بند کریں
منگل جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
این اے 149 ضمنی الیکشن کا آنکھوں دیکھا حال
ضمنی الیکشن میں جاوید ہاشمی مضبوط امیدوار ثابت ہوں گے (ن) لیگ نے بھی کھل کر جاوید ہاشمی کی الیکشن مہم میں حصہ لیا مگر قسمت ملک عامر ڈوگر پر مہربان ہو چکی تھی۔ دن بھر دبی دبی آواز میں شام تک عامر ڈوگر کی فتح کی نوید سنانے لگیں
رضیہ بیگ:
این اے 149 کی نشست سے مستعفی ہونے والے مخدوم جاوید ہاشمی کی خالی کردہ نشست پر خیال تھا کہ ضمنی انتخاب میں بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں میدان میں اتریں گی مگرصورتحال اس کے برعکس رہی۔ ن لیگ نے کھل کر مخدوم جاوید ہاشمی کا ساتھ دیا۔ پی ٹی آئی نے باقاعدہ الیکشن میں حصہ نہ لیا صرف پیپلزپارٹی نے ڈاکٹر جاوید صدیقی کو الیکشن لڑنے کے لئے میدان میں اتارا۔
کانٹے دار مقابلہ آزاد امیدوار جاوید ہاشمی اور ملک عامر ڈوگر میں ہوا۔ جس کے لئے الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی بھرپور تیاریاں شروع کر دی گئیں عوامی رائے کے مطابق جیتنے والے کا نام ”جاوید“ ضرور ہو گا عام خیال تھا پی پی کے ڈاکٹر جاوید صدیقی یا جاوید ہاشمی جیتیں گے۔ تاہم جوں جوں الیکشن کی تاریخ قریب آتی گئی۔ ملک عامر ڈوگر نے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا۔

جس پر گمان کیا جا رہا تھا کہ ضمنی الیکشن میں جاوید ہاشمی مضبوط امیدوار ثابت ہوں گے (ن) لیگ نے بھی کھل کر جاوید ہاشمی کی الیکشن مہم میں حصہ لیا مگر قسمت ملک عامر ڈوگر پر مہربان ہو چکی تھی۔ دن بھر دبی دبی آواز میں شام تک عامر ڈوگر کی فتح کی نوید سنانے لگیں۔ الیکشن کے موقع پر شہر کے حلقہ 149 میں دن بھر ووٹرز کو لانے کے لئے رکشے استعمال کئے گئے اکثر رکشے والے خواتین کو پولنگ اسٹیشن پر چھوڑ کر واپسی کے لئے نہ آئے اس موقع پر موجود خواتین نے احتجاج کیا۔
حالیہ ضمنی الیکشن نے ثابت کر دیا کہ عوام دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ پی پی کے ڈاکٹر جاوید صدیقی نے 6326 ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ (ن) لیگ کے امیدوار شیخ طاہر رشید کو صرف1440 ووٹ مل سکے ہیں۔ مذکورہ نتائج دونوں ایسی پارٹیوں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں جن کے وزیراعظم 2 سے 3 مرتبہ بھاری اکثریت سے منتخب ہو چکے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ ساڑھے تین لاکھ ووٹرز میں سے ٹرن آؤٹ صرف 30 فیصد رہا مگر جو ٹرن آؤٹ رہا اس میں دونوں آزاد امیدواروں نے بھاری اکثریت حاصل کی شہر کو ن لیگ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اس حلقہ میں ایم پی اے حاجی احسان الدین بھی رہتے ہیں گذشتہ روز اندرون شہر سروے کے دوران بھی محسوس ہو رہا تھا کہ ن لیگ کا امیدوار جیتے گا۔
لیکن اس کے برعکس ن لیگ کے ضلعی صدر بلال بٹ کی رہائش کے علاقے میں واقح رحمت کالونی کے گرلز پرائمری سکول میں بھی ن لیگ کے امیدوار کی بجائے عامر ڈوگر کامیاب قرار پائے۔ سوتری وٹ ‘ دہلی گیٹ ‘ محلہ آغا پورہ ، باغ ویڑہ‘ خونی برج اور کڑی حمیداں کے علاقے پی پی کے گڑھ خیال کئے جاتے ہیں۔ یہاں بھی ماسوائے اکا دکا پولنگ کے عامر ڈوگر فاتح رہے ہیں۔
یونین کونسل 11 اور 12 جو ن لیگ کا گڑھ شمار کی جاتی ہیں یہاں بھی ملک عامر ڈوگر جیت گئے۔ چونگی نمبر 1 کی سیاسی شخصیت مقبول بخاری جن کا علاقے میں سماجی کاموں کے حوالے خاصا اثر و رسوخ ہے۔ یہ پی پی کے لیڈر جانے جاتے تھے کچھ عرصہ قبل انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لیا۔ ملک عامر ڈوگر کی انہوں نے بھرپور حمایت کی کچی نسبتی اوڈاں والی۔
جمیل آباد‘ کوٹلہ وارث شاہ اور احسن کالونی وقاص ٹاؤن سے بھی ملک عامر ڈوگر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔
کہا جاتا ہے کہ ملک عامر ڈوگر کی جیت کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کا تبدیلی کا خواب ہے۔ پی پی کے ووٹ ملک عامر ڈوگر نے حلقے میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے باعث حاصل کئے۔ ڈاکٹر جاوید صدیقی جو پی پی کے امیدوار تھے۔ حلقے میں کامیاب امیدوار ثابت نہ ہو سکے۔

مخدوم جاوید ہاشمی کے ہارنے میں ان کے اپنے ساتھیوں کا بھی کمال ہے اندرون شہر جہاں ن لیگ کا زور تھا وہاں سے ملک عامر ڈوگر کا کامیاب ہونا ن لیگ کے لئے سوالیہ نشان ہے۔
الیکشن نتائج نے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو مایوس کیا ہے اور ان کے لئے یہ بات باعث تشویش بھی ہے کہ آئندہ وہ کون سا ایسا امیدوار کھڑا کریں جس کی جیت یقینی ہو۔ مخدوم جاوید ہاشمی کو سپورٹ کرنے کی بڑی وجہ (ن) لیگ کی اپنے سابق رہنماوٴں سے سیاسی وابستگی کے ساتھ ان کی علاقے میں اپنی الگ پہچان بھی ہے۔
ان کا ن لیگ کے مرکزی قائدین میں شمار ہوتا تھا ن لیگ کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں مگر اب ان کے حلقے کے لوگوں کا یہ کہنا کہ کیا معلوم ن لیگ کے بعد پی ٹی آئی کو خیرباد کہنے والے اب پھر استعفیٰ نہ دے دیں۔ ویسے بھی ن لیگ نے بجلی کی قیمتوں اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے کچھ نہ کیا۔ عوام مایوس ہو چکے ہیں پیپلزپارٹی نے صوبہ جنوبی پنجاب کا نعرہ تو لگایا مگر اقتدار میں آ کر سبھی کچھ بھول گئی۔
ن لیگ نے بھی مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا۔ عوام اب باشعور ہو چکے ہیں وہ اپنے بھلے کے لئے بڑے بڑے برج گرانے کو تیار ہیں ان میں سیاسی شعور بھی اجاگر ہو چکا ہے۔ خواتین بھی اب کسی سے پیچھے نہیں یہ سب کچھ گذشتہ روز کے ضمنی الیکشن میں بھی سامنے آ چکا ہے۔ اب سیاسی لیڈران بھی اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلے اور عوامی رائے کا احترام کریں گے وگرنہ عوام اب احتساب کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

16 اکتوبر کا دن پورے پاکستان کے لئے اہم بن گیا گذشتہ روز ہونے والے اس سرکاری معرکہ میں صبح سویرے ہی سے دونوں پارٹیوں کا جوش خروش دیدنی تھا۔ دونوں پارٹیوں کے نوجوان اور کارکنان اذان فجر کے بعد ہی سے تازہ دم ہو کر میدان میں نکل کھڑے ہوئے۔ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماؤں مشیر وزیراعظم مسعود مجید ایم این اے میر اشتیاق سابق ایم پی اے عبدالسمیع ‘ چودھری ایم پی اے پومی بٹ‘ ایم این اے جاوید علی شاہ‘ شاہد مختار لودھی، بلال بٹ‘ اطہر ممتاز حمزہ شاہد لودھی سمیت کارکنان کی بڑی تعداد سرکٹ ہاؤس جمع ہو کر ووٹرز کو لینے کے لئے مہم پر روانہ ہو گئے۔

این اے 149 کے آزاد امیدوار مخدوم جاوید ہاشمی کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں بعض اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور پارٹی عہدیداران نے انتخابی کیمپوں کا دورہ کیا۔ مسلم لیگ ن کے حمزہ شاہد لودھی‘ شاہد مختار لودھی‘ سو سے زائد پارٹی کارکنوں کے ہمراہ 80 سے زائد پولنگ کیمپوں کا وزٹ کیا۔ این اے 149 کے ضمنی انتخاب پر پولنگ اسٹیشنوں سے چار سو گز کے فاصلے پر پولنگ کیمپ بنائے جانے پر پولیس نے جاوید ہاشمی ‘ عامر ڈوگر اور ڈاکٹر جاوید صدیقی کے بعض مقامات پر شامیانے اکھاڑ دئیے۔
اس دوران پولیس اور سیاسی کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی اور توتکار بھی ہوتی رہی۔ جہاں سے کیمپ اکھاڑے گے ان علاقوں میں نواں شہر گل گشت سمیت دیگر جگہوں پر کیمپ اکھاڑ دئیے۔ پولنگ اسٹیشن نمبر 203 کے پولنگ اسٹیشن پر جیسا مخدوم جاوید ہاشمی پہنچے تو اس دوران پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں نے ان کے خلاف نعرہ بازی کی۔ تاہم اس وقت مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے بھی پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔
تاہم دونوں کے درمیان تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا اور مخدوم جاوید ہاشمی نے خود بھی اپنے کارکنوں کو سمجھایا اور خاموش رہنے کا کہا۔ انتخابی مہم میں تین بڑے مخدوم براہ راست موجود ہونے کے باوجود ٹرن آؤٹ بھی مایوس کن رہا۔ اس دوران پورے الیکشن میں معمولی تلخ کلامی اور لڑائی کے واقعات بھی ہوئے۔
دفاتر بیت المال اس حلقے کے اندر ہے۔ لیڈیز پولنگ اسٹیشن میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہو گئی جب لیڈیز پولنگ اسٹیشن کے اندر پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے مرد داخل ہو گئے۔
اس دوران لیگی خاتون کارکن افشین بٹ نے انہیں باہر نکال دیا۔ جبکہ پولنگ اسٹیشن کے باہر بڑی تعداد میں لیگی رہنما شیخ احمد ممتاز‘ بلال بٹ‘ حمزہ شاہد اور عابد باکسر اور دیگر پہنچ گئے جبکہ پی ٹی آئی سے طارق نعیم اللہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ اس دوران دونوں گروپوں کے درمیان ایک بار پھر تلخ کلامی ہوئی تاہم تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ اس دوران انہوں نے علاقہ کو گھیرے میں لے لیا۔
اسی طرح حنیف انجینئر کے دفتر میں قائم پولنگ اسٹیشن کے اندر پی ٹی آئی کی خواتین انتخابی مہم چلا تی رہیں۔ جب مسلم لیگ ن کی خاتون ٹریسا نے ان کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس نے تحریک انصاف کی خواتین کو پولنگ اسٹیشن سے نکال دیا۔ اسی طرح گورنمنٹ ہائی سکول شمس کے پولنگ اسٹیشن نمبر 102 میں کے ووٹرز کی تعداد 11 سو تھی جن میں سے صرف سو ووٹ ہی کاسٹ ہو سکے۔

پولنگ اسٹیشن نمبر 105 میں کل ووٹرز کی تعداد 767 تھی جس میں سے 138 ووٹ کاسٹ ہوئے اسی طرح پولنگ نمبر 95 میں کل ووٹرز کی تعداد 1230 تھی جس میں دن 2 بجے تک صرف 160 ووٹ ہی کاسٹ ہوئے۔ اس موقع پر کئی پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹر لسٹیں ہی نہ پہنچ سکی۔ اس دوران پولنگ عملہ نے آزادانہ موبائل فون کا استعمال کیا۔ جس پر کئی مقامات پر ووٹرز نے احتجاج کیا۔ اس دوران بعض افراد نے الیکشن کمیشن کی جانب سے غیر معیاری سیاہی اور مہروں کے بھی نمبر معیاری ہونے کی شکایات کی گئی۔
اسی طرح انگوٹھوں پہ لگائی جانے والی انمٹ سیاہی بھی بآسانی مٹائی جاتی رہی۔ پی پی پی کے امیدوار ڈاکٹر جاوید صدیقی نے ووٹرز کو لانے کے لئے 300 سے زائد رکشے کرائے پر بک کرائے جن رکشہ مالکان کا کہنا تھا کہ انہیں ایڈوانس 5 سو روپے دئیے گئے جبکہ 7 سو روپے بعد میں دینے کا کہہ کر ابھی تک ادئیگی نہ ہو سکی۔ اسی طرح ضمنی الیکشن کے دوران دیکھنے میں آیا کہ بازار اور دکانیں معمول کے مطابق کھلی رہیں اور گراؤنڈز میں نوجوان کھیلوں میں مصروف رہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان