بند کریں
جمعرات فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کھلی پاکستان دشمنی ‘ الطاف نے حدیں پار کردیں!
بھارت اور نیٹو فوج کراچی میں مداخلت کریں‘ الطاف کی ہرزہ سرائی۔۔۔ قوم بھارت کو پکارنے والے نام نہادلیڈر کو معاف نہیں کرے گی ‘ عسکری تجزیہ نگار
اسرار بخاری :
منی لانڈرنگ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل جیسے سنگین جرم میں مقدمات اور تفتیشی عمل نے متحدہ کے قائد الطاف حسین کو شدید ذہنی دباؤ کا شکار تو پہلے سے ہی کر رکھا تھا ۔ بی بی سی کی رپورٹ میں بھارتی خفیہ ایجنسی راکے ساتھ تعلقات کا بھانڈا پھوٹنے سے تو ان کے اعصاب گویا جواب دے گئے اور انہوں نے اتوار کے روز لندن سے امریکی شہر ڈیلاس میں ٹیلی فونک خطاب پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی اس میں وہ تمام حدیں پار کر گئے اور دوسری جانب بے چارگی سی ہے کہ ٹی وی چینلوں کے ذریعہ خود الطاف حسین کی زبان سے پاکستان دشمنی الفاظ کروڑوں لوگوں نے سنی، رابطہ کمیٹی کے ارکان سرے سے اس سے انکار کر رہے ہیں کہ الطاف حسین نے بھارت اور نیٹو سے مدد نہیں مانگی جبکہ الطاف حسین نے کھلے الفاظ میں کہا کہ بھارت خود ڈرپوک ہے ۔
غیرت ہوتی تو پاکستان کی سر زمین پر مہاجروں کا خون نہیں ہونے دیتا ۔ وزرات داخلہ نے جن تنظیموں پر پابندی لگائی وہ آج بھی ملک میں سرگرم ہیں، کار کنان اقوام متحدہ وائٹ ہاؤس اور نیٹو سے کراچی میں فوج بھیجنے کا مطالبہ کریں، امریکا کے شہر ڈیلاس میں سالانہ کنونشن سے ٹیلی فونک خطاب میں الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی ہے ۔
وزرات داخلہ نے جن تنظیموں پر پابندی لگائی وہ آج بھی سرگرم ہیں انہوں نے مہاجر صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بھارت خود بزدل اور ڈرپوک ملک ہے اگران میں ذراسی بھی غیرت ہوتی تو پاکستان کی سرزمین پر مہاجروں کا خون نہیں ہونے دیتا ۔ الطاف حسین نے کارکنوں کو ہدایت کہ امریکی اخباروں کو خط لکھیں اور پاکستان کی اصل صورتحال سے آگاہ کریں ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ وائٹ ہاؤس اور نیٹو کے سامنے احتجاج کریں اور کراچی میں فوج بھیجنے کا مطالبہ کریں، الطاف حسین نے کہا کہ ان پر منی لانڈرنگ کا الزام غلط ہے ۔ یہاں ہمارے اکاؤنٹ منجمد کردئیے گئے ہیں بہت مشکل میں گزارا ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تفریر پابندی لگادی گئی ہے تاہم آڈیوکیسٹ کے ذریعے ان کی تقریرپر ساتھیوں تک پہنچائی جائے اور اگر وہ مارے جائیں تو کار کنان تحریک جاری رکھیں اور ماؤں ، بیٹیوں اور بہنوں کو عزت کی زندگی دلائیں ۔
الطاف حسین نے پاک فوج کے خلاف الزامات لگائے اور اسے زبردست تنقید کا نشانہ بنایا ۔
الطاف حسین اپنی تقریر کے دوران پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف تفرت انگیز نعرے لگواتے رہے ۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق تفریر کے دوران وہ ذہنی طور پر گندگی مایوسی اور جنونیت کی کیفیات کا شکار لگ رہے تھے ۔ کھلے بندوں میں بھارتی مدد کیلئے پکارتے ہوئے کہ ہم ان ہی کی سر زمین سے ہیں بھارتی لیڈروں میں ذرا غیرت ہوتی مہاجروں کا خون نہ بہنے دیتے اب ہندوطعنہ دیتے ہیں اور لگاؤ بٹوارے کے نعرے بٹ کے رہے گاہندوستان بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے اور اب خود بھگتو کراچی میں تم لوگوں کے بھائی مر رہے ہیں چاہو تو یہ سن رہے تھے جس پر الطاف حسین نے کہا کہ یار تم سمجھ نہیں رہے ہو اس لئے خاموش ہو جس پر تالیاں بجنے لگیں اور نعرے گونجنے لگے ۔
ڈیلاس کے کنونشن میں ایم کیو ایم کی ایم اپن اے خوش بخت شجاعت سندھ اسمبلی کی ممبر ارم تنظیم فاروقی عدنان احمد بابر غوری ندیم نصرت اور واسیع جمیل نے تالیاں بجائیں اور بھنگڑا ڈالتے رہے ۔ الطاف حسین نے ترغیب دی اقوام متحدہ اور نیٹو جا کر مطالبہ کرو کہ کراچی آؤ ہمارے خلاف آپریشن کرنے والوں کو پکڑوان کے خلاف مقدمہ چلاؤ اب نہیں رہنا ساتھ مہاجرمدعی بناؤ اگر مہاجر صوبے نہیں بناتے تو ہم آزادی لے کر رہیں گے جس پر موجود لوگوں نے آزادی ، آزادی کے نعرے لگائے بابر غوری اور واسیع جمیل نے دیر تک بھنگڑاڈالا الطاف حسین نے کہا میرے خلاف ڈیڑھ سو مقدمات بنائے گئے ہیں ۔
اس سے اندازہ لگا لو کہ فوج الطاف حسین سے ڈرتی ہے یا الطاف حسین فوج سے ڈرتا ہے یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ قبل اڑیں بھی وہ عالمی فورموں پر پاکستان توڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ 2006ء میں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک سیمنار سے خطاب میں الطاف نے بھارت کی تقسیم کو تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہیں اسی طرح 1998ء میں متحدہ نے الطاف حسین کے لیکچروں کا اہتمام کیا گیا جنہیں بعدازاں اسٹیبلشمنٹ کی جہتی حکمت عملی کے نام سے شائع کیا گیا اس میں بھی پاکستان اور فوج کے خلاف زہریلا پرو پیگنڈا کیا گیا ان لیکچروں میں الطاف حسین ایم کیو ایم کی جدوجہد کے ہم پلہ قررار دیا جبکہ 2001ء میں الطاف حسین نے خفیہ ایجنسیوں پر پاکستان میں فرقہ واریت کا ذمہ ٹھہرایا تھا ۔
الطاف حسین کی ہر زہ سرائی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاتی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ الطاف حسین نے ریاستی اداروں کے سربراہوں کانام لے کر مرنے کی جوباتیں کی ہیں وہ ملک قوم اور ریاست کی توہین ہیں ۔ الطاف حسین کو اصل خطرہ پاکستان میں درج مقدمات سے نہیں نہ وہ پہلے 25سال سے آئے نہ اب آنے کا امکان ہے ان کو اصل خطرہ برطانیہ میں اپنے خلاف جاری دونوں کیسز سے ہے جن میں ان کیخلاف گھیرا تنگ ہوچکاہے ۔
دھرنے کے حوالے سے جتنا علم ہے کتاب لکھ سکتا ہوں لیکن ہماری توجہ پاکستان کے پہاڑ جیسے مسائل پر ہے ۔ وہ پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس کررہے تھے ۔ حکومت نے الطاف حسین کیخلاف نفرت انگیزتقریر کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کر لیا ۔ وزیر دخلہ نے کہا کہ گذشتہ رات الطاف حسین کی فوج کیخلاف نفرت انگیز تقریر تمام حدیں پار کر گئی ہے ۔ تقریرکیخلاف برطانیہ سے رابطہ کا فیصلہ کیا ہے ۔
قانونی مسودہ ی تیاری شروع کر دی باضابطہ قانونی ریفرنس آئندہ چندروز میں برطانیہ بھیجیں گے الطاف حسین کی لائیوتقار پر پابندی تو ہے اب ان تقاریر کو مستقل طور پر بند کرنے کے پر غور کررہے ہیں ۔ الطاف حسین نے نیٹو سے فوج بھیجنے کا مطالبہ اور بھارت سے کراچی میں مہاجروں کی مددکی اپیل کی کوئی محب وطن پاکستانی بھارت سے مدد طلب نہیں کر سکتا سیاسی شعبدہ بازی بھی کوئی حد ہوتی ہے نیشنل ایکشن پلان وزرات داخلہ نے نہیں تمام سیاسی جماعتوں نے بنایا منی لاڈرنگ اور عمران فاروق قتل کیس میں کوششوں سے دہشت گردی میں کم آئی ۔
ہم اپنی کوششوں اور امن وامان کی صورتحال بہتر کرنے کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتے لیکن کراچی سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن وامان قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ الطاف حسین کی گزشتہ رات ایک تقریر آئی جس میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر قومی سلامتی کے ادراروں اور ریاست کو تضحیک کا نشانہ بنایا ۔ ایم کیوایم کے رہنمافاروق ستارنے ہمارے اقتدار سنبھالنے کے 2ماہ بعد کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد ہم نے مشاورت کی اور فیصلہ یہ کیا گیا کہ فوج کی ملک کی گلی کو چوں میں تشہیر کرنا اچھی بات نہیں ۔
کراچی میں امن وامان کی صورتحال بہتر کرنے کیلئے رینجر کے ذریعے آپریشن ہونا چاہئے جس کے بعد 29اگست 2013کو کراچی آپریشن کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے سیاست کو ایک طرف رکھ کرکراچی می امن وامان کے قیام کا فیصلہ کیا حکومت نے کراچی میں صوبائی حکومت کی قیادت میں آپریشن کا فیصلہ کیا تھا اور اس آپریشن کا کپتان بھی وزیراعلیٰ سندھ کا بنایا گیا ۔
رینجرز نے کراچی میں بلاامتیاز کارروائی کی ۔ وفاتی حکومت نے پس منظر میں رہ کراچی میں قیام امن کیلئے بھر پور کردارادا کیا ۔ کراچی سمیت ملک بھر میں امن وامان کی بہتری کو آج ہر کوئی تسلیم کرتا ہے ۔ آپریشن جرائم پیشہ افراد کیخلاف کیا جارہا ہے یہ کسی خاص سیاسی جماعت کیخلاف نہیں تاہم گزشتہ چند ہفتوں سے رینجرز آپریشن کے حوالے سے ایم کیوایم کا ردعمل شدید ہو گیا ۔
کراچی آپریشن میں جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہی کیوں نہ ہو ایم کیو ایم سمیت کسی جماعت کو نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ آپریشن کے دوران اے این پی پیپلز پارٹی شباب ملی اور سنی تحریک کے بھی کئی لوگ پکڑے گئے تاہم ایم کیو ایم کے سوا کسی بھی جماعت نے احتجاج نہیں کیا ۔ وزیر داخلہ نے کہا ایم کیوایم پر واضح کیا کہ کراچی آپریشن کسی جماعت کیخلاف نہیں پھر بھی شرپسند عناصر کی گرفتاری پر کیوں احتجاج کہا جارہا ہے اگر کراچی میں کسی کو غلط گرفتار کیا گیا تو تحقیقات کے بعد چھوڑ بھی دیا گیا ۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ الطاف حسین نے فوج پر الزامات لگائے کہا کہ پاک فوج نے قائداعظم کو زہر دیا فاطمہ جناح کو قتل کیا ملک کو دولخت کیا ایک لاکھ خواتین کی حرمت پامال کی ۔ افواج پاکستان پر طنزیہ نظمیں اور اشعار پڑھے گئے ۔ دشمن ملک کو کہا گہا کہ مہاجروں کا قتل روکنے کیلئے مداخلت کی جائے ۔ کارکنوں کو کہا گیا کہ نیٹو اور اقوام متحدہ کے دفتروں کے سامنے جا کر احتجاج کر کے مطالبہ کیا جائے کہ نیٹو کی فوج پاکستان آکر قبضہ کر لیں ۔
اہم اداروں کے سربراہان کو قتل کی دھمکیاں اور گالیاں دی گئیں ۔ ایسے الفاظ کسی محب وطن پاکستانی یا اردو بولنے والے کے نہیں ہوسکتے ۔ یہ پاکستان دشمنوں کی زبان ہے ۔ الطاف کیخلاف مقدمات پاک فوج یا رینجر زنے نہیں بلکہ برطانوی حکومت اور میٹروپولیٹن پولیس نے درج کئے ۔ برطانوی قانون کی پوری دنیا معترف ہے ۔ الطاف حسین کہیں کا غصہ کہیں اور نکال رہے ہیں اگر پاکستان میں بھی الطاف حسین کیخلاف جتنے مقدمات ہیں ان کو دیکھا جائے وہ بھی عام شہریوں نے درج کروائے ہیں ۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ منی لانڈرنگ اور عمران فاروق قتل کیس میں الطاف حسین رورو کر مطالبہ کرتے تھے کہ ملزموں کو گرفتار کیا جائے اب اگر ہم ان کی گرفتاری کیلئے قانون کی مدد کر رہے ہیں تو تب بھی ہم پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں ۔ چودھری نثار نے کہا کہ الطاف حسین اب کچھ بھی کہے برطانوی پولیس سے تعاون جاری رہے گا ۔ الطاف حسین نے گزشتہ رات جس طرح کی تقریر کی ایسی نفرت انگیز تقریر کی مزید اجازت نہیں ہے ۔
الطاف حسین کی نفرت انگیز تقاریر کا معاملہ برطانیہ کے سامنے رکھاجائیگا ۔ہم الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقاریر کا جائزہ لے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن میں کوئی رکاوٹ آڑے نہیں آنے دیں گے وہاں کے حالات میں مزید بہتری لائیں گے ۔ ہمارا مقصدسیاست کرنا نہیں ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی کو میٹروپولیٹن سٹی کے شایان شان بنائیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں شاہ محمود قریشی سے کہا کہ پی ٹی آئی کے لندن میں ایم کیوا یم کے خلاف مظاہرے مناسب نہیں سیاسی جنگ کو لندن کے بازاروں میں لے جانے سے ملک کی بدنامی ہوگی میری رائے سے پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے بھی اتفاق کیا ۔شاہ محمد قریشی نے میری اس تجویز پر مثبت جواب دیا جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔چوہدری نثار نے کہا کہ کراچی میں جولائی کے مہینے میں رینجرز کے اقدامات کے بعد ڈرائی بہتری آئی ہے ٹارگٹ کلنگ میں 50فیصد اغواء برائے تاوان کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا جبکہ بھتہ خوری میں 87فیصد کمی ہوئی ہے ۔
اس شرح کو اور بھی کم سطح پر لانا چاہتے ہیں ۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ الطاف حسین کے سواپوری دنیا مانتی ہے کہ کراچی آپریشن کے بعد شہر کے حالات میں بہتری آئی ۔برطانیہ کو بھیجے جانیوالے ریفرنس میں دو معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں ۔الطاف حسین کی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں ۔تقاریر کا معاملہ حکوت برطانیہ کے سامنے اٹھایا جائے گا ۔
ان کی تقریر اعلان جنگ ہے ۔فوج کے خلاف وہ نظمیں پڑھیں گئیں جو ہرانہیں سکتا ۔ایم کیو ایم کا ہمیشہ سے موقف رہا کہ آپریشن ٹھیک نہیں ہورہا ۔پاکستان کا برطانیہ میں الطاف حسین کے خلاف کیس سے کوئی تعلق نہیں ۔
نائن پرویر چھاپے اور رینجرز کی طرف سے کراچی میں جاری آپریشن کی شدت پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے سکیورٹی اداروں رینجرز اور پاک افواج کے خلاف جوزبان استعمال کی اس نے پاکستانی حکام کو انتہائی جوابی کارروائی پر مجبور کر دیا ۔
حکومت برطانوی حکومت کو قانونی ریفرنس بھجوارہی ہے وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کراچی میں دہشت گردوں ۔ بھتہ خوروں لینڈمافیا میں شامل اور اور ملوث ایم کیو ایم کے رہنماؤں کارکنوں کے خلاف ایکشن مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ۔وزیر داخلہ چودھری نثار نے جو لہجہ اختیار کیا اس سے قبل کسی وزیر نے اتنے کھلے انداز میں ایم کیو ایم کو نہ تو مخاطب کیا نہ ہی ان کے خلاف باقاعدہ اتنے سخت الفاظ استعمال کئے تھے ۔
انکایہ کہنا کہ الطاف حسین نے اپنی آخری تقریر میں ساری حدود پار کرلی تھیں اسلئے درست نہیں کہ عسکری ادارے اور خفیہ ایجنسیاں پہلے بھی ان کے غصے کا نشانہ رہی ہیں ۔انہوں نے بھارت یاتراکے دوران یہاں تک کہا تھا کہ برصغیر کی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔تجزیہ کاروں کے مطابق عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کے مقدمے میں ہونیوالی پیشرفت کا الطاف حسین کو مکمل ادراک ہے ۔
ہ سمجھتے ہیں کہ پھنداان کے گلے کے گرد تنگ ہورہا ہے ۔ہ اسلئے بھی ڈپریشن کا شکار ہیں کہ وزیرداخلہ چودھری نثار اعلان کر چکے ہیں کہ پاکستان برطانیہ سے تعاون کر رہا ہے اور کرتا رہے گا تاکہ عمران فاروق کے قابل کیفر کردار کو پہنچ سکیں ۔تمام سیاسی جماعتوں نے الطاف حسین کو فوج کے خلاف ہرزہ سرائی اور زہر افشانی کی کھلے الفاظ میں مذمت کی ہے ۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں اور رابطہ کمیٹی کے عہدیداروں کی گرفتاریاں ہوں گی ۔اب کسی رعایت کی گنجائش باقی نہیں رہی ۔سابق فوجی افسروں اور خفیہ ایجنسی کے سربراہوں نے اسی رائے کااظہار کیا کہ اگر 1992ء کے آپریشن کو ادھورانہ چھوڑاجاتا تو حالات اس نہج تک نہ پہنچتے ۔انہوں نے وزیر داخلہ چودھری نثار کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیرداخلہ نے بجاطورپر الطاف حسین کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی قیادت جو ماضی میں ایم کیو ایم کے ساتھ حکومت میں شریک رہی ہے اب تک لب بستہ تھی لیکن حالات کے گھمبیرہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چودھری نثار کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ فوج اور پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی سے ثابت ہوگیا کہ الطاف حسین دشمن کیلئے کام کررہے ہیں ۔قوم بھارت کو مدد کیلئے پکارنے والے نام نہاد لیڈرکو معاف نہیں کریں گے ۔
سابق گورنر سندھ اور سابق وزیر داخلہ جنرل (ر) معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے نہایت غیر ذمہ دارانہ بیان دیا۔وہ ایسے بات کررہے ہیں جیسے کراچی میں آگ لگ گئی ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ۔الطاف حسین نے مایوسی کی حالت میں جو بیان دیا یہ بیان زیب نہیں دیتا ۔وزیر داخلہ کی سٹرٹیجی درست ہے یہ معاملہ برطانیہ سے قانونی طور پر اٹھانے کے خاطر خواہ نتائج نکلیں گے ۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ الطاف حسین کی اصلیت سامنے آگئی وہ خوفزدہ ہیں کہ انکے خلاگ گھیرا تنگ ہورہا ہے ۔جس دن ہم نے برطانیہ کو عمران فاروق قتل کیس میں ملوث افراددیدئیے اس دن کا خوف الطاف کوڈرارہا ہے ۔الطاف حسین امریکہ، برطانیہ اور بھارت کی پشت پناہی سے بیان دے رہے ہیں ۔ہمیں برطانیہ سے کہنا چاہئے کہ ہمارے خلاف اس کی سرزمین پر بیان دینے والے کو ہمارے حوالے کرے ۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ (ر) ضیاالدین خواجہ نے کہا کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچ رہی ہے وہ جس دباؤ کا شکار ہیں اس کے خوف میں آکر جو بیان دے رہے ہیں اس سے وہ بے نقاب ہورہے ہیں ۔92ء کا آپریشن روکنا غلطی تھی ۔اس دفعہ یہ غلطی نہیں دہرائی جانی چاہئے ۔الطاف حسین کا بیان درحقیقت دھمکی ہے ان کو یہ خیال ہے کہ مغربی طاقتیں ان کی حمایت میں آگے آئیں گے ۔وہ آپریشن رکوانا چاہتے ہیں ان کی حکمت عملی ناکام رہے گی آپریشن منطقی انجام کو پہنچے گا ۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-06

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان