بند کریں
اتوار فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حلقہ این اے 246۔۔۔۔ون ٹو ون مقابلے کے امکانات ختم
این اے 246 میں ضمنی انتخاب سے قبل سیاسی جماعتوں کے درمیان نوک جھونک معمول بن گئی کئی دنوں تک تحریک انصاف اور ایم کیو ایم آمنے سامنے ختم ٹھونک کر کھڑی رہیں جس کے بعد جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوگیا
شہزاد چغتائی
کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 میں ضمنی انتخاب سے قبل سیاسی جماعتوں کے درمیان نوک جھونک معمول بن گئی کئی دنوں تک تحریک انصاف اور ایم کیو ایم آمنے سامنے ختم ٹھونک کر کھڑی رہیں جس کے بعد جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوگیا۔ تناؤ کے اس ماحول میں جماعت اسلامی نے شاہراہ پاکستان پر طاقت کا مظاہرہ کیا۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو مشورہ دیا کہ وہ نوشتہ وار پڑھ لیں اور اپنے امیدوار کو دستبردار کر لیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ جی تھری جی کا زمانہ ختم ہو گیا اور آج تھری جی کا دور ہے۔الیکشن سے پہلے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے درمیان ایک دوسرے کے امیدوار کو دستبردار کرانے کے لئے کوشش ہوتی رہی۔
اس دوران یہ بات بھی موضوع بحث بنی رہی کہ حلقہ این اے246 میں ایم کیو ایم کا مقابلہ کس جماعت سے ہے۔ جماعت اسلامی نے کہاکہ اصل مقابلہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے درمیان ہے جبکہ تحریک انصاف بار بار جماعت اسلامی کو مشورے دیتی رہی کہ وہ میدان سے ہٹ جائے۔ عائشہ منزل کے کامیاب جلسے نے جہاں جماعت اسلامی کے حوصلے بلند کردیئے ہیں وہاں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے لئے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں کیونکہ جماعت اسلامی کا جلسہ عام جس قدرمنظم اور پر شکوہ تھا اسکے بعد سیاسی حلقے یہ سوال کر رہے ہیں کیا عمران خان جماعت اسلامی کا یہ چیلنج قبول کرسکیں اور اسے جواب بھی دے پا ئیں گے۔

کراچی کے حلقہ این اے246 میں ضمنی انتخاب کو جب ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان انتخابی اشتراک کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔ جس کے ساتھ متحدہ قومی موومنٹ کی پوزیشن مستحکم ہوگئی۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے گزشتہ دنوں دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان معاہدہ ہو نے والا ہے جس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی کے امیدوار راشد نسیم تحریک انصاف کے امیدوار عمران اسماعیل کے حق میں دستبردار ہو جائیں گے۔
لیکن جماعت اسلامی نے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ حلقہ این اے 246 میں جماعت اسلامی کی پوزیشن بہتر ہے اس لئے تحریک انصاف راستے سے ہٹ جائے اور اس کے امیدوار راشد نسیم کی حمایت کرے۔ لہٰذا اب تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کو باضابطہ پر آگاہ کر دیا ہے کہ عمران اسماعیل انتخابی مقابلہ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان مفاہمت کے فقدان کے بعد ایم کیو ایم کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ دونوں جماعتیں مل کر ایم کیو ایم کے لئے مشکل پیدا کر سکتی تھیں۔

سیاسی حلقے جماعت اسلامی کے موقف کی تائید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے مقابلے میں جماعت اسلامی کا ووٹ بنک زیادہ ہے۔ جماعت اسلامی اس حلقے سے کئی بار کامیاب ہو چکی ہے وہ اس حلقے سے تین انتخابات جیت چکی ہے۔ 2002ء کے الیکشن میں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے ووٹ تقریباً برابر ہو گئے۔ اس خفت کا ازالہ ایم کیو ایم نے 2008ء کے عام انتخابات میں کیا۔
ایم کیو ایم سے پہلے یہ حلقہ جماعت اسلامی کے پاس تھا 11 مئی 2013ء کو تحریک انصاف کو31 ہزار ووٹ خواتین نے ڈالے تھے جبکہ ایم کیو ایم کی کراچی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایت پر ایم کیو ایم کے کارکنوں نے تحریک انصاف کے امیدوار کے لئے ٹھپے لگائے تھے اور جعلی ووٹ ڈالے تھے۔
تجزیہ نگار شاہد مسعود کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے امیدوار اور کارکن عزیز آباد کی گلیوں سے واقف نہیں ان کے پاس دولت ہے ووٹ نہیں ان کو حلقہ نمبر246 کے راستے تک معلوم نہیں نہ ہی وہ یہ جانتے ہیں کہ اس علاقے میں کون کون سی آبادیاں ہیں جبکہ ایم کیو ایم کے کارکن یہ بھی جانتے ہیں کہ کس گلی کے کس گھر میں کتنے لوگ رہتے ہیں اور ان کے نام کیا ہیں۔
قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر 246 کے انتخاب کے لئے رینجرز نے بائیو میٹرک مشین مانگ لیں اور الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ بائیو میٹرک مشینوں کا بندوبست کرے۔ اس طرح یہ پاکستان کا پہلا بائیو میٹرک الیکشن ہو گا جوکہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا شفاف ترین انتخاب ہو گا جوکہ ملک پارلیمانی اور انتخابی تاریخ میں نئی راہیں متعین کرے گا۔ الیکٹرانک الیکشن کی راہ میں سیاسی جماعتیں اور بیورو کریسی 8 سال سے حائل ہے۔
سابق صدر آصف علی زرداری کو2010ء میں الیکٹرانک انتخابات کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا جو کہ انہوں نے مسترد کر دیا تھا جس کے بعد 2013ء کے عام انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات عائد کئے گئے 11 مئی 2013ء کے انتخابات بائیو میٹرک نظام کے تحت ہوتے تو وزیراعظم محمد نواز شریف آرام اور سکون کے تحت حکومت کر رہے ہوتے۔2013ء میں تحریک انصاف کے سربراہ نے دھاندلی کے الزامات عائدکئے لیکن23 ماہ کے دوران ہونے والے ضمنی انتخابات میں الیکٹرانک طریقہ کار استعمال کرنے کی جانب کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکٹرانک انتخابات کی راہ میں سیاستدانوں سے زیادہ وہ قوتیں حائل ہیں جو انتخابات کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں اور انتخابات کے بعد نتائج تبدیل کر دیتی ہیں۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کے دوران عمران فاروق قتل کیس کے مرکزی ملزم معظم علی ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کے سابق چیئرمین بابر مرزا چغتائی ایم کیو ایم کی کراچی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کے سالے فیضان سلمان کی گرفتاری بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔
ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ بابر مرزا چغتائی کو ایم کیو ایم کو چندہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ حساس اداروں کا کہنا ہے کہ بزنس مین بابر مرزا 8 ارب روپے کی منی لانڈرنگ اور زمینوں پر قبضے کے الزامات میں مطلوب ہیں۔ ان پر ٹارگٹ کلرز کی مالی معاونت کا الزام بھی ہے۔ بابر مرزا کو 90 روز کے ریمانڈ پر رینجرز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے سابق رہنما نبیل احمد گبول بھی موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ جمعہ کو نبیل احمد گبول لیاری گئے اور بیک وقت پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر برس پڑے۔ انہوں نے یہ کہہ کر بھی خوف و ہراس پھیلادیا کہ کسی اہم شخصیت کے قتل کے بعد حلقہ نمبر 246 کا ضمنی انتخاب ملتوی ہوسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں سندھ میں گورنر راج لگ سکتا ہے۔
نبیل گبول نے ایم کیو ایم کو بھی بے بھاؤ کی سنائیں جس میں ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی آصف حسنین نے کہاکہ نبیل گبول کے بیانات اسکرپٹ کا حصہ ہیں۔ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے بعد ایم کیو ایم کو محدود کرنے کا پلان سامنے آگیا ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو تقسیم کرنے کا پلان پرانا ہے جس پر پیپلز پارٹی کے دور میں عملدرآمد کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔
ایم کیو ایم کے مخالفین کا خیال تھا کہ کراچی میں حلقہ بندیاں غیر منصفانہ ہیں۔ عدالت کے حکم پر ان حلقہ بندیوں کو درست کردیا گیا تھا لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد 2016ء میں نئی مردم شماری کی روشنی میں نئی حلقہ بندیاں ہوں گی اور پھر عام انتخابات بھی 2016ء میں ہوں گے۔ کراچی کی آبادی اس وقت سرکاری ا عداد و شمار کے مطابق ڈھائی کروڑ اور غیر سرکاری گنتی کے تحت 3 کروڑ ہو گئی ہے۔
مارچ 2016ء کی نئی مردم شماری کے ساتھ ساتھ نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی۔ جس کے ساتھ کراچی کی نشستیں بھی بڑھ جائیں گی اس طرح ایم کیو ایم کو کہیں نشست کم ہوں گی توکہیں بڑھ جائیں گی۔ مردم شماری کے بعد پیپلز پارٹی کو نسبتاً نقصان ہو گا کیونکہ اندرون سندھ اور کراچی کی آبادی برابر ہو گئی ہے۔ دوسری جانب سندھ کے شہروں کی آبادی دیہات سے بڑھ گئی ہے۔
شہروں کی نشستیں دیہات سے بڑھ گئیں تو سندھ کے وزیر اعلیٰ کا تعلق شہری علاقوں سے ہو سکتا ہے۔
طمانیت بخش بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے کئی دنوں سے بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے۔ عمران خان نائن زیرو پر یلغار مکمل کرنے کی شرط پر جناح گراؤنڈ سے جلسہ شفٹ کرنے پرتیار ہوگئے۔ ایم کیو ایم تحریک انصاف کے سربراہ عمران کی راہوں میں بچھ گئی۔
دونوں جماعتوں کے درمیان تناؤ کے بعد افہام تفہیم کے ملے جلے جذبات پیدا ہونے کے بعد کراچی کے شہریوں نے سکون کا سانس لیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی ثابت ہوا کہ پاکستان میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان وہ واحد شخصیت ہیں جوکہ ایم کیو ایم کو چیلنج کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وہ وزیراعظم محمد نوازشریف کو مشکل سے دوچار کرنے میں کامیاب رہے تھے۔
تحریک انصاف کے سابق رہنماء جاوید ہاشمی نے پیشگوئی کردی ہے کہ ایم کیو ایم قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر 246 کا الیکشن جیت جائے گی اس طرح تحریک انصاف کو دھرنے کے بعد ایک اور بڑی کامیابی کا سامنا ہو گا کیونکہ ایک عام ضمنی الیکشن کو عمران خان بہت زیادہ بلندیوں پر لے گئے۔ میڈیا بھی ان کی مدد کو آ گیا جس کا فائدہ ایم کیو ایم کو ہوا۔ صبح شام کی لعن طعن نے ایم کیو ایم کا ووٹ بنک آسمان کی وسعتوں پر پہنچا دیا۔ نائن زیرو پر عمران خان کی یلغار اور ایم کیو ایم کا میڈیا ٹرائل ناقص حکمت عملی تھی جس نے زمین پر اوندھے پڑی ہوئی ایم کیو ایم کو اٹھاکر کھڑا کر دیا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-17

(0) ووٹ وصول ہوئے