بند کریں
اتوار فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستانی کروم ویل۔۔!!
انداز ہ کیجیے ایک شخص اپنے مریدین کو پارلیمنٹ ہاوس کے گھیراو کا حکم دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ کوئی بھی شخص اندر یا باہر نہ جا پائے۔۔ اور اگر کوئی باہر نکلنے کی کوشش کرے تو اسے تمہاری لاشوں سے گزرنا ہو گا۔۔
مصنف : اجمل جامی
انداز ہ کیجیے ایک شخص اپنے مریدین کو پارلیمنٹ ہاوس کے گھیراو کا حکم دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ کوئی بھی شخص اندر یا باہر نہ جا پائے۔۔ اور اگر کوئی باہر نکلنے کی کوشش کرے تو اسے تمہاری لاشوں سے گزرنا ہو گا۔۔ ارے صاحب۔۔تمہاری کیوں۔۔؟ ہماری کیوں نہیں۔۔؟ آپ کی لاش پر سے کیوں نہیں۔۔؟ یہ وہی شخص ہے جو ساری رات شہادت پروف ائر کنڈیشنڈ کنٹینر میں گزارتا ہے۔
۔ چند لمحوں کے لیے باہر آتا ہے اور مریدین کو ورغلانے کے بعد دوبارہ ٹھنڈے کنٹینر میں جا گھستا ہے۔۔ کارکن سڑکوں پر دندناتے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاوس کا گھیرا و کرتے ہیں۔۔ اور یہ شخص کنٹینر میں بیٹھ کر کسی نئی چال کا جال بننے میں مصروف ہو جاتا ہے۔۔ قبلہ اگر خود آگے بڑھ کر ہمرا ہ مریدین پارلیمنٹ کا گھیراو کرتے تو میں یقینا کسی حد تک انہیں داد کا مستحق ضرور قرار دیتا۔
۔ لیکن آپ جناب نے کنٹینر میں پناہ لینے میں ہی عافیت جانی اور اس پر اندر بیٹھ کر سنتے رہے " ہمت اور بہادری طاہر القادری ۔۔ "
قبلہ نے اس سب کو انقلاب کا نام دے رکھا ہے۔ یہ وہی طاہر القادری ہیں جن کے جملہ اوصاف پر لکھنے کے لیے ہزاروں اوراق درکار ہیں۔ یہ کمال زبان کاہے تو کیا ہم کسی بس میں سوار منجن بیچنے والے کو یا صدر کراچی اور آزادی چوک لاہور میں پاکستان کے " سب سے بڑے مسئلے کا حل بیچنے والے " کو اپنا حکمران بنالیں ۔
۔؟ اسے بھی مجمع سنتا ہے سر دھنتا ہے اور اس کی سن کر اپنی جیب ڈھیلی بھی کرتا ہے ۔ ۔ اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جیب کٹ چکی تو کیا ہم اپنی قومی جیب کسی جیب کترے کو پیش کردیں ۔؟ فن خطابت کے ماہر یہ صاحب شاید یہ بھول گئے ہیں کہ ان کو نہ صرف آزادی اظہار رائے ہے بلکہ یہ مارچ کرتے کرتے پارلیمنٹ ہاوس تک جا پہنچے ہیں اور انہیں کسی نے نہیں روکا۔
۔ جس نظام کو یہ مسترد کر رہے ہیں۔۔ یہ اسی نظام کے ثمرات ہیں کہ قبلہ لاہور سے ہوتے ہوئے وفاق میں جا پہنچتے ہیں، شاہراہ سہروردی پر کئی دن نظام مفلوج کیے رکھتے ہیں۔۔ ریڈ زون کراس کرتے ہیں اور پارلیمنٹ ہاوس تک جا پہنچتے ہیں۔۔ یہ وہ صاحب ہیں جو جب چاہتے ہیں گھنٹوں خطاب فرماتے ہیں۔۔ جسے تمام ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر کیا جاتاہے۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کیا اعلی حضرت یہ سب کسی ڈکٹیٹر کے دور میں کر سکتے تھے۔
۔؟ قبلہ کا انقلاب تب کہاں تھا جب پاکستان پر مشرف حکمران تھا۔۔؟ ایک آمر کے دور میں انہوں نے نہ صرف انتخابات میں حصہ لیا بلکہ اسمبلی تک رسائی بھی حاصل کی۔۔ مستعفی ہوئے اور وطن کو خیر باد کہہ دیا۔۔ کاش یہ حضرت کسی ایسے دور میں بھی انقلاب کی بات کرتے اور شہادت پروف کنٹینر کے ذریعے دھرنا دیتے۔۔
سانحہ ماڈل ٹاون یقینا حکومتی نا اہلی اور بربریت کی ایک بد ترین مثال ہے۔
۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔۔ صرف مذمت ہی نہیں بلکہ اس معاملے پر حکومت کو سخت ترین اقدامات اٹھانا چاہیے تھے۔۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔۔ بظاہر قبلہ قادری کا حالیہ انقلاب اسی سانحے سے شروع ہوتا ہے۔۔ لیکن حد ہے کہ قبلہ ایک بار بھی ان شہدا کی قبرو ں پر نہ گئے۔۔ بلکہ آپ نے اپنا اکثر وقت ٹی وی کیمروں کو عنایت کیا۔۔ آپ ایک دن میں آٹھ آٹھ بار بھی ظہور پذیر ہوئے۔
۔ اور ہر بار آپ کے خطاب کا دورانیہ کم از کم ایک گھنٹہ رہا۔۔ اس انقلاب کے مزید خدوخال جانچنے کے لیے فقط یہی دلیل کافی ہے کہ چوہدری برادران آپ کے مکمل ہمنوا ہیں اور شیخ رشید اس انقلاب کے نصف ہمنوا ان کا نصف "آزاد "ہے ۔۔
قبلہ قادری کا یہ خیال ہے کہ پاکستان میں موجودہ جمہوری نظام اور پارلیمنٹ صحیح کام نہیں کررہے ،، اس لئے اب ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ان کے دھرنے کے شرکاء بطور عوامی پارلیمنٹ کریں گے۔
۔ یاد رہے کہ اس پارلیمنٹ میں موجود تمام افراد قبلہ کے مریدین ہیں۔۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں توسولہ سو انچاس سے تریپن کے دوران برطانوی فوجی ولیم کروم ویل نے ملک میں انقلابی نعرہ لگایا۔۔اور اقتدار پرقبضہ کرکے اپنی مرضی کے اراکین پر مشتمل پارلیمنٹ قائم کی جسے تاریخ رمپ پارلیمنٹ کے نام سے یاد کرتی ہے ۔۔ کروم ویل اس پارلیمنٹ کو صرف چار سال تک چلاسکا ۔
۔اوراس دوران اس نے برطانیہ کے بادشاہ چارلس اول کے ڈیتھ ورانٹ پر بھی دستخط کئے۔۔رمپ پارلیمنٹ کے اس بانی کی طبعی موت سولہ سو اٹھاون میں ہوئی۔ اور اس کے بعد ملک میں ایک بار پھر سے بادشاہت بحال ہوئی۔۔ اور پھر تاریخ شاہد ہے کہ کس طرح کروم ویل کی قبر کھود کر اس کی لاش باہر نکالی گئی۔۔ اسے پھانسی دی گئی۔۔ یہی نہیں۔۔ بلکہ اس کے بعد خود ساختہ عوامی پارلیمنٹ کے بانی کا سر کاٹ کر اسے کیچڑ میں پھینک دیا گیا۔
۔ برطانوی سرکار نے فقط انہی اقدامات پر ہی اکتفا نہ کیا۔۔ بلکہ کروم ویل کے چار سالہ اقتدار کو ملکی تاریخ سے ہی خارج کر دیا۔۔ کروم ویل کی عوالی پارلیمنٹ کا انجام تو تاریخ کے صفحات میں درج ہے مگر قادری صاحب کی عوامی پارلیمنٹ کا انجام کیا ہوگا۔۔ اس کے لیے شاید تھوڑے صبر کی ضرورت ہے۔۔
پس تحریر: گزارش ہے کہ حکومت ابھی تک تو دونوں دھڑوں کو کسی سیاسی حل تک لانے میں ناکام رہی ہے۔۔حالات کس کو "نواز" دیں گے۔۔فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے۔۔ لیکن اس بات کا دھڑکا ہے کہ حکمران "شریف" ہی رہے گا۔ کسی "ایک" کی قربانی لازم ٹھہر چکی ہے۔۔ کیونکہ قبلہ قادری اور خان صاحب کو خالی ہاتھ واپس بھیجنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-21

(3) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     اجمل جامی

اجمل جامی بحثیت اینکر اور نمائندہ خصوصی دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں

اجمل جامی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان