بند کریں
منگل جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مسلم لیگ ن بچاو تحریک کا آغاز
خیبرپی کے میں کوئی بھی سیاسی جماعت قدم جما نہیں پا رہی۔۔۔۔ پرویز مشرف کے ساتھیوں کو نواز نے اورمخلص ساتھیوں کو نظر انداز کرنے پر جیالے سراپا احتجاج
راجہ منیر خان:
صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشتگردی کے سائے تلے جمہوری عم چل رہا ہے۔ صوبہ کے پی کے عوام ہر الیکشن میں نئے چہروں کو سامنے لا کر بتا رہے ہیں جبکہ باقی ملک کے صوبوں میں حسب روایت ہلکی پھلکی تبدیلی رونما ہوتی ہے جو کسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت نہیں ہوتی بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ ملک کے دیگر صوبوں کے لوگ مستقل مزاج جبکہ صوبہ کے پی کے کے عوام مستقل مزاج نہیں ہیں یا الیکشن میں مخصوص ہاتھوں کی وجہ سے ہر الیکشن میں نئی جماعت کا آگے آنا ہوتا ہے وہ بھی پوری طرح نہیں جس سے صوبہ میں مخلوط حکومت کا قیام ہی عمل میں آتا ہے جس سے صوبے میں ترقی کا عمل دیگر صوبوں کی طرح نہیں ہے جس کا نقصان صوبے کے عوام کو پہنچ رہاہے صوبہ کے پی کے میں سیاسی جماعتیں مضبوط نہیں ہو پا رہی ہیں ان مخصوص ہاتھوں کی وجہ سیاسی جماعتوں میں بھی انتشار برپا رہتا ہے اور اقتدار کے خاتمے کے بعد وہ کئی کئی گرپوں میں تقسیم ہو جاتی ہے جس سے اگلے الیکشن میں اس سیاسی جماعت کا شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نئی سیاسی جماعت کو کامیابی مل جاتی ہے جس کی ہلکی سی جھلک پیش ہے 1997 کے انتخابات کے نتیجہ میں مسلم لیگ ن اور عوامی نیشنل پارٹی اکثریت میں کامیابی ہوئی اس وقت مسلم لیگ ن نے عوامی نیشنل پارٹی کی مدد سے حکومت قائم کی لیکن فوج ڈکیٹر نے 1999 میں مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کیا تو صوبے میں بھی حکومت ختم ہو گئی تو فوجی ڈکیٹر پرویز مشرف نے اس وقت کے وزیراعلی سردارمہتاب احمد خان پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے انہیں گرفتار کر لیا اسی طرح دیگر مسلم لیگی قیادت کو بھی اوچھے ہتھکنڈوں سے بلیک میل کرنے کی کوشش کی جس سے اکثریت فوجی ڈکیٹر کے ساتھ چلے گے سردار مہتاب احمد خان پیر صابر شاہ علی افضل خان جدون سمیت مسلم لیگی قیادت پر دباوٴ ڈالا جن میں متعدد قیادت تو ان کے ساتھ چلی گئی کچھ روپوش ہو گئے لیکن مذکورہ لوگوں نے ان کا مقابلہ کیا۔
2013 میں جب انتخابات ہوئے تو کے پی کے میں وامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کو عبرت ناک شکست ہوئی اور پاکستان تحریک انصاف اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آگئی جس نے جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے ساتھ اتحاد کے نتیجے میں حکومت بنالی۔اس سارے صوبہ میں سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ ں کو ہوا اور پارٹی گروپ بندی کا شکار رہی پیر صابر شاہ کی قیادت میں مسلم لیگ ن کو مضبوط کرنے کی کوششیں ہوئیں جس میں خاصی حد تک بہتری آئی لیکن مسلم لیگی مرکزی قیادت کی جانب سے صوبہ کے پی کے میں مسلم لیگ ن پر اس طرح کی توجہ نہ دی گئی میاں محمد نواز شریف نے اپنے دیرینہ ساتھیوں پیر صابر شاہ علی افضل جدون کو نظر انداز کر کے ق لیگ سے آئے ہوئے اڑتے پنچھیوں کو عہدے دیئے سردارمہتاب احمد خان کو مرکزی قیادت خاص طور پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے دباوٴ پر عہدہ دیا گیا ۔
جیالوں کو نظر انداز کرنے پر مسلم لیگ ن انتشار کا شکار رہی جس کے مکمل طور پر اثرات ہزارے میں پڑے اورہزارہ میں مسلم لیگ ن کمزور ہوتی گئی ضلع ایبٹ آباد، ضلع ہری پور میں مسلم لیگ ن الیکشن 2013 میں بری طرح ناکام ہوئی پھر بلدیاتی انتخابات 2015 میں مسلم لیگ ن کو شکست کا سامنا رہا جس کی وجہ ضلع میں قائم قیادت کی پارٹی کی طرف توجہ نہیں تھی۔ بلکہ وہ کمیشن اور دیگر مد میں مال بنانے میں مصروف تھے جس سے پارٹی کو سخت نقصان ہوا اور پارٹی مرکز میں واضح حکومت ہونے کے باوجود پستی کی طرف بڑھ رہی تھی تو مسلم لیگ ن کی مخلص قیادت نے مل کر مسلم لیگ ن بچاوٴ تحریک کا آغاز کیا اس بچاوٴ تحریک میں مسلم لیگ ن کے ضلعی سینئر نائب صدر سردار عبدالرشید ، ساجد اعوان،مظہر اکرم ، ملک جہانزیب، ملک منصور، شیخ آفتاب، تیمورخان، ملک حفیظ ، صابر تنولی ،بنارس عباسی، دلدار تنولی اور دیگر نے نظریاتی کارکنوں کو اکھٹا کیا جس کی ضلع میں بڑی تعدادسامنے آئی جنہوں نے مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر سردار اور نگزیب نلوٹھہ، جنرل سیکرٹری محمد شفیق اعوان، عنایت اللہ خان جدون، محمد ایوب آفریدی کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں انہیں شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اکتوبر میں ورکر کنونشن بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

جس پر مسلم لیگی قیادت حرکت میں آئی لیکن انکی تمام کوشش ناکام ہوئی مسلم لیگ بچاوٴتحریک کے رہنماوٴں کا یک ہی موٴقف ہے۔ کہ مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر صوبائی صدر نے اگر پارٹی کو ہزارہ میں بچانا ہے تو فوری طور پر صوبائی سطح پر کمیشن بنائے اور ایمانداری سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے تاکہ مسلم لیگ ن تباہ ہونے سے بچ سکے اس سلسلہ میں مسلم لیگ ن بچاوٴ تحریک کے راہنماوں نے گورنر کے پی کے سردار مہتاب احمد خان سے ملاقات کر کے انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا ہے کہ الیکشن 2013 اور بعد ازاں بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ ن کو شکست پارٹی کے ان لوگوں سے ہوئی جنہوں نے پارٹی کے خلاف سازش کرتے ہوئے ٹکٹ ہولڈر امیدواروں کی موجودگی میں خفیہ طور پر دیگر امیدواروں کی حمایت کی جس وجہ سے پی کے 44 پی کے 46 اور پی کے 47 میں بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ کو شکست ہوئی ان حالات میں مرکزی قیادت اور صوبائی قیادت کو فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے اور مسلم لیگ ن کو صوبے میں اس کا پرانا مقام دلانے کے لیے صوبائی سطح پر بااثر کمیشن قائم کریں جو غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور بلدیاتی انتخابات اور قومی انتخابات کے شکست کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان