بند کریں
پیر جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لیاری میں صُلح ” مستقل“ ہو گئی؟
ایم کیو ایم اور پی پی میں ” مفاہمتِ اقتدار“
دونوں جماعتوں کے درمیان اس بار اعلیٰ سطح پر بات چیت ہو رہی ہے اور الطاف حسین اور آصف علی زرداری ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں
شہزاد چغتائی :
حکومت سندھ میں شمولیت کیلئے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اس بار اعلیٰ سطح پر بات چیت ہو رہی ہے اور الطاف حسین اور آصف علی زرداری ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں جبکہ اس دوران گورنر سندھ عشرت العباد اور رحمان ملک پُل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
دونوں جماعتوں کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی وجہ پیپلز پارٹ کے قوم پرست اور ابتہا پسند ہیں جو ہربار گفت و شنید کے عمل کو سبوتاژ کر دیتے ہیں۔ ابتدائی بات چیت میں پیپلز پارٹی کے بعض وزراء کو شامل کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں سائیڈ لائن کر دیا گیا۔اس بار دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت میں بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہیں۔
مذاکرات کی کامیابی سے سندھ کے وزراء بہت خوفزدہ ہیں کیونکہ ان کے محکمے چِھن جانے کا امکان ہے۔
یہ اطلاعات بھی گشت کر رہی ہیں کہ آصف علی زرداری کی آمد کے بعد وزراء کے محکمے تبدیل کر دیئے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو حکومت میں شمولیت کے لئے باقاعدہ دعوت دے چکی ہے اور وزارتوں کی تقسیم کا فارمولا بھی طے پاچکا ہے۔ اس پر دونوں جماعتوں کے رہنماوٴں کو مشاورت کیلئے دبئی اور لندن طلب کیا گیا ہے جس کیساتھ سیاست کا محور دبئی اورلندن منتقل ہو گیا ہے۔
الطاف حسین کے دست راست ندیم نصرت نے گزشتہ دنوں لندن سے دبئی آکر آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی ۔عامر خان اور فاروق ستار بھی لندن میں ہیں۔
زرائع نے بتایا ہے کہ وزراء کے ناموں پر غورہو رہا ہے اور ایک کمیٹی ایم کیو ایم کے وزراء کی فہرست تیار کر رہی ہے جس کی منظوری الطاف حسین دیں گے۔ حالیہ دنوں میں جہاں پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم نزدیک آئی وہاں مسلم لیگ(ن) سے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔
(ن) لیگ ایم کیو ایم کو سبق سکھانے کی پوزیشن میں نہیں یا گریزاں ہے ۔ گورنر سندھ برستور موجود ہیں اور سابق صدر سے دبئی میں فیصلہ کُن مذاکرات کر کے وطن واپس آئے ہیں۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم کی سندھ کا بینہ میں شمولیت کے بعد گورنر برقرار رہیں گے ؟ مسلم لیگ(ن) نے گزشتہ دنو ں گورنر سندھ کو گرین سگنل دیدیا تھا لیکن اس ہم آہنگی کو زیادہ دیر نہیں گزری تھی کے ایم کیو ایم کے قائدہ وفاقی حکومت پر برس پڑے اور انہوں نے مارشل لاء کی وکالت شروع کر دی ۔
پیپلز پارٹی کو ایک بحران کے بعد دورے کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ لیاری میں دھماکوں اور ہلاکتوں کی وجہ سے کئی تنظیمی مسائل نے جنم لیا ہے ۔ ایک جانب کچھ وزراء اپنی نوکری بچانے کیلئے بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں تو بعض وزراء کی عقابی نگاہیں وزارت اعلیٰ پر ہیں۔ یہ وزراء اویس مظفر ٹپی کی سندھ کا بینہ میں واپسی کی اطلاعات سے خوش نہیں ہیں کیونکہ اویس ڈٹپی وزارت اعلیٰ کے مضبوط ترین امیدوار ہیں اور ان کے سامنے کسی کی دال نہیں گلتی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے مذاکرات کو وزیر بلدیات اور وزارت اعلیٰ کے امیدوار شرجیل میمن نے ناکام بنا دیا تھا۔
اس سے قبل پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما مخدوم امین فہیم اوروزیراعلیٰ سندھ کو لڑانے کی سازش ناکام ہو گئی اور قائم علی شاہ امین فہیم کو منانے ان کی رہائش گاہ پہنچ گئے جس سے گلے شکوے دور ہوگئے۔
تھر میں ہونیوالی ہلاکتوں کے بُحران سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے قائم علی شاہ اور امین فہیم کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کی تھیں۔
اس سازش کا ایک مقصد وزیراعلیٰ کو گرانا بھی تھا۔تھر میں ہلاکتوں کے بعد مخدوم خاندان مزید زیر عتاب آگیا تھا اور مخدوم خاندان کے مخالفین نے ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا۔ امین فہیم بھی پریشان ہو گئے تھے کیونکہ ساری توپوں کا رُخ انکی جانب تھا اور ان کیساتھ زیادتی کی انتہا کر دی گئی تھی۔ امین فہیم دھیمے مزاج کے رہنما ہیں ۔ ان میں زیادتیاں برداشت کرنے کا غیر معمولی حوصلہ ہے۔
انہیں دوبارہ وزارت عظمیٰ سے محروم کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ بنانے کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ تھر کے بحران کے بعد پیپلز پارٹی سارا ملبہ مخدوم خاندان پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قراد دینا چاہتی تھی لیکن امین فہیم کے سخت موقف کے بعد پیپلز پارٹی کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ اور اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے دانائی اور فراست کا مظاہرہ کیا اور جمیل الزماں کو وزیر کی حیثیت سے برطرف کرنے سے گریز کیا جبکہ دوسرے صاحبزادے ڈپٹی کمشنر عقیل الزمان کا تبادلہ کر دیا گیا جس کے بعد امین فہیم نے پیپلز پارٹی کیساتھ جینے مرنے کی پھر قسمیں کھالیں۔
یوسف رضا گیلانی نے بھی مفاہمت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اس سے قبل امین فہیم کی پیر پگارہ سے ملاقات کو بہت اہم قرار دیا جا رہا تھا مگر سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ پیر پگارہ سے ملاقات کر کے امین فہیم نے اپنی جماعت کا سخت پیغام دیا ۔ امین فہیم ان دنوں زیر عتاب ہیں کیونکہ ایک طرف ان کے سیکرٹری اسلم پیرزادہ کو گرفتار کر کے ان پر دباو ڈالا جا رہا ہے تو دوسری طرف پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزراء ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑھ گئے ہیں ۔
وہ امن فہیم اور قائم علی شاہ کو لڑا کر دونوں سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اُدھر وزیراعظم کے کامیاب دورہ کراچی کے ثمرات شہریوں کو اس وقت مل گئے جب لیاری میں امن ہو گیا اور اولڈسٹی میں برسرپیکار گروپوں کے درمیان صلح ہو گئی۔ یہ صلح کرانے میں ایاز لطیف پلیجو نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ معادہ امن کے تحت ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جسے حکومت نے جرائم پیشہ افراد کی فہرست فراہم کرتے ہوئے آگاہ کیا ہے کہ آئندہ لیاری میں کسی بے گنا کو قتل کیا گیا تو امن کمیٹی ذمہ دار ہو گئی۔
لیاری امن معاہدے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عزیر بلوچ مسقط اور بابا لاڈلہ ایران میں بیٹھے تھے۔ گینگ وار کراچی میں ہور ہی تھی اور معاہدہ امن حیدر آباد میں ہوا جس میں دو سیاسی جماعتوں کے رہنماوں ایاز لطیف پلیجو اور پیپلز پارٹی کی ایم کیو ایم پی اے ثانیہ بلوچ نے ضامن کی حیثیت سے شرکت کی ۔ پیپلز پارٹی نے تردید کی کہ لیاری گینگ وار سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
دریں اثناء قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی کے چیئرمین علامہ سید ایاز ظہیر ہاشمی نے کراچی میں قیام امن کیلئے خدمات پیش کر دیں۔ اس تناظر میں علامہ ایاز ظہیر ہاشمی کی دورے کو اہم قرار دیا گیاہے۔ ایاز ظہیر ہاشمی نے لیاری کو صورتحال کو افسوناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیشکش انہوں نے پریس کانفرنس میں کی جس میں فرزندان پاکستان کے چیئرمین رانا اشفاق رسول بھی موجودتھے۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان