بند کریں
منگل فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مارشل لاء
پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو واضح ہوتاہے کہ پاکستان میں مارشل لاء کے حالات سیاستدان خود ہی پیدا کرتے رہے ہیں۔ سیاسی راہنماؤں کی حماقتوں، نااہلیوں، کرپشن، بزدلی اور اقربا پروری ہی مارشل لاء کو دعوت دیتی ہے
ابن ظفر:
ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان میں جمہوریت اپنا مسلسل سفر بخوبی طے کررہی ہے۔ دوسری جانب حکومت گرنے کی پیش گوئیاں بھی جاری ہیں۔ پاکستان میں مارشل لاء بھی اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ مارشل لاء کی وجہ بھی نااہل اور مفاد پرست سیاستدان ہی بنتے ہیں۔ اگر سیاسی راہنما مفاد پرستی اور ہوس اقتدار کی بجائے ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے کام کریں تو مارشل لاء کا راستہ خود ہی بند ہوجاتا ہے۔
موجودہ حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینی چاہئے اور اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ایسے فیصلے تو نہیں ہورہے جو مارشل لاہ کو دعوت دے رہے ہوں۔
پاکستان میں جمہوریت اپنے راستے پر گامزن ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور اب مسلم لیگ ن کی حکومت اپنا آئینی سفر طے کرہی ہے۔ اس کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ ابھی تک جمہوریت اتنی مضبوط نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہئے۔
بعض سیاسی شخصیات ہی یہ پیش گوئیاں بھی کرہی ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔ بعض سیاسی جماعتیں بھی حکومت مخالف اتحاد بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ ملکی سیاست میں دھرنوں کا موسم شروع ہوتا نظر آرہا ہے۔ ایک طرف شیخ رشید ٹرین مارچ کے ذریعے حکومت کیخلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کرچکے ہیں تو دوسری طرف عمران خان اور طاہر القادری بھی سرگرم عمل ہیں۔
مسلم لیگ (ق) بھی کسی ایسے اتحاد کی تلاش میں نظر آرہی ہے جو حکومت مخالف ہو۔ یہ صورتحال تصوری کا دوسرا رخ بھی دکھارہی ہے۔
پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو واضح ہوتاہے کہ پاکستان میں مارشل لاء کے حالات سیاستدان خود ہی پیدا کرتے رہے ہیں۔ سیاسی راہنماؤں کی حماقتوں، نااہلیوں، کرپشن، بزدلی اور اقربا پروری ہی مارشل لاء کو دعوت دیتی ہے۔
اکثر سیاسی راہنماؤں کی غلطیوں نے ملک کو بھی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ مثال کے طور پر جب یحیٰ خان نے انتخابات کروائے تو اسے ملکی تاریخ کے شفاف انتخابات قرار دیا گیا۔ ان میں شیخ مجیب کو واضح فتح حاصل ہوئی تھی۔ جمہوریت اور انصاف کا تقاضا تھا کہ اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو ہی اقتدار سونپا جاتا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔
اقتدا رکی خاطر ہمارے سیاست دانوں نے جمہوریت کی دھجیاں اڑا دیں اور ملک دولخت کرنا قبول کرلیا۔ 1977ء میں بھی حکمران جماعت کے سواباقی سب جماعتوں نے انتخابات کے نتائج کو رد کردیا تھا۔ حکمران جماعت انتخابات کے نتائج یا دوبارہ انعقاد پر اتفاق رائے پیدا کرلیتے تو جنرل ضیاء الحق کے پاس مارشل لاء کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اب یہ کہنا کہ اس حوالے سے آخری لمحات میں اتفاق رائے ہوگیا تھا اور محض اعلان باقی تھا یا ایسی ہی دیگر وجاحتیں کافی نہیں۔
سچ یہی ہے کہ مارشل لاء کے اعلان تک عوام کو اس بارے میں کوئی خبر نہیں تھی اور ملک انتشار کا شکار تھا۔ لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ ضیاء الحق کا مارشل لاء بھی سیاسی لیڈرچپ کی ہٹ دھرمی اور ہوس اقتدار کی وجہ سے لگا تھا۔
جنرل ضیاء الحق نے آئین میں 58-2(B)متعارف کروایا کہ صدر کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ خراب حالات ، دیوالیہ پن، کرپشن، بدامنی اور ایسے سنگین حالات جن کے تحت ملک کی خودمختاری اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں کو بنیاد بنا کر حکومت ختم کرسکتا ہے۔
اس آئینی شق سے مارشل لاء کا راستہ رک گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فوج جو وجہ بنا کر حکومت کا تختہ الٹتی تھی وہ حق صدر کے پاس آگیا تھا۔ اسی شق کی وجہ سے صدر غلام اسحاق خان ے بے نظیر بھٹواور میاں نواز شریف کی حکومتوں کا خاتمہ کیا۔ اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ صدر غلام اسحاق خان نے فوری 90روز میں انتخابات کرائے جس کی وجہ سے جمہوریت چلتی رہی لیکن سیاستدانوں نے اس کی بجائے صدر کے پاس ایسے اختیارات کو اپنے لئے نقصان دہ سمجھتے ہوئے یہ اختیار ہی ختم کردیا۔
اس کا نتیجہ جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کی صورت میں سامنے آیا جس کے بعد طویل عرصہ تک ایک آمر قوم پر حکمرانی کرتا رہا ۔ صدر کے پاس ایسے اختیارات کا ہونا بذات خود مارشل لاء کے راستے بند کرتا ہے لیکن بے اختیار صدرکی صورت میں حالات کی بہتری کیلئے حکومت بدلنے کا بہانہ فوج کے ہاتھ آتا ہے۔
حکومت کا فرض ہے کہ وہ قومی اداروں کو بہتر بنائے اور ان اداروں میں بیٹھے سفید ہاتھیوں کو باہر نکالے لیکن حکومت سرے سے ان اداروں کو ہی بیچنے پر تلی ہوئی ہے۔
یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ سٹیل ملز نے مشرف دور میں زبردست منافع کمایا، اس وقت تقریبا 10ارب روپے سٹیل ملز کے اکاؤنٹ میں تھے اور سالانہ 2ارب روپے منافع مل رہا تھا۔ اب اگر سٹیل ملز خسارے میں جارہی ہے تو اس کا مطلب واضح ہے کہ وہاں موجود سفارشی اور کرپت افراد کو نکالا جانا چاہیے نہ کہ سٹیل ملز کو ہی بیچ دیں۔ اسی طرح پی آئی اے اور پی ایس او سمیت دیگر اہم اداروں میں ضرورت سے زیادہ سفارشی افراد کی بھرتیاں اور من پسند تنخواہوں نے ان اداروں کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ ان اداروں میں اصلاح کرے لیکن جب حکومت ملکی خذانے کی آمدنی کے ذرائع بیچنا شروع کردے تو عوام ہی نہیں اہم ادارے بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ اگلے 30برس بعد ملکی آمدنی کے ذرائع کیا ہوں گے اور خذانہ کس طرح عوامی ضروریات کیلئے بھرا جائے گا۔ اس صورتحال سے جو انتشار پیدا ہوگا وہ خود حکومت کیلئے بھی نقصان دہ ہوسکتاہے ۔
دوسری جانب وزیراعظم کی کابینہ کے اہم افراد اور اہم وزارتوں پر فائز وزراء کے درمیان اختلافات اور ان کے متنازعہ بیانات بھی حکومت کیلئے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ اس صورتحال پر وزیراعظم نے خاموشی اختیار کی لیکن وفاقی وزراء کے ایسے بیانات جو مسلح افواج کی توہین کے مترادف ہوں، ان کا نقصان بھی کسی ایک وزیر کو نہیں بلکہ حکومت کو ہوسکتاہے۔
اب فوج ایک بڑی اور اہم جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ شدت پسندی کے خلاف اس جنگ میں حکومت کو واضح طور پرایک موقف اپنانا ہوگا اور تمام وزراء کو بھی اس کا پابند بنانا ہوگا۔ اس سے پہلے بعض معاملات میں حکومت اور فوج ایک پیچ پر نظر نہیں آرہے تھے۔ اب حالات بدل رہے ہیں۔ کسی بڑی محاذ آرائی یا مہم جوئی کی بجائے حکومت اور فوج دونوں کو باہم مل کر پاکستان کیلئے واضح فیصلے کرنے ہیں۔
اسی طرح صدر جیسے عہدے کا تقاضا یہ ہے کہ اسے بااختیار بنایا جائے اور ایسے اختیارات صدر مملکت کی جانب منتقل کئے جائیں جو مارشل لاء کے جواز کو ہی ختم کردیں۔ مارشل لاء کا دروازہ جس چابی سے کھلتا ہے وہ چابی حکومت کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اب یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے کہ وہ جمہوریت کو آگے بڑھاتی ہے یا مراشل لاء کو دعوت دیتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان