بند کریں
اتوار فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خونی بلدیاتی انتخابات
سابق سینئر صوبائی وزیر کا بھانجا قتل۔۔۔۔ مقتول راجہ شعیب اقبال جو قومی جونیئر ہاکی ٹیم میں کھیلتے رہے اور ان دنوں برطانیہ میں ایک ہاکی کلب سے وابستہ تھے وہ اپنے ماموں زاد بھائی راجہ معین سلطان جویوسی 86 دھمیال سے آزاد اُمیدوار تھے
عزیز علوی:
راولپنڈی میں بلدیاتی الیکشن کی پولنگ کے دوران دھمیال میں مخالف فریق کی فائرنگ سے ق لیگ کے مرکزی رہنما اور سابق سنیئر صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ کے بھانجے کے قتل سے پولیس کے وہ دعوے اور احکامات دھرے کے دھرے رہ گئے جن میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کے موقع پر الیکشن لڑنے والے اپنا اپنا اسلحہ تھانوں میں جمع کرادیں۔
مقتول راجہ شعیب اقبال جو قومی جونیئر ہاکی ٹیم میں کھیلتے رہے اور ان دنوں برطانیہ میں ایک ہاکی کلب سے وابستہ تھے وہ اپنے ماموں زاد بھائی راجہ معین سلطان جویوسی 86 دھمیال سے آزاد اُمیدوار تھے انہیں ووٹ دینے کے لیے خاص طور پر برطانیہ سے آئے تھے جہاں بنیادی مرکز صحت کے پولنگ سٹیشن پر فریقین کے جھگڑے کے دوران فائرنگ سے قتل کر دیئے گے جس روز مقتول راجہ شعیب کی نماز جنازہ تھی اسی شام انہیں واپس برطانیہ کا سفر کرنا تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا اور وہ اپنے سفر آخرت پر روانہ ہو گئے قتل کیاس وار دات کے بعد مقتول کے بھائی شجاع اقبال نے تھانہ صدر بیرونی میں مخالف اُمیدوار نمبردار اسد، ان کے والد اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر ادیا ۔
آرپی او روالپنڈی وصال فخرسلطان راجہ نے ایس پی صدر ڈویژن ڈاکٹر غیاث گل کو حکم دیا کہ وہ ملزمان کی فوری گرفتاری یقینی بنائیں جبکہ سی پی او راولپنڈی اسرار احمد خان عباسی خود تھانہ صدر بیرونی جا پہنچے اور اس قتل کیس میں حراست میں لیے گئے افراد سے ابتدائی پوچھ گچھ کی جب کہ مخالف امیدوار نمبردار اسد کے والد کو بھی پولیس نے مہلت دی کہ وہ فوری روپوش افراد کو پولیس کے حوالے کرائیں تاکہ میرٹ پر تفتیش کا یہ مرحلہ مکمل ہو اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لے جایا جا سکے۔
راولپنڈی پولیس نے بلدیاتی انتخابات میں اپنی شفافیت دکھانے کے لیے دیگر اضلاع سے پولیس منگوائی ہوئی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ سانحہ دھمیال کیوں رونما ہوا اور یونین کونسل سطح کے اس الیکشن میں فول پروف سیکیورٹی کیوں یقینی نہ بنائی جا سکی اس الیکشن کے لیے راولپنڈی کی انتظامیہ نے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی بھی مدد حاصل کی ہوئی تھی لیکن ضلعی انتظامیہ اس طاقت کا شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے مناسب استعمال میں نہ لا سکی۔
فائرنگ اور قتل کے اس واقعہ کے بعد پورے دھمیال کو کشیدگی نے لپیٹ میں لے لیا تھا شکر ہے کسی تاخیر کے بغیر اس پولنگ سٹیشن پر اور علاقہ میں پاک فوج کے دستے پہنچ گے جنہوں نے وصورتحال کنٹرول کر لی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال راولپنڈی میں جہاں مقتول کی میت کو پوسٹ مارٹم اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے لایا گیا تھا وہاں سابق صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ بھی سوگوار کھڑے تھے جب ان سے قتل کی اس واردات کے حوالے سے ردعمل دینے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے مختصر جواب دیاوہ یہ معاملہ اپنے اللہ تعالیٰ پر چھوڑتے ہیں۔
راولپنڈی کی روایتی سیاست میں ہلہ گلہ ،آتش بازی تو معمول رہتے ہیں لیکن لڑائی جھگڑے کی صورتحال بھی ڈنڈے سوٹے سے آگے نہیں جاتی، بہت زیادہ ہو تو کہیں کہیں ہوائی فائرنگ کے واقعات ریکارڈ پر آجاتے ہیں۔ لیکن کسی کی جان لینے کی یہاں کی بلدیاتی سیاست میں کبھی رسم نہیں رہی لیکن یہ ساراکام دراصل پولیس کا ہوتا ہے کہ وہ شہریوں کے جذبات کو مخصوص حالات میں کس طرح سے کنٹرول میں رکھتی ہے۔
جائے وقوعہ پر ہر شہری نے شکایت کی کہ پولیس کی اس پولنگ سٹیشن پر وہ سکیورٹی نہیں تھی جویہاں کی ضرورت تھی۔اگرچہ بلدیاتی امیدوار ایک ہی محلے گلی یا موضع کے ہوتے ہیں جن کے آپس کے بھی تعلقات ہوتے ہیں لیکن فائرنگ جیسے انتہائی اقدام کی صورتحال یا خدشہ ہو تو پھر پولیس کا ہی کام ہے کہ وہ متعلقہ تھانہ کو حکم دے کہ وہ حالات قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کرے۔
یہ پولنگ سٹیشن انتظامیہ اور پولیس کے جاری کردہ الیکشن سیکورٹی پلان میں سیکورٹی خطرے کے لحاظ سے اے پلس میں شامل تھا اگر یہ صورتحال تھی تو اس پولنگ سٹیشن کی سیکورٹی کی اہمیت کو نظر انداز کرنا انکوائری طب معاملہ ہے اس میں انتظامیہ اور پولیس کی سستی کہاں کہاں تھی اور اس سستی میں کس کس کا عمل دخل تھا یہ بات بھی سامنے آنا ضروری ہے ۔ نوجوان کا قتل یقینا بہت ہی دکھ کا معاملہ ہے لیکن ایسے واقعات رونما ہونے سے صرف متعلقہ خاندان ہی متاثر نہیں ہوتا پورا معاشرہ بھی اس کے منفی اثرات برداشت کرتا ہے۔
سی پی او راولپنڈی کا فرض ہے کہ وہ پولیس کی سطح کی تفتیش میں وہ شفافیت رکھیں جس سے نہ صرف غمزدہ خاندان کی تشفی ہو بلکہ خود پولیس کا پروفیشنل پن بھی اس میں دکھائی دے ۔ عام طور پر پولیس سے ملزم اور مقتول دونوں خاندانوں کو گلہ رہتا ہے کہ تفتیش میں تیکنیکی، فرانزک، اور موبائل فون ڈیٹا کی سہولتوں کو بروئے کار لایا جائے تو یقینا دود ھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جا تا ہے۔
اس کیس میں چونکہ دہشت گردی کی دفعہ 7ATA شامل ہو چکی ہے یقینا یہ کیس اب تھانے کی سطح کا نہیں بلکہ سی ٹی ڈی کے پاس زیر تفتیش ہوگا سی ٹی ڈی نے اپنے قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی جس پروفیشنل طریقے سے کیسوں کی تفتیش کی ہے یقینا اس کیس میں بھی وہ اپنی مہارت سے آگے بڑھنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ تاہم تھانے کی سطح پر اس کیس میں پولیس نے جائے وقوعہ سے جو شواہد یکجا کئے ہوں کے وہ بھی سی ٹی ڈی کے لیے اس کیس میں اہمیت کے حامل ہوں گے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-09

(0) ووٹ وصول ہوئے