بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
محاذ آرائی کو روکنے کیلئے سابق صدر کی رابطہ مہم
آصف زرداری کے قریبی حلقوں کا موٴقف ہے کہ آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی سربراہ مزید رابطے کریں گے ضرورت پڑنے پر وطن واپس آ کر سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کرینگے۔ جیالوں کوزرداری کےمشن سے بہت توقعات وابستہ ہیں
شہزاد چغتائی:
آزادی مارچ اور انقلاب مارچ سے قبل پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری فریقین کے درمیان مصالحت کیلئے میدان میں آ گئے اور انہوں نے سیاسی رابطے شروع کر دئیے ہیں۔ سیاسی حلقے آصف علی زرداری کے کردار کو بہت اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر آصف علی زرداری نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان‘ مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی سے رابطے کر کے آزادی مارچ اور انقلاب مارچ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
اس دوران آصف زرداری کا موجودہ بحران پر وزیراعظم نوازشریف سے بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ آصف زرداری کے قریبی حلقوں کا موٴقف ہے کہ آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی کے سربراہ مزید رابطے کریں گے اور ضرورت پڑنے پر وطن واپس آ کر سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ جیالوں کو آصف علی زرداری کے مصالحتی مشن سے بہت توقعات وابستہ ہیں خود آصف علی زرداری کو بھی جمہوری نظام کی مسلم لیگ ن سے زیادہ فکر ہے۔
وہ چاہتے ہیں کہ جمہوری قوتیں اختلافات کو مل بیٹھ کر طے کر لیں تاکہ کسی طالع آزما کو موقع نہ ملے۔ اس سے قبل صدر آصف علی زرداری کا دورہ امریکہ کئی روز تک موضوع بحث بنا رہا جس سے مسلم لیگ کو بھی توقعات وابستہ تھیں۔ اس دورہ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان مفاہمت کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔ ملکی سیاست میں موجودہ کشمکش کا آغاز رمضان المبارک سے قبل ہوا تھا اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جون میں آزادی مارچ کا اعلان کرکے حکومت کو مہلت دیدی تھی۔
اس دوران تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری کے بارے میں سب کو یقین تھا کہ وہ اگست کے آخری ہفتہ تک مارچ نہیں کریں گے اسی لئے تبصرہ نگار کہتے ہیں کہ اگست گزر گیا تو اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا اور انقلاب مارچ کی نوبت نہیں آئے گی۔موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی کی تشویش قابل فہم ہے کیونکہ اس کی نگاہیں آئندہ باری پر مرکوز ہیں۔ مسلم لیگ کی حکومت گری تو پی پی پی کا آئندہ 5 سال کیلئے برسر اقتدار آنے کے خواب چکنا چور ہو جائے گا۔
سندھ میں مین اس وقت غربت سے نچلی سطح پر زندگی گزارنے والوں کی تعداد پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔کراچی 100 ارب ڈالر سالانہ کی دولت پیدا کرتا ہے لیکن کراچی میں 60 فیصد آبادی کچی آبادیوں، گوٹھوں اور ساحلی علاقوں میں رہتی ہے۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ جمہوریت بچانے کیلئے دو بڑی جماعتیں یک سوہیں اور دونوں نے اس ضمن میں کام بانٹ لئے ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف خود سعودی حکومت گئے اس دوران آصف علی زرداری امریکہ پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے امریکہ کو وعدے یاد دلائے۔ امریکہ میں ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا جہاں ان کو سرکاری پروٹوکول بھی دیا گیا اور امریکی نائب صدر نے شرف ملاقات بخشا۔ آصف علی زرداری کی پذیرائی جمہوریت دشمنوں کیلئے سخت پیغام بھی ہے۔ اگست کو اہم مہینہ قرار دیا جارہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت آکسیجن ٹینٹ میں ہے لیکن حکمراں خوفزدہ دکھائی نہیں دیتے، غیر جانبدار حلقوں کا خیال ہے کہ انقلاب مارچ اور آزادی مارچ ٹائیں ٹائیں فش ہو جائے گا۔
حکومت عمران خان سے زیادہ طاہر القادری سے پریشان دکھائی دیتی ہے۔ طاہر القادری نے اب تک انقلاب مارچ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے شائد وہ منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کی تحقیقات سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ کے حلقے کہتے ہیں کہ عمران خان کے بازو آزمائے ہوئے ہیں۔ صوبائی وزیر منظور وسان دور کی کوڑی لائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو تو کوئی خطرہ نہیں لیکن مارچ تک حالات مزید خطرناک ہو جائیں گے ان کی اس پیشگوئی پر لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا نواز شریف حکومت کے 5 سال سیاسی بحرانوں سے نمٹتے گزریں گے اور ملک میں اور کوئی کام نہیں ہوگا۔
حالیہ صورتحال کا تعلق بین الاقوامی معاملات سے بھی بتایا جاتا ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق پاکستان میں بعض حلقے امریکہ برطانیہ کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور واضح کر رہے ہیں کہ ہماری بات نہیں مانی تو پاکستان میں تمہاری حکومت ختم کر دیں گے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن کس مشن پر ہیں اور کیوں میدان میں اترے ہیں۔
ایک جانب وہ مسلم لیگ کی حکومت بچانے نکلے ہیں دوسری جانب وہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے مطالبات کی حمایت کررہے ہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے گزشتہ روز فرینڈلی اپوزیشن کے خاتمہ کا اعلان کیا تھا۔ سیاسی پنڈت محسوس کرتے ہیں کہ معاملات پیچیدہ اور پرپیچ ہیں ابہام اس قدر زیادہ ہے کہ آصف علی زرداری جیسے زیرک سیاستداں کوئی فیصلہ کرنے سے گریزاں ہیں۔
سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کا سب سے زیادہ فائدہ عمران خان کو ہوا اور سب سے زیادہ نقصان آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کو ہو رہا ہے۔ آصف علی زرداری پس منظر میں جا رہے ہیں۔ عمران خان توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور میڈیا ان کی جانب بھاگ رہا ہے۔ آزادی مارچ کامیاب ہو یا ناکام عمران خان کا مستقبل بہت تابناک ہے۔ ان کی مقبولیت کا گراف بلندیوں پر ہے۔
عمران خان کی پیش قدمی جاری رہی تو پیپلز پارٹی کیلئے نئی باری لینا مشکل ہو جائے گی۔ عمران خان نے جب انتخابی نتائج تسلیم کر لئے تھے اور سرحد کی حکومت پر اکتفا کرلیا تھا تو یہ افواہیں گرم تھیں کہ مسلم لیگ کی جانب سے آئندہ حکومت عمران خان کو دینے کے وعدہ پر معاملات طے ہوگئے اور عمران خان 5 سال تک اپوزیشن کرتے رہیں گے۔ اس دوران عمران خان کی خواہش پر وزیراعظم نواز شریف سے ان کی ملاقات بھی ہوگئی تھی۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت حکومت کے خلاف عمران خان سے پہلے سڑکوں پر آ گئی تھی۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں پیپلز پارٹی نے لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے کئے تھے اور لوڈشیڈنگ ختم نہ ہونے کی صورت میں تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا جبکہ ایم کیو ایم نے گرفتاریوں کے خلاف سڑکوں پر آنے کی دھمکی دی ہے مگر فی ا لوقت دونوں جماعتیں سٹینڈ بائی دکھائی دیتی ہیں۔
حکومت اس بات پر خوش ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت عمران خان کے ساتھ نہیں ہے لیکن حکمرانوں کو ایم کیو ایم کے وفد کی قائد انقلاب طاہر القادری سے ملاقات پر تشویش ہے۔ایم کیو ایم کے رہنما یہ پیش گوئی کرچکے ہیں کہ عمران خان آخری لمحات میں آزادی مارچ منسوخ کر دیں گے۔ ایک ایسے موقع پر جب کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے حکمرانوں نے جوابی حکمت عملی تیار کر کے تحریک انصاف اور اس کے سرپرستوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ کراچی میں یہ افواہیں ہیں کہ پیپلز پارٹی کے سربراہ حکومت کو موجودہ بحران سے نکالنے کی بہت بڑی قیمت مانگ رہے ہیں انہوں نے ففٹی ففٹی فارمولا پیش کیا ہے جس کے تحت وہ ملک کی صدارت مانگ رہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-08

(0) ووٹ وصول ہوئے