بند کریں
پیر جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی کے درمیان وجہ تنازع؟
پیپلز پارٹی تنہا ہوگئی ‘ الطاف حسین کے مطالبات کے بعد سندھ میں نئی صف بندی ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکومت سندھ کے شہروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے

شہزاد چغتائی:
ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان بنیادی تنازع سندھ کے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم پر ہے۔ ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکومت سندھ کے شہروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ سندھ کے تمام علاقوں کو یکساں فنڈز دیئے جا رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کیلئے کراچی اور دبئی میں مذاکرات ہوئے۔

لیکن کوئی حل نہیں نکل سکا۔ جس کے بعد ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کراچی میں ہونے والے جلسوں میں جذباتی ہو کر برس پڑے۔الطاف حسین نے کہاکہ پیپلز پارٹی شہری علاقوں کو حقوق نہیں دے سکتی تو سندھ ون اور سندھ ٹو کے نام دو صوبے بنا دیئے جائیں۔ ان ریمارکس پر سندھ کی سیاست میں بھونچال آگیا اور کراچی سے خیبر تک مخالفت کا ایک طوفان بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
اتوار کی تقریر کے بعد بھی ایم کیو ایم کے رہنماء سندھ سمیت پورے ملک کے سیاستدانوں کو اس بات کی یقین دہانی کراتے رہے کہ ایم کیو ایم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی۔ ایم کیو ایم کے قائد یہ وضاحت تو پہلے کرچکے تھے کہ سندھ دھرتی ماں ہے اور ہم اس کو الگ کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے امن و آشتی کا پیغام بھی دیا اور کہاکہ سندھی اور اردو بولنے والے ایک دوسرے کو تسلیم کریں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایم کیو ایم نے سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان کئی سال سے یہ آنکھ مچولی جاری ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ الطاف حسین کے خطاب نے سندھ کے قوم پرستوں اور ایم کیو ایم کو نزدیک کر دیا۔ جب پیپلز پارٹی کے انتہا پسند غیض و غضب کے عالم میں تھے سندھ کے سب سے بڑے قوم پرست گھرانے کے چشم و چراغ اور عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نصف شب کو ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے۔
ایاز لطیف پلیجو اور ایم کیو ایم کے درمیان افہام وتفہیم کو سیاسی پنڈتوں نے صوبے کی وحدت کیلئے نیک شگون قرار دیا۔ عوامی تحریک کے سربراہ نے اس موقع پر صوبائی اور مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ایم کیو ایم کی شکایات کا جائزہ لے۔ الطاف حسین کے بیان پر سندھ میں کئی دنوں تک ہلچل رہی۔ اس دوران ایم کیو ایم کی کامیابی یہ تھی کہ وہ یہ بات منوانے میں کامیاب دکھائی دی کہ شہری علاقوں کو منصفانہ فنڈز نہیں مل رہے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کراچی کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کر رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) سمیت کئی جماعتوں نے ایم کیو ایم کو جائز شکایات دور کرنے پر زور دیا حتیٰ کہ فنکشنل مسلم لیگ سندھ کے جنرل سیکرٹری امتیاز شیخ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قوم پرست رہنما ایاز لطیف پلیجو نے سندھ میں رہنے والے تمام شہریوں کو یکساں حقوق اور فنڈز دینے اور ایم کیو ایم کو شکایت سننے کا مشورہ دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ففٹی ففٹی سندھ ون اور سندھ ٹو کی بازگشت کے دوران پیپلز پارٹی کی تنہائی بڑھ گئی اور سندھ میں نئی صف بندی دیکھنے میں آئی۔
پیپلز پارٹی کوششوں کے باوجود اب تک عمران خان اور تحریک انصاف کی حمایت حاصل نہیں کر سکی۔ اے این پی اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کی مثال دی جاتی ہے لیکن الطاف حسین کی حالیہ تقاریر کے بعد اے این پی نے بھی حکومت سے ایم کیو ایم کی شکایات دور کرنے پر زور دیاہے۔ ایم کیو ایم‘ مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے درمیان پہلے ہی مشترکہ پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے پر اتفاق رائے ہوچکا ہے۔
اس لحاظ سے پیپلز پارٹی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں اور اس کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت افہام تفہیم کی پالیسی سے گریزاں ہے اورپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور سرپرست اعلیٰ بلاول بھی جارحانہ طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں۔27 دسمبر کو انہوں نے اسٹیبلشمنٹ پر بڑھ چڑھ کر حملے کئے اور پیپلز پارٹی کے خلاف سازشیں کئے جانے کا الزام لگایا۔

ایم کیو ایم نے یہ وضاحت کی ہے کہ الطاف حسین مضبوط پاکستان کے حامی ہیں اور انہوں نے ملک توڑنے کی بات نہیں کی لیکن مخالفین کوئی بات سننے کیلئے تیار نہیں وہ الطاف حسین کے بیان کی لکیر کو پیٹے جا رہے ہیں خود الطاف حسین کو اندازہ تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا اس لئے انہوں نے پیشنگوئی کردی تھی کہ اب سب ان کے پیچھے پڑ جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو نے الطاف حسین کی جانب سے وسائل کی ففٹی ففٹی سندھ ون اور سندھ ٹو کے مطالبہ کو مسترد کر دیا انہوں نے کہاکہ سندھ کے اندر سندھ ٹو نہیں بنے گا ایم کیو ایم کو اسی تنخواہ پر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے حلقہ بندیوں کے بارے میں الطاف حسین کے بیان کو چیلنج کر دیا اور کہاکہ الطاف حسین کے لوگ جھوٹ بول رہے ہیں میرے پاس اس اجلاس کی تفصیلات موجود ہے جس میں ایم کیو ایم نے ان حلقہ بندیوں کے فیصلے پر اتفاق کیا تھا اور حلقہ بندیاں مشاورت سے کی گئی تھیں۔
جب بعض حلقوں نے الطاف حسین کے بیان کو پرویز مشرف کے مقدمے سے توجہ ہٹانے کی کوششیں قرار دیا ہے۔
حالانکہ ایم کیو ایم اور کئی دوسری سیاسی جماعتیں جن میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) شامل ہے‘ مقدمہ12 اکتوبر1999 ء سے چلائے جانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سندھ کے شہری علاقوں کو نظرانداز کرنے اور وسائل نہ دینے پر چراغ پا تھے انہوں نے تجویز دی کہ سندھ کے وسائل میں سے نصف فنڈز دیہی علاقوں اور نصف شہری علاقوں کو دیئے جائیں کیونکہ سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی دیہی سندھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔
انہوں نے وزیراعظم محمد نواز شریف کی توجہ بھی مبذول کرائی اور درخواست کی کہ وہ سندھ کے شہری علاقوں کو حقوق اور وسائل دلانے کیلئے مداخلت کریں۔ جس کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنماوٴں اور ان کے حامیوں نے کہاکہ18 ویں ترمیم کے تحت وزیراعظم مداخلت نہیں کرسکتے۔ 11 مئی کے بعد ایم کیو ایم نے کہا تھا کہ سندھ کابینہ میں سندھ کے شہروں کی نمائندگی حاصل نہیں ہے۔
کابینہ سندھ دیہی کی نمائندہ ہے۔
جمعہ کو ایم کیو ایم کے قائد کی دھواں دھار خطاب کے بعد توقع تھی کہ الطاف حسین سندھ کی تقسیم کے مطالبے سے پیچھے ہٹ جائیں گے کیونکہ ایک روز قبل رابطہ کمیٹی نے وضاحت کردی تھی کہ الطاف حسین نے صوبہ نہیں بلکہ وسائل تقسیم کرنے کی بات کی تھی اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ایم کیو ایم کے تحفظات پر مذاکرات کی یقین دہانی کراچکے تھے لیکن اتوار کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پھر اس بات کو دہرا دیا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے شہری علاقوں کو حقوق نہیں د ے سکتی تو صوبہ بنا دے اور اس کا نام سندھ ٹو رکھ دے ہم دو نمبر بننے کیلئے تیار ہیں لہذٰا خون بہنے سے بہتر ہے پہلے بات کر لی جائے۔
اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد صوبے سے زیادہ سندھ کے وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات کر رہے ہیں جوکہ خوش آئند ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر قوم پرست شہری علاقوں کو کچھ دینے کیلئے تیار نہیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان 6 سال سے کشمکش چل رہی ہے اور تنازع کیا ہے کوئی اس پر توجہ نہیں دینا چاہتا۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبائی حکومت کے وسائل بہت بڑھ گئے ہیں اور سندھ کو وفاق سے100 ارب سے زائد حصہ مل رہا ہے لیکن صوبہ ان وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے تیار نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ نہ صرف شہری علاقے اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ثمرات سے محروم ہیں بلکہ سندھ کے تمام اضلاع کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیاجا رہا ہے۔
جن میں لاڑکانہ‘ تھرپارکر اور دوسرے دیہی علاقے شامل ہیں۔ طریقہ کار کے مطابق صوبوں کو ملنے والے فنڈز اضلاع کو منتقل ہونے چاہئیں اور ان کو آمدنی کے تناسب سے حصہ ملنا چاہئے لیکن صوبہ شہری اور دیہی اضلاع کو کچھ دینے کیلئے تیار نہیں سارے پیسے صوبائی حکومت بے دریغ بہا رہی ہے اور لٹا رہی ہے۔ اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم کے فارمولے کا کئی سال سے اعلان نہیں کیا گیا۔ شہروں کے وسائل میں کئی سال سے اضافہ نہیں کیا گیا ہے‘ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی‘ واٹر بورڈ‘ ترقیاتی اداروں سمیت کراچی کے کئی اداروں پر حکومت سندھ نے قبضہ کر لیا ہے اور کراچی کی وحدت بھی ختم کردی گئی ہے۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-10

(0) ووٹ وصول ہوئے