بند کریں
منگل جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
متحدہ اور پی پی پی‘ ایک دوسرے کی ضرورت محسوس کرنے لگے
مسلم لیگ فنکشنل نے اپنا پارلیمانی لیڈر تبدیل کر دیا قوم پرست رہنما مقصود قریشی کی موت کے سندھ پر اثرات
یوسف وارثی :
متحدہ قومی موومنٹ اور پی پی کے درمیان رابطوں کیلئے بہت سے چینل کے زریعے بات چیت جاری ہے۔ مختلف ذرائع سے متحدہ کے جلد ہی سندھ حکومت میں شمولیت کے حوالے سے اطلاعات آتی رہتی ہیں ان میں سے ایک ذریعہ گورنر ہاوٴس سندھ بھی ہے۔ پی پی میں ایک طبقہ سندھ کی سیاست میں متحدہ کو اپنے ساتھ ملانے کا حامی ہے مگر ساتھ ہی کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ متحدہ اور پیپلز پارٹی سندھ حکومت میں اکٹھے شامل رہیں ‘ اس سلسلے میں متحدہ کے اپنے تحفظات بھی ہیں۔
خود متحدہ کے اندر بھی کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پی پی کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) ان کیلئے بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔ کچھ ذرائع سے اس قسم کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں کہ مسلم لیگ ن متحدہ کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتی ہے۔ کئی ذرائع سے بات چیت بھی ہوئی تھی مگر یہ سلسلہ درمیان میں رہ گیا جبکہ بعض ذرائع کہتے ہیں کہ سینٹ میں متحدہ کے ووٹ نواز شریف کے کام آسکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی دونوں بڑی پارٹیاں متحدہ کو اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہیں مگر اپنی شرائط پر جبکہ متحدہ اپنی شرط پر ان جماعتوں کی حمایت کرنا چاہتی ہے‘ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات ہوتے ہیں مگر نتائج نہیں نکل پا رہے۔ متحدہ کے بارے میں یہ تاثر بھی ہے کہ وہ حکومت سے دور نہیں رہ سکتی ۔ حکومت میں شامل ہونا اس کی مجبوری ہے مگر اس بار حکومت سے دور رہنے کا عرصہ کافی طویل ہو گیا ہے‘ لگتاہے کہ آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ ہو جائیگا کہ متحدہ وفاقی حکومت میں یا سندھ حکومت میں شامل ہو تی ہے۔

ادھر مسلم لیگ (ن) کے کچھ ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کے بھی ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کرنے سے متعلق بعض ذرائع سے رابطے ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق آصف علی زرداری کی بھی خواہش ہے کہ سندھ کی سطح پر ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل کیا جائے اور سندھ کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والی فنکشنل مسلم لیگ پگارو گروپ کی جانب سے امتیاز شیخ کی جگہ نندلال کو پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے ۔
اس قسم کی اطلاعات بھی ہیں کہ امتیاز شیخ سندھ کے منجھے ہوئے سابق بیورو کریٹ ہیں اور انہیں سندھ کی سیاست کا ماہر بھی سمجھا جاتاہے۔ موجودہ صورتحال میں اگر ان کے پیر صاحب پگارو کے اختلافات ختم نہ ہوئے تو وزیراعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے بھی ان کا استعفیٰ متوقع ہے۔ دوسری طرف سندھ کے صحرائی علاقے تھر سے مزید اموات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جبکہ امدادی سامان کی صحیح طریقے سے تقسیم کے بارے میں بھی شکایات ملی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جانب خصوصی توجہ دی جائے اور خاص طور پرمٹھی سے باہر علاقے جہاں تھر کے غریب لوگ آج بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ حیدر آباد میں سندھ کے قوم پرست شاعر راشد مورانی کا انتقال ہو گیا‘ مرحوم نے درجنوں ایوارڈ حاصل کئے تھے۔ ان کا شمار سندھ کے صف اول کے شعراء میں ہوتا ہے۔
سندھ کی سیاست میں مرحوم بشیر قریشی کا کردار بہت اہم رہا ہے انہیں سندھ کی سیاست اور قوم پرستوں میں ایک اعتدال پسند اور سمجھ بوجھ رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا تھا اور ان کے سندھ کی سیاسی جماعتوں سے بھی گہرے تعلقات رہے‘ کئی بار متحدہ کے سٹیج پر بھی بشیر قریشی موجود ہوتے۔
اب ان کے بڑے بھائی مقصود قریشی کو کراچی جاتے ہوئے راستے میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ جئے سندھ کے رہنما قصود قریشی ریلی میں شرکت کیلئے رتوڈیرو سے نکلے اور 9بج کے 20منٹ تک جب وہ میھٹر پہنچے تو رابطے میں تھے‘ پھر وہ داد وموروپل کے ذریعے نیشنل ہائی وے پر آئے‘ ان کو کراچی جانا تھا راستے میں ہی انہیں قتل کر دیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ راستہ ویران تھا جس کی وجہ سے پولیس تک اطلاع دیر میں پہنچی۔
یہاں لنک روڈ ویران ہونے کے باعث کوئی موقع کا گواہ بھی ابھی تک سامنے نہیں آیا‘ جبکہ اس کے برعکس جئے سندھ کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ مقصود قریشی کو ٹارگٹ کرکے نشانہ بنایا گیا ہے۔ مقصود قریشی کو ان کے بھائی مرحوم بشیر قریشی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا ہے‘ اندورن سندھ سے لوگوں کی بڑی تعداد ان کی رہائش گاہ توڈیرہ پہنچی اور ان کی تدفین میں شریک ہوئی۔
سندھ کے ہر شہر میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں عوام شریک ہوئے۔ اس وقت سندھ کے قوم پرست حلقوں میں مرحوم بشیر قریشی کے دھڑے کے سب سے طاقتور گروپ سمجھا جاتا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ مرحوم بشیر قریشی اور اب ان کے بھائی مرحوم مقصود قریشی کو گولی مارنے اور کار سمیت جلانے کے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیق کی جائے‘ ورنہ سندھ کی سیاست پر اس قتل کا شدید ردعمل اور گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-04

(0) ووٹ وصول ہوئے