بند کریں
اتوار فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نواز شریف نے سندھ کے عوام کے دل موہ لئے
وزیرا عظم کا قدم بڑھاؤ نواز شریف کے نعرے سننے سے انکار پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری صحرامیں وزیر اعظم کے استقبال کے لئے پہنچ توگئے کچھ برف بھی پگھلی لیکن پیشانیوں پربل بھی پڑے
شہزادچغتائی:
سندھ میں ہلاکتوں کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے تعلقات میں سردمہری دیکھی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری صحرامیں وزیر اعظم کے ا ستقبال کے لئے پہنچ توگئے کچھ برف بھی پگھلی لیکن پیشانیوں پربل بھی پڑے۔ جیالوں نے قدم بڑھاؤ کے نعرے لگائے لیکن جادو نہیں چل سکا۔ وزیراعظم نے اسپتال میں بریفنگ لینے سے انکارکردیا اور ماروی میمن سے تفصیلات معلوم کیں۔
اس موقع پر شاہ محمد شاہ اور راجہ انصاری ‘ سلیم ضیاء‘ نہال ہاشمی اور دوسرے رہنمابھی موجود تھے۔ تھرپارکر آنے پر وزیر اعظم خاصے برہم تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجرمانہ غفلت کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ حمزہ شریف نے کہا کہ استعفیٰ دینا ہے یا نہیں یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ سندھ خود کریں۔ اس دوران وفاقی وزراء وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
صدر ممنون حسین نے گندم متاثرین تک نہ پہنچنے پر تشویش کا اظہار کیاہے۔ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن سے مکالمہ میں وزیر اعظم نے سوال کیا کہ چولستان بھی صحرا ہے‘ وہاں ایسے واقعات کیوں نہیں ہوتے؟ جس پر شرجیل میمن نے کہاکہ وہاں آپ نے سہولتیں دے رکھیں ہیں۔ سندھ حکومت کی مشکلات اس وقت بڑھ گئیں جب وزیراعظم کے بعد سپریم کورٹ بھی حکومت سندھ پر برس پڑا اور ہلاکتوں کا ذمہ دار حکومت سندھ کو قرار دے دیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ تھر میں ہلاکتوں پر سب کے سر شرم سے جھک گئے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں نے بھی حکومت سندھ کو آڑے ہاتھوں لیاہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ تھرپارکر میں اچانک قحط نہیں پڑا۔ سندھ حکومت کی جانب سے 10 کروڑ کی امدادکے مقابلے میں وزیر ا عظم محمد نواز شریف نے 100 کروڑ کی امداد کا اعلان کرکے سندھ کے عوام کے دل جیت لئے اور ان کی اس کامیابی پر پیپلز پارٹی کی قیادت ہکا بکا رہ گئی۔
اس صورتحال پر پیپلز پارٹی کے انتہا پسند ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم خود بھوکے رہ کر متاثرین کو خوراک فراہم کریں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بلاول بھٹوکے ساتھ شفقت کا مظاہرہ ضرور کیا اور ان کو گاڑی میں ساتھ بٹھایا‘ لیکن بلاول بھٹو خاموش بیٹھے رہے۔ آرمی کے اسپتال میں نواز شریف نے 80 مریضوں کو دس دس ہزار روپے پیش کئے۔
اس موقع پر انہوں نے بلاول بھٹو اور قائم علی شاہ کو نوٹوں سے بھرے یہ لفافے مریضوں میں تقسیم کرنے کیلئے کہا۔ دورہ میں وزیراعظم کے ترجمان کے فرائض مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ انصاری نے انجام دئیے۔ اسپتال میں جب نواز شریف مریضوں میں لفافے تقسیم کررہے تھے تو انہوں نے راجہ انصاری سے کہا کہ وہ مریضوں سے سندھی میں بات چیت کریں۔ ر اجہ انصاری نے وزیر اعظم کی تقریر کا ترجمہ بھی کیا۔
بعدمیں وزیراعظم انہیں ہیلی کوپٹر میں ساتھ لے گئے۔ سندھڑی‘ میر پور خاص آمد پر وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے نواز شریف کا استقبال کیا اور انہیں رخصت کیا۔ وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کی بریفنگ میں شرکت کی۔ نواز شریف کے دورہ کے موقع پر پنجاب سے روانہ کی گئی امداد سب سے پہلے پہنچی جس میں آٹا‘ دالیں‘ گھی‘ لمحیات کے بسکٹ ‘ چاول شامل تھے۔
وزیر اعظم نے راشن کے پیکٹ تقسیم کئے اور متاثرین سے خطاب کیا۔ مسلم لیگ کے ذمہ داران نے نوائے وقت کو بتایا کہ وفاق کی ایک ارب 20 کروڑ روپے کی امداد کو وطن کارڈ کے ذریعہ شفاف طریقے سے تقسیم کا جائے گا۔ جس کے لئے کمیٹیاں قائم کردی گئی ہیں۔ نوائے وقت کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق تھر پار کر میں خشک سالی سے 6 لاکھ افرادمتاثر ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم سندھ میں ہلاکتوں پر برسے تو وزیرا علیٰ سندھ قائم علی شاہ نے الٹا اخبارات کے خلاف شکایات کا دفتر کھول دیا اور کہا کہ میڈیا تھر پار کر صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے گندم کی تقسیم میں خوردبرد کا اعتراف کرلیا۔ بریفنگ کے وقت وزیراعظم کا موڈ آف تھا۔دوسری جانب سندھ میں ہلاکتوں پر کسی وزیر نے استعفیٰ دیا نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوئی۔ زیادہ تر ذمہ دار افسران پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اوراہم شخصیات کے بھانجے بھتیجے بیٹے اوررشتہ دار ہیں۔ ذمہ داروں کوسزا نہ دینے پر مسلم لیگ کے رہنماؤں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا اورکہا کہ ان کے خلاف مقدمات درج کرکے گرفتار کیاجائے اور ہزاروں ٹن گندم برآمد کی جائے۔
بلاول بھٹو سے ہاتھ ملانے پر مسلم لیگ(ن) کے کئی رہنما وزیراعظم نواز شریف سے ناراض ہوگئے جبکہ وزیراعظم کے مشیر امیر بخش بھٹو نے ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو سزا نہ دینے پرافسوس کااظہار کیا اوروزیراعظم کے دورہ کابائیکاٹ کردیا۔ مسلم لیگ (ن) سندھ کے نائب صدر انورگجر نے بلاول بھٹو کو ساتھ بٹھانے پر اعتراض کیا اورکہا کہ نواز شریف پیپلز پارٹی کے کرتوتوں کو نظر انداز نہ کریں۔
مٹھی اورسندھڑی کے دورہ پر مسلم لیگ(ن) میں شامل پانچ سابق وزراء اعلیٰ سیاسی افق سے غائب تھے لیکن ڈاکٹر ارباب غلام رحیم موجود تھے جن کو نواز شریف نے بہت اہمیت دی۔ وزیراعظم کی آمد پر سندھ کے دو وزراء اعلیٰ کا سامنا بھی ہوا لیکن وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ارباب غلام رحیم سے ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کیا۔ مٹھی میں جب لوگ بھوک سے مررہے تھے تو سندھ حکومت نے وزیراعظم محمد نواز شریف کیلئے انواع اقسام کے کھانوں کا اہتمام کیا۔
جس پر وزیراعظم ناراض ہوگئے اورانہوں نے ظہرانہ میں شرکت سے انکار کردیا۔پروگرام کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کو کراچی آکر مسلم لیگ(ن) کی تنظیم نو کا اعلان کرنا تھا لیکن نواز شریف کراچی میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کے بجائے سندھ پہنچ گئے۔ جس کے بعد ایم کیو ایم نے لاہور میں اپنی نرم خو موجودگی کا احساس دلانے پر اکتفا کیا۔ پیر کو وزیراعظم محمد نواز شریف کا موڈ دیکھ کر پیپلز پارٹی کے رہنما بے حد محتاط تھے۔
حکومت سندھ وفاق اور حکومت پنجاب کی جا نب سے خزانہ کے منہ کھولے جانے کے بعد سندھ کی بیورو کریسی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وزیراعظم نواز شریف نے جب ایک ارب کی امداد حکومت سندھ کے توسط سے تقسیم کرنے کااعلان کیا تو ان کے چہرے کھل اٹھے۔ اس سے قبل وزیراعظم نے تھرکول سے بجلی بنانے کے منصوبے کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت پاکستان سے دنیا کو گندم اور چاول ایکسپورٹ ہورہا ہے اورعوام خشک سالی سے مررہے ہیں۔
جیالے پیپلز پارٹی کی حکمت عملی اور بلاول کے مٹھی جانے پر ناراض ہورہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ تھر میں نواز شریف کی قد آور اور سحر انگیز شخصیت کے سامنے بلاول بھٹو دبے دبے رہے اور نواز شریف ہیرو بن گئے جس کے بعد پیپلز پارٹی نے بہت کچھ گنوا دیا۔ نواز شریف کی سیاسی یلغار اس قدر موٴثر تھی کہ پیپلز پارٹی کے سیاسی گراف کو اس سے نقصان پہنچا ہے۔ بلاول بھٹو کوشش کے باوجود نواز شریف کا غصہ ٹھنڈا نہیں کرسکے۔ پیپلز پارٹی نواز شریف کی خوشامد راس نہیں آئی اور پہیہ الٹا چل گیا۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-14

(10) ووٹ وصول ہوئے