بند کریں
بدھ جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نواز شریف اور آصف زرداری کی سیاست!!!
جمہوریت کے مخالفین کو سخت پیغام دے دیا۔۔۔۔ اس دوران تحریک انصاف پس منظر میں چلی گئی اور تنہا ہو گئی۔ اسلام آباد میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کے اتحاد کا مظاہرہ قابل دید ہے
شہزاد چغتائی:
چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر وزیراعظم محمد نوازشریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن آصف علی زرداری نے تدبر اور فراست کا مظاہرہ کر کے جمہوریت کے مخالفین کو سخت پیغام دیدیا۔ وزیراعظم ایک بار پھر ڈرائیونگ سیٹ پر آ گئے جس کے بعد تمام سیاسی جماعتیں زیراعظم کی پشت پر کھڑی ہوگئیں۔ نوازشریف نے بڑے پن کا تاریخی اور ناقابل یقین مظاہرہ کر کے سیاسی قوتوں کے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماء کے روپ میں سامنے آصف علی زرداری کی کامیاب سیاست کے بعد انہوں نے بھی دھماکہ کر دیا اور ماسٹر اسٹروک لگا دیا۔
اس دوران تحریک انصاف پس منظر میں چلی گئی اور تنہا ہو گئی۔ اسلام آباد میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کے اتحاد کا مظاہرہ قابل دید ہے جس پر غیر جمہوری ایوانوں پر لرزہ طاری ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے ظہرانہ سے قبل کہا جارہا تھا کہ آج ان کے تدبر کا امتحان ہے۔ وزیراعظم اس امتحان میں کامیاب رہے اور انہوں نے نہ صرف مستقبل کی حکمت عملی واضح کردی اور واضح کردیاکہ پاکستان کی سیاسی قوتوں کا اتحاد طویل عرصے تک چلے گا اور سیاسی جماعتیں مل کر آئندہ فیصلے کریں گی۔
چیئرمین سینیٹ کیلئے پیپلز پارٹی کے امیدرار کی حمایت کرکے وزیراعظم نے نہ صرف سب کو حیران کردیا بلکہ ان کے ایک اعلان نے چھوٹی سیاسی جماعتوں کو زیرو کردیا اور ملک میں دو جماعتی نظام ابھر کر سامنے آگیا۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر اپنی اہمیت واضح کردی ہے چھوٹی جماعتیں مفادات کیلئے پیچھے ہیں۔ جب آصف علی زرداری کی جیب 53ووٹوں سے گرم تھی حکومت کے پاس دو راستے تھے ایک راستہ پیپلز پارٹی کی حمایت کا تھا دوسری جانب سیاسی ہزیمت منہ پھاڑے کھڑی تھی۔
اس طرح وزیراعظم نے جمہوریت کے مفاد میں بہترین فیصلہ کیا۔ آصف علی زرداری کی کامیاب پیش رفت کے بعد وزیراعظم محمد نوازشریف نے ان سے زیادہ ذہانت کا مظاہرہ کیا پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے سب سے پہلے متفقہ امیدوار لانے کی پیشکش کی تھی وزیراعظم نواز شریف کے فیصلے نے جمہوری قوتوں کو مزید نزدیک کردیا۔ آصف علی زرداری کی ایک جیت میں کئی کامیابیاں پنہاں ہیں۔
وہ ایک ایسے موقع پر سرگرم ہوئے جب سندھ پر گورنر راج کے بادل منڈلارہے تھے اور کراچی میں بے رحمانہ آپریشن کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ اس موقع پر آصف علی زرداری نے تمام سیاسی قوتوں کو متحد کردیا اتفاق رائے اور مفاہمت کی اس سیاست کی وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی تائید کردی یوں سیاستدانوں کے ایک ہونے سے ان کی طاقت بڑھ گئی۔ پھر نوازشریف کا یہ کریڈٹ ہے کہ انہوں نے آصف زرداری کی کامیابیوں کے لطف سے جیت چرالی اور پیپلز پارٹی کا سب کچھ لے اڑے۔
تمام سیاسی جماعتوں نے محمدنوازشریف کو قائد تسلیم کرلیا ہے اور جمہوریت کے بڑے بڑے چمپئن وزیراعظم محمدنواز شریف کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں ان کی محمد نوازشریف سے صرف اتنی استدعا ہے کہ براہ کرم ہمارا خیال رکھیں اس میں شک نہیں کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے سیاسی قوت کا یہ سب سے بڑا مظاہرہ ہے۔ عمران خان کے دھرنے کے موقع پر تمام پارلیمانی قوتیں خوف کے باعث اکٹھا ہوگئی تھیں وہ عمران خان سے سراسیم تھیں۔
لیکن منگل کو وزیراعظم محمد نوازشریف قوم کے سیاسی قائدکے طور پر ابھر کر سامنے آئے اور انہوں نے خود کو منوالیاہے۔
سینیٹ میں الیکشن سے قبل کم از کم سندھ میں سیاسی جماعتوں پر برا وقت تھا حتیٰ کہ وزیراعظم محمد نوازشریف بھی حکومت سندھ کی کارکردگی پر عدم اعتماد کرچکے تھے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف راحیل شریف بھی برس پڑے تھے جس کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنی جماعتوں کو آنے والے طوفانوں سے بچانے اور دباؤ کا مقابلہ کرنے کیلئے حکمت عملی وضع کی تھی ان کی خوش قسمتی تھی کہ اس دوران سینیٹ کے الیکشن آگئے اور آصف علی زرداری کو وزیراعظم کی خوشنودی حاصل کرنے کا موقع مل گیا اس کے ساتھ توقع کی جارہی تھی کہ وزیراعظم سندھ کی سیاسی جماعتوں کی پشت پر کھڑے ہوں گے۔
اس دوران ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہم آہنگی بڑھی ہے۔ 17سال کے بعد ایم کیو ایم اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے درمیان رابطہ ہوا ہے اور وفاقی وزیر سعد رفیق سے ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات ہوئی۔نوازشریف نے آصف علی زرداری کی حمایت کرکے اپنی اتحادی جماعت جے یو آئی کی پوزیشن خراب کردی جوکہ نوازشریف کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی کے ساتھ جاملی تھی۔
سینیٹ الیکشن ایم کیو ایم کے لئے رحمت بن گئے۔ چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر ایم کیو ایم کی سیاست اپنے دفاع پر مرکوز رہی۔ ایم کیو ایم کی عقابی نگاہیں ڈپٹی چیئرمین کی نشست سے زیادہ کراچی آپریشن رکوانے پر مرکوز رہیں۔ سینیٹ کے انتخابات سیاسی جماعتوں کیلئے رحمت ثابت ہوئے سیاستدانوں کے درمیان اس موقع پر نہ صرف تاریخی اتحاد کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا بلکہ وہ ایک بار پھر منظر پر چھاگئے۔

رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کی اندرونی کہانی بھی منظرعام پر آگئی ہے جس کے مطابق رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کا فیصلہ اچانک نہیں ہوا۔ دونوں جماعتوں میں پہلے سے مفاہمت موجود تھی۔ رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کی تجویز سب سے پہلے مسلم لیگ ن دی تھی جبکہ پیپلز پارٹی رحمن ملک کو چیئرمین بنانا چاہتی تھی لیکن مسلم لیگ ن نے سفارش کی تھی کہ پیپلز پارٹی رضا ربانی کو قبول کرلے تو چیئرمین کا انتخاب متفقہ ہوسکتا ہے۔
رضا ربانی کیلئے مسلم لیگ بہت زیادہ نرم گوشہ رکھتی ہے۔ بعض حلقے یہاں تک کہتے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی میں نوازشریف کے آدمی ہیں بہرحال رضا ربانی ایک خوبصورت انتخاب ہیں اور وہ سب کیلئے پسندیدہ ہیں مسلم لیگ ن کی کامیابی یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی میں اپنے پسندیدہ رہنماء کو چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر لے آئی اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔
اس طرح وزیراعظم محمد نوازشریف نے پیپلز پارٹی سے سینیٹ کی چیئرمین شپ بھی چھین لی اور پیپلز پارٹی جیت کر بھی ہارگئی۔ سیاسی حلقے بھی رضا ربانی کی نامزدگی پر خوش ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ یہ آصف علی زرداری کی نہیں وزیراعظم محمد نوازشریف کی کامیابی ہے جنہوں نے چیئرمین شپ کے الیکشن کیلئے بچھائی گئی شطرنج پر سیاست کے سائنسدان آصف علی زرداری کو مات دیدی۔ سیاسی پنڈت یہ بھی کہتے ہیں کہ سندھ میں گورنر راج کے نفاذ میں صرف وزیراعظم محمد نوازشریف حائل ہیں اور اس لئے مفاہمت کی سیاست پر مجبورہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-13

(0) ووٹ وصول ہوئے