بند کریں
بدھ فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مہربانیوں کی قیمت طلب، پیغامبر کو زرداری کا جواب
سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) جو کہ اقلیتی جماعت ہے کے سینیٹ کے انتخابات کے بعد ”اکثریتی“ جماعت بننے کا قوی امکان ہے۔ اگر کسی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) اکثریتی جماعت نہ بن سکی تو پاکستان پیپلز پارٹی اس کے بعد دوسرے نمبر پر ہو گی
نواز رضا:
سینیٹ کے انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ 182امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ آج سے سینیٹ انتخابات کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گا جس میں دو روز تک امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کل ہو گی۔ جبکہ تیسرا مرحلہ 5 مارچ 2015ء کو پولنگ کے بعد مکمل ہو جائے گا۔ اس طرح12 مارچ کو نومنتخب سینیٹرز کے حلف اٹھانے کے بعد مکمل ایوان بالا کی صورت میں سینیٹ کی ہیئت ترکیبی یکسر تبدیل ہو جائے گی۔
سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) جو کہ اقلیتی جماعت ہے کے سینیٹ کے انتخابات کے بعد ”اکثریتی“ جماعت بننے کا قوی امکان ہے۔ اگر کسی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) اکثریتی جماعت نہ بن سکی تو پاکستان پیپلز پارٹی اس کے بعد دوسرے نمبر پر ہو گی کیونکہ دونوں جماعتوں کے درمیان ایک آدھ ووٹ کا فرق ہو سکتا ہے۔ بیشتر سیاسی جماعتوں نے اپنی پارلیمانی قوت کے مطابق امیدوار کھڑے کئے ہیں تاہم کچھ ”آزاد امیدوار“ بھی میدان میں اْترے ہیں جس کے باعث سینیٹ کے انتخابات میں کھلم کھلا ووٹوں کی ”خرید وفروخت“ شروع ہو گئی ہے۔
سینیٹ کے انتخابات میں ووٹوں کی ”خرید وفروخت“ میں ”سہولت کار“ کلیدی کر دار ادا کر رہے ہیں آزاد امیدواروں کی خرید و فروخت کے کاروبار کو ناکام بنانے کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین صوبہ میں پارٹی پوزیشن کے مطابق انتخابی نتائج حاصل کرنے کے لئے بھی سرگرم عمل ہو گئے ہیں لیکن انہیں خدشہ ہے کہ خیبر پی کے اور بلوچستان میں آزاد امیدوار انتخابی نتائج ”اپ سیٹ“ کر سکتے ہیں۔
اس لئے ایک دوسرے کی متحارب سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے سے رابطہ کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ خیبر پی کے میں عمران خان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی ممکنہ خرید و فروخت سے سخت پریشان دکھائی دیتے ہیں اس لئے پارلیمانی قوت کے مطابق بلامقابلہ انتخاب کے لئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے گورنر سردار مہتاب احمد خان سے رابطہ قائم کیا ہے۔ بلوچستان میں بھی سینیٹ کی نشستوں پر حکومتی اتحاد میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف کو سینیٹ کی نشستوں پر اختلافات ختم کرانے کے لئے خود کوئٹہ جانا پڑا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)کی قیادت نے آخری مرحلے تک سینیٹ کے دو ٹکٹوں میں رد و بدل کی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی کے لئے خدمات پر اپنے پولیٹیکل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی کو سینیٹ کے لئے پارٹی ٹکٹ دیا تھا لیکن جب ڈاکٹر آصف علی کرمانی کو ان کے قانونی مشیر نے بتایا کہ پاکستان سروس رولز کے مطابق انہیں انتخاب لڑنے کا استثنیٰ حاصل نہیں تو انہوں نے پارٹی کی قیادت کو اس صورتحال سے آگاہ کر کے رضاکارانہ طور پر ”شکریہ“ کے ساتھ پارٹی ٹکٹ واپس کر دیا۔
جس کے بعد پارٹی قیادت نے سلیم ضیاء کو پارٹی ٹکٹ دے دیا۔ اسی طرح کرن ڈار کا جاری کردہ ٹکٹ خاتون رکن قومی اسمبلی عائشہ رضا فاروق کو دے دیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ انہوں نے مختصر پارلیمانی قوت سے ”انتخابی تاش“ لگانے کی بجائے اپنی پارلیمانی قوت پاکستان پیپلز پارٹی کے پلڑے میں ڈال دی۔
بلا شبہ چوہدری شجاعت حسین جیسی جہاندیدہ اور باغ و بہار شخصیت کی پارلیمنٹ کو ضروت تھی مگر انہوں نے سینیٹ کا انتخاب نہ لڑنے کا حقیقت پسندانہ فیصلہ کیا ہے، اس کے باوجود سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی قوت میں کمی نہیں آئے گی۔ کیونکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے بلوچستان سے ایک نشست حاصل کرنے کا امکان ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اگرچہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھی ہے لیکن اس کی قیادت ”فرینڈلی اپوزیشن“ کا کردار ادا کرنے کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بہت قریب ہے۔

سینیٹ کے انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرنے کا مرحلہ شروع ہوا تو سابق صدر آصف علی زرداری نے ہنگامی طور پر اسلام آباد کا دورہ کیا۔ ان کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات تو نہ ہوئی لیکن وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ان سے ملاقات کرنے زرداری ہاؤس پہنچ گئے۔ شنید ہے آصف علی زرداری نے خواجہ سعد رفیق کے ذریعے وزیراعظم نواز شریف کو پیغام بھجوایا، سردست اس ملاقات کے حوالے سے کوئی مصدقہ بات تو سامنے نہیں آئی لیکن باور کیا جاتا ہے دونوں رہنماؤں نے سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔
آصف علی زرداری جو سیاست میں گھا ٹے کا سودا نہیں کیا کرتے انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے پنجاب میں سینیٹ کی ایک نشست کی فرمائش کر دی ہے اور سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین، مجالس قائمہ کی چیئرمین شپ کی بندر بانٹ پر بھی بات چیت کی ہے۔ چونکہ سینیٹ کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں ایک آدھ زیادہ نشست حاصل کر سکتی ہے لہٰذا پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی نظریں چیئرمین کے منصب پر لگی ہوئی ہیں اگر اسے چیئرمین شپ نہ ملی تو ڈپٹی چیئرمین کے عہدے ہی پر اکتفا کر لے گی۔
آصف علی زرداری پاکستان مسلم لیگ (ن) کو چیئرمین کا منصب دینے کے عوض بہت کچھ حاصل کرنا چاہتی ہے شنید ہے آصف علی زرداری نے ملک نوشیر خان انجم لغاری کے لئے ٹیکنو کریٹ کی نشست کا تقاضا کیا ہے لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت انہیں یہ نشست دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ ایک طرف اس نشست پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ محمد ظفر الحق ہیں دوسری طرف پروفیسر ساجد میر۔
راجہ ظفرالحق کا شمار پارٹی کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے پرویز مشرف کے مارشلائی دور میں شدید دباؤ کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قائم رکھا، انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے سرکاری مسلم لیگ کی صدارت اور دو سال کے لئے عبوری وزیراعظم کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ وفاداری پر آنچ نہ آنے دی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے راجہ ظفرالحق کو 2002ء کے انتخابات میں کامیاب تو نہیں ہونے دیا مگر دیگر مسلم لیگی چُن چُن کر سرکاری مسلم لیگ میں داکل کر لئے گئے۔
لیکن راجہ ظفرالحق نے سرکاری مسلم لیگ کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ( ن) کا شیرازہ بکھرنے نہ دیا۔ راجہ ظفرالحق وفاقی وزیر و سفیر رہے ہیں۔ سینیٹ میں قائد ایوان و حزب اختلاف کی حیثیت سے خوش اسلوبی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے ہیں 15سال بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) چیئرمین سینیٹ کا منصب حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوئی تو اس پر پاکستان پیپلز پارٹی کی نظریں لگ گئیں حالانکہ اس منصب کے لئے سب سے زیادہ موزوں امیدوار راجہ ظفرالحق ہیں جو حکومت اور اپوزیشن میں قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
سابق صدر آصف علی زرداری کی وزیراعظم نواز شریف سے کراچی میں گورنر ہاؤس میں اہم ملاقات کی ہے اگرچہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا لیکن یہ ملاقات خواجہ سعد رفیق کی آصف علی زرداری سے ملاقات کی کڑی تھی۔ آصف علی زرداری مسلم لیگی حکومت پر اپنی” مہربانیوں “ کی بھاری قیمت وصول کرنا چاہتے ہیں۔ آصف علی زرداری ایک بڑے سیاسی کھلاڑی ہیں جہاں وہ ایک طرف اپنی پارٹی کے لئے زیادہ سے زیادہ سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں وہیں وہ اپنی پارٹی کی قیادت کو کرپشن کے 5 میگا سکینڈل سے بچانے کے لئے بھی کو شاں ہیں۔
وفاقی وزارت داخلہ کا ماتحت ادارہ ایف آئی اے ان سکینڈلز کی تحقیقات کر رہا ہے جسے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو روکنا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے یہی وجہ ہے پیپلز پارٹی کی قیادت نے نواز شریف کی بجائے چوہدری نثار علی خان کی طرف اپنی توپوں کا رخ کر رکھا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان فاصلے کم کرنے کی شعوری کوششوں کے خلاف جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے وہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے ”ہارڈ لائنرز“ میں بھی مسرت کا اظہار نہیں کیا جا رہا۔
اس وقت تحریک انصاف کا ہدف پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) دونوں کی قیادت ہے اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی کہ پاکستان پیپلز پارٹی اورپاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان تحریک انصاف کے خلاف” غیر اعانیہ ‘ اتحاد قائم ہو گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے نواز زرداری دوستی کی دونوں جماعتیں آئندہ انتخابات میں کیا قیمت ادا کرتی ہیں اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان