین شیخ‘ مولا بخش چانڈیو‘ سلیم مانڈوی والا‘ خواتین کی نشست پر الماس پروین اور ٹیکنو کریٹ کی نشست پر منتخب ہونے والے رحمن ملک اور فاروق ایچ نائیک شامل ہیں۔
ریٹائر ہونے والوں میں وفاقی دارالحکومت کی نشست سے چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری اور خواتین کی نشست پر مسز سعیدہ اقبال بھی شامل ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے اراکین صوبائی اسمبلی کی منڈی لگنے کے پیش نظر امیدواروں کی بلا مقابلہ کامیابی کی حکمت عملی کے تحت دیگر جماعتوں سے بھی رابطہ کیا ہے۔اصولی طور پر اس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کے حجم کے مطابق امیدواروں کے بلامقابلہ کامیابی کو یقینی بنایا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-13

(0) ووٹ وصول ہوئے