بند کریں
جمعرات فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
(ن) لیگ کی اندرونی صفوں میں بھونچال
کیا کھوسہ اور غوث کو صورت پھٹنے والا لاوا (ن) لیگ میں تباہی لاسکے گا؟ کراچی میں ایم کیو ایم کا خوف زردار ی اور نواز شریف کی کمزوری بن گیا
اسرار بخاری :
سیاست کوئی عقیدہ ہے نہ مسلک بلکہ یہ ایک طرز حکومت ہے۔ پاکستان کی مروجہ سیاست کو دیکھا جائے تو یہ حصول اقتدار ومفادات کا ذریعہ ہے۔ اگرچہ اسے سیاستدانوں کی جانب سے عبادت کہا جاتا ہے مگر یہ ہزار فیصد جھوٹ ہے اس کے ذریعہ ذاتی مفادات کا کھیل کھیلا جاتا ہے ۔ ولفریب نعرے لگا کر عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ جھوٹے وعدے کر کے بے وقوف بنایا جاتا ہے ۔
اپنے مفادات کے حصول کی دوڑ میں اگر عوام کو بھی کوئی فائدہ پہنچ جائے تو اسے گوارا کر لیا جاتا ہے تاہم یہ سب کچھ عوام کے نام پر ہی کیا جاتا ہے لیکن کچھ لوگ اخلاص نیت رکھتے ہیں اور واقعی عوام کی فلاح وبہود کے دل سے متمنی ہوتے ہیں۔سیاست میں ایک اصول یہ ہے کہ سیاسی جماعت کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہوتے ہیں۔ یہ اصول پارٹیاں بدلنے یعنی ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری پارٹی بدلنے کا دروازہ کھولتا ہے اور مفاد پرست لوگ اس اصول پر سب سے زیادہ عمل کرتے ہیں اور ہر حکمران جماعت میں اس اصول کو آڑ بنا کر شمولیت اختیار کر لیتے ہیں ۔
اس حوالے سے پارٹی قائدین کا عمومی رویہ یہ دیکھا گیا جو اس بہت پرانے گھسے پٹے شعر کے مطابق ہے۔”نئے جب یار ملتے ہیں پرانے بھول جاتے ہیں“۔ حکمران مسلم لیگ کی اندورنی صفوں میں یہ صورتحال اندرہی اندر لاوا بن رہی تھی جو سید غوث علی شاہ اور سردار ذوالفقار کھوسہ کی صورت میں پھوٹ پڑا ہے۔ تاہم یہ لاوا کس حد تک (ن) لیگ کے سیاسی خرمن کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ آنے والا وقت بتائے گا دونوں رہنماوٴں نے نہ تو (ن) لیگ کو چھوڑا ہے نہ ہی کسی دوسری جماعت میں جانے کا عندیہ دیا ہے۔اس لئے اگر ان کے تحفظات دور کر دیئے جائیں اور پارٹی میں انہیں باعزت مقام کا احساس دلا دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ماضی کی طرح (ن) لیگ میں دوبار سرگرم کردار پر آمادہ نہ ہو جائیں۔ لیکن تادم تحریر (ن) لیگ کی قیادت کی جانب سے ایسے کسی قدم کی خبر نہیں ملی ہے۔
اقتدار کے حصول کے بعد کسی کو کچھ نہ سمجھنا عمومی رویہ ہے بعض حوالوں سے (ن) لیگ اور اس سے قبل اقتدار میں رہنے والی سیاسی جماعتوں نے اس کا مسلسل مظاہرہ کیا ہے (ن) لیگ نے سیاسی معاملات کو غیر سیاسی انداز میں نمٹانے کی جوروش اختیار کر رکھی ہے اس کے باعث آج کچھ ایسی صورت ہے جیسے ایرانی شاعرانوری کے بقول جو بھی مصیبت زمین پر اُترتی ہے وہ سب سے پہلے اس کے گھر کا پتہ پوچھتی ہے۔
مختلف نوعیت کے بحران (ن) لیگ کا مقدر بن گئے ہیں یا وابستگان (ن) لیگ ” آبیل مجھے مار“ کی کیفیت کا شکار ہیں۔ ایک سیاسی جماعت کے طور پر دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص مخالف سیاسی جماعتوں کے مخالفانہ رویوں کی تو سامنا لازمی امر ہے۔ اس جماعت کی خود اندونی صفوں میں بھی اخوت و یکجہتی سمٹ رہی ہے اور اتنشار وافتراق کے سائے پھیلتے جا رہے ہیں اس صورتحال کاجائزہ لیاجائے تو اس کی بنیادی وجوہ میں ایک بہت اہم آزمائش کی گھڑی میں ثابت قدم رہنے اور قربانیاں دینے والے رہنماوٴں اور کار کنوں میں نظرانداز کئے جانے کا فروغ پذیر احساس ہے اور احساس کا مشاہدہ ”منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے“ کے آئینہ میں کیا جاسکتا ہے یعنی نوازے جانے کے اہل وہ لوگ ہیں جو پرویز مشرف کی آمریت کا حصہ رہے جو آزمائش وابتلا کے ایام میں مخالف صفوں میں تھے جنہوں نے اس دور میں وزارتیں، اہم سرکاری مناصب اور دیگر مراعات سے خوب ہاتھ رنگے اور (ن) لیگ کے دور میں بھی وہی تمام تر نواز شات کے اہل ٹھہرائے گئے ہیں، جس پر کشتہ ہائے ستم کے احساس سے مجروح کچھ تو خاموش کے تلخ گھونٹ بھر کر رہ گے جبکہ بعض نے علم بغاوت بلند کر دیا۔

ممتاز بھٹو کے سندھ نیشنل فرنٹ کے (ن) لیگ میں ضم ہونے کے بعد عام خیال تھا کہ اب (ن) لیگ کو اندرون سندھ پھلنے پھولنے کاموقع ملے گا (ن) لیگ سے تعلق رکھنے والے سندھ کے دو سابق وزرائے اعلیٰ سید غوث علی شاہ اور لیاقت جتوئی (ن) لیگ میں شامل ہونے والے (ق) لیگ کے سابق وزیرا علیٰ ارباب ، رحیم، سلیم ضیاء، مشاہد اللہ خان، نہال ہاشمی اور دیگر رہنما شہری اور دیہی سندھ میں (ن) کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے اور پھر شاید ایسا مرحلہ بھی آجائے جکہ پیرپگارا صبغت اللہ راشدی کے لئے فنکشنل لیگ کے نام پر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا ممکن نہ رہے مگر ایسی صورتحال بننے میں میثاق جمہوریت سدِ راہ بن گیا ۔
پنجاب میں (ن) لیگ اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے اقتدار کے بر قرار رہنے میں معاونت جس کا اہم نکتہ ہے مر دیکھا جائے تو دونوں جماعتوں نے اس نکتہ پر ایسے دل وجان سے عمل کیا ہے کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی اور سندھ میں (ن) لیگ کی سیاسی نشوونما پر ہی قد غن لگا دی گئی حالانکہ ملک گیر سیاسی جماعتوں کی مضبوطی ، ملکی استحکام اور عوام میں خوات ویکجہتی کی مضبوط بنیاد بنتی ہے۔
(ن) لیگ کی قیادت نے سندھ میں (ن) لیگ کی جڑیں پھیلانے کا موقع گنوادیا۔ممتاز بھٹو، غوث علی شاہ ، لیاقت جتوئی اور ارباب رحیم وغیرہ کو مرکز میں ایسے مناصب سے نوازا جاتا جو سیاسی کام کی راہ میں حائل نہ ہو سکتے ہیں اور انہیں سندھ میں (ن) لیگ کی جڑیں مضبوط کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ۔ان میں سے کسی ایک کو سندھ کا گورنر تو اس لئے نہیں بنایا جا سکا کہ آصف زرداری کی طرح نواز شریف پر بھی یہ خوف طاری ہے کہ پر متحدہ قومی موومنٹ کو سنبھالا نہیں جا سکے گا۔
کراچی جو ملکی معیشت کا حب ہے وہاں امن وامان کی صورتحال میں بگاڑ کی کوئی مرکزی حکومت متحمل نہیں ہو سکتی ان کی کمزوری ایم کیو ایم کیلئے پتہ بن گئی ہے اور ان کا گورنر پوری دنیا میں طویل ترین مدت کا ریکارڈ قائم کرئے گا۔ (ن) لیگ کی قیادت سندھ اپنے پتے صحیح طرح سے نہیں کھیل سکی پیپلز پارٹی کی حکومت کو ڈسٹرب کیے بغیر بھی سندھ میں جماعت کی جڑیں پھیلانے کا کام لیا جا سکتا تھا۔
میاں نواز شریف متذکرہ بالا لیڈروں کو اعتماد میں لے کر انہیں جماعت کو پھیلانے کی ذمہ داری سونپتے انہیں باور کرایا جاسکتا تھا کہ سندھ میں جماعت کی جڑیں گہری ہو گئیں تو اگلی باری ان کی ہی ہے۔ ساتھ ہی آصف زرداری کو قابو میں رکھنے کے لیے ممتاز بھٹو کو بطور ہتھیار استعمال کیاجا سکتا تھا ان تمام رہنماوٴں کوان کے صوبے میں سیاسی میدان میں عملاََ عضو معطل بنا کر رکھ دیا گیا ہے جو دانشمندانہ سیاسی پالیسی نہیں ہے۔
سندھ نیشنل فرنٹ نے ناطہ توڑ لیا۔ غوث علی شاہ کی سربراہی میں باغی گروپ تشکیل پاگیا۔ یہ سب تب ہوا جب (ن) لیگ اقتدار میں ہے جب روٹھوں ہووٴں کو منانا آسان ہوتاہے چہ جائیکہ راضی لوگوں کوناراض کردیا جائے۔ الیکشن ٹربیونل نے غوث علی شاہ کواین اے 215 سے کامیاب قراردے دیا ہے،پیپلز پارٹی کے شکست خوردہ نواب وسان کے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے پرغوث علی شاہ فی الحال ایوان میں نہ جاسکیں لیکن جب بھی ایسا ممکن ہوا وہ قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کیلئے سیاسی مشکلات کے پہاڑ کھڑے کرسکتے ہیں اور ”باغیوں“ کے قائد سردار ذوالفقار خان کوسہ کی اس بات میں وزن ہے کہ غوث علی شاہ کی کامیابی (ن) لیگ کو ہضم نہیں ہو سکے گی۔
1999 میں جنرل پرویز مشرف نے جمہوریت پر شب خون مارکر وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے جن ساتھیوں کو گرفتار کیا ان میں غوث علی شاہ بھی شامل تھے۔ وہ پابند سلاسل بھی رہے اور انہوں نے جلاوطنی کی صعوبت بھی برداشت کی (ن) لیگ کو اقتدار ملا تو شخصیات کے حوالے سے قیادت کی ترجیحات بدل گئیں باغی گروپ جس کا شاخسانہ ہے ۔ الیکشن ٹربیونل نے غوث علی شاہ کا قومی اسمبلی اور لیاقت جتوئی کو سندھ اسمبلی کیلئے کامیاب قرار دے دیا ہے تاہم ان ”باغیوں“ کے حوالے سے لگتا ہے کہ قیادت کو یہ پٹی پڑھائی جا رہی ہے کہ اوحی یہ کیا بگاڑلیں گے ”ان ہی لوگوں نے محسوس ہوتا ہے قیادت کو عمران خان کے مطالبے پر چار حلقے کھولنے سے باز رکھا تھا جس کے نتیجے میں آج (ن) لیگ بیرونی سطح پر سنگین بحران کا شکار ہے۔
باغیوں کو بھی Under Estimate کیا جا رہا ہے جو (ن) لیگ کے لئے شدید داخلی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر اسے (ن) لیگ کے دروازے پر داخلی بحران کی دستک سمجھا جائے تو شاید غلط نہ ہو گا۔
سید غوث علی شاہ اگرچہ (ن) لیگ سے ناطہ توڑ چکے ہیں مگر وہ مسلم لیگوں کے اتحاد کے بہت بڑے داعی ہیں جن کاموقف ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی ٹیم میں اکثریت آمریت کے دست وباز و بننے والے لوگوں کی ہے۔
اگر وہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم نواز شریف کیلئے مشکلات پیداکریں تو ان کی اس حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایوان زیریں میں (ن) لیگ کے دو ارکان جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔ شاہ صاحب ان کی آواز بن سکتے ہیں اور اس طرح ان کی ہمدردیاں سمیٹ سکتے ہیں دوبارہ گنتی کے نتیجے میں غوث علی شاہ اور لیاقت جتوئی ایم اپی اے بن گئے ہیں۔
غوث علی شاہ اور لیاقت جتوئی (ن) لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں اور اگر وہ پارٹی سربراہ ڈیفیکشن کلازکے تحت ان کی رکنیت ختم کر سکے گا۔ اس سوال کا جواب الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کے اس بیان سے مل سکتا ہے کہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے کسی بھی انداز کی سرگرمیوں پر گرفت نہیں کی جاسکتی ۔ پارٹی کے سربراہ ڈیفیکشن کے تحت صرف اسی صورت میں رکنیت ختم کراسکتا ہے اگر کوئی ممبر اسمبلی پارٹی پالیسی ک خلاف فنانس بل یا وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ دے جبکہ ارکان اسمبلی میں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی کے خلاف فارورڈ بلاک بنا سکتے ہیں اس کے باوجود ان پر ڈیفیکشن کلاز کا اطلاق نہں ہوگا۔
گزشتہ اسمبلی (ق) لیگ کے خلاف فارورڈ بلاک بنانے والے ارکان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جا سکی تھی۔اس حقیقت کے باوجود کہ پارٹی کے سربراہ نے سپیکر کو ان کے خلاف ڈادسکوالیفیکشن کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنے کے لئے کہا تھا جہاں تک پارٹی کے سینئر رہنما سردار ذالفقار علی خان کوسہ کی سرگرمیوں کاتعلق ہے اگر (ن) لیگ کی قیادت انہیں نظر انداز کرنے کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے مگر پارٹی کے اندارونی ذرائع کے مطابق اگر انہوں نے ہر ایشو پر پارٹی کی مخالفت کی روش اختیار کی تو پھر ایک حد کے بعد ان کے خلاف قانون حرکت میں آ سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے نواب وسان نے غوث علی شاہ کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن وائر کر دی ہے مگر تادم تحریک تحریر انہیں حکم امتناعی حاصل نہیں ہو اور حکم امتناعی کے اجراء سے پہلے اگر انہوں نے حلف اٹھا لیا تو پھر انہیں ایوان میں جانے سے نہیں روکا جا سکے گا۔ ایک رائے یہ ہے کہ (ن) لیگ کی قیادت غوث علی شاہ کی بجائے پیپل پارٹی کے نواب وسان کی ایوان میں موجودگی کو ترجیح دے سکتی ہے کیونکہ وہ بہر حال غوث علی شاہ سے کم خطرہ ثابت ہوں گے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان