بند کریں
منگل فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لوئر دیر انتخابات
خواتین رائے دہی کے بنیادی حق سے محروم۔۔۔۔ سراج الحق پر حیرت ہے جو خواتین کو لیکر چلتے اور ان کے بغیر ان کی کوئی تقریر مکمل نہیں ہوتی ،این اے 246میں خواتین کا ایک جلسہ بھی کر لیا
عنبرین فاطمہ:
پاکستانی معاشرے میں خواتین کا کردار دیکھیں تو ایک طرف پاکستانی عورت کو عالم اسلام کی پہلی وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہے تو دوسری طرف وطن عزیز کے بعض علاقوں میں عورت ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہے۔خواتین کے ووٹ ڈالنے کے معاملے میں جب بات قبائلی روایات خصوصاً پشتونوں کی ہوتو وہاں معاملہ اور بھی گھمبیر صورتحال اختیار کر جاتا ہے۔
پشتون معاشرے میں قبائلی روایات کو یہاں تک اہمیت حاصل ہے کہ ان کے رسوم و رواج، ملکی آئین و قوانین پر بازی لیجاتے ہیں۔جمہوریت کا راگ الاپنے والی اور عورتوں کی ترقی کے نعرے لگانے والی سیاسی جماعتوں کا ”لوئر دیر“ کے انتخابات میں خواتین کو ووٹ نہ دینے کے فیصلے پر متفق ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مصلحت و انا پسندی کا شکار ہیں اور اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
جماعت اسلامی ہو یا تحریک انصاف و دیگر سیاسی جماعتیں یہ تمام وہ سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہی خواتین کی تعلیم ،حقوق اور معاشرے میں مثبت کردار کی بات کی ، لیکن عملی طور پر لوئر دیر میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کے فیصلے کو سپورٹ کر کے انہوں نے ثابت کر دیا ہے ان کے بیانات و دعوے سب پرکشش نعروں کی حد تک محدود ہیں۔جہاں تک الیکشن کمیشن کی بات ہے تو یہ مکمل طور پر ایک بااختیار ادار ہے سول سوسائٹی کے احتجاج کرنے پر نوٹس لینے کی بجائے ان کے علم میں خود ہونا چاہیے کہ کس جگہ پر خواتین کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھا گیا۔
ویمن پولنگ اسٹیشن کے سٹاف پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ وہ اس قسم کے واقعات کی رپورٹ الیکشن کمیشن کو جا کر بروقت کیوں نہیں کرتے ؟۔ہماری سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ خواتین نے انتخابات لڑے اور کام بھی کیا لیکن عورتوں پر حکمرانی کرنے والے مائنڈ سیٹ اس چیز کو قبول نہیں کرتے،عورت پر مرد کا اختیار قائم رکھنے کے لئے سیاسی جماعتوں اور لوکل کمیونٹی کے لیڈران کا مل کر اس قسم کے فیصلے کرنا ہر طرح سے قابل مذمت ہے۔
گزشتہ دنوں لوئر دیر میں ہونے والے انتخابات میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کے عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کا خاصا اہم اور منفی کردار دیکھنے میں آیا حال ہی میں اس چیز کا نوٹس الیکشن کمیشن نے لیا ہے اسی حوالے سے ہم نے ملک کی سرکردہ سیاسی جماعتوں کی خواتین سے بات کی۔پاکستان پیپلز پارٹی سے ”سیدہ عابدہ حسین “ نے کہا کہ جرگے کا اس قسم کا فیصلہ آئین کی نفی ہے اور اس کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سپورٹ بھی قابل مذمت ہے۔
آئین ہر بالغ مرد و زن کو ووٹ دینے کا اختیار دیتا ہے اس پر کسی بھی قسم کا فیصلہ ضرب نہیں لگا سکتا۔لوئر دیر میں ہونے والے انتخابات میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنا عورتوں کی ترقی کیلئے سیاسی جماعتوں کے دعووٴں کی نفی ہے۔آئین سے بالا تر کوئی بھی ادارہ یا فیصلہ نہیں ہو سکتا ہے میں سمجھتی ہوں کہ آئینی طریقہ سے اس واقعہ کے خلاف کاروائی اور فیصلہ مثالی ہونا چاہیے۔
جماعت اسلامی سے ”سمیحہ راحیل قاضی“ نے کہا کہ لوئر دیر کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے کسی ایسے فیصلے کو سپورٹ نہیں کیا بلکہ جماعت اسلامی کی ہمیشہ سے ہی کوشش رہی ہے کہ خواتین کی سیاست میں شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ لوئر دیر میں خواتین نے خود ہی ووٹ کے حق کو نہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جماعت اسلامی نے تو بہت کوشش کی اور مہم جوئی بھی کیل لیکن وہاں کی خواتین نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ ووٹ دینے کیلئے نہیں نکلنا۔
سال2013ء کے انتخابات میں ہم خواتین کو ووٹ ڈالنے کے لئے متحرک کرنے لوئر دیر گئے لیکن خواتین کے حقوق کی بات کرنے والی تنظیمیں کیوں وہاں نہیں پہنچیں، کیوں ہمارا ساتھ نہیں دیا؟۔ہماری ہمیشہ سے ہی کوشش رہی ہے کہ خواتین ملکی ترقی کا اہم حصہ بنیں۔آپ صرف لوئر دیر کی بات نہ کریں پورے پاکستان میں بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں خواتین اپنی مرضی سے ووٹ دینے کیلئے نکلتی ہی نہیں ہیں۔
باقی جہاں تک قبائلی رسوم و رواج کی بات ہے تو کوئی بھی سیاسی جماعت اکیلی کچھ نہیں کر سکتی۔تمام سیاسی جماعتوں کو ایسے تمام فیصلوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کیلئے کئے جاتے ہیں۔ایم کیو ایم سے ”خوش بخت شجاعت“نے کہا کہ لوئر دیر کے انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کا اس فیصلے پر متفق ہونا کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھنا ہے بالکل ہی غیر جمہوری طرز عمل ہے ،اور یہ وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو جمہوریت کا رونا روتی رہتی ہیں خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں۔
لوئر دیر میں جو بھی ہوا وہ غیر آئینی ہے اس کے خلاف سخت ایکشن ہونا چاہیے اور الیکشن کو بھی کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات ہونے چاہیے۔سراج الحق پر حیرت ہے جو خواتین کو لیکر چلتے اور ان کے بغیر ان کی کوئی تقریر مکمل نہیں ہوتی ،این اے 246میں خواتین کا ایک جلسہ بھی کر لیا ،خواتین کے لئے ورکشاپس کا انعقاد بھی کرواتے پھرتے ہیں اور لوئر دیر میں انہوں نے خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے کے فیصلے کو سپورٹ کیاجو کہ شرمناک ہے۔
جرگہ بااثرلوگوں کے فیصلے اس قسم کے ہوتے ہیں جس میں عورت کو کمزور کیا جاتا ہے کبھی ونی کر دیا جاتا ہے تو کبھی کاروکاری ایسے فیصلے چند بااثر لوگوں کی من مانی نہیں تو اور کیا ہے۔کیا پاکستان کا کوئی شہری جرگہ کا سربراہ بن سکتا ہے ؟نہیں ایسا بالکل نہیں ہو سکتا کیونکہ جرگہ سسٹم کا حصہ بااثر لوگ ہی بنتے ہیں۔میرے حساب سے جرگے کے فیصلے حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہوتے ہیں۔
ایم کیو ایم نے ہمیشہ جاگیردارنہ نظام کی مخالفت کی اور اسکے خلاف اپنی آواز اٹھائی ہے۔جہاں تک پاکستان تحریک انصاف کا تعلق ہے تو اس نے جماعت اسلامی کو لوئر دیر میں سپورٹ کرکے ایک مرتبہ پھر اپنا چہرہ اور کردار واضح کیا ہے۔اس جماعت کی پالیسی دوغلی ہے منافقانہ سیاست پر یقین رکھنے والی اس جماعت سے اچھائی کی امید نہیں ہے۔ایک طرف خواتین کو بھنگڑے ڈلوانے ہوں تو اکٹھا کر لیتے ہیں اور دوسری طرف خواتین کو ووٹ نہ دینے کے فیصلے کو سپورٹ کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کو شرم آنی چاہیے باقی سمیحہ راحیل قاضی خود پڑھی لکھی خاتون ہیں ان کے لئے پارلیمنٹ کے دروازے کھلے ہیں خود پارلیمنٹ میں جا کر بیٹھی ہیں اور ان کی جماعت خواتین کے حقوق پر ضرب لگانے والے فیصلوں کو سپورٹ کرتی دکھائی دیتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف سے ”ڈاکٹر یاسمین راشد“ نے کہا کہ خواتین اس ملک کی آبادی کا نصف سے ذائد ہیں ان کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کرنا ان کی ترقی پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے لوئر دیر میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کرنے کے فیصلے کو بالکل بھی سپورٹ نہیں کیا۔پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ خواتین کی آزادی رائے کی بات کی ہے اگر ہم اس پر پابندی لگانے کے فیصلوں کو سراہنا شروع ہو جائیں گے تو پھر یہ ملک بھی ترقی نہیں کر سکے گا۔الیکشن کمیشن کا نوٹس لینا اچھا اقدام ہے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونا چاہیے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ”تہمینہ دولتانہ “ نے کہا کہ خواتین جب مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں تو پھر ان کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کیوں رکھا جائے؟ اور اگر ایسا فیصلہ کہیں ہوتا ہے اور اس کو ہماری سیاسی جماعتیں سپورٹ کرتی ہیں تو یہ واقعی افسوسناک بات ہے۔اس ملک کے آئین نے اسلام کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے خواتین کو بے تحاشا حقوق دئیے ہیں اور اسلام نے جتنے حقوق خواتین کو دئیے ہیں کسی دوسرے مذہب نے نہیں دئیے۔
اسلام اور آئین ہر طرح سے عورت کی عزت کا درس دیتا ہے اس کی ترقی، اس کو آگے بڑھنے کا درس دیتا ہے تو پھر کوئی بھی جرگہ یا چند بااثر لوگ بیٹھ کر یہ فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے جیسے دیگر بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ہے۔جہاں تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بات ہے تو اس نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کی حفاظت کی ان کو اہم وزارتوں سے بھی نوازا ہماری جماعت خواتین کی ترقی پر یقین رکھتی ہے دیگر جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ خواتین کی ترقی کے لئے ٹھوس حکمت عملی اپنائے خالی باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔
لوئر دیر میں ہونے واقعہ پر الیکشن کمیشن کا نوٹس لینا مثبت اور ضروری ہے۔جمیعت علماء اسلام (ف) سے ”رومانہ جلیل “نے کہا کہ لوئر دیر میں ہونے والے انتخابات میں خواتین کا ووٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ تمام جماعتوں کا متفقہ تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علاقے کی کچھ روایات ہیں اور ان روایات میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں کی خواتین پردہ کرتی ہیں۔ اس فیصلے میں خواتین کو پابند کرنے جیسی کوئی چیز نہ تھی اور نہ ہی یہ فیصلہ بد نیتی پر مبنی تھا۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-19

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان