بند کریں
منگل جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لفڑا ۔۔الیکشن کمیشن کا۔۔!
انتخابات ہو گئے، حکومتیں بھی بن گئیں، لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود الیکشن کمیشن کا لفڑا جوں کا توں ہے۔ بلکہ اتوار کے روز مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے جلسوں میں الیکشن کمیشن کی شفافیت کو آڑے ہاتھوں لیا
مصنف : اجمل جامی

انتخابات ہو گئے، حکومتیں بھی بن گئیں، لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود الیکشن کمیشن کا لفڑا جوں کا توں ہے۔ بلکہ اتوار کے روز مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے جلسوں میں الیکشن کمیشن کی شفافیت کو آڑے ہاتھوں لیا اور نئے آزادانہ کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ بھی داغ دیا، اس سلسلے میں تحریک انصاف کے چیئر مین سر کردہ نظر آئے۔۔ یقینا جمہوریت کی بقا اور دوام کے لیے ایک بااختیار، آزاد، شفاف اور موثر الیکشن کمیشن بے حد ضروری ہے، اور اسی ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے اب سبھی جماعتیں اس اہم نقطے پر متفق نظر آرہی ہیں۔

۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر لفڑا کیا ہے؟؟

طالب علم خان صاحب کی سیاسی بصیرت کا کوئی زیادہ مداح تو ہر گز نہیں، لیکن دن کو دن اور رات کو رات کہنے میں کبھی عار محسوس نہ کی۔۔ یہ اور بات ہے کہ کئی سیزنل سیاستدان سوشل میڈیا پر مزاح سے لپٹی گفتگو پڑھ کر سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ ۔ خیربات ہورہی ہے نئے الیکشن کمیشن کے قیام کی ۔۔۔تو اسے بارے عرض ہے کہ اب پیپلز پارٹی، ق لیگ اور جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سے خان صاحب کے موقف کی تائید کر دی ہے، بھلے اسے سیاسی پلٹا سمجھیں یا بصیرت۔
۔ لیکن بات اصولی ہے اور جمہوریت کے لیے بے پناہ اہمیت کی حامل بھی۔ ۔۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینٹر اعتزاز احسن نے عمران خان کے مطالبات کی تائید کی اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کا پرزور مطالبہ کیا۔ چوہدری پرویز الہی کے بقول غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر صاف شفاف الیکشن کا خواب ممکن نہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اٹھانے کے لیے جلدپارلیمانی پارٹی کو ہدایات جاری کریں گے۔
متحدہ قومی موومنٹ کی محترمہ ثمن جعفری نے پارٹی پوزیشن واضح انداز میں بیان کردی کہ متحدہ ہمیشہ سے ہی آزاد ، شفاف اور بااختیار الیکشن کمیشن کی حامی رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ نے بھی بااختیار الیکشن کمیشن کی تشکیل کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے پر پہلے سے سیاسی اتفاق رائے موجود ہے۔
۔ درست۔۔!! لیکن سوال یہ ہے کہ پھر لفڑا کیا ہے؟؟
خان صاحب نے اپنی تقریر میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر بھی تنقید کی، جس کی تائید سابق چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم چند روزے پہلے ہی کر چکے ہیں، اس بارے ناچیز کو سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے خیالات جاننے کا موقع ملا۔۔ دلشاد صاحب نے پہلی بار برملا اظہار کیا کہ جی ہاں۔
۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو دباو میں رکھا۔۔ درست۔۔!! یہ بھی درست۔۔!! لیکن سوال دو ہیں۔۔ ایک۔۔ سابق چیف جسٹس بارے یہ سب اتنی دیر سے کیوں سامنے آیا۔۔؟؟ اور اب جب کہ خان صاحب سو فیصد یقین سے ہیں تو وہ سابق سی جے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟؟ کیوں نہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے کہ جناب سابق چیف جسٹس کو طلب کیا جائے اور اس اہم مدعے پر فل کورٹ بنچ تشکیل دے کر قصہ ہی تما کیا جائے۔
۔ لیکن سوال یہ بھی ہے۔۔ کہ اگر ایسا نہیں ہو رہا اور معاملہ صرف میڈیا یا جلسے جلوسوں کو انٹرٹین کرنے کی حد تک ہی ہے تو۔۔۔۔۔ پھر لفڑا کیا ہے۔۔؟؟
چلیے یہ بھی سنتے جائیے کہ موجودہ قانون کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تقرری وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر مشاورت سے کرتے ہیں، لیکن اس تقرری میں عمران خان اور پارلیمنٹ میں موجود دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا کوئی کردار نظر نہیں آتا، تو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری تمام بڑے رہنماوں کی رضا مندی سے کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا؟؟ یہا ں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کوئی ایسی ہستی ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں اور بالخصوص خان صاحب اتفاق رائے کرلیں۔
۔؟؟ اگر نہیں تو پھر سوال وہی ہے۔۔ آخر لفڑا کیا ہے۔۔؟؟
مدعا جس قدر مشکل دکھائی دیتا ہے اس سے کہیں زیادہ آسان بھی ہے۔۔ جب سبھی پارٹیاں اس مدعے پر متفق نظر آرہی ہیں تو کمی ہے صرف خلوص نیت کی۔۔ بسم اللہ کریں۔۔ پارلیمنٹ میں اصلاحاتی بل منظوری کے لیے پیش کریں۔۔ اس بل کے لیے تمام جماعتوں کو آن بورڈ لیں، سیر حاصل بحث کروائیں، آئینی ماہرین کی سفارشات شامل کریں اور دو تہائی اکثریت سے منظوری کے بعد اسے آئین کا حصہ بنا ڈالیں (سبھی جماعتیں متفق ہیں تو پھر دو تہائی اکثریت سے منظوری یقینا بآسانی ہو جاوے گی)
اللہ اللہ خیر سلہ۔
۔ لیکن یہاں سوال لفڑے کا نہیں۔۔ سوال یہ ہے کہ مکھن سے بال نکالے گا کون؟؟ ہیں جی۔۔!!
قصہ مختصر۔۔ جمہوریت کے عدم تسلسل کے باعث جمہوریت کی اقدار کی پاسداری بھی تسلسل کے ساتھ نہ ہوسکی، یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی الیکشن کمیشن جیسے اہم مدعے پر شش و پنج میں مبتلا ہیں، راہ نما وہ ہوتا ہے جورہ نمائی کرے، اور ساتھ ساتھ مستقبل کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔
۔ لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔۔ رہ نما آتے ہیں۔۔ ایوانوں میں دھمال ڈالتے ہیں اور اگلے آنے والوں کے لیے مسائل کو کئی گنا بڑھا کر جنگلوں میں کھو جاتے ہیں۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں اس مدعے پر تو اب سبھی راضی ہیں۔۔ تو پھر اصل لفڑا کیا ہے۔۔؟؟
منیر نیازی نے کہا تھا۔۔
خیال جس کا تھا مجھے ، خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
نوٹ: اتوار کے روز برپا کیے گئے جلوسوں کے بعد طالب علم مسلسل عالم استغراق میں ہے۔۔نہیں معلوم کہ اس روز جگہ جگہ بکھرے انقلاب کو قوم اب مزید کتنے دن سمیٹتی رہے گی۔۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-13

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     اجمل جامی

اجمل جامی بحثیت اینکر اور نمائندہ خصوصی دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں

اجمل جامی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-