بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

کیا سونامی فیصل آباد کو بہالے جائے گا؟
حالات مڈٹرم انتخابات کی طرف جارہے ہیں تو آئین نہیں وفاق کو خطرہ ہوگا عمران کو اسٹیبلشمنٹ خان کا رانا ثناء اللہ کا طعنہ جمہوری طرز عمل سے دھونا ہوگا
احمد کمال نظامی:
گیارہ مئی کو منتخب جمہوری حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد میں تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے سونامی کا رخ فیصل آباد موڑنے کا اعلان کردیا تھا۔ 25مئی کو تحریک انصاف کے فیصل آباد میں جلسے کے حوالے سے اس وقت مختلف سیاسی جماعتیں اپنا اپنا ززاویہ سوچ رکھتے ہیں۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان 25مئی کے جلسے کے بارے میں مسلسل دعویٰ کررہے ہیں کہ سونامی فیصل آباد میں غرق ہوجائے گی اور عمران کان جو اسٹیبلشمنٹ خان بن چکے ہیں انہوں نے اپنے ووٹرز کو مایوس کیا ہے۔
جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کے ذمہ داران کی طرف سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ 25مئی کو سونامی حکمران جماعت کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جائے گا۔ 2013ء کے انتخابی نتائج کی صورت میں ایک تبدیلی دیکھنے میں آئی تھی کہ تحریک انصاف جس جس حلقہ انتخاب میں شکست سے دوچا ہوئی وہاں اس کے امیدواروں نے پیپلز پارٹی سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کے بعد دوسری پوزیشن حاصل کر لی۔
انتخابات کے بعد سے اب تک عمران خان کی طرف سے انتخابی دھاندلی کا واویلا اور شکایات کی جاری تھیں کہ 11مئی کو ایک سال مکمل ہونے پر عمران خان کی طرف سونامی کا رخ کرنے کا امکان کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کرڈالا ہے کہ وہ مبینہ دھاندلی پر احتجاج کرنے والی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ عمران خان کے اس اعلان کے بعد مختلف مبصرین کی آراء ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک انصاف کی سربراہی میں ایک سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد بھی قائم ہوسکتاہے۔
جس کے ذریعے حالات مڈٹرم الیکشن کی طرف بھی جاسکتے ہیں جس کا اشارہ تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین بھی دے چکے ہیں۔
تحریک انصاف جس اقبال پارک دھوبی گھاٹ میں جلسہ عام کرنے جارہی ہے۔ اس جگہ بانی پاکستانی حضرت قائداعظم محمد علی جناح رحمتہ علیہ ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرچکے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی یہاں عوام کے بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور ان کے دور میں قومی اتحاد کا ایک اہم ترین جلسہ بھی اسی اقبال پارک میں منعقد ہو چکا ہے جس سے نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم، مفتی محمود مرحوم، مولانا عبدالستار خان نیازی مرحوم خطاب کرچکے ہیں۔
اس کے علاوہ آغا شورش کاشمیری، ممیاں محمد نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھی اقبال پارک دھوبی گھاٹ میں بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کر چکی ہیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے بھی اقبال پارک دھوبی گھاٹ کا انتخاب کیا گیا ہے تو ایسی سوچ لازماََ مبصرین کے ذہنوں میں ابھر رہی ہے کہ کہیں اس میں کسی سیاسی جوڑ توڑ کی سوچ کارفرما نہ ہو، جس کے تحت حالات کو مڈٹرم الیکشن کی طرف لے جایا جاسکے۔
اس ضمن میں سینیٹر رجا ربانی کی اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو وہ کہہ رہے ہیں کہ اس مرتبہ آئین کو نہیں بلکہ وفاق کو خطرہ ہے۔ فیصل آباد سیاسی اعتبار سے پنجاب میں لاہور کے بعد اہم ترین سیاسی مرکز ہے۔ فیصل آباد 1970ء کے انتخابات میں پنجاب کے اندر پیپلز پارٹی کا لاڑکانہ کہلایا جانے لگا تھا۔ یہ شہر ضیاء الحق کے دور حکومت میں اور بعد ازاں دھیرے دھیرے پیپلز پارٹی کی سیاسی گرفت سے باہر نکلتا رہا اور گذشتہ چار عام انتخابات کے دوران فیصل آباد مسلم لیگ(ن) کا قلعہ بن چکا ہے۔
اس وقت بھی فیصل آباد سٹی ڈسٹرکٹ کی قومی اسمبلی کی مکمل گیارہ نشستیں اور صوبائی اسمبلی کی کل 22میں سے 21نشستوں پر مسلم لیگ(ن) نے اپنی برتری ثابت کررکھی ہے۔ مسلم لیگ(ق) فیصل آباد میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے اور پرویز مشرف کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد سے مکمل طور پر سیاسی منظر سے غائب ہے۔ البتہ مسلم لیگ(ق) کے ساب سٹی ڈسٹرکٹ ناظم رانا زاہد توصیف اور ق لیگ کے صوبائی جنرل سیکرٹری چوہدری ظہیرالدین خاں کسی نہ کسی حد تک ضرور متحرک ہیں۔
مسلم لیگ (ق) سیاسی جماعت سے زیادہ سیاسی شخصیات کے بل بوتے پر کھڑی تھی مگر فیصل آباد سے مسلم لیگ(ق) کے بہت سارے سیاسی برج جن میں سابق تحصیل ناظم ممتاز علی چیمہ، رکن قومی اسمبلی عاصم نزیر، رجب علی بلوچ، میجر(ر) عبدالرحمن اور سابق سپیکر چوہدری افضل ساہی جیسی شخصیات مسلم لیگ(ق) کو خیر باد کہہ کر تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) میں شام ہو چکی ہیں۔
جس سے مسلم لیگ(ق) کی کوئی سیاسی حیثیت اور عملی وجود نظر نہیں آتا۔
پیپلز پارٹی بھی فیصل آباد میں پیپلز پارٹی کے ڈویژنل کوارڈی نیٹر راجہ ریاض احمد اور ضلعی صدر طارق محمود باجوہ کے علاوہ بیگم سکینہ چوہدری کے علاوہ مکمل طور پر سیاسی منظر سے غائب ہے۔ مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کی ایسی ابتر سیاسی صورتحال ان کی عوامی سطح پر سیاسی گرفت کو مزید کمزور کررہی ہے مگر پیپلز پارٹی مین ابھی بھی اتنا دم خم ضرور نظر آتا ہے کہ اگر حالات میسر آئے تو پیپلز پارٹی تحریک انصاف کی جگہ فیصل آباد میں دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرسکتی ہے۔
جیسا کہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے ووٹرز کو مایوس کیا ہے اگر واقعی ایسی صورتحال برقرار رہی تو پیپلزپارٹی کیلئے اپنے سیاسی قد کاٹھ کو بڑھانا زیادہ مشکل کام نہیں ہوگا۔ جہاں تک تحریک انصاف کے جلسے کا تعلق ہے تو عمران خان انتخابات کے بعد فیصل آباد میں دو جلسوں سے خطاب کرچکے ہیں۔ یہ دونوں جلسے تحریک انصاف کے سابقہ ٹریک ریکارڈ کے اعتبار سے زیادہ بھرپور نہیں تھے۔
اس مرتبہ دیکھتے ہیں کہ کیا ہوگا۔ مسلم لیگ(ن) کے دعوے سچ ثابت ہوتے ہیں یا پھر تحریک انصاف کے !۔ تحریک انصاف اگر واقعی سیاسی جماعتوں پر مشتمل کوئی اتحاد قائم کر کے حالات کو مڈٹرم الیکش کی طرف لے جانا چاہتی ہے اور اگر واقعی عمران خان اسٹیبلشمنٹ خان بن چکے ہیں تو پھر جو ہوگا، ایسا تلخ تجربہ قوم کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہوگی مگر عمران خان کو مسلم لیگ(ق) کی موجودہ سیاسی ہیئت سے کچھ سبق ضرور حاصل کرنا چاہیے جو اس وقت عام تاثر ہے کہ یتیم سیاسی جماعت ہونے کے ناطے خفیہ ہاتھوں سے توانائی طلب کرنے کیلئے باہر نکلی ہوئی ہے۔
ہمارے ملک کی ہمیشہ سے بدقسمتی رہی ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کا ایک گروپ جو جمہوریت جمہوریت کی بانسی تو ضرور بجاتا ہے مگر چور دروازے سے اقتدار میں آنے کیلئے فوجی آمروں اور طالع آزاماؤں کی بیساکھیوں کا خواہشمند بھی رہتا ہے۔ کیا آج عوام یہ سوچنے پر حق بجانب نہیں کہ جمہوری عمل کو پھر سبوتاژ کرنے کیلئے وہ پہلوان اکھاڑے میں اتررہے ہیں جو کہ 2013ء کے الیکشن میں شکست کھانے کے بعد دھاندلی دھاندلی کی رٹ لگا کر ایک مرتبہ پھر چوردروازے کے ذریعے اقتدار میں آنے کیلئے سن لگارہے ہیں۔
صاف ستھری سیاست کا یہی اصول ہے کہ ووٹ کے ذریعے کامیابی کا پانچ سال انتظار کیا جائے۔ وگرنہ رانا ثناء اللہ اور آمریت کے ہر دور میں آواز اٹھانے والے سیاست دان یہ کہنے پر مجور ہوں گے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ خان بن گئے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-24

(0) ووٹ وصول ہوئے