بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیا ہم جمہوریت کے اہل ہیں؟
اس میں شک نہیں کہ پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کی ایک بڑی وجہ ہمارا موجودہ نظام بھی ہے۔ ہمارے ہاں بظاہر جمہوریت کا نفاذ ہے لیکن دیکھا جائے تو پاکستان میں رائج نظام کو کسی صورت جمہوری نظام نہیں کہا جاسکتا
ابن ظفر:
پاکستان میں جمہوریت کے نام پر شخصی آمریت نافذ ہے۔ ہم اسکی وجہ سیاستدانوں کو قرار دیتے ہیں لیکن دیکھا جائے تو عام آدمی بھی اس میں برابر کا شریک ہے۔ شعور کی کمی اور وقتی مفادات کیلئے عام لوگ ہی اس نظام کو قائم رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی شعور کو بیدار کیا جائے اور وقتی مفادات کی بجائے قومی مفادات کو دیکھا جائے۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کی ایک بڑی وجہ ہمارا موجودہ نظام بھی ہے۔ ہمارے ہاں بظاہر جمہوریت کا نفاذ ہے لیکن دیکھا جائے تو پاکستان میں رائج نظام کو کسی صورت جمہوری نظام نہیں کہا جاسکتا ۔ یہ سچ ہے کہ اس کا ڈھانچہ جمہوری نظام پر رکھا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے سیاستدانوں اور عوام نے مجموعی طور پر اس نظام اور ماحول کو جمہوری نہیں رہنے دیا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہم جمہوریت کے نام پر آمریت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔
ہمارے ہاں یہ آمریت ہر سطح پر نظر آتی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں انتخابات ہوں تب بھی پس پردہ آمرانہ ماحول اور سوچ متحرک رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے باوجود کارکن آگے نہیں آپاتا اور سیاسی جماعت پر مخصوص فرد یا خاندان کا قبضہ برقرار رہتا ہے۔ یہی صورتحال ہمیں ایوانوں میں نظر آتی ہے۔
مخصوص افراد اور خاندانوں کی باریوں کے نظام کو جمہوریت کے غلاف میں لپیٹ کر عوام کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔ جمہوریت کا تو مطلب ہی جمہور کی حکومت ہے لیکن یہاں جمہور کی بجائے چند باآثر خاندان ہی نظر آتے ہیں۔ ہماری سیاست، ہمارا نظام اور ہماری معیشت انہیں چند خاندانوں کا طواف کرتی نظر اتی ہے۔
دوسری جانب ہم مکمل طور پر اس کی ذمہ داری چند خاندانوں یا سیاستدانوں پر بھی نہیں ڈال سکتے۔
اس میں جتنا حصہ سیاستدانوں کا ہے، اتناہی عام شہریوں کا بھی ہے۔ ہمارے ہاں مفادات اور بھوک کو شعوور پر برتری حاصل ہوجاتی ہے۔ سیاستدان اس چیز کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم موجودہ صورتحال کا غیر جانبداری سے جائزہ لیں تو اس بات سے بھی انکار نہیں کی اجاسکتا کہ لوگ جمہوریت یا درست نظام کے نعرے تو لگاتے ہیں لیکن عمل اس کے برعکس ہی کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں آج بھی ووٹ دیتے وقت شخصیت اور ایمانداری کی بجائے برداری دیکھی جاتی ہے۔ اسی طرح پارٹی کی محبت میں لٹیروں کی حمایت میں نعرے لگانے کو بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ چھوٹے چھوٹے مالی مفادات کیلئے بھی ووٹ بیچ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاستانی ووٹر ووٹ دیتے وقت ایسے شخص کا انتخاب کرت ہے جو تھانے کچہری میں دھونس اور زبردستی کے ساتھ اس کا مسئلہ حل کرا سکے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایماندار شخص ایسا کرسکتا ہے؟ تھانے کچہریوں کے معاملات حل کرانے اور ناجائز سفارشات کرنے والوں کو ہم خود جتواتے ہیں اور پھر یہ گلہ کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے ہاں ایماندار قیادت نہیں ہے۔
جمہوریت، نظام کی تبدیلی، انصاف، امن اور آزادی اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک کرپٹ لوگ آگے آتے رہیں گے۔ ضرورت یہ شعور بیدار کرنے کی ہے کہ ہمیں ہر صورت ایماندار شخص کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
اسی طرح نچلی سطح پر جنم لینے والی چھوٹی چھوٹی برائیوں اور کرپشن کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ جب تک گلی محلے کی سطح سے کرپشن ختم نہیں ہوگی تب تک ہم درست قیادت کا انتخاب کرنے کے اہل نہیں ہوسکیں گے۔
دنیا بھر میں جمہوریت کا جو تصور اور شخصی آزادی نظر آتی ہے اس کی بڑی وجہ عوام کا عملی کردار بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کردار کی ایسی مضبوطی نظر نہیں آتی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر ملکی مفادات کو مد نظر رکھیں ۔ اگر زیادہ تر لوگ اس کلچر کو فروغ دینے میں کامیاب ہوگئے تو گلی محلے کی سطح پر ہونے والی مثبت تبدیلی ہی ایوانوں میں اصول پسندی کی وجہ بنے گی۔ جمہوریت میں اصل حکمرانی جمہور کی ہوتی ہے لیکن اس کیلئے جمہور یعنی عوام کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ جمہوریت کے اہل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرتی اور اخلاقی مزاج یہ ظاہر کرنے میں کامیاب ہوپایا ہے کہ ہم جمہوریت کے اہل ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان